دستِ قاتل – اردو ناول جاسوسی

ایک ذہین پولیس افسر کی تفتیش کا دلچسپ ماجرا

اُس قتل کا قصہ جس کی واحد گواہ ایک حسین عورت تھی۔ وہ اس گواہی کی وجہ سے اچانک ہی سب کی نظروں کا مرکز بن گئی تھی۔ راتوں رات اُسے وہ شہرت ملی تھی کوکسی سُپر اسٹار کو ملتی ہے لیکن  قاتل کا سُراغ پھر بھی نہیں مل رہاتھا۔

جیمس پرٹ کے قتل کی خبر بیش تر قومی اخباروں کے صفحہ اول  پر چیختی چنگھاڑتی  ہوئی سرخیوں کے ساتھ شایع ہوئی تھی۔ اس خبر کو غیر معمولی اہمیت ملنے کے اسباب تلاش کرنا قطعاً دشوار نہ تھا۔ اس  کیس میں اخبارات کی دلچسپی کی ہر چیز موجود تھی۔ آتشیں ہتھیار کے ذریعے پُر تشدد موت، مقتول کا مجرمانہ پس منظر اور۔۔۔ ایک خوش شکل عورت!

قتل کی اطلاع ملتے ہی اخبارات کے دفاتر میں ہنگامہ مچ گیا۔ کچھ ہی دیر میں جائے واردات پر اخباری نمائندوں اور فوٹوگرافرز کی فوج جمع ہو چکی تھی۔ وہ سبھی اس امر پر متفق تھے  کہ پرٹ کے قتل کے لیے بے حد مناسب وقت مئنخب کیا گیا تھا۔ شام کے ٹھیک پانچ بجے، یعنی شام کے بیش تر اخبارات یہ خبر شائع نہ کر پاتے جب کہ صبح کے اخبارات اسے پوری تفصیل کے ساتھ، بھرپور اور جامع انداز میں شائع کر سکتے تھے اور ایسا انہوں نے کیا بھی۔

مناسب شکل وصورت  کی کسی بھی جوان العمر عورت کا اخبارات کی توجہ کا مرکز بن جانا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہوتی جب کہ مائرہ کین تو واقعی خوب صورت عورتوں میں شمار کی جا سکتی تھی۔ تاہم پرٹ کے قتل کے حوالے سے اخبارات کی شہ سرخیوں کا مرکز بن جانا اس کے لیے کچھ زیادہ خوش گوار تجربہ نہیں تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ اس کیس سے براہ راست منسلک تھی کیوں کہ پرٹ نے اس کے بوتیک کی دہلیز کی سیڑھیوں پر دم توڑا تھا۔ بیشتر اخبارات نے اس کی تصویر صفحہ اول پر شائع کی اور اس ناخوشگوار معاملے میں پھنسنے پر اس سے اظہار ہمدردی بھی کیا تھا تاہم اس کے متعلق شائع شدہ تقریباً ہر خبر میں زیادہ زور اس کے خوبصورت ہونے پر دیا گیا تھا حالانکہ کانسٹیبل ٹکر نے جب اسے پہلی بار دیکھا تھا تو قطعاً خوبصورت نظر نہیں آرہی تھی۔

وہ گولی چلنے سے ٹھیک تیس سیکنڈ بعد جائے واردات پر پہنچ گیا۔ اس نے دھماکے کی آواز سنتے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ پستول کی گولی کی آواز تھی۔ اسے آواز کی سمت کا تعین کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ اس نے محض ایک نظر مائرہ پر ڈالی اور اسے دھکیل کر کرسی پر بٹھا دیا۔ اس نے اسے اپنا سر جھکائے رکھنے کی ہدایت کی تاکہ وہ گولیوں کی زد سے باہر رہ سکے۔

"مجھے اندیشہ ہے کہ لاش دیکھ کر آپ کی طبیعت خراب ہو سکتی ہے۔” ٹکر نے مزید فائرنگ کے آثار نہ پاکر مائرہ سے کہا۔ ” براہِ مہربانی آپ پولیس اسٹیشن فون کردیں ۔ اس کام میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔”

"اُف یہ سب کتنا ہولناک تھا۔ ایک زوردار دھماکا اور پھر وہ چیخ مارکر گر پڑا۔

"یہ سب باتیں بعد کے لیے محفوظ رکھیں۔ پہلے پولیس اسٹیشن فون کریں۔ ڈیوٹی سارجنٹ کو بتا دیں کہ میں یہاں موجود ہوں اور ہمیں ایمبولینس کی ضرورت پڑے گی۔”

ٹکر کی کوشش کامیاب رہی۔ مائرہ کے اوسا ن بہت جلد بحال ہوگئے۔ اسی اثناء میں بہت سے راہ گیر پرٹ کی لاش کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ وہ آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔ ٹکر نے انہیں منتشرہونے پر مجبور کردیا۔ کچھ ہی دیر بعد تنگ گلی پولیس کاروں سے بھر چکی تھی۔ ٹکر باہر جانے کے لیے دروازے کی جانب بڑھا۔ مائرہ نے بھی باہر نکلنا چاہا لیکن ٹکر نے اسے روک دیا۔ "فی الحال آپ کا یہاں سے جانا مناسب نہیں ہے۔”

مائرہ نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ اس کے چہرے کے تاثرات کو کوئی بھی مفہوم پہنایا جا سکتا تھا۔ "لیکن مجھے اپنی گاڑی کے پاس پہنچنا ہے کیونکہ پارکنگ میٹر کا وقت ختم ہورہا ہے۔ مجھے جرمعانہ ادا کرنا پڑجائے گا۔”

"وہ سب بعد میں دیکھا جائے گا۔ آپ اس سلسلے میں پریشان نہ ہوں۔” ٹکر نے مطمئن لہجے میں کہا۔ اسے یہ جان کر قطعاً حیرت نہیں ہوئی کہ ایسی ہنگامی صورت حال میں بھی مائرہ کار پارکنگ جیسا معمولی مسئلہ فراموش نہیں کرپائی تھی۔ صدمے کی حالت میں مختلف لوگوں کا رد عمل ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہوا کرتا ہے۔

انسپکٹر پیٹر اور سارجنٹ ہیگر نے اسے پہلی نظر میں پہچان لیا۔ پرٹ طویل عرصے سے پولیس کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔ اس کے ظاہری پیشے بدلتے رہتے تھے لیکن درحقیقت وہ ایک خطرناک عادی مجرم تھا۔ پولیس اور اس کے درمیان مسلسل آنکھ مچولی جاری رہتی تھی تاہم اپنے قانونی الجھاووں اور چالاکی ومکاری کے باعث وہ ہمیشہ بچ نکلتا تھا۔

ہیگر نے لاش کا بغور جائزہ لیا اور پھر پولیس سرجن کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔”ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔” اس نے پیٹر سے کہا۔ "کسی شریف آدمی نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا دی ہے۔”

"ہاں واقعی! یہ تو ہم پر احسان ہے۔” پیٹر نے کہا۔ وہ دبلا پتلا، دراز قامت شخص تھا جو ہمیشہ بے تاب سا نظر آتا تھا۔ وہ دونوں بوتیک میں داخل ہوئے۔ مائرہ پر نظر پڑتے ہی ہیگر نے اپنے دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی سے محسوس کی۔ وہ نوجوانی کی منزل سے آگے بڑھ چکی تھی لیکن اس کی شخصیت کی کشش کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل تھا۔

پیٹر نے کھانس کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ "آپ اس معاملے میں کیا جانتی ہیں محترمہ!” اس نے کسی بھی تاثر سے عاری لہجے میں سوال کیا۔ وہ اس سست رو قصبے میں اتنا عرصہ گزار چکا تھا کہ اب وہ شاذونادر ہی کسی سے متاثر ہوتاتھا۔

مائرہ نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔” کچھ بھی تو نہیں۔” پیٹر کی نظریں اس کی انگلیوں میں سلگتی سگریٹ پر پڑیں۔ ایسی ہی ایک اور سگریٹ اس کے پہلومیں فرش پر رکھی ایش ٹرے میں بھی سلگ رہی تھی۔ ان دونوں ہی سگریٹوں پر لپ اسٹک کے دھبے موجود تھے۔ پیٹر اس نتیجے پر پہنچا کہ مائرہ جزباتی ہیجان میں مبتلا تھی۔موجودہ صورت حال میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔

‘میں نے کچھ نہیں دیکھا۔” مائرہ نے اپنی بات دہرائی۔ "میں اسٹور میں چند ملبوسات نکال رہی تھی کہ زوردار دھماکے کی آواز سنی۔ میں یہاں پہنچی تو اس شخص کو زخمی حالت میں سیڑھیوں پر گرتے دیکھا اور پھر۔۔۔۔”

"کیا یہ آپ کے بوتیک کا مستقل گاہک تھا؟” پیٹر نے آس پاس کابغور جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

"نہیں، ہرگز نہیں۔” مائرہ نے کہا اور پھر ہیگر پر ایک نظر ڈالی۔ "وہ ہفتے دو ہفتے سے بوتیک کے آس پاس نظر آنے لگا تھا لیکن وہ باقاعدگی سے یہاں نہیں آتا تھا۔ ایک دن آتا تو اگلے تین چار دن اس کی شکل نظر نہیں آتی تھی۔”

"بہت خوب۔۔۔ مسز مائرہ مزید سگریٹ مت سلگائیے ورنہ۔۔۔ بیک وقت تین سگریٹیں آپ کی توجہ کی منتظر ہوں گی۔”

ہیگر کے دل میں ایک بار پھر ہمدردی کی لہر اٹھی۔ وہ کتنی بے یارو مددگار نظر آرہی تھی۔

"دلچسپ بات ہے، کیا وہ آپ کو پسند تھا؟” پیٹر نے اگلا سوال کیا۔

مائرہ کے چہرے پر حیا کی سرخی ابھری۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی، اس کے اسکرٹ پر راکھ کا دھبا نمایاں تھا۔ "پریشان کردینے والی باتیں مت کریں۔ بلاشبہ میں نے اس کی موجودگی کا نوٹس لیا تھا۔ وہ بے حد جاذب نظر شخصیت کا مالک تھا لیکن وہ بوتیک کے اند کبھی نہیں آیا، نہ ہی کوئی بات کی۔ مجھے قطعاً علم نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔ اب تو مطمئن ہیں آپ؟”

"میں کبھی مطمئن نہیں ہوتا مسز مائرہ! کیونکہ مجھے ہونے کی تنخواہ نہیں ملتی۔ صاف صاف بات تو یہ ہے کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ پرٹ نے گولی کھانے کے لیے اپنے علاقے سے پانچ میل دور، ایک مکمل اجنبی ہستی کی دہلیز کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ آپ سمجھ گئی ہیں نا، میں کہنا کیا چاہتا ہوں؟”

"آپ نے اپنا مدعا نہایت وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔” اس نے کہا۔ اب وہ زیادہ پُر اعتماد نظر آرہی تھی۔ "لیکن اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

پیٹر اچانک کچھ بیزار نظر آنے لگا۔ اس نے واپس مڑتے ہوئے کہا۔ "میرا ماتحت آپ کا بیان لے لے گا۔ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو اسپرین کی گولیاں کھا کر بستر پر دراز ہوجاتا۔ آج سہ پہر کے بعد آپ خاصے اعصاب شکن مراحل سے گزری ہیں۔”

دفتر واپس پہنچنے کے بعد ہیگر نے پیٹر سے کہا۔”معاف کیجئے گا جناب! آپ اس کے ساتھ کچھ زیادہ ہی سختی سے پیش آرہے تھے۔”

پیٹر دھیرے دھیرے سے ہنسا۔”تمہاری عمر کے کنوارے نوجوان کسی خوبصورت عورت کو دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں اس کے لیے خوشگوار احساسات پیداہوتے ہیں لیکن شادی شدہ ہونے بے بعد تین بچوں، ایک ساس، آمدنی سے زیادہ اخراجات اور کبھی نہ ختم ہونے والے گھریلو گاموں کی قطار انسان کے دماغ سے سارے رنگین خیالات کُھرچ پھینکتی ہے اور وہ ہر چیز کو اس کے اصل روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔”

ہیگر کا چہرہ شرم سے گلابی ہوگیا۔ اس نے دفاعی لہجے میں کہا۔ "لیکن وہ حکومت کو ٹیکس ادا کرتی ہے، اسے حق حاصل ہے کہ اس کا ا حترام کیا جائے۔”

اسے بھرپور احترام ملے گا لیکن تم نے ایک بات کا نوٹس نہیں لیا۔ اس کی آنکھیں کتنی سرد مہر تھیں۔ ایک اور چیز جس پر تم نے غور نہیں کیا۔ آج آدھے دن کی چھٹی ہونے کے باوجود بوتیک اتنی دیر تک کیوں کھلا ہوا تھا؟”

ہیگر نے بڑبڑانے کے انداز میں خود پر لعنت بھیجی ۔ واقعی یہ سب تو اس کے ذہن میں آیا ہی نہیں تھا۔ "لیکن یہ بات تو تم نے بھی نہیں پوچھی!”

"میں بھول گیا تھا۔ میں بوڑھا ہو چکا ہوں ۔ میری فروگزاشت کے تو کئی جواز ہیں۔” پیٹرنے مسکراتےہوئے کہا۔

 

پرٹ کے قتل کام معاملہ ان کے لیے مصیبت بن گیا تھا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ پرٹ ہمیشہ ان کے لیے مصیبت بنا رہا تھا۔ اس کی موت نے ان مصیبتوں کے حجم میں اضافہ کر دیا تھا۔ گزشتہ سال بھر کے دوران میں اس کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی تھی۔ وہ بہ ظاہر نہایت صاف ستھری زندگی گزار رہا تھا۔ دراصل پولیس اس کے طریقہ واردات سے واقف ہونے کے باوجود بالکل بے بس تھی۔ وہ کافی بار اور اسٹیشن وغیرہ پر اپنی فن کارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔ اور قدرے آزاد خیال اور نوآموز لڑکیوں پر اپنی جاذب نظر شخصیت کا جال پھینک کر انہیں قابو میں کر لیتا تھا۔ وہ چند ہفتے ان کے ساتھ گزارتا اور پھر ان سے علیحدہ ہوجاتا۔ اس کے ہفتے بھر بعد ہی وہ لڑکی بدنام علاقوں میں جسم فروشی کرتی نظر آنے لگتی۔ یہ سب سرعام، سب کی نظروں کے سامنے ہوتا تھا۔

پیٹر اور ہیگر کو یقین تھا کہ پرٹ اس قسم کی کم از کم  سات لڑکیوں  سے دھندا کرا رہا ہے۔ اس کی آمدنی کا اندازہ لگانا بے حد مشکل تھا تاہم وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کسی چیز کا علم ہونا علیحدہ بات تھی جب کہ اسے ثابت کرنا قطعاً مختلف ۔ پرٹ ان لڑکیوں سے کبھی کوئی رابطہ نہیں رکھتا تھا۔ ان لڑکیوں کو گرفتار کیا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی، ان پر چند جرائم ثابت بھی ہوئے لیکن جوں ہی پرٹ کے بارے میں پوچھا گیا، جواب ملا، اچھا دوست تھا، بہت دنوں سے اسے نہیں دیکھا۔”

وہ واحد لڑکی جو یہ جال توڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی، شدید زخمی حالت میں پائی گئی۔ اس کے چہرے اور جسم کے اندرونی حصوں میں شدید ضربات پہنچائی گئی تھیں۔ اس نے آنسوؤں سے لبریز  آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ اس پر حملہ کرنے والا ایک سیاہ فام ٖغنڈا تھا۔

پیٹر کے زیر اثر علاقے میں منظم جرائم کی شرح نسبتاًکم تھی۔ اس نے ہیگر کے ساتھ مل کر ڈچ ہیری، برسٹل ٹیڈ اور لنگڑے جارج کا قلع قمع کر دیا تھا۔ اس طرح پرٹ کے ممکنہ کاروباری حریفوں کی فہرست بہت مختصر رہ گئی تھی۔ اب پرٹ خود بھی موت کےگھاٹ اتر چکا تھا۔ پیٹر اور ہیگر نے پرٹ کے قتل کے حوالے سے کئی افراد سے پوچھ گچھ کی لیکن ان سب کے پاس جائے واردات سے عدم موجودگی کی ناقابل تردید شہادتیں موجود تھیں۔

قتل کے سولہ گھنٹے بعد پیٹر نے ہیگر کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا۔ "میرا خیال ہے، وہ وقت آگیا ہے کہ ہم مسز مائرہ سے بوتیک دیر تک کھلا رکھنے کے بارے میں پوچھ گچھ کریں ۔” ہیگر نے ایک سرد آہ بھری اور اثبات میں سر ہلادیا۔

٭٭٭٭٭٭٭

"کس نےکہا کہ بوتیک کھلا ہوا تھا؟” مائرہ نے سرد اور بے تاثر لہجے میں پوچھا۔

"جہاں تک مجھے یاد ہے، اس وقت بوتیک کھلا ہوا تھا۔” پیٹر نے اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے اسے گھور کر دیکھا۔

"جی نہیں!” مائرہ نے نفی میں سرہلا کر کہا۔ "میں اسٹاک چیک کررہی تھی۔ دروازہ تازہ ہوا کے لیے تھوڑا کھلا ہوا تھا لیکن خریدوفروخت نہیں ہو رہی تھی۔”

ہیگر اپنے جوتوں پر نظر جماتے ہوئے مسکرایا۔ باس کا کہنا صحیح تھا۔ اس عورت کی آنکھوں میں موت کی ٹھنڈک تھی۔ اس سے کہیں زیادہ حرارت وہ چڑیا گھر کے سانپوں کی آنکھوں میں دیکھ چکا تھا۔

"بس یا کچھ اور بھی پوچھنا ہے؟” مائرہ نے تلخ لہجے میں پوچھا۔ "اخباری نمائندے آدھی رات تک میرے گھر کا دروازہ پیٹتے رہےہیں۔ میں بری طرح تھک چکی ہوں۔”

کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں ایک گم نام سے کافی بار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ "اس عورت کےلیے اچھا خاصا سر کھپانا پڑے گا۔” پیٹر نے دھیرے سے غرا کر کہا۔ "بہت چالاک ہے۔ تم نے دیکھا، اس نے پرٹ کی اس علاقے میں آمد کی تردید نہیں کی کہ ممکن ہے، وہ اس علاقے میں دیکھا جا چکا ہو۔ اس صورت میں وہ جھوٹی ثابت ہوجاتی۔”

ہیگر نے ایک طویل جمائی لی۔ اس کامنہ کڑوا اور سر بھاری ہورہا تھا۔”ہوسکتا ہے، وہ چالاکی نہ دکھارہی ہو۔ میرا مطلب ہے پرٹ سے اس کے تعلق کی کوئی شہادت نہیں ہے اور نہ اسے قتل کرنے کا کوئی جواز موجود ہے۔”

پیٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔ "یہی وجہ ہے کہ میں نے کل ہتھیار تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وارنٹ کے بغیر وہ ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی جبکہ ہمارے لیے اتنے مختصر نوٹس پر وارنٹ حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔”

"اس کے علاوہ جیسا کہ میں نے کہا، جناب! ان دونوں کے باہمی تعلق کی کوئی شہادت نہیں مل سکی ہے۔ پرٹ اس جیسی پختہ عمر عورت سےکیا چاہتا تھا؟ سوائے اس کے کہ وہ اس میں دلچسپی لے رہاتھا۔”

"ہمیں سوالات نہیں سوچنے ہیں بلکہ ان کے جوابات تلاش کرنے ہیں۔” پیٹر نے کہا۔ "میرا مطلب اس کا ریکارڈ چیک کرنے سے ہے۔ ہمیں اس کے ماضی کی مکمل چھان بین کرنی ہوگی۔”

٭٭٭٭٭٭٭

مائرہ ایولن کین، عمر 41 برس، بیوہ، شوہر شپنگ کمپنی کا ڈائریکٹر، دیوالیہ ہونےکے بعد خود کشی، مسز کین کا لندن میں بوتیک کا بزنس، آٹھ ماہ بعد بزنس ناکام، دو سال بعد ویسکس منتقلی، سیکریٹری اور ماہر آرائش گل کی حیثیت سے ملازمت، گیارہ ماہ پہلے ایک بار پھر بوتیک بزنس کی ابتداء۔

پیٹر سوچ بچار کے عالم میں پریشانی رگڑرہاتھا۔ حقائق کی پیش کردہ تصویر اس کے دماغ میں گردش کررہی تھی۔ "سچ تو یہ ہے کہ اس ریکارڈ سے ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ کوئی مجرمانہ ریکارڈ، کوئی قابل ذکر اطلاع، کچھ بھی نہیں۔” ہیگر نے ہنستے ہوئے کہا۔

"ذرا صبر کرو میرے بچے!” پیٹر نے تیز نظروں سے اسے گھورا۔ "اس ریکارڈ کے ذریعے بڑی دلچسپ تصویر سامنے آئی ہے۔ شوہر مر گیا ، کاروبار تباہ ہوگیا لیکن گیارہ ماہ پہلے اس نے ایک اور بوتیک کھول لیا۔ بوتیک کی ظاہری حالت سے کسی مالی پریشانی کا تاثر نہیں ملتا لیکن بوتیک کا کاروبار ایک بار پھر تباہی کے قریب ہے۔

"پرٹ بارہ ماہ پہلے یہاں پہنچا تھا، میں شرط لگا سکتا ہوں کہ وہ مائرہ کے شوہر کے بحری جہازوں پر سفر کرتا رہا ہے۔ وہیں ان کی ملاقات ہوئی ہوگی۔ معاملہ بالکل صاف ہے مسٹر ہیگر! پرٹ لڑکیوں سے جسم فروشی کراتا تھا۔ لڑکیاں بوتیک میں جاتی تھیں،بعد میں پرٹ وہاں جاکر مال اکٹھا لر لیتا تھا۔”

اب سر کھجانے کی باری ہیگر کی تھی۔ "معاف کیجیے گا جناب! اتنی کمزور کہانی میں پہلے کبھی نہیں سنی۔”

پیٹر قطعاً مشتعل نہ ہوا۔ "میں تمام تحقیقات مکمل کر چکا ہوںصاحب زادے۔ مائرہ آٹھ ہزار پاؤنڈز کی مقروض ہوچکی ہے۔ وہ ایک بار پھر نااہل ثابت ہوئی ہے۔ اس بوتیک میں پرٹ کا سرمایہ لگا ہوا تھا۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ وہ پرٹ سے مسلسل اپنے حصے سے زیادہ رقم بہ طور قرض حاصل کرتی رہی ہے۔ جب یہ رقم ایک خاص حد سے بڑھ گئی تو پرٹ نے واپسی کا مطالبہ کیا اور مائرہ نے پستول تان لیا۔ قتل کے وقت پرٹ بوتیک سے باہر نہیں تھا، وہ دروازہ میں تھا اور جان بچا کر بھاگ رہا تھا۔”

"یہ محض تمہارا خیال ہے ۔” ہیگر نے اعتماد سے خالی لہجے میں کہا۔

"یہ محض خیال نہیں،حقیقت ہے صاحب زادے! دیکھو ہم نے پرٹ کی آلہ کار لڑکیوں سے پرٹ کے ممکنہ قاتل کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی۔ یہ سوالات غلط تھے، ہم دوبارہ یہ سب کریں گے۔ ہم ان سے پوچھیں گے کہ وہ آخری بار کب بوتیک گئی تھیں۔ اگر ان میں سے دو سے دو سے زیاوہ لڑکیوں نے اعتراف کرلیا کہ۔۔۔” دروازے پر ہونے والی دستک نے پیٹر کو جملہ ادھورا چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

دروازے سے داخل ہونے والا کانسٹیبل ٹکر تھا۔ ” میں معافی چاہتا ہوں سر! لیکن میں نے سنا ہے کہ پرٹ کی موت کا کیس الجھتا جا رہا ہے۔”

ان دونوں کی خاموشی حوصلہ شکن تھی لیکن ٹکر نے اپنی بات جاری رکھی۔ "سر، میں اس عورت مسز مائرہ کین کے بارے میں سوچتا رہا ہوں۔ مجھے یاد آیا ہے کہ آپ لوگوں کے وہاں آنے سے پہلے اس نے کچھ دیر کےلیے بوتیک سے باہر جانے کی کوشش کی تھی تاکہ اپنی گاڑی کو پارکنگ میٹر کے پاس سے ہٹا کر جرمانے سے بچ سکے۔”

پیٹر نے اپنا چشمہ اتارتے ہوئے کہا۔ "لیکن ایسا تو ہم سب کے ساتھ ہو سکتا ہے، ٹکر!”

ٹکر نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر کہا۔ "نہیں سر! مسز مائرہ کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں نے اس بات کا ذکر اپنے ایک دوست سے کیا تھا۔ وہ ایک گیراج کامالک ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ کہ مسز مائرہ کے پاس تو کوئی گاڑی نہیں۔اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ اس وقت وہ آلہ قتل ٹھکانے لگانے کے لیےنگلنا چاہتی تھی۔”

ٹکر کےجاتے ہی ہیگر خود کو لعنت ملامت کرنے لگا۔ "اس حرافہ نے اب تک تو پستول کو ٹھکانے لگا دیا ہوگا۔ اس کے بغیر تو ہمارا کیس بے حد کمزور پڑجائے گا۔”

پیٹر چند لمحوں تک تذبذب میں مبتلا رہا پھر اس نے ٹیلی فون اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔ "پولیس اسٹیشن سے بات کررہا ہوںمیڈم! انسپکٹر پیٹر کی طرف سے آپ کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ ایک گھنٹے تک آپ سے ملاقات کے لیے آرہے ہیں۔ پولیس نے ایک پستول برآمد کیا ہے، اس سلسلے میں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”

"لیکن ہم نے تو کوئی پستول برآمد نہیں کیاہے۔” ہیگر نے فون بند ہوتے ہی احتجاج آمیز لہجے میں میں کہا۔

"فضول باتیں مت کرو۔ ہم مختلف مواقع پر درجنوں پستول برآمد کر چکے ہیں۔ میں نے اس سے سچ بولا ہے۔ اگر اس نے وہ پستول سمندر میں پھینکا ہے یا کسی نہایت خفیہ جگہ چھپایا ہے تو اسے اس کی وہاں موجودگی  کی تصدیق کرنے کا وقت نہیں مل سکے گا۔” پیٹر دروازے کی جانب بڑھا۔ "وہ تو یہی سمجھے گی کہ ہم نے اس کے جرم کا ثبوت تلاش کر لیا ہے اور بوکھلاہٹ میں اس سے کوئی نہ کوئی حماقت سرزد ہوگی جو اسے سچ مچ پھنسوا دے گی۔ چلو سارجنٹ، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔”

٭٭٭٭٭

پیٹر کے برعکس مائرہ کے پاس وقت کمی نہ تھی۔ وہ پولیس اسٹیشن سے تین میل دور، قصبے کے دوسرے سرے پر واقع اپنے فلیٹ کے گلابی ٹائلوں والے خوبصورت باتھ روم کے ٹب میں نیم دراز تھی۔ پرٹ نے اسے جیل کی عذاب ناک زندگی کے بارے میں سب کچھ بتا رکھا تھا۔ وہ جیل جانے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھی۔ تیز دھار بلیڈ نے اس کی مشکل پلک جھپکتے میں آسان کر دی تھی۔ کٹی ہوئی کلائیوں سے بہنے والا سرخ خون لمحہ بہ لمحہ اسے زندگی سے دور لے کر جارہا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری لمحے میں اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوچ تھی۔ زندگی نہ سہی، کم از کم موت تو وہ اپنے من پسند طریقے سے اپنانے میں کامیاب رہی تھی۔

پیٹر کے اندازے کے مطابق اس نے بوکھلاہٹ میں ایک ایسا قدم تو اٹھا لیلا تھا جو اس کے جرم کا ثبوت تھا۔۔۔۔ لیکن یہ قدم اٹھا کر وہ قانون کی رسائی سے بھی بہت دور چلی گئی تھی۔ اس نے خود ہی اپنے آپ کو سزا دے ڈالی تھی۔

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے