اہم بات ۔ اردو جاسوسی ناول

بھوک انسان کو ہر کام پر آمادہ کر سکتی ہے۔ وہ پرائیویٹ سراغ رساں بھی بھوک سے بے حال تھا کہ ایک خاتون نے اچانک دخل در معقولات کرتے ہوئے اُس کے صبر و برداشت کو آزمانا شروع کر دیا تھا۔

ایک ہلکی پھلکی مسکراتی ہوئی شریر سی جرم زدہ کہانی

قصہ کچھ یوں ہے جنا ب ۔۔۔۔ کہ اس شام میں اپنے آفس میں میز پر جوتوں سمیت پاؤں ٹکائے ریوالونگ چیئر پر نیم دراز تھا۔ سامنے والے بار اور ریستوران کےنیون سائن کی روشنی بار بار یاد دلارہی تھی کہ ریستوران اور بار سامنے ہی موجود ہے لیکن میں وہاں جا نہیں سکتا تھا حالانکہ میرے پیٹ میں بھوک سے بَل پڑ رہے تھے۔ میرا خیال ہے مجھے یہ جتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ احساس کتنا تکلیف دہ تھا۔

اسی دوران وہ عورت ہوا کے جھونکے کی طرح آفس میں داخل ہوئی۔اس کے بال سنہرے اور نشیب و فراز خوب تھے مگر وہ ویسے لباس میں نہیں تھی جیسے لباس میں عورت کو ہونا چاہیئے۔ میرا مطلب ہے کہ اس کا لباس کچھ زیادہ ہی معززانہ، شریفانہ اور سیدھا سادہ تھا۔ ہاتھ میں وہ بریف کیس اُٹھائے ہوئے تھی۔ بال کندھوں تک ترشے ہوئے اور بالکل سیدھے تھے۔کوئی زمانہ تھا جب عورتیں ، عورتیں لگتی تھیں۔عورتوں اور مردوں کے حلیوں اور طور طریقوں میں فرق ہوا کرتا تھا۔

"فرمائیے۔۔۔ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں میڈم؟”

میں نے خوش خلقی اور شائستگی سے پوچھا۔ اپنے متوقع کلائنٹ کے ساتھ میں ہمیشہ خوش خلقی اور شائستگی سے پیش آتا ہوں۔ میں ان کے ساتھ کسی اور طرح پیش آنے کا متحمل ہوہی نہیں سکتا۔  اور میں سوچ رہا تھا کہ اس عورت نے اگر کوئی کیس میرے سپرد نہ بھی کیا تب بھی میں شاید  بات چیت کو کوئی ایسا رُخ دینے میں کامیاب ہوجاؤں کہ یہ مجھے کھانا کھلانے سامنے والے ریستوران میں لے چلے۔

"میرا ارادہ ہے کہ تم مجھے بتاؤ کہ ایک پرائیویٹ سراغ رساں کیا ہوتا ہے۔۔۔ کیسا ہوتا ہے۔۔۔ اور ایک پرائیویٹ سراغ رساں کی حیثیت سے تم خود کو کیسا محسوس کرتے ہو؟” اس نے بلا تمہید، خالص کاروباری سے لہجے میں پوچھا۔

میں خالی خالی نظروںسے ایک ٹک اس کی طرف دیکھتار ہ گیا۔

"کیا تم پرائیویٹ سراغ رساں نہیں ہو؟” میری خاموشی کو دیکھتے ہوئے اس نے گویا تصدیق چاہی۔

"پرائیویٹ سراغ رساں تو میں ہوں۔” میں نے تسلیم کیا۔

"توپھر بتانے میں کیا قباحت ہے؟ پرائیویٹ سراغ رساں کیا ہوتا ہےَ”

"یہ اسکول نہیں ہے۔ میں لوگوں کو سراغ رساں بننے کی تربیت نہیں دیتا۔” میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

اس نے قہقہہ لگایا جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنادیا ہویا پھر کوئی بہت ہی احمقانہ بات کی ہو پھر وہ جھرجھری سی لے کر بولی۔ "خدا نہ کرے جو میں پرائیویٹ سراغ رساں بنوں۔ میں  تو صرف ایک پرائیویٹ سراغ رساں تخلیق کرنا چاہتی ہوں۔”

میں ایک بار پھر ایک ٹک اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مجھے ایک ٹک اس کی طرف دیکھنے کی عادت پڑجائے گی۔

"میں ایک مسٹری رائٹر ہوں۔۔۔۔” وہ کچھ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر بولی جیسے کسی فاترالعقل  یا ذہنی طور پر پسماندہ  بچے کو کوئی مشکل بات سمجھانے کی کوشش کررہی ہو۔ "میں وقت گزاری کا مصالحہ تخلیق کرتی ہوں۔”

"وقت گزاری کا مصالحہ۔۔۔۔۔؟” میں نے دہرایا۔ اس وقت تک مجھے یہ اندازہ تو ہو چکا تھا کہ یہ عورت کوئی کیس لے کر میرے پاس نہیں آئی چنانچہ کھانے نے امید تو میرے دل میں دم توڑ گئی تھی۔ اب تو مجھے یہ خدشہ محسوس ہو رہاتھا کہ کھسکی ہوئی نہ ہو، اس کی کھوپڑی کا ایک آدھ ضروری پرزہ گرا ہوا نہ ہو۔ اس قسم کے لوگ کبھی کبھی خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں چنانچہ میں نے ایک نظر اپنی میز کی سب سے اوپر والی دراز کی طرف بھی دیکھ لیا تھا جو کھلی ہوئی تھی۔ اس دراز میں میرا ریوالور رکھا ہوا تھا لیکن میرے خیا ل میں ابھی اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کی نوبت نہیں آئی تھی۔

وہ میرے مقابل خالی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئی بولی ۔ ” کیا میں بیٹھ سکتی ہوں؟”

میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے سوچا اس کا دل رکھنے میں کوئی حرج نہیں اور ذرا صحیح طور پر یہ جاننے کی کوشش بھی کر لینی چاہیئے تھی کہ وہ در حقیقت چاہتی کیا تھی۔

بیٹھنے سے پہلے اس نے کرسی پر ہاتھ مارا۔ کُشن سے دھول اُڑی ۔ وہ ناک سکیڑتے ہوئے بولی۔ "کیا تم کبھی جھاڑپونچھ نہیں کرتے؟”

"میرا خیال ہے ہمارے درمیان یہ تو طے ہوچکاہے کہ میں ایک پرائیویٹ سراغ رساں ہوں، خانہ دار خاتون نہیں۔”

وہ ایک بار پھر ہنسی۔ اس کی ہنسی میں بھی نخوت تھی۔ وہ کرسی کے کنارے پر ٹِک گئی اور بریف کیس گود میں رکھ لیا۔ پشتے سے ٹیک لگانے کی اس نے جرات نہیں کی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی شخصیت اور انداز و اطوار میں ایک اسکول ٹیچر مس برسن کی جھلک تھی جن سے مجھے نفرت تھی۔ میں اس وقت پانچویں کلاس میں تھا۔  اس نے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے وضاحت کی۔ "وقت گزاری کا مصالحہ تخلیق کرنے سے میری مراد یہ ہے کہ میں قتل وغیرہ کی گتھیوں پر مشتمل ایسے کیسوں کے بارے میں ناول لکھتی ہوں جن میں زیادہ تشدد نہیں ہوتا۔”

"قتل تو خود تشدد کی انتہائی شکل ہے۔ جب بات قتل کی ہوتو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ تشدد نہیں ہوا؟” میں نے نہایت رسان سے اپنی دانست میں ایک معقول سوال کیا۔

اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ عام طور پر عورتیں اس وقت ایسی ٹھنڈی سانس لیتی ہیں جب کوئی مرد اپنے آپ کو ان کی توقعات سے زیادہ بے وقوف ثابت کرتا ہے۔ میری آنجہانی والدہ بھی مجھ سے بات کرتےوقت اسی طرح ٹھنڈی سانس لیا کرتی تھیں۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ اس عورت میں میری والدہ کی جھلک بھی موجود تھی۔ اب مجھے چڑچڑاہٹ محسوس ہونے لگی تھی۔

"یہ درست ہے کہ قتل بجائے خود ایک متشددانہ اقدام ہے لیکن میرے ناولوں میں محض اشارتاً  تشدد کا ذکر آتا ہے اس کی تفصیلی منظر کشی نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ اس قسم کے ناولوں میں اچھا خاصا مزاح بھی ہوتا ہے۔”

"حیرت ہے ۔۔۔۔کچھ لوگ قتل کے بارے میں بھی کوئی مزاحیہ بات سوچ لیتے ہیں !” میں نے افسوس سے کہا۔ اس نے ایک بار پھر ٹھنڈی سانس لی۔ اس بار شاید  صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا مقصود تھا۔

وہ کچھ نہ بولی تو میں نے پوچھا۔ "ان سب باتوں کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟”

"میں نے سوچا ہے کہ اب مجھے اپنی تحریروں میں کچھ تبدیلی لانی چاہیئے۔ اب تک میرے ناولوں میں قتل کے معمے، کوئی عام سا کردار ہی اتفاقات کے سہارے حل کرتا رہا ہے۔ میں محسوس کررہی ہوں کہ اس قسم کے ناول میں نے بہت لکھ لیے ہیں۔اب میں پرائیویٹ سراغ رسانی کے بارے میں طبع آزمائی کرنا چاہتی ہوں۔ اپنے ناولوں میں ایک عدد پرائیویٹ سراغ رساں کا کردار ڈالنا چاہتی ہوں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ نقاد بھی ایسے ناولوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں  جن میں کوئی باقاعدہ پیشہ ور اور منجھا ہو پرائیویٹ سراغ رساں موجود ہوتا ہے۔ قارئین بھی ایسے ناول پڑھتا چاہتے ہیں۔ اس کام میں زیادہ پیسہ ہے۔”

"کس کے لیے؟” میں نے فوراً پوچھا۔ میری رائے میں یہ ایک معقول سوال تھا۔ رقم اور دولت وغیرہ کا تذکرہ مجھے بہت محبوب ہے۔

"میرے لیے۔” اس نے بلاتامل  جواب دیا۔ ” مت بھولو کہ رائٹر میں ہوں۔ سارا کام تو میں ہی کروں گی۔”

اس نے اپنا بریف  کیس کھول کر ایک رائٹنگ پیڈ نکالا اور نہایت نزاکت سے اسے میز پر رکھا پھر اس نے ایک نقرئی پین نکالا جسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس سے یہ پین ہتھیانے میں کامیاب ہو جاؤں تو اسے لے کر گلی کے کونے پر واقع دکان پر جا سکتا تھا۔ وہاں پیٹر پرانی چیزیں رہن رکھتا ہے۔ اس پین کو رہن رکھ کر عمدہ قسم کا کھانا کھایا جا سکتا تھا۔ ایک بار پھر میری توجہ کھڑکی پر جھلملاتی  نیون سائن کی روشنی پر چلی گئی ۔

وہ قلم سنبھالتے ہوئے پیشہ وارانہ سے لہجے میں بولی۔ "ہاں۔۔۔ تو تم اپنے الفاظ میں بیان کرو کہ ایک پرائیویٹ سراغ رساں ۔۔۔۔ سچ مچ کا پرائیویٹ کا سراغ رساں کیا ہوتا ہے جو روزانہ شہر کی ان بے رحم گلیوں کی خاک چھانتا  ہے۔ جو بدکرداروں اور اپنے راستے میں رکاوٹ بننے والوں کا صفایا کردیتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے بارے میں سب کچھ بتاؤ کہ میں اپنے ناولوں میں حقیقت سے قریب تر کردار تخلیق کرسکوں۔”

"اور مزید دولت کما سکوں۔” میں نے ٹکڑا لگایا۔

وہ میری طرف دیکھ کر یوں  مسکرائی جیسے کسی بچے کے منہ سے اتفاقاً عقل مندی کی بات نکل گئی ہو۔ "ہاں ۔۔۔۔ یہ تو صحیح کہا تم نے۔۔۔۔۔ اب بتا نا شروع کرو۔” وہ قلم پکڑے بالکل تیار بیٹھی تھی۔

"تمہارے خیال میں مجھے اپنی داستانِ حیات کہاں سے شروع کرنی چاہیئے؟” میرے لہجے میں طنز چھپا ہوا تھا مگر وہ طنز اُس کے سر  سے گزر گیا۔

وہ پُرخیال لہجے میں بولی۔”میرا خیال ہے سب سے پہلے تو یہ بتا دو کہ تم ٹھائیں ٹھائیں  کس چیز سے کرتے ہو؟”

"ٹھائیں ٹھائیں۔۔۔؟” میں نے دہرایا۔

"ہاں۔۔۔ میرا مطلب ہے تم ہتھیار کون سا استعمال کرتے ہو؟ تمہارے پاس گن کون سی ہے؟” اس نے وضاحت کی۔

میں نے دراز سے ریوالور نکالا اور میز پر رکھ دیا۔

"یہ پستول ہے یا ریوالور؟” اس نے  پوچھا۔

میں نے ترحم آمیز سی نظروں سے  اس کی طرف دیکھا لیکن جس طرح طنز کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا اسی  طرح میری ترحم آمیز نظر بھی ضائع گئی۔ وہ پین  پکڑے رائٹنگ پیڈ پر جھک  گئی۔

"یہ ریوالور ہے۔۔۔۔” میں نے تحمل سے کہا۔ ” یہ دیکھو۔۔۔ اس میں یہ گول چرخی سی  لگی ہوئی ہے۔ پستول میں یہ چرخی  نہیں ہوتی۔”

"بہت خوب!” وہ ہر بات کو نوٹ کرتے ہوئے بولی۔ "ناول  یا کہانی میں ہر چیز کے بارے میں مستند انداز میں لکھنا چاہیئے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ میں چاہتی ہوں میرے ناولوں میں تم اس طرح لگو جیسے تم سچ مچ دنیا میں موجود ہو۔”

"لیکن میں تو سچ مچ دنیا موجود ہوں۔” میں نے اسے یاد دلایا۔ "میں عالم ارواح سے تم سے مخا طب نہیں ہوں۔ "

"اوہ۔۔۔ کیا میں نے  "تم” کا صیغہ کا استعمال کیا تھا؟” وہ ذرا بھی کھسیانی ہوئے بغیر ہنسی۔  "دراصل  میں "وہ” کہنا چاہ رہی تھی۔ میرا مطلب  یہ کہ میں ناولوں میں پرائیویٹ سراغ رساں کا جو کردار تخلیق کروں، وہ بالکل حقیقی نظر آنا چاہیئے۔۔۔۔” پھر اس نے وقفے وقفے سے میری طرف دیکھتے ہوئے میری شخصیت کے بارے میں اہم نکات پیڈ پر نوٹ کرنے شروع کردیے۔ "شام کو دیر تک آفس میں بیٹھنے والا۔۔ چہرے سے فاقہ زدہ دکھائی دینے والا۔۔۔ بال بڑھے ہوئے۔۔۔ حجامت کی ضرورت۔۔۔ نچلے پپوٹے بھاری۔۔۔ شراب نوشی کی علامت۔۔۔ پھیکی رنگت۔۔۔ گھسے ہوئے کپڑے کا سوتی کوٹ۔۔۔۔۔”

"یہ سوتی نہیں، ٹوئیڈ کا اسپورٹس کوٹ ہے۔” اب میں دانت پیس کر تصحیح کیے بغیر نہ رہ سکا۔

"ٹوئیڈ کا اسپورٹس کوٹ۔۔۔” اس نے دہرایا اور پیڈ پر تصحیح کر لی مگر ساتھ ہی اضافہ کیا۔ "جو شاید اچھے دنوں کی یادگار ہے۔۔۔۔”

پھر اس نے میرے پیروں کی طرف دیکھا جو ابھی تک میز پر ٹکے ہوئے تھے۔ وہ بولتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے لگی۔ "جوتوں کے تلے اور ایڑیاں بُری طرح گھسی ہوئی۔۔۔۔” پھر وہ سر اٹھا  کر میری طرف دیکھ کر پُراشتیاق لہجے میں بولی۔ "مجھے یقین ہے تمہاری جرابوں کی ایڑیوں میں سوراخ بھی ہوں گے۔۔۔؟وہ تصدیق  چاہ رہی تھی۔

میں نے پاؤں میز سے ہٹا کر فرش پر رکھ لیے۔ خوش خلقی اور شائستگی کا کافی مظاہرہ ہوچکا تھا لہٰذا میں نے انہیں بالائے طاق رکھتے ہوئے ذرا سخت لہجے میں کہا۔ "سنو خاتون! بہت ہو چکی۔۔۔ میں اب مزید برداشت نہیں کرسکتا کہ تم میرے سامنے بیٹھ کر میری توہین کرتی رہو۔ صرف اس لیے کہ تم مزید کتابیں لکھ کر مزید دولت کما سکو جبکہ میں نے تمہاری وہ کتابیں بھی نہیں پڑھیں جو تم نے اب تک لکھی ہیں۔”

اس نے فوراً سر جھکا کر باآواز بلند بولتے ہوئے پیڈ پر لکھا۔ "پڑھنے کا  شوق نہیں ہے۔۔۔۔” پھر اس نے سر اٹھا کر ناک سکیڑتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہوا کو سونگھا اور بولی۔ "یہاں عجیب سی بو  رچی ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے تم سگریٹ پیتے ہو۔۔۔” پھر اچانک اس کی نظر ہک پر لٹکے ہوئے میرے اوور کوٹ پر پڑی اور مسرت سے تقریباً چلا اُٹھی۔ "ارے ۔۔۔ تم تو اوور کوٹ بھی پہنتے ہو!”

"کیا اوور کوٹ پہننا کوئی محربِ اخلاق قسم کی حرکت ہے؟ یا کانگریس نے اس کے خلاف کوئی قانون منظور کرلیا ہے؟ میں نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا۔

وہ میرے سوال پر ذرا بھی توجہ دیے بغیر بولی۔ "پرائیویٹ  سراغ رساں کانام ذہن میں آتے ہی اوور کوٹ کا خیال بھی ضرور آتا ہے ۔ یہ دونوں لازم و ملزوم معلوم ہوتے ہیں ۔ شکر ہے تمہارے پاس سچ مچ اوور کوٹ موجود ہے۔ میں نہیں  چاہتی تھی  کہ تمہیں خیالی اوور کوٹ پہناؤں۔ اچھا یہ بتاؤ تم سراغ رسی کا معاوضہ کیا لیتے ہو؟”

"جب تم میری خدمات حاصل کرو گی تو بتا دوں گا۔” میں نے جواب دیا۔

"تیس یا پینتیس ڈالر فی گھنٹا؟” اس نے  اندازہ ظاہر کرنے کی کوشش کی اور میں نے یہ کوشش کی کہ حیرت سے آنکھیں نہ پٹ پٹاؤں۔ کیونکہ اتنا معاوضہ لینے کے بارے میں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ میرے پاس جو کلائنٹ آتے تھے۔ انہیں اگر میں اس شرح سےمعاوضہ بتاتا تو کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ کوئی چیز اُٹھا کر میرے سر پر دے مارتے جبکہ اس عورت نے اپنے ہی تجویز کردہ اس معاوضے  کے بارے می جو رائے ظاہر کی وہ یہ تھی:

"اگر میں نے تمہار امعاوضہ پینتیس ڈالر فی گھنٹا لکھا تو تم ذرا نچلے درجے کے سراغ رساں نظر آؤ گے۔ کیا خیال ہے؟”

میں اب کچھ بولنے کی منزل سے شاید گزر چکا تھا۔ میں نے اپنا منہ مظبوطی سے بند رکھا۔

"تم جوڈو کراٹے جانتےہو؟ ” اس نے  پوچھا۔ میں خاموش رہا۔ اس سے اس نے یہ مطلب اخذ کیا کہ میرا جواب نفی میں تھا۔

"تائے چی یا کنگ فو آتی ہے؟ نہیں۔۔۔؟ اچھا۔۔۔ باکسنگ یا ریسلنگ تو آتی ہوگی۔۔۔؟ میں خاموشی سے اسے گھورتا رہاتو وہ خود ہی اس سے مطلب اخذ کرتے ہوئے استہزائیہ سی ہنسی کے ساتھ بولی۔ "بھئی کسی کا بازہ وغیرہ تو مروڑ ہی سکتے ہوگے؟ پرائیویٹ سراغ رساں کا کسی نہ کسی طرح تھوڑا بہت طاقت کا مظاہرہ کرنا ضروری  ہے۔”

میں نے اپنا ہاتھ ریوالور کے دستے پر رکھ دیا۔ تب اس  نے جھک کر پیڈ پر نوٹ کیا۔ "جسمانی صلاحیت کچھ خاص نہیں۔۔۔ کوئی حربی صلاحیت نہیں ۔۔۔ بس ہتھیار پر انحصار کرتاہے۔۔۔”

 وہ اپنے رائٹنگ پیڈ کو گھورتے ہوئے پین کا پچھلا سرا پُر خیال انداز میں دانتوں سے ٹکرانے لگی۔ میری اسکول ٹیچر بھی جب مجھے ذلیل کرنے کا کوئی نیا طریقہ سوچ رہی ہوتی تھی تو اسی طرح پنسل سے دانت کھٹکھٹاتی تھی۔

آخر وہ گویا کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے نفی میں  سر ہلا کر بولی۔ ” نہیں بھئی۔۔۔ ایسے تو کام نہیں چلے گا۔ اس طرح جو کردار تخلیق ہوگا وہ میرے کام کا نہیں۔ تم تو چونکہ ناول  ہی نہیں پڑھتے اس لیے تمہیں معلوم نہیں ہوگا کہ اس طرح کےکردار بہت لکھے جا چکے ہیں۔ حتٰی کہ میں تو یہ اندازہ بھی کر سکتی ہوں کہ بعض چیزوں کو تم کن ناموں سے پکارتے ہوگے۔”

اس نے اپنا پیڈ اُٹھاتے ہوئے نظروں ہی نظروں میں مجھے یکسر مسترد کردیا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔ ” نہیں ۔۔۔ تم سے تو بالکل کام نہیں چلے گا۔ مجھے کوئی ایسا کردار چاہیئے جس میں کوئی نیا پن ہو۔۔۔ اپنے پیشے کے بارے میں جوش و خروش اور خصوصی صلاحیتیں ہوں۔۔۔ عادات و اطوار میں نفاست ہو۔۔۔”

میں نے اپنا ریوالور میز سے اُٹھالیا۔

وہ بے نیازی سے ایک نظرمیری طرف دیکھنے کے بعد  پین اور پیڈ، بریف کیس میں رکھتے ہوئے بولی۔ "گن ہاتھ میں پکڑنا تو تمہیں  بہت اچھا لگتا ہوگا؟ یہی تو تمہاری مردانگی اور دلیری کی نشانی ہے۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟ گن کے بغیر تو تم خود کو چوہا محسوس کرتے ہوگے”

میں نے اپنا منہ سختی سے بند رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

jasosi urdu novel ahm baat

"یہ تھا وہ موقع جب تم نے اُسے گولی ماردی؟” اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی نے عدالت میں مجھ سے پوچھا۔

"ہاں۔” میں نے جواب دیا۔ "بھوکے پیٹ آدمی آخر کتنی بے عزتی برداشت کر سکتا ہے؟ اور پھر وہ بدبخت عورت یوں تو رائٹر ہونے کا دعویٰ کررہی تھی لیکن اسے سراغ رسی کی کہانیوں کے بارے میں ایک اہم بات معلوم نہیں تھی۔۔۔ وہ یہ کہ گن جب ایک بار نکل آئے تو کہانی ختم ہونے سے پہلے استعمال ضرورہوتی ہے۔’

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے