خطرناک آزمائش – سسپنس اردو ناول

ایک اناڑی مجرم کی کہانی

آدھی رات کا وقت تھا تمام سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں۔ چاروں طرف گہرا سناٹا  چھایا ہوا تھا اور اس سناٹے میں اُس کے جوتوں کی ایڑیوں کی آوازبڑی بھدی اوربے سُری محسوس ہو رہی تھی۔ وہ فٹ پاتھ پر سستے کرائے کے مکانات  کی طویل قطار کے مٹے مٹے  نمبر پڑھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ آخر اُسے جس مکان کی تلاش تھی وہ مل گیا۔ سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے اُس نے اُس بوڑھے  آدمی کی طرف دیکھا جو صرف بنیان پہنے آخری سیڑھی پر کھڑا ہوا تازہ ہوا حاصل کرنے کے لیے گہری گہری سانسیں لے رہاتھا۔ نیم تاریک ڈیوڑھی میں اُس نے لیٹر بکسوں پر لکھے ہوئے ناموں کا جائزہ لیا اور پھر لکڑی کا زینہ طے کرکے دوسری   منزل پر آگیا۔ کوریڈور میں قدم رکھنے سے پہلے اُس نے تجسس نظروں سے مختلف کمروں کے بند دروازوں کو دیکھا اور پھر محتاط انداز میں آگے چلنے لگا۔

مجرموں کے گروہ کے دو ارکان کے درمیان پیش آنے والی دلچسپ صورتحال

وہ چھوٹے قد اور چھریرے جسم کا ایک نوجوان تھا۔ سر پر تنکوں کا بنا ہوا ہیٹ رکھا تھا جو اُس کی زرد آنکھوں پر جُھکا ہوامحسوس ہوتا تھا۔ اُس نے جیب سے رومال نکال کر اپنے چہرے اور گردن سےپسینہ خشک کیا اور زیر لب بڑبڑاتے ہوئے گرمی کو بُرا بھلا کہنے  لگا۔ دفعتاً ایک کمرے  کا دروازہ کھلا۔  قمیص پاجامہ پہنے ہوئے ایک آدمی نمودار ہوا۔ اُس نے دودھ کی ایک خالی بوتل اپنے دروازے کے سامنے فرش پر رکھی۔ سرسری نظر سے نوجوان کی طرف دیکھا، ایک جماہی لی اور دوبارہ کمرے میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔ نوجوان بالکل ساکت کھڑا رہ گیا ۔ وہ کان لگائے کوئی آہٹ سننے کی کوشش کررہاتھا۔

ایک طویل مدت انتظار کرنے کے بعد آخرکار اُسے ایک اہم کام سپرد کر دیاگیا تھا۔ ویٹو اُسے اپنے باقاعدہ آدمیوں میں شامل کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے اُسے صرف اتنا کرنا تھا کہ وہ اپنے  آپ کو ویٹو کے اعتماد کا اہل ثابت کردے۔ اب اُسے معمولی چوریوں یا پولیس کے خوف سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آج کی رات کےبعد وہ ایک بہتر اور خوش آئند مستقبل کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔

اُسے صرف یہ امتحان پاس کرنا تھا۔ اس کام کو خوش اسلوبی سے انجام دینا تھا۔ ہر پستول باز کو ویٹو کے گروہ میں شامل ہونے سےپہلے اس آزمائش سے گزرنا پڑتاتھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح بیس بال ٹیم میں منتخب کیے جانے سے پہلےہر کھلاڑی کو اپنی صلاحیت کا لوہا منوانا پڑتاہے۔ ویٹو کی مثال بالکل کسی کوچ یااستاد کی طرح تھی اور وہ اپنی ٹیم میں صرف بہترین آدمیوں کی شمولیت پسند کرتا تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اس کا گروہ اب تک مظبوطی کے ساتھ قائم تھا جبکہ دوسرے بہت سے گروہ پولیس کا دباؤ پڑتے ہی اپنا دھندا سمیٹ کر بھاگ نکلے تھے۔ ویٹو جو کہ سسلی کاباشندہ تھا، بہت ہوشیار اور چالاک ذہن کامالک تھا۔ اب تک کوئی اسے نیچا دکھانے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔

ویٹو کے گروہ کے  تمام آدمی کسی ٹیم کی طرح نظم وضبط کے ساتھ کام کرتے تھے اور اُس کے حکم پر بلاچوں و چرا عمل کرنے کے لیے مستعد رہتے تھے۔ صرف اسی طرح کے منظم گروہ میں شامل ہونے کے بعد ہی کوئی اپنے آپ کو محفوظ خیال کرسکتا تھا۔ مگر یہ بات بھی امر واقعہ تھی کہ ویٹو قیامت تک زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ہر شخص کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے خواہ موت کسی وجہ سے ہی کیوں نہ واقع ہو۔ وہ آدمی جس کے دل میں آگے بڑھنے کا حوصلہ اور امنگ ہو اگر چاہے تو ایک دن ویٹو کی جگہ حاصل کر سکتا ہے مگر اس کے لیے بہت کچھ سیکھنا اور اور تجربہ حاصل کرنا ہوگا۔ یہ جاننا پڑے گا کہ گروہ کے جُملہ افراد کیسے اور کس طرح کام کرتےہیں۔ آج کی رات کا کام انجام دینے کے بعد وہ کم سے کم اُس راہ پر قدم تو رکھ ہی دے گا جو اُسے ایک نہ ایک دن سربراہی کی منزل تک لے جاسکتاہے۔ وہ ویٹو کے گروہ کے باقاعدہ ارکان میں شامل ہوجائے گا۔

اُس نے اپنے جیکٹ کو درست کیا تاکہ بغلی ہولسٹر میں لگے ہوئے ریوالور کا اُبھار اوپر نظر نہ آسکے۔ ویٹو کہا کرتا تھا کہ اپنا لباس ایسے تیار کراؤ کہ وہ سینے پر سے کافی ڈھیلا ہو۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ لوگ میرے آدمیوں پر نگاہ ڈالتے ہی اُنہیں تاڑجایا کریں۔ یہ الفاظ یاد آتے ہی اُس کا سینہ فخر سے پھول گیا۔ ویٹو نے اُس سے یہ بات کہہ کہ گویا یہ مان لیا تھا کہ وہ اُسے اپنے آدمیوں میں شمار کرتا ہے۔ پھر اس بات سے یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ ویٹو کو یقین تھا کہ وہ آج رات ضرور کامیاب ہو کر لوٹے گا۔ اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ”دینا ہی پڑے تو بے شک اسے پہلے رقم دے دینا مگر خیا ل رکھنا کہ وہ تمہارے ہاتھ سے بچ کر نکلنے نہ پائے۔”

اُس نے جیکٹ کے اندر ہاتھ ڈال کر اعشاریہ 45 بور کے ریوالور کو ہولسٹر میں کچھ ڈھیلا کیا اور اُس کا سیفٹی بٹن بھی کھول دیا۔ پھر وہ کوریڈور کے آخر میں واقع کمرے کی طرف بڑھا۔ ماچس جلا کر اُس کا نمبر دیکھا اور پھر ہاتھ اُٹھا کر لگا تار تین باراور پھر رک کر مزید دوبار دستک دی۔ اُس کے کانوں میں دروازے کے دوسری جانب فرش کے تختے چرچرانے کی آواز آئی اور پھر کسی نے پھنسی پھنسی آواز میں پوچھا، "کون ہے؟”

"میں ہوں ، پریٹی۔” اُس نے سرگوشی میں جواب دیا۔ "مجھے ویٹو نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔”

ایک طویل سکوت کےبعد دروازے کی کنڈی گرنے کی آواز سنائی دی، پھر قفل کھولا گیا اور پھر دروازہ آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوا۔ اُسے دروازے کی دوسری جانب کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ کمرہ اندر سے بالکل تاریک تھا۔

"اندر آجاؤ”۔ اسی آواز نے کہا۔ اس نے ایک گہری سانس  لی اور کمرے میں داخل ہوگیا۔ اُس کی آنکھیں چاروں طرف پھیلے ہوئے اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کررہی تھیں اور جسم کا ہر عضو اپنی جگہ چوکنا  اور ہوشیار تھا۔ اچانک چھت پر لگاہوا ایک تیز بلب روشن ہو گیا۔ ایک پل کے لیے اُس کی آنکھیں جھپک گئیں۔ اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آوازسنتے ہی وہ تیزی سے گھوما۔اُس کا ہاتھ بغلی ہولسٹر میں لگے ہوئے ریوالور کی طرف بڑھا مگر پھر درمیان میں ہی رک گیا کیونکہ اُس کی نظروں کے سامنے ایک دوسرے ریوالور کی نال کو اپنی جانب اُٹھے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اُس نے ریوالور اور اُس کے لگے ہوئے سائیلنسر کو پہچان لیا۔ آجکل عام طور پر پستول باز اسی قسم کے ریوالور استعمال کررہے تھے۔

وہ آدمی کم سے کم چھ فٹ تین انچ لمبا ضرور تھا۔ اسی مناسبت سے اس کا جسم پھیلا ہوا بھی تھا۔ سیاہ اور سخت گیر آنکھیں۔ سیاہ بال جو اُس کی چوڑی پیشانی کو چھوتے ہوئے بھنوؤں تک آرہے تھے۔ "تو تمہارا نام پریٹی ہے۔” وہ بولا۔

"ہاں۔ اور تم مورون ہو۔ ٹھیک ہے؟”

مگر وہ  جواب دینے کی بجائے اُس کے چہرے  کی طرف دیکھ  رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اُس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔

"ہاں، میں مورون ہوں۔” اُس نے کہا۔ اُس کی سیاہ آنکھیں بدستور گھور رہی تھیں۔ "پریٹی بڑا مناسب نام ہے۔ یہ نام تمہیں کس نے دیا ہے برخوردار؟”

پریٹی کے چہرے کے عضلات تن گئے اور اپنی پوری کوشش سےغصہ پر قابو پانے کی جدوجہد کررہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت ریوالور نکالنے کی کوشش خودکشی کے مترادف ہوگی۔

"ویٹو نے۔” اُس نے جواب دیا۔ "ویٹو مجھے اسی نام سے پکارتا ہے۔”

"خوب۔ اس کے پاس دماغ ہو یا نہ ہو مگر مزاح کی حس ضرور ہے۔” مورون برابر ہنسے جا رہا تھا۔ ہاتھ میں پکڑے ہوئے ریوالور کی نال کچھ نیچے جھک گئی تھی۔

"کیا تم رقم لائے ہو؟” اُس نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا۔

پریٹی  نے اثبات میں سر ہلایا۔ اُسے اپنے چہرے پر سُرخی پھیلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ مورون کی طنزیہ ہنسی اُسے بالکل پسند نہیں آئی تھی۔ وہ اپنی  صورت کے بارے میں بہت حساس تھا۔ اور سوچ رہا تھا کہ رخصت ہونے سے قبل  وہ اس کمبخت ک چہرے پر ایک گولی ضرور مار کے جائے گا۔ ویٹو نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ مورون کو ختم کرنا کیوں ضروری ہے۔ یہ اس کے لیے محض ایک  کام کی حیثیت رکھتا تھا مگر اب فرض میں ذاتی وجوہات بھی شامل ہو  گئی تھیں۔ مورون نے اس کی توہین کی تھی اور وہ اسے اس گستاخی کی سزا دینا چاہتا تھا۔

"لاؤ رقم نکالو۔” مورون نے کہا۔

ضرور، بڑی خوشی سے۔ اُس نے دل میں کہا۔ پریٹی نے جیکٹ کی اندرونی جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سائیلنسر لگے ہوئےریوالور کی نال  اپنی طرف اُٹھتے اور ٹریگر  پر مورون کی کی انگلی کا دباؤ بڑھتے ہوئے دیکھ کر فوراً رک گیا۔ اُس کی نظریں مورون کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اُس نے حتی الامکان اپنے لہجے کوہموار رکھتے ہوئے کہا۔

"تم اتنا بھڑک کیوں رہے ہو؟ کیا تمہیں اپنی رقم نہیں چاہیئے؟”

وہ دم سادھے ہوئے مورون کو گھور رہا تھا۔ یہ شیطان کی اولاد بہت ہوشیار ہے۔ اُس نے سوچا۔ مگر ہو سکتا ہے کہ اپنی رقم وصول کرنےکے بعد کچھ پرسکون ہو جائے۔ پھر شاید وہ اس طرح ایک ایک حرکت پر نہ بھڑکے اور میں اپنا کھیل ختم کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔

"اپنا دماغ ٹھنڈا رکھو۔” پریٹی نےپھر کہا۔

مورون نے ریوالور کی نال اس کے سر کی طرف اٹھاتے ہوئے آگے بڑھا۔

"رقم آہستہ آہستہ اطمینان سے نکالو برخوردار۔” وہ بولا۔ "اتنی جلدی مت کرو کہ تمہارا سوٹ پھٹ جائے۔”

بہت احتیاط کے ساتھ جیب  کے اندر ہاتھ ڈالتے ہوئے پریٹی نے لفافہ نکالا اور مورون کو دے دیا جسے اُس نے اپنے خالی ہاتھ سے وصول کیا اور پھر پریٹی کو دوسری طرف گھومنے کی ہدایت کی تاکہ وہ لفافہ کھول کر رقم کا جائزہ لے سکے۔

"پورے پندرہ ہزار ہی معلوم ہوتے ہیں۔” مورون نے مطمئن لہجے  میں کہا۔ "اب تم میری طرف گھوم سکتے ہو۔”

پریٹی نے دوبارہ مورون کی جانب منہ کر لیا۔ اسے حیرت تھی کہ وہ اتنی بڑی رقم لے کر آیا تھا۔ پندرہ ہزار ڈالر ، صرف ایک آدمی کو مارنے کےلیے۔ اُسے امید نہیں تھی کہ کسی اور نے بھی ایسے کام کا اتنا معاوضہ وصول کیا ہو۔ پندرہ ہزار ڈالر’ افوہ۔  وہ تو بغیر کسی اُجرت کے لالچ کے مورون کو قتل کرنے آیا تھا۔ صرف اس لیے کہ ویٹو نے اس اس کا حکم دیا تھا، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ایک قابل اعتماد نشانہ باز ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ معلوم نہیں اس قسم کے کاموں سے کتنی دولت حاصل ہوتی ہوگی۔ شاید بہت زیادہ۔ خاص طور سے مورون جیسے خطرناک آدمی کو قتل کرنے کےلیے۔

"مجھے اپنے طرز ِعمل پر افسوس ہے۔” مورون نے کہا۔ "مگر ظاہر ہے کہ مجھے ان لوگوں سے محتاط رہنا ہی پڑتا ہے جو ویٹو کی طرف سے آتے ہیں۔”

"کوئی بات نہیں۔” پریٹی نے جواب دیا۔ اسے توقع تھی کی اب مورون ریوالور الگ رکھ دے گا۔

"تم نے برا تو نہیں مانا۔”

"نہیں۔”

مورون نے لفافہ اپنی جیب میں رکھتےہوئے ریوالور والا ہاتھ نیچے کر لیا۔ "کچھ پینے پلانے کے بارے میں کیا خیال ہے پریٹی؟” اُس  نے پوچھا۔

"جیسی تمہاری خوشی۔” پریٹی نے مورون کے  قدم بہ قدم کمرے کے وسط میں پڑی ہوئی میز کی جانب بڑھتے ہوئے کہا۔

اُس نے نظر اُٹھا کر مورون کو دیکھا۔ اہ اپنے تصور میں اس لمبے چوڑے آدمی کو اپنے قدموں کے قریب فرش پر بے حس و حرکت پڑے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ کن انکھیوں سے پریٹی کی طرف دیکھتے ہوئے مورون نے دو گلاسوں میں شراب انڈیلی۔ دوسرے ہاتھ میں ابھی تک ریوالور پکڑے ہوئے تھا۔

"لو پیو برخوردار۔” اُس نے کہا۔

پریٹی  نے  گلاس اٹھا لیا اور بادل نخواستہ ہونٹوں سے لگا کر ایک ہی سانس میں پورا گلاس خالی کر دیا۔ اُسے  یوں محسوس ہوا جیسے حلق سے معدے تک آگ کی ایک لکیر سی کھینچتی چلی گئی  اور اُس نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا تاکہ مورون ان آنسوؤں کو نہ دیکھ سکے جو تیز وہسکی نے اُس کی آنکھوں میں بھر دیے تھے۔ مورون نے اُ س کا گلاس دوبارہ بھر دیا۔

"تم نے بڑی ہمت سے کام لیا ہے برخوردار۔” وہ بولا۔ "یہاں  آنے کے لیے ایک  شخص کو فولادی  اعصاب کا مالک ہونا چاہیے، میں مظبوط دل گردے کے جوانوں کو پسند کرتا ہوں۔”

"میرے خیال میں  میرے یہاں آنے میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔” پریٹی نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔ "ظاہر ہے کہ میں صرف تمہاری رقم دینےکے ارادے سے ہی آیا ہوں۔”

مورون نے اُسے بڑی سنجیدہ نظروں سے دیکھا اور ایش  ٹرے  میں سلگتا ہوا سگریٹ اٹھا لیا۔ "ہاں، میں جانتا ہوں۔ ” اُس نے  جواب دیا۔ "اور میرا خیال ہے کہ ویٹو نے اپنے گروہ کے دوسرے آدمیوں کی طرح تمہیں بھی اپنی بڑی بڑی باتوں سے مرعوب کر لیا ہے۔”

پریٹی نے مشکوک انداز میں مورون کی طرف دیکھا۔ مورون نے اپنا گلاس نیچے رکھتے ہوئے ہونٹوں  پر لگی ہوئی وہسکی کو زبان سے صاف کیا۔

"یقیناً اُس نے سوچا ہوگا کہ تم ابھی بہت کم عمر ہو اور بڑی آسانی سے اُس کی باتوں میں آجاؤ گے۔” اُس نے پھر کہا۔

آخر مورون اُسے کس جھانسے میں لانے کی کوشش کررہا ہے، پریٹی سوچ رہا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اُسے اس کے اصل ارادے کا علم ہو گیا ہو، مگر یہ کیسے ہو سکتا تھا۔  مورون جیسے گھاگ شخص سے یہ امید نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ وہ شک ہو جانے کے بعد کسی شخص کو اتنی دیر تک زندہ رہنے کا موقع دے گا۔

"مجھے مرعوب کرلیا ہے، کس بارے میں؟” اُس نے پوچھا۔

"تم جانتے ہی ہو۔ مثلاً ایک منظم گروہ کے ساتھ کام کرنے کی خوبیاں وفاداری، خلوص، ایمانداری یا پھر یہ بات کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو کسی مصیبت میں نہیں پھنسنے دیتا۔ تمہیں پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچائے رکھے گا۔”

"یہ بات تو ہر شخص کومعلوم ہے  کہ ویٹو ایک مظبوط اور  منظم گروہ کا سربراہ ہے۔”

"اور یہ ہر شخص کون ہے؟ تم اور ویٹو؟ کیا تم نے کسی اور سے بات کرکے دیکھی ہے؟”

کوئی ویٹو کے  بارے میں زیادہ باتیں نہیں کرتا، یہ اُس کی اپنی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔”

"مگر میں بھی تو اُس کےبارے میں گفتگو کررہاہوں۔ اور برخوردار میں تمہیں صحیح بات بتارہا ہوں۔ میری تمام زندگی اِن ہی چکروں میں گزری ہے۔ بڑے بڑے تجربے حاصل کئے ہیں۔ ویٹو کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں جو میں نہ جانتا ہوں۔ اچھی طرح سمجھ لو، وہ ایسے وعدے کرتا ہے جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔”

پریٹی نے اس موٹی رقم کا تصور کیا جو اُس نے ابھی مورون کے حوالےکی تھی۔

"مگر اُس نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ تو پورا کیا۔ کیا تم نے ابھی رقم وصول نہیں کی؟”

"ٹھیک کہتے ہووہ 420 اچھی طرح سمجھتا ہے کہ میری رقم مار کر وہ سخت گھاٹے میں رہے گا۔”

ایسا لگتا تھا مورون کو ویٹو کا اتنا سا بھی ڈر نہ ہو۔ پریٹی سوچ رہاتھا۔ ورنہ وہ  اس طرح بے دھڑک اس کے خلاف باتیں نہ کرتا اورشاید یہی وجہ تھی کہ ویٹو کسی کو بتانا نہیں چاہتاتھا کہ وہ مورون کو کیوں قتل کرانا چاہتا ہے۔ ممکن ہے وہ خود ویٹو کسی وجہ سے مورون سےخوف کھاتا ہو۔ یہ بھی ظاہر تھا کہ مورون یہ سب باتیں بلاوجہ نہیں کررہا تھا، اُس کا کوئی مقصد تھا۔ پریٹی وہ مقصد جاننے کےلیے بے چین تھا۔ یوں بھی مورون ابھی تک ریوالور سنبھالے ہوئے تھا۔ ایسی صورت میں ا س پر حملہ کرنے کی کوشش کرنا حماقت ہی تھا چنانچہ  پریٹی کے لیے ان باتوں میں حصہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

"تم مجھے یہ سب باتیں کیوں بتا رہے ہومورون؟” اُس نے پوچھا۔

مورون نے اپنے گلاس میں تیسری مرتبہ وہسکی انڈیلی اور اطمینان سے بیٹھ گیا۔ ریوالور اس نے اپنے سامنے میز پر رکھ لیا تھا۔

"تمہیں میری باتوں سے واقعی دلچسپی پیدا ہو چلی ہے یا صرف  اس لیے سننا چاہتے ہو کہ واپس جا کر ویٹو کے کان بھر سکو۔” اُس نے پوچھا۔

"ویٹو نے مجھے خرید نہیں لیا ہے۔” پریٹی نے جواب دیا۔ "تم مجھےجو کچھ بتاؤگے وہ میرے سینے میں محفوظ رہے گا۔”

"ہاں! اب تم کچھ سمجھداری کی باتیں کررہے ہو۔” مورون مسکرایا۔ "میرا خیال ہے کہ مجھے جس شخص کی تلاش تھی وہ تم ہی ہو۔”

"تمہیں کسی آدمی کی تلاش کیوں تھی؟”

مورون نے گلاس کی باقی شراب بھی حلق سے نیچے اتاری اور ہاتھ کی  پشت سے ہونٹ پونچھتے ہوئے پریٹی کی طرف دیکھا۔ "ویٹو کو قتل کرنے کے لیے۔” اُس نے آہستہ سے جواب دیا۔

یہ چند الفاظ  کسی تیز چاقو کی طرح پریٹی کے کانوں میں اُترتے چلے گئے۔ سردی کی ایک لہر سی اُسے اپنے جسم میں رینگتی محسوس ہوئی۔ اُس نے کبھی ویٹو کے بارے میں ایسی بات کا تصور تک نہیں کیا تھا۔ ویٹو۔ ایک لاش۔ دفعتاً اسے محسوس ہوا کہ ویٹو بھی دوسرے آدمیوں کی طرح گوشت پوست سے بنا ہوا ایک انسان ہی ہے۔ اُس نے اپنے جسم میں پھیلتی ہوئی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کی۔

"کیا تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح اُسے سے ڈرتے ہو۔” مورون نے سوال کیا۔ پریٹی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

مورون نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر لفافہ نکال لیا اور پھر  اُس میں سے گن کر پانچ ہزار ڈالر کے نوٹ الگ کئے۔ "کیا مجھے اپنی مرضی کا آدمی مل گیا ہے؟” اُس نے نوٹ پریٹی کے سامنے ڈالتے ہوئے کہا۔ پریٹی نے نوٹوں کو دیکھا مگر خاموش رہا۔

"دیکھ کیا رہے ہو، انہیں اُٹھا لو۔” مورون نے نوٹ اس کی طرف بڑھا دیے۔

"نہیں،میں یہ کام نہیں کرسکتا۔” پریٹی نے کہا۔ "آخر تم ویٹو کو ختم کرنے کےلیے اتنےبیتاب کیوں ہو؟”

مورون نے قمیص کی جیب سے ایک سگریٹ برآمد کیا اور ہاتھ میں پکڑتے ہوئے اسے سلگا لیا۔

"کوئی وجہ نہیں کہ میں تمہیں اپنے راز میں کیوں نہ شریک کرلوں۔” وہ بولا۔ "صاف بات یہ ہے کہ میں ویٹو کی جگہ گروہ کا سربراہ بننا چاہتا ہوں۔ میں نے اُس کے دوسرے آدمیوں کو بھی آمادہ کر لیا ہے، اب صرف ویٹو کو ختم کرنا باقی ہے۔”

"تم یہ کام خود کیوں نہیں کرتے؟”

"میں اس  سے ڈرتا نہیں ہوں مگر آج تک ویٹو نے مجھ سے براہ راست ملاقات نہیں کی ، ہمیشہ اپنے کسی نہ کسی آدمی کو ہی بھیجتا رہا۔ اب اگر میں اُس سے ملنے اچانک پہنچ جاؤں تو فطری بات ہے کہ مشکوک ہو جائے گا۔ لیکن تمہارے لیے یہ بات آسان ہے۔”

پریٹی کو یاد آیا کہ اُسے آج رات ویٹو سےملنا ہے۔ نہ صرف کام کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچانے کی اطلاع دینے بلکہ وہ رقم واپس کرنے کے لیے بھی۔ واقعی اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس نے سوچا۔

"لیکن تم نے میرا ہی انتخاب کیوں کیا؟” اُس نےپوچھا۔”جیسا کہ تم نے کہا اگر تم اس کےباقی ساتھیوں کوبھی اپنے ساتھ ملا چکے ہو تویہ کام کوئی اور بھی آسانی سے کر سکتاہے۔”

مورون  نے کندھے اچکاتے ہوئے پریٹی کے سامنے رکھے ہوئے نوٹوں میں پانچ ہزار ڈالر کے نوٹوں کا اضافہ اور کر دیا۔

"اس کے کسی اور آدمی میں یہ کام کرنے کی ہمت ہے اور نہ حوصلہ۔” اُسے نے جواب دیا۔

"اگر ویٹو مرجائے تو مجھے کیا فائدہ ہوگا؟” پریٹی اپنی تعریف سُن کر خوش ہو گیا تھا۔

"تم میرا داہنا ہاتھ ہوگےپریٹی،  باس نمبر 2۔”

کم سے کم مورون نے اُس سے جھوٹ بولنے کی کوشش نہیں کی۔ پریٹی نے سوچا۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ ویٹو کے قتل ہونے کے بعد وہ اسے اپنا پارٹنر بنا لے گا۔ یوں پریٹی خود بھی محسوس کرتا تھا کہ وہ ابھی اتنا تجربہ کار نہیں کہ اپنی ذمہ داری پر گروہ کو چلانے کی کوشش کرے۔ یہی بات مناسب تھی کہ گروہ کا انچارج مورون رہے اور وہ اس کا دست راست بن کر کام کرے۔

"ہو سکتا ہے کہ ویٹو کو راستے سے ہٹانے کے بعد تم اپنا وعدہ بھول جاؤ۔” اس نے کہا۔ "مجھے کیسے یقین ہو کہ تم مجھےاپنی باتوں سے پُھسلانے کی کوشش نہیں کررہے ہو۔”

"میں تمہیں جو کچھ بتا چکا ہوں اُس کے بعد ہمارا ایک دوسرے پر اعتماد کرنا لازمی ہے۔” مورون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

یہ بات بھی درست ہے۔ پریٹی نے سوچا۔ مورون اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر اُس نےمجھے فریب دینے کی کوشش کی تویہ اُس کے لیے بھی خطرناک ہوگا۔ جس شخص میں اتنی ہمت ہو کہ وہ ویٹو کو ٹھکانے لگا سکے وہ مورون پر گولی  چلاتے ہوئے دوبارہ نہیں سوچے گا۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھے ہوئے نوٹوں کو انگلیوں سے چھوا اور پر آہستہ سے اُٹھا لیا۔ اپنے ہاتھ میں اتنی رقم دیکھ کر اس کی رگوں میں سنسنی  سی دوڑ گئی۔

"بولو کیا کہتے ہو برخوردار؟” مورون نے اشتیاق سے پوچھا۔”میرا ساتھ دو گے؟”

"کام بہت خطرناک ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا جواب دوں۔”

"جتنا بڑا خطرہ ہے اتنی بڑی رقم بھی تو ہے۔”

"پھر بھی یہ کافی نہیں ہے۔ مجھے کم سے کم پندرہ ہزار ڈالر طلب کرنے کا حق پہنچتا ہے۔”

"بہت ہوشیار ہو۔” مورون کی مسکراہٹ  اور بڑھ گئی۔

"ہاں۔ میں نے کہہ دیا کہ یا پورے پندرہ ہزار ڈالر ادا کرو یا پھر میں یہ کام نہیں کر سکوں گا۔”

"اچھی بات ہے ۔ پندرہ ہزار ہی سہی۔”

مورون نے لفافہ پریٹی کے سامنے پھینک دیا۔

"مگر برخوردار کام مکمل ہونا چاہئے۔”

پریٹی نے لفافہ اٹھا لیا ۔ وہ معاملات کی دلچسپ تبدیلی  سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کہاں  تو اسے یہ توقع تھی کہ آج کی رات کے بعد وہ ویٹو کے گروہ میں شامل کر لیا جائے گا اور پھر وہاں رفتہ رفتہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا اور کہاں دم بھر میں سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ اب اسے  چیونٹی کی چال سے ترقی کی منزلیں طے کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ وہ ایک ہی جست میں میں مورون کا دستِ راست بن جائے گا اور کافی تجربہ حاصل کرنے کے بعد جب وہ اپنےاندر یہ صلاحیت محسوس کرے گا کہ اب وہ کسی کی مدد کے بغیر گروہ کو سنبھال سکتا ہے تو پھر مورون کو اسی طرح ریٹائر ہونا پڑے گا جس طرح وہ آج ویٹو کو اپنے راستے سے ہٹانے کا انتظام کر رہا ہے۔ اس دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے۔ صرف حوصلے اور اُمنگ کی ضرورت ہے۔

اُس نے باقی نوت لفافے میں ڈال کر لفافہ اپنی جیب میں ڈال لیا۔

"لو اور پیو۔” مورون نے گلاس بڑھایا۔

"نہیں ، شکریہ۔ بہتر ہوگا کہ اب میں تم سے اجازت چاہوں۔  ویٹو میرا انتظار کر رہا ہوگا۔”

مورون نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے پریٹی کا کندھا تھپتھپایا۔ "ٹھیک کہتے ہو، تمہیں اب جانا چاہیئے، گڈ لگ۔”

"شکریہ! میں کام سے فارغ ہو کر تمہارے پاس آؤں گا۔”

"ضرورآنا۔” پریٹی دروازے کی طرف چلا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اسے ریوالور لے کر ویٹو کے سامنے جانا چاہیئے۔ ویٹو آخر پھر ویٹو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ریوالور نکالنے کا موقع بھی نہ دے۔ میں کوئی خطرہ مول لینا پسند نہیں کروں گا۔

"بات سنو پریٹی۔” مورون نے آواز دی۔

"بولو۔” پریٹی گھومتے ہوئے بولا۔

"ویٹو کو تمہارے ہاتھ سے گولی کھاتے ہوئے تعجب تو بہت ہوگا۔” مورون نے کہا۔

"واقعی بہت تعجب  ہوگا۔ پریٹی نے قہقہہ لگایا۔ مگر دفعتاً اس کا قہقہہ جیسے اس  کے گلے میں پھنس کر رہ گیا۔ اُس نے دیکھا کہ سائیلنسر لگا پستول اُس کے سینے کی  جانب اُٹھ گیا ہے۔

"ویٹو کا خیال تھا کہ تم اس آزمائش میں ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔” مورون  کہہ رہاتھا۔ "مگر اب اسے بے حد مایوسی ہوگی۔”

"آزمائش۔” پریٹی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مورون کی  طرف دیکھا۔ "مگر تم تو کہہ رہے تھے کہ۔۔۔۔۔”

"جہنم رسید ہونے کے لیے تیار ہو جاؤ۔” مورون دانت پیستے ہوئے بولا۔

پریٹی نے بڑی پھرتی سے جیکٹ میں ہاتھ ڈال کر بغلی ہولسٹر سے اعشاریہ 45 بور کا ریوالور نکال لیا۔ اور پھر تیزی سے گھومتے ہوئے ٹرائیگر دبا دیا۔ مگر کچھ نہ ہوا۔ اُس نے پھر لبلبی دبائی اور پھر بڑھتے ہوئے خوف کے ساتھ دباتا ہی چلا گیا۔ دو بار ، تین بار، چار بار۔ لیکن ریوالور سے ایک فائر بھی نہیں ہوا۔ اور یہ وہ ریوالور تھا جو ویٹو نے اُسے  دیا تھا۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے مورون کی طرف دیکھا۔

"نہیں ۔” وہ گِڑگِڑایا۔ نہیں، خدا کے لیے مجھے۔۔۔۔

مورون کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اُس نے ٹرائگر دبا دیا۔

khatarnak azmaish jasoosi novel urdu

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے