اردو ناول مالا از نمرہ احمد – قسط نمبر 1

ہوٹل آچکا تھا۔ یہیں ملاقات طے کی گئی تھی۔ ایک لمحے کےلیے کیف جمال کا دل چاہا کہ وہ واپس پلٹ جائے لیکن کیا معلوم یہ کوئی اور ماہر فرید ہو؟ ایک دفعہ ملنے میں کیا حرج ہے؟

چند منٹ بعد وہ لفٹ میں سوار تھا جو اسے چوتھے فلور کی طرف لے کر جارہی تھی۔

(شاید مجھے بہتر حلیے میں آنا چاہیے تھا۔) لفٹ کے قد آور آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے اس نے سوچا۔

کیف ایک خوش شکل نوجوان تھا البتہ اس کا حلیہ بے پرواہ سا تھا۔ ماتھے پہ بکھرے بال۔ بڑھی ہوئی شیو۔ جینز کے نیچے سفید جوگرز جو مٹیالے ہو چکے تھے۔  پوری آستین کی چیک والی شرٹ جس کے  بٹن کھلے ہوئے تھے اور نیچے پہنی سفید شرٹ جھلکتی تھی۔ اس نے بالوں میں ہاتھوں پھیر کے انہیں درست کرنا چاہا لیکن کوئی فائدہ نہ تھا۔

چوتھے فلور پہ وہ لفٹ سے نکلا تو سامنے مرمریں  راہداری تھی۔ فاصلے فاصلے پہ کمروں کے دروازے تھے۔

کیف نے گردن اٹھا کے ہوٹل کی شان و شوکت کو دیکھا۔ یہاں رہائش پزیر انسان کو اس سے کیا کام ہو سکتا تھا؟

کیف جمال ایک ناکام انٹریپرونیئر ہونے کے علاوہ ایک ایونٹ فوٹوگرافر بھی تھا جس کو لوگ عموماً انسٹا گرام یا فیس بک کے ذریعے ہائر کیا کرتے تھے۔ اس جیسے اس شہر میں سینکڑوں دوسرے فوٹوگرافرز بھی تھے۔ پھر ماہر فرید نے اسے ہی کیوں بلایا؟

کمرے کا دروازہ ایک ادھیڑ عمر شخص نے کھولا۔ وہ بادامی رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھا اور اس کے بال اتنے  سفید تھے کہ سلور لگتے تھے۔ اس نے سپاٹ تاثرات کے ساتھ سر سے پیر تک کیف کا جائزہ لیا پھر خوش آمدید کہہ  کے راستہ چھوڑ دیا۔ وہ آواز سے پہچان گیا تھا کہ یہ وہی شخص  تھا جس نے اسے کال کی تھی۔ ماہر فرید کا مینیجر۔

کیف تیز ہوتی ہوئی دھڑکن کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ سوئیٹ کافی وسیع اورشاندار تھا جس میں لیونڈر اور موتیے کی خوشبو پھیلی تھی۔ دیوار  گیر کھڑکی کے پردے بنے ہوئے تھے اور باہر  پھیلی روشن صبح دکھائی دیتی تھی۔

کھڑکی کے آگے رکھے بڑے صوفے پہ ایک آدمی ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے کیف کو اندر آتے دیکھ رہا تھا۔ گرے پینٹ اور سفید شرٹ پہ چار کول ویسٹ پہنے’ وہ ایک بازو صوفے کی پشت پہ پھیلائے ہوئے تھا۔ پیچھے سے آتی روشنی میں اس کے کف لنکس چمک رہے تھے۔

وہ اس کی توقع سے زیادہ جوان اور وجیہہ تھا۔ کلین شیو چہرہ، جیل سے  سیٹ بال اور پرکشش آنکھیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی  کیف کا دل مرعوبیت سےبھر گیا۔ ا س نے جس طرح کے شخص کا خاکہ ذہن میں بنایا تھا، اس سے کہیں مختلف اور شاندار تھا۔

"آؤ کیف۔ میں تمہارا ہی انتظار  کر رہا تھا۔” بے تکلفی سے مسکرا کے ماہر فرید نے خالی صوفے کی طرف  اشارہ کیا۔ ٹانگ پہ ٹانگ  جما کے بیٹھنے سے ماہر  کا ایک بوٹ فضا میں تھا۔ اس بوٹ کی سیاہ  چمکیلی سطح پہ کیف کا عکس نظر آرہا تھا۔

دونوں کے درمیان شیشے کی میز تھی جس پہ لیدر کور والی بھوری ڈائری رکھی تھی۔ کچھ تھا اس کمرے کی فضا میں،  جو اعصاب پہ سوارہوتا تھا۔ لیونڈر اور موتیے کی خوشبو اب محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ خاموش کمرے میں واحد آواز ماہر فرید کے ناخنوں سے آرہی تھی جنہیں وہ  عادتاًصوفے کے ہتھ سے رگڑ رہا تھا۔ 

کیف نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس شخص کی امارت اور وجاہت کے رعب میں نہیں آئے گا۔ کھنکھار کے پوچھا۔

"آپ مجھ سے کس سلسلے میں ملنا چاہتے تھے؟”

"تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے کیوں ملنا چاہتا تھا؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کے پوچھنے لگا۔

"میں ایک فوٹو گرافر ہوں اور لوگ مجھے فوٹوگرافی کے لیے  ہی بلاتے ہیں۔” اس نے سادگی سے جواب دیا۔

ماہر نے صوفے کی پشت سے بازو ہٹایا اور دونوں ہاتھ باہم پھنسا لیے۔ نظریں ہنوز اس کی آنکھوں پہ جمی تھیں۔

"صرف فوٹو گرافر؟ اونہوں۔” اس نے دائیں سے بائیں گردن ہلائی ۔”تم ایک انٹریپرونیئر بھی ہو۔ ناکام انٹریپرونیئر۔ تم نے اپنا بزنس شروع کیا تھا  بلکہ ایک نہیں ، تم نے بہت سے کام شروع کرکے چھوڑ ے ہیں۔ بہت سی نوکریاں بھی کی ہیں۔”

کیف نے چونک کر اسے دیکھا ، پھر مینیجر کو۔ یہ بات غیر متوقع تھی۔ اس ابرو اکٹحے ہوئے۔

"آپ میرے بارے میں اتنا کچھ کیسے جانتے ہیں؟”

"زیادہ نہیں جانتا۔” ماہر پیچھے کو ہوا اور کندھے بے پرواہی سے اچکائے۔ ناخن پھر سے صوفے کے ہتھ سے رگڑنے لگا۔ "بس اتنا معلوم ہے کہ تمہارا آخری کاروبار نہ صرف ناکام ہوا ہے بلکہ اس نے تمہیں بہت سے قرضوں میں ڈبو دیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ تمہار کیف کہ جن لوگوں کے پیسے تم نے ڈبوئے تھے، وہ تمہاری جان کو آئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تمہاری بہن کا شوہربھی ہے۔ تمہارے فیملی لائف اس بات سے کتنی متاثر ہو رہی ہوگی، میں سمجھ سکتا ہوں۔”

کیف کے ماتھے پہ شکن پڑی۔ جسم کے سارے اعصاب تن سے گئے۔ "آپ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟”

اس نے باری باری ان دونوں کی طرف دیکھا۔

"میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔” ماہر فرید اس کی آنکھوں میں جھانک کے مسکرایا۔ اسے انٹرنیٹ پہ پڑھی باتیں یاد آئیں۔ کیا یہ کسی سائیکوپیتھ کی آنکھیں تھیں؟

"کیسے؟” (وہ پوچھنا چاہتا تھا "کیوں” لیکن منہ سے کیسے پھسل گیا۔ کیا وہ مدد کے لیے اتنا بے تاب تھا؟)

"میرے پاس تمہارے لیے ایک جاب ہے۔”

کیف کے اندر کسی نے سرگوشی کی۔ ابھی بھی وقت ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ کیف۔ ورنہ تم کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ لیکن وہ نہیں بھاگ سکا۔ مجبوریوں نے اس کے قدم زنجیر کر رکھے تھے۔ اسے اس پراسرار شخص کی آفر سننی تھی۔

"اگر تم چند ماہ تک میرے لیے کام کرو تو میں تمہارے سارے قرضے بھی اتروا دوں گا اور اگر تم دوبارہ کاروبار شروع کرنا چاہو تو اس کو سیٹ کرنے میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔ یہ میرے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ اتنا تو تم میرے بارے میں جان چکے ہوگے۔”

اس کے لہجے کی ہمدردی بھی کیف کو مصنوعی لگی۔ کچھ ناقابل اعتبار سا تھا اس شخص کے بارے میں۔

”مجھے کیا کرنا ہوگا؟”

ماہر فرید کے چہرے پہ بھرپور مسکراہٹ آگئی۔ اس نے ایک گہری سانس باہر کو خارج کی۔ بالآخر اس نے میز پہ رکھی بھورے لیدر کور کی ڈائری کو اٹھایا اور دو انگلیوں سے ڈائری کے اندر سے ایک تصویر نکالی اور سامنے رکھی۔

کیف نے نظریں جھکا کے دیکھا۔

وہ ایک لڑکی کی تصویر تھی۔ چہرے کا کلوزاپ۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سبز تھیں اور بھورے بال ڈھیلے جوڑے میں بندھے تھے۔ وہ ایک بے داغ’ شفاف سا چہرہ تھا۔ ایسے چہرے انسان ہر روز نہیں دیکھتا۔

"تم اس لڑکی کو جانتے ہو؟”

کیف نے نفی میں گردن ہلائی۔

"یہ تمہاری کزن صفورا کی دوست ہے۔”

"اوکے۔” کیف نے الجھ کے اسے دیکھا۔ صفورا اس کی امیر  سیکنڈ کزن تھی۔ مہینوں بعد اس سے ملاقات ہوا کرتی اور اس میں بھی صفورا اس کو اسٹیبلش ہونے کے لیکچر دیا کرتی۔ تھی۔ تنگ آکے اس نے صفورا کی فیملی سے ملنا ہی چھوڑ رکھا تھا۔

"صفورا نے اپنی اس دوست (تصویر اٹھا کے دکھائی) کو دو تین دفعہ سیکیورٹی گارڈز رکھوا کے دیئے ہیں لیکن اس لڑکی کے پاس زیادہ دن تک کوئی گارڈ نہیں ٹکتا۔ پچھلے ہفتے اس نے پھر سے صفورا سے کوئی قابل بھروسہ گارڈ ڈھونڈنے کے لیے کہا ہے۔”

سفید بالوں والا مینیجر اس دوران باری باری ان دونوں کو دیکھ رہاتھا جیسے ٹینس کے میچ میں گیند کا نظروں سے تعاقب کر رہا ہو۔

"اوکے؟” کیف ابھی تک سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

"تم، کیف۔۔۔ تم اپنی کزن صفورا سے کہو گے کہ وہ اس لڑکی سے تمہاری سفارش کرے اور تمہیں اس کے گارڈ کی جاب دلوادے۔ ویسے بھی تم نے چند برس پہلے ایک سیکیورٹی کمپنی میں دو ماہ کے لیے کام کیا تھا۔ تمہارے پاس تجربہ بھی ہے اور تمہیں ضرورت بھی ہے۔ مجھے امید ہے صفورا تمہیں انکار نہیں کرے گی۔” تصویر رکھی اور مسکرا کے کندھے اچکائے۔ "بس اتنا سا کام ہے۔”

بالآخر معاملہ کیف کی سمجھ میں آنے لگا۔

"آپ۔۔۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں صفورا کی دوست کا گارڈ بن جاؤں۔ اس کا اعتماد حاصل کروں۔ مگر کیوں؟”

ماہر فرید کی مسکراہٹ غائب ہوئی ۔ چہرے ہپ سختی در آئی۔

"ایسے کاموں میں کیوں نہیں پوچھتے۔ کام کی قیمت پوچھتے ہیں۔” ابرو اٹھا کے سرد لہجے میں تنبیہ کی۔

چند لمحے کے لیے سٹنگ روم میں سناٹا چھا گیا۔ سارے خوشبوئیں مر گئیں۔ اب صرف ایک احساسِ یرغمالی تھا۔

"دیکھیں۔۔۔” وہ قدرے دھیمے لہجے میں بولا۔ "مجھے اتنا توبتائیں کہ مجھے اس کے پاس جاب کرکے کرنا کیا ہے؟ میرا مقصد کیا ہوگا؟ میں کوئی برا انسان نہیں ہوں ۔ ٹھیک ہے میرے مسئلے ہیں لیکن میں کچھ غلط نہیں کرنا چاہتا۔”

ماہر فرید نے بدمزہ ہو کر مینیجر کو دیکھا۔ "بہت بولتا ہے یہ۔”

مینیجر نے ہلکے سے شانے اچکا دیے۔ پھر کوٹ کی جیب سے ایک پرچی نکا ل کے کیف کے سامنے رکھی۔ اس پہ ایک رقم درج تھی۔

کیف نے رقم کے ہندے پڑھے۔ پھر صفر گنے۔ ایک بار۔ دو بار۔ اس کی آنکھیں تعجب سے پھیلیں۔ نظریں اٹھا کے تذبذب سے ماہر کو دیکھا ۔

"بدلے میں آپ کیا چاہتے ہیں؟”

"اتنے پیسے کوئی نیک کام کے لیے نہیں دیا کرتا، کیف۔” وہ سپاٹ سے انداز میں بولا۔

کیف نے پرچی پہ رقم دوبارہ پٹھی۔ پھر سر جھکا دیا۔ اتنا کہ ٹھوڑی سینے سے لگنے لگی۔

"کسی لڑکی کا گارڈ بننے کا مطلب ہے سائے کی طرح اس کے ساتھ رہنا۔ اس پہ نظر رکھنا۔ اس کو نقصان پہنچانا۔ یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔”

سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔

ماہر فرید کچھ دیر اس  کےجھکےہوئے سر کو گھورتا رہا۔ پھر وہ اٹھا اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی۔ کیف نے چہرہ اٹھا کے اسے دیکھا۔

وہ صوفے کے پیچھے چلا گیا اور کھڑکی کے سامنے چکر کاٹنےلگا۔ دائیں سے بائیں۔ پنڈولم کی طرح۔ وہ جیسے کچھ سوچ رہاتھا۔ پھر قدم روک کے دور بیٹھے کیف کو دیکھا۔

"ٹھیک ہے۔ نہ مانو میری بات۔ پھر کیا کرو گے؟” اس کی آواز میں نرمی تھی جیسے سمجھا رہا ہو۔ "کاروبار میں نقصان اور قرضوں نے تمہاری سوشل لائف ختم کرکے رکھ دی ہے۔ مرد کا معاشی طور پہ اسٹیبلشڈ نہ ہونا اس کی عزت آدھی کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں سے ملنا چھوڑ دیتا ہے۔ لاؤنج لزرڈ بن جاتاہے۔ گھر سے نہیں نکلتا اور نکلتا ہے تو ایسے جوتے پہن کے۔”

کیف نے چونک کے اپنے جوتوں کو دیکھا۔ سفید جوگرز اب مٹیالے ہو چکے تھے۔ اس نے پیر قدرے پیچھے کیے لیکن وہ ان کو چھپا نہیں سکتا تھا۔

"دوسری طرف میری آفر ہے۔” ماہر فرید واپس اس کے سامنے آکے بیٹھا۔”میرے لیے صرف دو ماہ کام کرو۔ صرف دو ماہ۔ اور ساتھ اپنی فوٹوگرافی جاری رکھو اور اپنا نیا بزنس پلان بناؤ۔ دو ماہ ختم ہوتے ہی میں تمہارا بزنس خود سیٹ کروادوں گا۔ مارکیٹنگ، نیٹ ورکنگ، میری ٹیم سب کرلے گی۔ صرف دو ماہ۔” وکٹری کی دو انگلیاں بنا کے دکھائیں۔

"آپ اپنا کام کسی سے بھی کرواسکتے ہیں۔ پھر میں ہی کیوں؟”

ماہر فرید پیچھے کو ہوا اور ٹانگ پہ ٹانگ جمائی۔ اب کہ وہ بولا تو آواز میں برہمی تھی۔ "تم میرا کام کرو گے یا نہیں؟”

کیف جمال کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا۔ "اوہ۔ آپ جلدی میں ہیں؟ اگر میں جا کے صفورا کو بتا دوں کے کوئی اس کی دوست کو اسٹالک کرنے کی کوشش کررہا ہےتو؟”

وہ  کیف کو چند لمحے دیکھتا رہا اور پھر ایک دم سے ہنس پڑا۔  اور نفی میں سر ہلایا۔

"تم یہ نہیں کرو گے۔” یہ کہتے ہوئے اس نے تصویر اٹھائی۔کیف کو تصویر کی پشت نظر آئی۔ وہاں کچھ لکھا تھا۔ پانچ الفاظ۔

"آپ کو کیسے معلوم کہ میں یہ نہیں کروں گا؟” وہ متعجب ہوا۔

ماہر فرید نے جواب نہیں دیا۔ اس نے لیدر ڈائری کھولی۔ کیف کی نظریں  نیچے جھکیں ۔ وہ جسے ڈائری سمجھ رہا تھا، وہ دراصل فوٹو البم تھی۔ اگلے ہی اس کا سانس کا رک گیا۔

پہلے صفحے پہ اوپر نیچے دو تصاویر تھیں۔ اوپری تصویرایک سیا ہ بالوں والی لڑکی کی تھی۔ وہ اس میں مسکرا رہی تھی۔

نچلی تصویر اسی لڑکی کی تھی لیکن اس کی آنکھیں نیلوں نیل تھیں۔ پیشانی زخمی تھی اور۔۔۔ پلکیں بند تھیں۔ وہ شائد کسی لاش کی تصویر تھی۔

وہ آہستہ آہستہ صفحے پلٹانے لگا۔ ہر صفحے پہ اوپر ایک لڑکی کی زندگی سے بھر پور تصویر ہوتی اور نیچے زخمی یا لاش جیسی تصویر۔ تصویریں مختلف لڑکیوں کی تھیں۔ اس نے چھٹا صفحہ پلٹایا تو وہ خالی تھا۔ اس نے اوپری خانے میں سبز آنکھوں والی لڑکی کی تصویر لگا دی۔

نیچے جگہ ابھی خالی تھی۔

کیف اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔ اطراف میں ساری خوشبوئیں دم توڑ گئی تھیں۔ اب صرف کافور کی بو تھی جو اندر باہر پھیلی تھی۔

ماہر فرید نے کھلی ہوئی البم پرے دھکیلی اور نظریں اٹھا کے کیف کو دیکھا۔ پھر اس نے وہ دو فقرے بولے۔ وہ دو فقرے اس کی ساری گفتگو پہ بھاری تھے۔ کیف جمال نے رکی ہوئی سانس خارج کی۔ پرچی پہ لکھے صفر گنے۔ یہ اس کے قرضے اتارنے کے لیے کافی تھے۔ ان دو فقروں کے بعد اس کے پاس انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ صرف دو ماہ کے لیے وہ یہ کام کر سکتا تھا۔

"میں تیار ہوں۔”

ماہر فرید مسکرایا۔ "گڈ بوائے۔” پھر مینیجر کو اشارہ کیا۔ اس نے جیب سے ایک پھولا ہوا لفافہ نکال کے کیف کے سامنے رکھا۔

"یہ کام کے علاوہ ہیں۔ صرف اس لیے کہ تم نئے جوتے خرید سکو۔ آئیندہ کسی ورک میٹنگ پہ ایسے جوتے پہن کے مت آنا۔” نرمی سے تنبیہہ کی۔ "اب تم جاؤ۔ مالک تم سے خود رابطہ کرلے گا۔” سفید بالوں والے کی طرف اشارہ کیا۔

کیف نے ایک ملامتی نظر اس پہ ڈالی، پیکٹ اٹھایا اور وہاں سے اٹھ گیا۔

“مجھے اس لڑکے پہ اعتبار نہیں ہے، ماہر۔” اس کے جاتے ہی مالک نا خوشی سے بولا۔

"اعتبار تو مجھے تم پہ بھی نہیں ہے۔ لیکن ہم ساتھ کام کر رہے ہیں نا۔” وہ عام سے لہجے میں کہتے ہوئے اٹھا اور کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ دوپہر کی سنہری روشنی سیدھی اس کے چہرے پہ پڑنے لگی۔ ماہر نے آنکھیں بند کرلیں۔

"ماہر۔۔۔” مینیجر نے پکارا۔ "انتقام کے سفر پہ نکلنے والے کو چاہیے کہ وہ دو قبریں کھود لے۔ ایک  دشمن کی اور ایک خود اپنی۔”

"یہ کنفیوشس نے کہا تھا۔ اور جانتے ہو اسے کیا چیز قبر تک لے گئی تھی؟ اپنے بیٹوں کی موت کا غم۔” وہ آنکھیں بند کیے کہہ رہا تھا۔ سرد سی سرگوشی میں ۔ "موت سے بڑاکوئی غم نہیں ہے، مالک۔”

میز پہ البم یونہی کھلا رہاتھا۔ مالک نے تاسف سے نفی میں سرہلایا۔ پھر ہاتھ بڑھا کے چھٹاصفحہ پلٹایا تو سبز آنکھوں والی لڑکی کی تصویر کی پشت دکھائی دینے لگی۔

وہاں اردو میں لکھاتھا۔

"حورجہاں کی بیٹی کشمالہ۔”

 مالا اردو ناول از نمرہ احمد کو مزید پڑھنے یا  PDF File Download کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کلک کریں۔

Download Mala Novel by Nimra Ahmed

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے