مالا اردو ناول از نمرہ احمد – قسط نمبر 2

کہتے ہیں اولاد ہوتی ہے

خنجر کی طرح

وہ  نہ چاہتے ہوئے

معصومیت اور سادگی سے

کاٹ ڈالتی ہے۔

پھر بھی ہم اس کو تھامے رکھتے ہیں۔

بھلے خون  ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔

اور کہتے ہیں ماں ہوتی ہے

سورج کی طرح

بھلے کتنا گرم ہو

اور تم سے کتنا دور ہو

تم اس کی روشنی میں بیٹھ سکتے ہو۔

اس کی کرنوں کو چھو سکتے ہو۔

اور وہ تمہیں کبھی نہیں جلائے گا۔

(نامعلوم)

تاریخ تھی پانچ اپریل۔شہر تھا اسلام آباد کا۔ اور وقت تھا صبح گیارہ بجے کا۔

ہوٹل سوئیٹ کی اونچی کھڑکی سے دھوپ چھن کے ماہر فرید کے چہرے پہ  پڑ رہی تھی۔ وہ آنکھیں بندکیے کھڑا موتیے اور لیونڈر کی خوشبو کو سانس کے ذریعے  اندر اتار رہا تھا۔

“ماہر۔۔۔۔” پیچھے صوفے پہ بیٹھے مینیجر مالک نے پکارا۔ “انتقام کے سفر پہ نکلنے والے کو چاہیے کہ وہ دو قبریں کھود لے۔ ایک دشمن کی اور ایک خود اپنی۔”

“یہ کنفیوشس نے کہا تھا۔  اور جانتے ہواسے کیا چیز قبر تک لے گئی تھی؟ اپنے بیٹوں کی غم ۔” وہ آنکھیں بند کیے کہہ رہا تھا۔ سرد سی سرگوشی میں ۔ “موت سے بڑا کوئی غم نہیں ہے۔”

تبھی ڈور بیل بجی۔ ماہر فرید اسی طرح آنکھیں  بند کیے کھڑا رہا۔ مالک قدرے  چونک کے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا۔

دروازے کے پار کیف جمال رقم کا پیکٹ لیے کھڑا تھا۔ مالک نے سر سے پیر تک  اسے دیکھا۔ اور پھر مڑ کے ماہرکو۔ وہ ہنوز اسی طرح کھڑا تھا۔

“اسے آنے دو۔ مجھے معلوم تھا یہ واپس آئے گا۔” وہ مڑے بنا بولا۔ مالک نے اس لڑکے کو گھورتے ہوئے  راستہ چھوڑ دیا۔

“میں یہ نہیں کر سکتا۔” کیف صوفے تک آیا اور پیکٹ میز پر رکھ دیا ۔ اس کے چہرے پہ شدید اضطراب  تھا۔

ماہر فرید بالآخر اس کی طرف گھوما۔ اس کے تاثرات سپاٹ تھے۔ ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں تھے۔

“میں یہ نہیں کر سکتا۔” کیف صوفے تک آیا اور پیکٹ میز پہ رکھ دیا۔ اس کے چہرے پہ شدید اضطراب تھا۔

ماہر فرید بالآخر اس کی طرف گھوما۔ اس کے تاثرات  سپاٹ تھے۔ ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں تھے۔

“کیا رقم کم ہے؟” سادگی سے سوال کیا جو کیف جمال کو پتھر کی طرح لگا۔

“آپ کو لگتا ہے آپ ہر انسان کو پیسے سے خرید سکتے ہیں؟”

“کیوں؟ کیا میں نے تین منٹ پہلے  تمہیں  نہیں خریدا؟” وہ صوفے کے پیچھے سے نکل کے کیف کے سامنے آکھڑا ہوا۔ پھر مالک کی طرف گردن موڑی۔ “ہم نے اپنے مہمان کو چائے ، قہوہ نہیں پوچھا۔”

“قہوہ نہیں، کافی” مالک نے کھنکھارتے ہوئے اسے نظروں میں تادیبی اشارہ کیا۔

“میں کافی پینے واپس نہیں آیا۔ میں اس سوال کا جواب لینے آیا ہوں جو آپ نے مجھے نہیں دیا۔” کیف نے ناگواری سے سامنے کھڑے وجیہہ اور دراز قد آدمی کو دیکھا۔ “آپ یہ کام مجھ سے کیوں کروانا چاہتے ہیں؟  آپ کسی کو بھی خرید سکتےتھے۔”

اس نے یہ کیوں دوسری دفعہ پوچھا تھا۔

ماہر فرید کے لبوں پر مسکراہٹ  بکھرگئی۔ اس نے ایک نظر مالک کو دیکھا۔

“اسے بتا دیں کیوں؟”

“ماہر۔” مالک نے  سفید ابرو اٹھا کے تنبیہہ کی۔ ماہر اور کیف آمنے سامنے گھڑی کی چھ اور بارہ کی سوئیوں کی طرح کھڑے تھے اور مالک ایک طرف نو کی سوئی بنا  بیٹھا تھا۔

“میں نے تمہارا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ مجھے تمہارا نام پسند آیا تھا۔ باقی جتنے لوگوں کی پروفائلز مجھے مالک نے دکھائی تھیں ، ان کے نام بورنگ تھے۔ نام کے علاوہ تمہارے اندر کوئی قابل توجہ شے نہیں تھی۔” وہ  مسکرا کے بولا۔

مالک نے جیسے ریلیکس ہو کے سانس لیا۔ اس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ ایک لمحے کو اسے لگا تھا ماہر فرید اس نوجوان کو اصل بات بتانے جا رہا ہے لیکن ۔۔۔ خیر۔

“اب بتاؤ کیف جمال کہ تمہاری واپسی کی اصل وجہ کیا ہے۔ تم  صرف یہ سوال پوچھنے نہیں آئے۔”

کہتے ہیں یہ ایک لمحہ ہوتا ہے جو انسان کی قسمت بدلتا ہے۔ایک لمحے میں کوئی تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک لمحے کی بے دھیانی ایکسیڈنٹ کروا دیتی ہے۔  بس ایک لمحہ کسی کو کسی کی محبت میں مبتلا کردیتا ہے۔ وہ ایک لمحہ اگر انسان پکڑ لے تو وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اور کیف جمال نے  اس وقت اس ایک لمحے کو پکڑ لیا تھا۔

مالک کا ماہر کو منع کرنا اور ماہر فرید کا آگے سے بات بنا دینا۔ بھلے کیف جمال ایک ناکام انسان تھا اور وہ  ماہر فرید اور اس سفید بالوں والے جیسا شاطر نہیں  تھا، لیکن وہ ذہین تھا اور اس ایک لمحے نے کیف  جمال کو یہ بتا دیا تھا کہ کوئی وجہ تھی جس کے باعث ی یہ امیر سائیکو پیتھ کیف جمال سے مددلینےمیں مجبور تھا۔ وہ یہ کام کسی اور سے نہیں  کرا سکتا تھا۔ ماہر فرید کو اس کی ضرورت تھی۔

اس کے ذہن میں چھاپا اس برطانوی بزنس مین کا سارا رعب اور خوف چٹکی میں ہوا ہوگیا۔

”میں چند باتیں کلیئر کرنے آیا ہوں۔” اب کے وہ بولا تو اس کی آواز بے خوف اور گردن اُٹھی ہوئی تھی۔

“چند باتیں؟ اوکے۔ پہلی بات؟” ماہر نے یہ تبدیلی محسوس کی تھی۔ اس نے  پینٹ کی جیب سے ہاتھ نکالا اور انگلی پہ گننے لگا۔ اس کے انداز میں تمسخر تھا۔

“پہلی بات یہ کہ بھلے میں اس کام کےلیے راضی ہوں، لیکن میری بھی ایک بہن ہے۔۔۔”

”وہی بہن جس کے شوہر کے تم نے پیسے دینے ہیں۔ آگے چلو۔”

کیف نے ضبط سے سانس اندر کھینچی۔

“جو پیسے میں آپ سے لے رہا ہوں،  یہ میری کسی لگژری پہ نہیں  لگیں گے۔ میں ان سے اپنے قرضے اتاروں گا اور نئی زندگی شروع کروں گا۔ البتہ میں اس معصوم لڑکی کے ساتھ نہ کچھ برا کروں گا ، نہ ہونے دوں گا۔ اس کا گارڈ بننے  اور اس پہ نظر رکھنے کی حد تک ٹھیک ہے لیکن اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ آپ اس کو  نقصان پہنچانا چاہتے ہیں  تو  میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔”

“اور دوسری بات؟” ماہر فرید کو جیسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

“دوسری بات یہ کہ آپ نے میرے ایمان کی بہت کم قیمت لگائی ہے۔”

ماہر فرید نے ہاتھ گرادیا اور مسکرا کے مالک کو دیکھا۔ “میں کہہ رہا تھا نا اسے مزید رقم چاہیئے۔” مالک بھی ہلکا سا مسکرایا اورشانے اچکا دیے۔ ماہر واپس صوفے پہ بیٹھا تو پیچھے کھڑکی  سے آتی دھوپ کا راستہ کھل گیا۔ وہ سیدھی کیف کے چہرے پہ پڑنے لگی۔

“مجھے مزید رقم نہیں چاہیے۔” کیف سامنے والے صوفے  پہ بیٹھا اور اسی سنجیدگی سے کہتا گیا۔ “مگر مجھے اس بات کا احساس ہوا ہے کہ جو رقم آپ  مجھے دے رہے ہیں، یہ تو قرضوں کی ادائیگی میں نکل جائے گی۔ مجھے اس جاب سے کیا ملے گا۔”

“ہوں۔ بولتے جاؤ۔”

ماہر فرید نے اسے سوچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ٹانگ  پہ ٹانگ  جما لی۔ اس کے چمکتے بوٹ میں چھت سے لٹکتے فانوس کا عکس دکھائی دینے لگا۔

“آپ نے کہا ، آپ میرا بزنس سیٹ کروا دیں گے۔ ظاہر ہے اپنےپیسے اور تعلقات کے ذریعے۔” کیف سوچ سوچ کے بول رہا تھا۔ آواز نڈر تھی۔ “لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ اپنے ذریعے بھی کریں۔ ”

“مطلب؟”

“مطلب یہ کہ میرے بزنس ہمیشہ فلاپ اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ مجھے میری  غلطی کوئی نہیں بتاتا۔ آئیڈیاز ہیں میرے پاس۔ مینٹور نہیں ہے۔”

“آپ کر سکتے ہیں ۔ آپ ایک کامیاب بزنس مین دکھائی دیتے ہیں۔“ وہ پہلی دفعہ ماہر فرید کے سامنے ٹیک لگا کے بیٹھا۔ دل البتہ زور سے دھک دھک کر رہا تھا۔

“اتنی ساری دولت خود سے کمائی نہیں جاتی، کیف جمال۔ یہ کسی سے  لی جاتی ہے۔ کیا تم نے وہ مشہور منقولہ نہیں سنا کہ:

وہ تلخی سے بولا۔ اس کے چہرے  پہ اس وقت کیف جمال کے لیے ناپسندیدگی تھی۔

“گاڈ فادر۔” کیف ہلکے   سے مسکرایا۔ “لیکن کم از کم آپ کو اس دولت کو بڑھانے کا ہنر آتا ہوگا۔ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ آ پ مجھے مینٹور کریں۔”

“میرے پاس بے بی سٹنگ کےلیے وقت نہیں ہے۔” مگر کیف نہیں سن رہا تھا۔ وہ کہے جا رہا تھا۔

“جب تک میں آپ کے اس کام کا حصہ ہوں، میں ساتھ ساتھ اپنے نئے بزنس پلان پہ بھی کام کروں گا۔ دو ماہ کے اختتام پہ جب یہ گارڈ والی جاب ختم ہوجائے گی، میں اپنا پلان لے کر آپ کے پاس آؤں گا۔ آپ اس پلان کو دیکھیں  گے ، اس کی اصلاح کریں گے اور اس کو عمل میں  لانے میں میری مدد کریں گے۔”

مالک کے چہرے سے لگ رہاتھا کہ اب وہ شدید اکتا چکا ہے۔ “سنو لڑکے۔۔۔ اب تم اپنے قد سے بڑی باتیں کررہے ہو۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔۔۔”

“ایک منٹ مالک۔” ماہر فرید نے ہاتھ اُٹھا کے اسے روکا اور کیف کی آنکھوں میں جھانکا۔ “میرے مینٹور کرنے سے تمہیں لگتا ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤگے؟”

“جی۔ بالکل۔”

ماہر ہلکا سا ہنسا۔ “تم نے کامیاب ہونا ہوتاتو اب تک ہو چکے ہوتے۔ تم کیف جمال ایک ناکام انسان ہو اور تمہارا بزنس پلان اس دفعہ بھی ناکام ہوگا۔”

کیف کے چہرے پہ کئی رنگ آکے گزرے۔ اس کے ہونٹ بھنچ گئے۔

“میرا پلان دیکھے بغیر آپ مجھے ناکام کیسے کہتےہیں۔”

“کیونکہ وہ بزنس پلان کبھی نہیں بنے گا۔ تم اگلے دو ماہ ضائع کر دو گے۔” وہ بے رحمی سے بولا۔

“اور اگر دو ماہ بعد میں آپ کے پاس اپنا پلان لے کر آگیا تو؟”

ماہر فرید پھر سے ہنس دیا۔ “چلو آج تم پہ ایک تجربہ کرتے ہیں، کیف جمال۔”

“ماہر۔۔۔” مالک نے تنبیہہ کی لیکن وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

“میں اکثر سوچتا تھا کہ کیا ایک انسان تمام وسائل ہونے کے باوجود ناکام ہو سکتا ہے؟ کیونکہ آدھی انسانیت اپنی ناکامی کا ذمہ دار وسائل کی کمی اور غربت کو ٹھہراتی ہے۔ مگر تم میرے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہو، کیف۔ تم میرے اس سوال کو حل کرو گے۔” اس کی آنکھوں میں چیلنج تھا۔

“اگلے دو ماہ تمہیں یا تمہاری فیملی کو کوئی مالی پریشانی نہیں فیس کرنی  پڑے گی۔ تمہیں اپنے کام کے لیے بہترین آلات دیے جائیں گے۔ جو بھی آفس کا سامان چاہیئے ، ان کی لسٹ مالک کو بھیج دو۔ وہ  تمہیں سب مہیا کردے گا۔”

مالک اس بات سے بالکل خوش نظر نہیں آتا تھا لیکن خاموشی اس کی مجبوری تھی۔

“میں تمہیں دو ماہ دیتا ہوں۔ تم اپنا پلان بناؤ۔ دو ماہ ایک لمبا عرصہ ہے تم دن کے چند گھنٹے بھی کام کرو تو یہ کر سکتے ہو۔ تم گھر کے کام کرتے ہو۔ چاہو تو تمہیں ہم کوئی آفس یا لگژری اپارٹمنٹ بھی فراہم کر سکتے جہاں تم سکون سے دن کے چند گھنٹے کام کر سکو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تم بزنس پلان بنا لو گے؟ اس کی چمکتی آنکھوں میں تمسخر تھا۔ کیف نے ضبط سے سانس اندر کھینچی۔

“میں آپ کو یہ کر کے دکھاؤں گا۔“

“ناممکن۔ تم دو ماہ تک اتنی سہولیات کے باوجود  بھی ایک بزنس پلان تک نہیں  سکو گے۔ مالک اور میں تمہارے جانے کے بعد اس بات پہ شرط لگائیں گے کیونکہ تم ایک سست انسان ہو۔ تم نے کامیاب ہونا ہوتا تو اب ہو چکے۔”

“میں آپ سے مختلف ہوں، ماہر فرید صاحب۔ آپ ایک نارسیسٹ ہیں۔” اب کیف جمال بولا تو اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔ “اونچی اونچی کرسی پہ بیٹھ کے بے روز گا ر نوجوانوں کی ناکامی کا مذاق اڑانا بہت آسان ہے۔ آپ سونے کا چمچ منہ میں لیے بڑے ہوئے ہیں، آپ اپنی محنت سے یہاں نہیں پہنچے۔ آپ پرویلیجڈ ہیں،   آپ کے والد نے آپ کے ایک بہت بڑی بزنس ایمپائر چھوڑی ہے جسے آپ خوبصورت لڑکیوں کا پیچھا کرنے میں ضائع کررہے ہیں۔”

“تمہارے پاس دو ماہ ہیں۔” اسے کیف جمال کے الفاظ سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اسی محفوظ انداز میں بولا۔ “مگر میں جانتا ہوں کہ تم دو ماہ بعد بھی کوئی پلان لے کر نہیں آؤ گے۔ اور پھر میں ہر بزنس ڈنر پہ، ہر سیمینار پہ تمہارا قصہ سنایا کروں گا کہ کیسے انسان ہر شے کے باوجود ناکام ہو سکتا ہے۔” ماہر فرید اُٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ مصافحے کے لیے بڑھایا۔

کیف نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا۔ وہ لمبی انگلیوں والا خوبصورت ہاتھ تھا۔ ایسے ہاتھ مجسموں سازوں یا پیانو بجانے والوں کے ہوتے ہیں۔ کیف نے اس  سے ہاتھ ملایا۔

“میں آپ کو غلط ثابت کرکے دکھاؤں گا۔” کیف نے ہاتھ ملا کے چھوڑ دیا۔

Download Mala Urdu Novel Episode 2 Full PDF

متعلقہ ناولز

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close