محبوبہ دولت اور بیوی – جاسوسی اردو ناول

ایک مصنف کی کہانی جس کو دولت کی ہوس نے اندھا کر دیا تھا۔

فرح نے کمرے کے دروازے پررُک کر اپنے شوہر  کو دیکھا جو ٹائپ رائٹر پر بیٹھا نئی جاسوسی کہانی لکھ رہا تھا۔

"حسن ! میں شاپنگ کےلیے شہر جارہی ہوں۔” فرح نے کہا۔ حسن نے سر اُٹھا کر اپنی بیوی کو دیکھا۔

"ارے، تم نے تو میرا  پسندیدہ لباس پہنا ہوا ہے، گویا تم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہو۔ ”

"نہیں۔” فرح نے نفی میں سرہلایا۔ "تم اپنی نئی کہانی مکمل کرلو۔”

"اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟” حسن نے دروازے  کے پاس جاکر اپنی بیوی کا بوسہ لیا۔”کیا تم تنہا شہر جانے کے قابل ہو؟”

فرح دھیرے سے مسکرائی۔” ذرا سی بدہضمی ضرور ہے لیکن میں مریض بن کر گھر میں تو قید نہیں رہ سکتی، دوپہر کے کھانے سے پہلے واپس آجاؤں گی، تم باہر کھانا مت کھانا۔ ”

"جلدی آنے کی ضرورت نہیں جانِ من! میں خود گیارہ بجے  کے قریب باہر جاؤں گا۔ حسن نے کہا۔

"اوہو، کیا تمہیں آج پھر اپنی کہانی کے سلسلے  تحقیقاتی کام کرناہے؟”

"ہاں!” حسن نے اثبات میں سر ہلایا۔ ” مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں دس کلو برف کو پگھلنے میں دیر کتنی لگ سکتی ہے!”

"اس کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا  ہے۔خیر تم کھانا کہاں کھاؤ گے؟”

"وہی پرانی جگہ، لائبریری کے پاس  جو کیفے  پہلوی ہے۔” حسن نے پُر تشویش  نظروں سے فرح کو دیکھا۔ "تمہارا چہرہ زرد ہورہا ہے۔ جانِ من ! کیا تم گاڑی چلا سکوگی؟”

"کیوں نہیں۔” فرح نے جلدی سے جواب دیا۔ حالانکہ اُس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینہ توڑ کر باہر نکل جائے گا۔ "تم میری فکر نہ کرو حسن! میں بالکل ٹھیک ہوں۔”

فرح ہلکی رفتار سے گاڑی چلاتی ہوئی شہر میں آئی۔ اُس نے کاشانہ رضا کے پیچھے گاڑی روکی اور پھر لفٹ کے ذریعہ ساتویں منزل پر پہنچی ۔ ایک آفس کے دروازے پر رُک کر اُس  نےاُس پرلکھا ہوا نام پڑھا۔

"شہر یار مشہدی۔ پرائیویٹ جاسوس۔” اُ س نے اس پرائیویٹ جاسوس کا انتخاب ٹیلیفون ڈائرکٹری کے پیلے صفحات میں سے کیا تھا اس جاسوس کو منتخب کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ اس نام کو پڑھ کر نہ جانے کیوں فرح کو احساس ہوا کہ یہ شخص قابل اعتماد ہے۔ چند لمحے توقف کے بعد اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ شہر یار مشہدی  اپنےنام کے برعکس منحنی سا آدمی ثابت ہوا بالکل کسی ڈرپوک چوہے کی طرح، اس کے دانت مصنوعی تھے، اُس نے مسکرا کر فرح کا استقبال کیا۔

"خانم فرح!”

"جی ہاں۔ کیا میں صحیح وقت پر پہنچی ہوں؟”

"جی ہاں۔تشریف رکھئے۔”

فرح اُس کے سامنے کھڑکی پر بیٹھ گئی۔ اُس کا دل اس قدر زور سے دھڑک رہا تھا کہ وہ پریشان ہوگئی اور سوچنے لگی کہ آخر رات کو اُس نے ایسی کون سی چیز کھائی تھی جس کی وجہ سے بدہضمی ہوئی اور بدہضمی کے نتیجے میں اُس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا ہے ۔ حالانکہ پچھلے کچھ عرصے سے وہ حسن کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ہاضمے کی گولیاں برابر کھا رہی تھی لیکن اس کے باوجود کمزوری بڑھتی جارہی تھی اور بدہضمی میں  بھی کوئی افاقہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

"اب فرمائیے خانم فرح! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ پرائیویٹ جاسوس نے پوچھا۔

فرح نے کئی گہرے سانس لئے،  اُسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔ شہریار نے اُس کی بدلتی کیفیت کو دیکھ کر غلط نتیجہ اخذ کیا۔

"خانم گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، یقین کیجئے، آپ جو کہیں گی وہ صرف میرے اورآپ کے درمیان رہے گا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اپنے شوہر پر جو شبہ ہے وہ صحیح ثابت ہوا کہ بیوی کا اپنے شوہر پر بیوفائی کا شبہ غلط تھا،  آپ اطمینان سے بیٹھیں اور پہلے مجھے اپنے شوہر کے متعلق کچھ بتائیں۔”

"حسن جاسوسی کہانیاں لکھتا ہے۔” فرح نے چند لمحے توقف کے بعد کہنا شروع کیا۔ "وہ اس پیشے میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہے لیکن اُسے بالکل ناکام بھی نہیں کہہ سکتے، وہ اپنی کہانیوں پر بہت محنت کرتا ہے لیکن اُس کی زیادہ تر کہانیاں جاسوسی رسالوں کے ایڈیٹر واپس کردیتے ہیں۔” فرح خاموش  ہو کر کچھ سوچنے لگی۔ فرح کو خاموش دیکھ کر شہر یار نے اُس  کی ہمت بڑھائ۔ "آخر وہ کون سی وجوہ تھیں جن کی بناء پر آپ کو اپنے شوہر پر بیوفائی کا شبہ پیداہوا؟”

اس کی کہانیوں کی طرح اس کا منصوبہ بھی ناکام رہا۔

"بہت سی وجوہ تھیں مثلاًاس کا بدلا بدلا رویہ۔ کچھ عرصے سے میری طبیعت خراب ہے اس پر حسن نے اصرار کیا کہ وہ میری طبیعت    ٹھیک ہونے تک دوسرے کمرے تک سوئے گا، اس کے علاوہ وہ اچانک ہی میرے لباس میں دلچسپی  لینے لگا ہے۔ پہلے کبھی وہ میرے لباس میں دلچسپی نہیں لیتا تھا کہ میں نے کونسا لباس پہنا ہوا ہے لیکن اب وہ خاص طور پر نوٹ کرتا ہے اس  چیز کو۔  اس کے علاوہ وہ مجھ سے محبت اور گرمجوشی سے پیش آتا تھا لیکن اب اُسکے رویہ میں صرف نرمی اور تشویش ہوتی ہےجیسے میں کوئی غیر ہوں۔ ہماری شادی کوصرف تین سال کا عرصہ ہوا ہے اور پہلی مرتبہ میں نے اُس کے رویہ میں یہ تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔ میرے شبہ کی دوسری وجہ اُس کا تحقیقاتی کام  ہے وہ مجھ سے شادی سے پہلے بھی کہانیاں لکھتا تھا۔ شادی کے بعد بھی وہ کہانیاں لکھتا رہا لیکن اس عرصے میں میں نے کبھی اُسے اپنی کہانی کے سلسلے میں تحقیقاتی کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا،  کچھ عرصے سے اُ س نے تحقیقاتی کام شروع کردیا ہے  اب وہ تقریباً اس سلسلے میں روزانہ کتب خانہ عمر خیام جاتا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ اپنی کہانیوں کو حقیقت سے قریب تر کرنا چاہتا ہے تاکہ پڑھنے والے کو ان کہانیوں پر حقیقت کا گمان ہو۔ میں نے اُس کی نئی کہانیاں پڑھیں لیکن مجھے ان کہانیوں میں ایسے نکتے نظر نہٰن آئے جن پر اتنی چھان بین کی ضرورت پڑی ہو۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟  اس سے میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ وہ کتب خانے میں چھان بین کا صرف بہانہ کرتا ہے، اس کا مقصد صرف گھر سے دور رہنا ہوتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کسی روز کتب خانہ رات کو دیر تک کھلا رہتا ہے تووہ بھی رات گئے گھر واپس آتا ہے۔”

"سمجھا۔” شہریار نے سر ہلاتے  ہوئے کہا۔”آپ کاخیال ہے کہ آپ کے شوہر کتب خانے نہیں جاتےبلکہ یہ وقت کسی دوسری عورت کے ساتھ گزارتےہیں اور کتب خانے جا کر چھان بین کرنا محض بہانہ ہے۔”

"جی ہاں! میں یہی کہنا چاہتی  تھی۔” فرح نے دھیمی لہجے میں جواب دیا۔

"کیا آپ اپنے شوہر کی تصویر لائی ہیں؟”

فرح نے اپنے ہینڈ بیگ میں سے حسن کی تصویر نکال کر شہریار کے سامنے رکھ دی، وہ اپنے شوہر کی جاسوسی کرانے پر بے حد نادم تھی، اُسے یہ بڑی گھٹیا سی  حرکت محسوس ہورہی تھی۔

حسن سے ملاقات ہونے سے نو مہینے قبل فرح کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا اس لیے جب اُس کی حسن سے ملاقات ہوئی تو وہ ایک سوگوار بیوہ تھی۔ حسن اُسے دیکھتے ہی اُس کی محبت میں گرفتار ہوگیا  اور بہت جلد وہ دوبارہ بیوہ سے بیوی بن گئی۔ وہ حسن ہی تھا جس نے اُس سے شادی کرکے اُس کو دوبارہ ازدواجی زندگی کی مسرتوں سے ہمکنار کیا ورنہ تو وہ ہمیشہ کیلئے ازدواجی زندگی کی خوشیوں اور ہنگاموں کو خیر باد کہہ چکی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ فرح نے دوسری شادی پر غور ہی نہیں کیا تھا کیونکہ وہ ایک سپاٹ سی گھریلو عورت تھی، نہ وہ حسین تھی، نہ اُس کا جسم پُر کشش تھا، نہ وہ نوجوان تھی۔ پھر اِس زمانے میں جب نوجوان، پُر کشش اور خوبصورت لڑکیاں ہر معقول مرد کو حاصل کرنے کےلیے ہر کام کر گزرنے پر آمادہ رہتی ہیں تو وہ کس طرح اپنے لیے ایک معقول شوہرحاصل کرنے کی اُمید کرسکتی تھی اور شوہر بھی حسن جیسا جو عمر میں اُس سے کئی سال چھوٹا تھا۔

شہریار کچھ دیر تک اُس کے شوہر کی تصویر کو دیکھتا رہا۔ "اس وقت آپ کے شوہر کہاں ہوں گے خانم فرح! میں چاہتا ہوں کہ اپنا کام فوراً شروع کردوں۔”

حسن نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ گیارہ بجے کتب خانے جانے کے لیے گھر سے نکلے گا۔ آج اُسے یہ معلوم کرنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں دس کلو برف پگھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے، اس کے علاوہ لائبریری کے قریب کیفے پہلوی میں کھانا کھائے گا۔”

"ٹھیک ہے ، میں یہاں سے آپ کے گھر جارہا ہوں تاکہ جیسے ہی حسن باہر نکلے تو میں اُس کا تعاقب کر سکوں۔” شہر یار نے تصویر کو جیب میں رکھتے ہوئے کہا اور کرسی سے کھڑا ہو گیا۔

"اگر آپ کو کسی غیر معمولی بات کا علم ہو تو ُآپ مجھے فوراً ٹیلیفون کر دیجئے گا۔”

"ضرور۔” شہر یار نے کہا۔ "لیکن میری خواہش ہے کہ مجھے کسی ایسی چیز کا علم نہ ہو جسے سُن کر آپ اُداس ہو جائیں۔”

فرح نے شہر یار کے دفتر سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کچھ ضروری چیزیں خرید سکے، اُسے اپنا جسم ٹوٹتاہوا محسوس ہورہا تھا اور سر چکرا رہا تھا۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی رہی۔ جب اُسے یقین ہو گیا کہ حسن اب گھر سے جا چکا ہوگا تو اُ س نے گاڑی اسٹارٹ کی اور احتیاط چلاتی ہوئی گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔

فرح تقریباً بارہ بجے گھر پہنچی، حسن جا چکا تھا ، وہ اس معمولی سفر سے اس قدر تھک گئی تھی کہ اُسے اپنے لیے کھانا پکانے کی ہمت نہیں پڑرہی تھی۔  آہستہ آہستہ سیڑھیاں طے کرکے اوپری منزل میں اپنی خوابگاہ میں پہنچی جو پہلے کبھی اُن دونوں کی مشترکہ خوابگاہ تھی لیکں اب حسن تنہا نچلی منزل میں سوتا تھا۔ آتے ہی وہ بے دم سی بستر پر گر پڑی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ آہستہ آہستہ اُس کے دل کے دھڑکن کی معمول پر آتی جارہی تھی۔ وہ اپنے شوہر حسن اور جاسوس شہریار کے متعلق سوچ رہی تھی۔ اگر شہر یار نے اُسے یہ اطلاع دی کہ واقعی حسن اُس سے بے وفائی کر رہا ہے اور کسی دوسری عورت سے ملتا ہے تو میرا ردعمل کیا ہوگا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ ایسی صورت میں وہ کیا کرے ۔ اُس کی خواہش تھی کہ وہ چوہے جیسا جاسوس اس معاملے کو آج ہی ختم کردے۔ اول تو اُسے اس گھٹیا اور بازاری کام میں ملوث ہی نہیں ہونا چاہیئے اور اب جب وہ یہ قدم اُٹھا چکی ہے تو اُسے جلد از جلد ختم ہو جانا چاہیئے۔وہ انہی خیالوں میں ڈوبی نہ جانے کب سو گئی۔ اُس کی آنکھ ٹیلیفون کی گھنٹی کی آواز سُن کر کُھلی۔ اُس نے ریسیور کان سے لگایا۔ دوسری طرف وہی جاسوس تھا جسے اُس نے تین چار گھنٹے قبل اس کام پر مامور کیاتھا۔

"میں شہر یار مشہدی بول رہا ہوں!”

"میں سُن رہی ہوں شہریار!” فرح نے جواب دیا۔

شہر یار کی آواز سنتے ہی اُس کا دل بہت زور سے اُچھلا۔

"آپ کے شوہر  ابھی گھر پر نہیں پہنچے ہوں گے، کیا میں آپ سے ٹیلیفون پر بے تکلفی سے گفتگو کر سکتا ہوں خانم فرح!”

” جی ہاں!حسن ابھی  گھر نہیں آیا۔ آپ بے دھڑک گفگتگو کر سکتے ہیں۔”

"میرا بھی یہی خیال تھا۔ میں آدھے گھنٹے قبل آپ کے شوہر کو لائبریری میں چھوڑکر آیا ہوں۔”

"سچ مچ کیا لائبریری کے اندر؟ فرح کا چہرہ دمکنے لگا۔ "وہ واقعی اپنی کہانیوں کے لیے چھان بین کرتا ہے؟”

"ہاں میرا یہی خیال ہے۔” شہریار نے جواب دیا۔ "لیکن وہ گھر سے نکلنے کے بعد براہ راست لائبریری نہیں گئے، نہ اُنہوں نے لائبریری کے نزدیک کیفے پہلوی میں کھانا کھایا اور مجھے یہ کہتے ہوئے بہت افسوس ہورہا ہے کہ اُنہوں نے کھانا بھی تنہا نہیں کھایا۔”

ریسیور پر فرح کی گرفت  خودبخود مظبوط ہوگئی، اُس کا خوشی سے چمکتا چہرہ اچانک تاریک ہوگیا۔ وہ خاموش رہی۔

"حسن گھر سے ٹھیک گیارہ بجکر دس منٹ پر باہر نکلے، اُنہوں نے کتب خانے کے ساتھ اپنی کار روکی، وہاں ایک نوجوان عورت اُن کی منتظر تھی، اُسے اپنے ساتھ لے کر وہ فردوس ریستوران پہنچے اور اس ریستوران میں اُن دونوں نے کھانا کھایا۔ خانم فرح! کیا آپ نے وہ ریستوران دیکھا ہے؟”

"ہاں!” فرح نے جواب دیا۔ وہ کئی مرتبہ حسن کے ساتھ اُس ریستوران میں کھانا کھاچکی تھی۔ اُس میں روشنی اتنی مدھم رکھی جاتی تھی کہ ایک مرتبہ حسن کو مینو پڑھنے کے لیے ماچس کی تیلی جلانی پڑی تھی۔

"میں اُن کے پیچھے ریستوران میں داخل ہوگیا، خوش قسمتی سے مجھے اُن کے قریب ایک میز پر جگہ مل گئی۔ میں نے اُن کی کچھ گفتگو بھی سُن لی۔” شہریار نے رُک کر گلا صاف کیا۔

"میں اُن کی گفتگو نہیں سننا چاہتی۔” فرح نے سرگوشی میں کہا۔

"بہت بہتر! بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ اُن کے درمیان ہونے والی گفتگو ذرا۔۔۔۔رومانی قسم کی تھی۔ کھانا کھا کر حسن ا س عورت کو گاڑی میں بٹھا کر ایک سنسان مقام پر لے گئے وہاں ایک جگہ اُنہوں نے اپنی گاڑی کھڑی کردی۔ تقریباً بیس منٹ بعد اُنہوں نے دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کی اور اس عورت کو ایک تجارتی کمپنی کے سامنے اُتار دیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ عورت اس کمپنی میں کام کرتی ہے۔ اس کے بعد وہ سیدھے کتب خانے چلے گئے۔ انہیں لائبریری چھوڑکر میں واپس آیا اور میں نے اُس عورت کے متعلق معلومات جمع کیں۔”

"کون ہے وہ عورت شہریار۔”

"اُس کا نام حمیرا ہے۔ غیر شادی شدہ ہے اور انٹرنیشنل  ٹیکسٹائل کیمیکلز کمپنی میں ملازم ہے۔”

"کیا۔۔۔ کیا وہ عورت بہت خوبصورت ہے شہریار۔” فرح نے جھجکتے ہوئے دریافت کیا۔

شہر یار نے جواب دینے سے پہلے گلا صاف کیا۔ "ہاں، وہ واقعی خوبصورت ہے،  میرا خیال ہے کہ اس کے بال مصنوعی تھے، اُس نے غالباً وِگ پہن رکھی تھی۔”

"بس اتنا کافی ہے شہریار! آپ مہربانی کرکے اپنا بل اور تحریری رپورٹ مجھے روانہ کردیں میں فوراً چیک کے ذریعہ آپ کا بِل ادا کردونگی۔” فرح نے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا اور نڈھال سی بستر پر گر گئی۔

تو میرا شبہ درست ثابت ہوا۔ فرح نے سوچا۔ اُسے سردی لگنے لگی، اُس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے جسم پر کمبل کھینچ لیا۔ اس کا دل  سینے میں اس طرح اچھلنے لگا جیسے وہ ہڈیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔

ایک گھنٹے بعد اُس نے نیچے دروازہ کُھلنے کی آواز سُنی، پھر اُسے حسن کے سیٹی بجانے کی آواز سنائی دی۔

"فرح۔۔۔! فرح۔۔۔!! کوئی ہے۔۔۔؟” حسن زور سے چلایا۔ وہ بہت خوش نظر آرہا تھا۔ فرح نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموش لیٹی حسن کے اوپر چڑھنے کی آوازیں سنتی رہی، پھر اُس کی خوابگاہ کا دروازہ کھلا۔ حسن نے اندر جھانک کر دیکھا۔ "فرح! تم کہاں ہو جانِ من؟ ارے تم لیٹی ہوئی ہو۔ میں تمہیں منع کر رہا تھا۔ لیکن تم مانی نہیں، تمہاری طبیعت زیادہ خراب معلوم ہوتی ہے۔”

"کچھ زیادہ نہیں۔” فرح نے کمزور لہجے میں جواب دیا۔

"آؤ جانِ من! کھانے سےپہلے ایک آدھ گلاس بیئر پی لیں۔ کیا خیال ہے بیئر پی کر تمہاری طبیعت ٹھیک ہوجائے گی۔”

"میں کچھ دیر لیٹنا چاہتی ہوں حسن! تم نیچے جا کر بیئر پی لو، مجھے ابھی بھوک نہیں ہے۔”

"اگر تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو کھانے کی فکر نہ کرنا۔ میں تمہارے لئے کچھ انڈے فرائی کر لوں گا۔ اس کے ساتھ چائے اور ٹوسٹ کھا لینا۔ ٹھیک ہے؟”

"ٹھیک ہے۔ تم بیئر پی کر واپس آجاؤ، مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں!”

"کس قسم کی باتیں؟” حسن نے تعجب سے اپنی بیوی کو دیکھا۔

"تم آؤ تو۔ پھر بتاؤں گی۔” فرح نے جواب دیا۔

کچھ دیر بعد حسن جب واپس آیا تو اُس کےہاتھ میں ایک خالی گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں بیئر کی بوتل تھی۔

"میں بوتل ساتھ ہی لے آیا ہوں تاکہ بار بار نیچے نہ جانا پڑے۔” حسن نےمسکراتے ہوئے کہا۔ اُ س نےخالی گلاس میں بیئر انڈیلی۔ پھر بوتل سنگھار میز پر رکھ کروہ گلاس ہاتھ میں لیے اس کے پاس بستر پر بیٹھ گیا۔ "اب کہو جانِ من!”

فرح نے سر موڑ کر حسن کے خوبصورت چہرےکو دیکھا۔ وہ آہستہ آہستہ چسکیاں لے رہا تھا۔ اچانک فرح کا دل محبت کے جذبات سے معمور ہوگیا۔ اُسے حسن پر بے تحاشا پیار آرہا تھا۔ بیچارہ حسن۔ فرح نے سوچا وہ مجھ جیسی عورت سے شادی کرکے پھنس گیا ہے، وہ خود نوجوان ہے، خوبصورت ہے، اُس کا خون گرم ہے، وہ ہنگامے پسند کرتا ہے اس کے برعکس میں کیا ہوں، سپاٹ سی بیمار رہنے والی گھریلو عورت جس میں کوئی کشش نہیں اور عمر رسیدہ بھی ہے۔

"حسن اگر مجھے کچھ ہوجائے تو تم کس قسم کی لڑکی سے شادی کرنا پسند کرو گے؟” فرح نے چند لمحوں کے بعد کہا۔ اُس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

"یہ کیا حماقت ہے، تم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو فرح؟” حسن نے حیرت بھری نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھا۔ "کیا تمہاری طبیعت اتنی خراب ہے کہ تمہیں موت نظر آرہی ہے۔”

"نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔” فرح نے کہا۔ "بس مجے بیٹھے  بیٹھے ہی یہ خیال آیا کہ میرے بعد تم کس قسم کی لڑکی سے شادی کرنا پسند کرو گے؟

حسن نے کوئی جواب دینے سے پہلے گلاس میں تیرتی ہوئی برف کی ڈلیوں کو زور سے ہلایا۔ "اگر ایسا ہوا تو وہ لڑکی تم سے مختلف ہوگی۔” حسن نے کہا۔”تمہیں معلوم ہے کہ میں تنوع پسند ہوں۔” وہ آہستہ سے ہنسا۔

"تمہارا مطلب ہے کہ وہ مجھ سے عمر میں کم ہوگی؟”

"ہاں، یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن تم جانتی ہو کہ مجھے عورتوں کی عمر کے بارے میں زیادہ فکر نہیں ہوتی۔”

"کوئی ایسی لڑکی جو مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو؟”

"تم میرے لیے بہت زیادہ خوبصورت ہو جانِ من! حسن نے خوشدلی سے کہا۔ "اگر کسی کی بیوی دولت مند ہو تواُسے خوبصورت چہرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔”

"حسن!” فرح نے تیز لہجے میں کہا،  پھر اس نے خود پر قابو پا لیا۔ "اگر میرے پہلے شوہر کی موت کے بعد مجھے کچھ رقم ملی ہے توتمہیں اس پر اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیئے حسن! میرے مرنے کے بعد وہ رقم تمہیں مل جائے گی اور تم بھی یہی کہو گے کہ میری پہلی بیوی کی موت کےبعد مجھےیہ رقم ملی ہے۔ اس قدر تلخ ہونے سے کیا فائدہ؟”

حسن نےتیسرا گلاس بھرا اور دوبارہ فرح کےپاس آکر بیٹھ گیا۔

"نہیں فرح! میں جذباتی نہیں ہوں، البتہ مجھے کبھی کبھی خود پر غصہ آتا ہے کہ میں تمہارے ٹکڑوں پر پل رہا ہوں۔”

"کیا تم مجھے غیر سمجھتے ہو حسن! جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہو۔” فرح نے نرم لہجے میں کہا۔”تم نےمیرے سوال کا جواب نہیں دیا، کیا تمہاری دوسری بیوی بہت زیادہ خوبصورت ہوگی۔ بہت پُر کشش؟ میرے طرح گھریلو نہیں ، جو اپنا لباس خود سیتی ہے، اپنا کھانا خود پکاتی ہے، شام کا وقت کلب کے بجائے گھر میں گزارتی ہے، تمہاری بیوی تو ایسی ہوگی جو تمہارے ساتھ شام کو جدید ترین فیشن کا لباس پہن کر مشہور کلبوں میں تمہارے ساتھ رقص کرے ، جسے تم مشہور ہوٹلوں میں کھانا کھلا سکو!”

حسن نے مشروب کا ایک بڑا سا گھونٹ لیا۔ "اور فرح اس کے ساتھ یہ بھی بتا دو کہ مجھے ایسی عورت اور ایسے ہوٹل کہاں ملیں گے، کیا اسی شہر میں ؟  حسن تلخ انداز میں ہنسا۔

"کیوں نہیں۔ مثا ل کے طور پر فردوس ریستوران ہے جس کے اندر اتنی مدھم روشنی ہوتی ہے کہ مینو پڑھنے کے لیے ماچس کی تیلی جلانی پڑتی ہے۔” ہوٹل کا نام سُن کر حسن چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگیا۔ پھر اٗس نے  زبردستی ایک قہقہہ لگایا۔ "اوہو سمجھا۔ واقعی تم ٹھیک کہتی ہو، اگر تم اس پر خوش ہو تو یہی سہی ۔ میں کسی ایسی ہی لڑکی سے شادی کر لوں گا۔”

فرح نے محسوس کیا کہ حسن کو خود پر قابو نہیں رہا۔ وہسکی کا اُ س پر بُرا اثر ہو رہا ہے، وہ بہکنے لگا ہے، وہ کچھ اور دیر حسن سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی لیکن چونکہ اُس نے حسن کی بے وفائی پر اُسے معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس لیے اُس نے اب کُھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔

"ٹھیک ہے لیکن وہ عورت کس قسم کی ہوگی حسن؟ کیا حمیرا کی طرح؟”

حسن چوتھاگلاس بھرنے کے لیے سنگھار میز کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حمیرا کا نام سُن کر اُس کے قدم زمین میں گڑگئے، اُ س نے آہستہ سے مُڑ کر فرح کو غور سے دیکھا، "کیا کہا تم نے فرح؟”

"کوئی ایسی عورت، جو حمیرا کی طرح ہو۔ تم نے اُسے  دیکھا ہوگا وہ انٹرنیشنل ٹیکسٹائل کیمیکلز میں کام کرتی ہے۔”

حسن چند لمحے خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر وہ مڑا اُس نے خاموشی سے سنگھار میز پر رکھی ہوئی مشروب کی بوتل اُٹھائی اور آدھا گلاس بھر کر ایک ہی سانس میں  پی گیا، چند لمحے وہ سنگھار میز میں لگے ہوئے آئینے میں اپنا جائزہ لیتا رہا۔ پھر اُس نے خالی گلاس دوبارہ بھرا اور اور پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا واپس فرح کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ فرح کو اُس پر بڑا رحم آرہاتھا، وہ خود کوبہت ظالم محسوس کر رہی تھی اُسے اپنے طرز عمل پر افسوس ہورہا تھا۔ شاید اُس نے اس راز کو افشاء کرنے کے لیے غلط طریقہ استعمال کیا تھا۔

حسن نے آہستہ آہستہ مشروب کی چند چسکیاں لیں ۔ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں تو صرف جاسوسی کہانیاں لکھنے میں مشغول رہا اور تم نے میری باقاعدہ جاسوسی کرا ڈالی۔” حسن کا لہجہ جذبات سے عاری تھا۔

"کیا اس کے لیے تم مجھ کو قصور وار ٹھہرا سکتے ہوحسن؟”

"نہیں۔ بالکل نہیں۔ سارا قصور میرا ہی ہے!”

"لیکن میں تمہیں بھی قصوروار نہیں سمجھتی حسن! میں اپنے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوں۔ اگر تم حمیرا جیسی عورت کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہوئے تو میں اس کی وجہ سمجھ سکتی ہوں۔ کبھی کبھی اگر ایسا ہوجائے تو میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی لیکن میں تم سے اب بھی محبت کرتی ہوں حسن !”

"اتنی محبت کہ تم مجھے معاف کر سکو؟”

"ہاں حسن! ہاں جانِ من ! میں تمہیں معاف کر سکتی ہوں ، تم حمیرا کو بھول جاؤ، اُسے فراموش کر دو۔”

حسن نے گلاس میں بھری ہوئی شراب کو غور سے دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ نفی میں سر ہلا دیا۔ "یہ ممکن نہیں فرح! اب کچھ نہیں ہو سکتا۔”

"کیوں؟”

"میں بہت آگے بڑھ گیا ہوں فرح! میں واپس نہیں آسکتا، میں اُ سے سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”

"شادی!!” فرح نے اُسے اس طرح دیکھا جیسے اُس کا ذہنی توازن درست نہ ہو۔ حسن نے زور زور سے اثبات میں سرہلایا اور بچا ہوا مشروب ایک ہی سانس میں حلق کے نیچے انڈیل لیا۔ "تم اُس سے شادی نہیں کر سکتے حسن!”فرح بستر سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ "میں اُس سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی، میں تمہیں طلاق نہیں لینے دوں گی۔”

حسن نے سراُٹھا کر اُسے دیکھا، اُس کے ہونٹوں پر پُراسرار مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

"طلاق! اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی جانِ من! اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔” حسن کو الفاظ کی ادائیگی میں مشکل ہورہی تھی، شراب اُس پر اثر کررہی تھی۔

"اگر میں طلاق دینے سے انکار کردوں تو تم اُس سے شادی نہیں کر سکو گے حسن!”

"کیوں نہیں کر سکتا؟” حسن نے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے کہا۔ "فرض کرو تم مر جاتی ہو، پھر؟”

فرح نے ہنسنے کی کوشش کی۔”لوگ بدہضمی کی وجہ سے نہیں مرتے حسن! تم احمق ہو!”

حسن کچھ دیر تک اُسے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر وہ بستر سے کھڑا ہو گیا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے سنگھار میز کی طرف بڑھا، میز پر گلاس  رکھ کر وہ فریج کی طرف مُڑا۔ "تم ٹھیک کہتی ہو فرح! مگر جن لوگوں کو بدہضمی کی شکایت ہوتی ہے، اُنہیں سانس لینے میں دُشواری نہیں ہوتی، نہ اُن کا دل زور زور سے دھڑکتا ہے، بدہضمی سے اتنی کمزوری بھی نہیں ہوتی ہے کہ اُٹھ کر کھانا بھی نہ کھا سکے، ساری بات یہ ہے کہ تم پہلے کبھی بیمار نہیں ہوئیں، ورنہ  تمہیں معلوم ہوتا کہ بدہضمی کسے کہتے ہیں۔”

"لیکن۔۔۔ لیکن حسن تم نے ہی تو کہا تھا کہ مجھے صرف بدہضمی ہوگئی ہے اور۔۔۔۔۔”

"ہاں، تاکہ تم مطمئن رہواور کسی ڈاکٹر کے پاس نہ جاؤ۔”

"حسن۔۔۔۔!!”فرح نے دہشت بھری آواز میں کہا۔ "حسن! اگر مجھے بدہضمی نہیں ہے تواور کیا بیماری ہے؟”

حسن نے جُھک کر دوبارہ گلاس بھرا اور سیدھا کھڑے ہو کر اُس کا ایک گھونٹ لیا۔۔۔ ” تمہیں بدہضمی نہیں ہے فرح! تمہیں ایک خوفناک بیماری ہوگئی ہے، خوفناک نہیں، بلکہ مہلک، ناقابل علاج بیماری۔”

"حسن۔۔۔۔تم مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہو! تم نہیں چاہتے تھے کہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس جاؤں اور میں اسی طرح۔۔۔۔۔” فرح کا سانس پھول گیا۔

"کوئی بھی ہوشیار ڈاکٹر تمہاری جان بچا سکتا تھا فرح!” حسن نے تیز لہجے میں کہا۔

"مجھے کیا بیماری ہے حسن؟” فرح نے کانپتے ہوئے سرگوشی میں پوچھا۔

"پلاسٹک انیمیا۔۔۔! نہیں سمجھیں؟ یہ ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو ہڈیوں میں ہوتی ہے، ہڈیوں کا گودا ختم ہوجاتا ہے اور نیا خون بننا بند ہو جاتا ہے۔ اب تمہاری بیماری اس اسٹیج پر ہے کہ تمہیں دُنیا کا کوئی ڈاکٹر زندہ نہیں رکھ سکتا۔”

"تم مجھے زندہ نہیں دیکھنا چاہتے حسن؟ تم یہی کہنا چاہتے ہو نا؟”

"بے شک!”

"تاکہ تم حمیرا سے شادی کر سکو؟”

حسن کے حواس پر نشہ اس قدر مسلط ہو چکا تھا کہ  وہ ہوش و حواس سے دور سچ  کے علاوہ کچھ اور بولنے کاسوچ ہی نہیں سکتا تھا۔

"کسی حد تک۔” حسن نے اعتراف کرتے ہوئے کہا۔ "لیکن اس سے میرا بنیادی مقصد تمہاری دولت حاصل کرنا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ میں مصنف کی حیثیت سے کبھی کامیاب نہیں ہو سکوں گا۔ اب سمجھ گئیں جانِ من!”

فرح نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ چند لمحوں بعد اُ س نے آنکھیں کھول کر اپنے شوہر کو دیکھا۔

"مجھے حیرت ہے حسن! تم نے میری دولت  حاصل کرنے کےلیے مجھے زہر کیوں نہیں دیا؟  میرا خیال  ہے کہ تم مجھے  زہر دے دیتے لیکن خوش قسمتی سے میں خود ہی اس مہلک بیماری کا شکار ہوگئی ، کیوں حسن؟”

"نہیں۔” حسن نے جواب دیا۔ "میں جاسوسی کہانیاں لکھنے والا ایک ذہین مصنف ہوں کیا تم مجھ سے اس حماقت کی توقع کرسکتی ہو، زہر ایسی چیز ہے جسے چھپانا ناممکن ہے۔ میں فوراً ہی پکڑا جاتا۔ لیکن پلاسٹک انیمیا ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر پولیس کبھی مجھ پر شبہ نہیں کرے گی۔” حسن کسی خیال کے زیر اثر زور سے ہنسا۔ "فرح! اگر میں نے کبھی یہ کہانی لکھی تومیں شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ کوئی بھی ایڈیٹر میری اس کہانی کو رد نہیں کر سکے گا۔ کیسا عمدہ خیال ہے۔”

"تم نے۔۔۔ تم نے مجھے یہ بیماری لگائی ہے۔” فرح نے حیرت سے کہا۔”یہ ناممکن ہے۔”

"نہیں میری جان یہ ناممکن نہیں ہے۔ تمہیں یہ بیماری خود نہیں ہوئی۔” حسن نے چند لمحے خالی گلاس کو دیکھا اور پھر اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ "حمیرا نے اس سلسلے میں میری بڑی مدد کی ہے۔”

"کس طرح حسن؟ کس طرح؟ اب جب میرا آخری وقت آگیا ہے تو یہ راز بھی  بتا دینے میں کیا حرج ہے۔” فرح نے  سرگوشی میں کہا۔ حمیرا کا نام سنتے ہی اُس کے خون کی گردش تیز ہو گئی تھی، شدید غصے کی لہریں اُس کے پورے جسم میں دوڑ رہی تھیں۔

حسن آہستہ قدموں سے اُس کے بستر کی طرف بڑھا۔ اُ س نے ہاتھ بڑھا کر فرح کا کمبل گھسیٹ لیا۔

"یہ ہےتمہارا قاتل فرح، یہ لباس جو تم پہنے ہوئے ہو۔” حسن نے اُنگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "تمہیں یاد ہے یہ کپڑا تمہارے لیے میں لایا تھا، تم  نے اسے اپنے ہاتھ سےسیا تھا۔ تمہیں یہ کپڑا بازار میں نہیں مل سکتا۔ تم جانتی ہو حمیرا انٹرنیشنل ٹیکسٹائیل کیمیکلز کمپنی میں کام کرتی ہے، وہ کپڑے کی صنعت میں استعمال ہونے والے کیمیاوی اجزاء پر ریسرچ کرتی رہتی ہے۔ کیا تمہارے جاسوس نے تمہیں یہ نہیں بتایا تھا؟”

"ہاں۔۔۔!”

"خیر میں تمہیں بتاؤں گا۔ اس کپڑے کو لیڈر میڑیل کہتے ہیں اِسے باربار کیمیاوی اجزاء میں ڈبویا جاتا ہے اس کپڑے کو کبھی فیکٹری سے باہر نہیں آنے دیا جاتا کیونکہ یہ ایسے کیمیاوی اجزاء سے پُر ہوتا ہے جنہیں کبھی صاف نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی اس کپڑے کو زیادہ عرصہ جسم پر پہنے رہے تو اُسے کئی خوفناک بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ اُن میں سے ایک مہلک بیماری پلاسٹک انیمیا بھی ہوتی ہے۔ حمیرا نے میرے لیے یہ کپڑا اپنی فیکٹری سے چُرایا تھا۔اب تم سمجھیں کہ یہ بیماری تمہیں کیس طرح ہوئی۔۔۔۔۔؟

فرح نے آنکھیں بند کرکے اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ اب ہر ناممکن بات پر یقین کر سکتی تھی۔ وہ آنکھیں بند کئے ریڑھ کی ہڈی سے اُٹھنے والی خوف و دہشت کی لہروں سے بُری طرح جنگ کررہی تھی لیکن وہ زندہ رہنا چاہتی تھی، وہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔ کیا اس کا وقت قریب آگیا ہے؟ فرح نے سوچا۔ کیا حسن اس لیے بڑھ بڑھ کر باتیں بنا رہا ہے۔ کچھ دیر بعد فرح نے آنکھیں کھول کر حسن کو دیکھا، جو اس کی مسہری کے قریب دیوار کا سہارا لیے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔

"افسوس! حسن تماری سب محنت اکارت گئی۔” فرح نے اپنے شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ "تم نے دولت حاصل کرنے کے لیے قتل جیسے بھیانک جرم کے ارتکاب سے گریز نہیں کیا۔ لیکن جس دولت کے لیے تم نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ پھر بھی تمہیں نہیں مل سکے گی، تمہارا یہ منصوبہ بھی ناکام رہا۔ بالکل تمہاری کہانیوں کی طرح!”

حسن نے دھیرے سے سر ہلایا۔ "مجھےبے وقوف مت  بناؤ فرح! حسن منصوبے بنانے میں ماہر ہے اُس کے منصوبوں میں کوئی جھول نہیں  ہوتا۔ مجھے بتاؤ میرے منصوبے میں کہاں جھول ہے؟”

"میں نے اپنی وصیت تبدیل کردی ہے حسن!” فرح نے غور سے اپنے جوان خوبصورت  قاتل شوہر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ "اس لیے میری موت کے بعد تم میری دولت کبھی حاصل نہیں کر سکوگے۔”

یہ خبر حسن پر بجلی بن کر گری، وہ بُری طرح چونک گیا،  اُس نے کئی قدم   پیچھے ہٹ کر فرح کو آنکھیں پھاڑپھاڑ کر دیکھا۔ ۔۔ "جھوٹ بول رہی ہو تم۔۔۔ جھوٹی ہو، مکار ہو، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔” حسن چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔ "جب میرے جاسوس نے مجھے تمہاری حرکتوں کی اطلاع دی تو میں نے اپنی وصیت بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ تمہیں یاد ہے کہ میں آج صبح شہر گئی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ میں شاپنگ کرنے جارہی ہوں۔ میں نے جھوٹ بولا تھا میں اپنے وکیل کے پاس گئی تھی۔”

"نہیں۔ جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔ تم شاپنگ کےلیے گئی تھی۔”

حسن کا یقین ڈانواں ڈول ہو رہا تھا۔

"صبح میری طبیعت اتنی خراب تھی حسن کے میں صرف شاپنگ کے لیے کبھی گھر سے نہیں نکلتی ، وصیت کا معاملہ اتنا ضروری تھا کہ مجھے طبیعت ٹھیک نہ ہونے پر بھی شہر جانا پڑا۔۔۔” حسن نےآگے بڑھ کر فرح کی کلائی پکڑ لی۔

"جھوٹی مکار عورت! میں تیرے فریب کا پردہ چاک کروں گا ، بول۔۔۔۔ تو جھوٹ بورہی ہے نا؟”

"نہیں حسن!” فرح نے پُر سکون لہجے میں کہا۔ "اگر یقین نہی آرہا تو تم اُس کی نقل دیکھ سکتے ہے، اصل کاپی میرے وکیل کے پاس ہے۔” حسن نے اُس کا ہاتھ چھوڑدیا۔ شاید وہ فرح کو اس قدر پرسکون دیکھ کر اپنا یقین کرنا چاہتا تھا۔

"کہاں ہے وہ نقل؟”

"میرے ہینڈ بیگ میں!”

"ہینڈ بیگ!” حسن نے کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی ۔ "تمہارا ہینڈ بیگ کہاں ہے؟”

"نیچے ہال کے اندر پڑی ہوئی میز پر۔” فرح نے جواب دیا۔

حسن لڑکھڑاتا ہوا  فرح  کی خوابگاہ سے باہر نکل گیااور سیڑھیوں سے نیچے اُترنے لگا۔ فرح بستر سے اُٹھی اور اُ س نے اپنی خوابگاہ کا دروازہ بند کرکے  تالا لگا دیا۔ اُس نے جاسوسی کہانیوں کے مصنف کو آخری وقت میں مات دے دی تھی۔ وہ کسی طرح حسن کو اپنی خوابگاہ سے باہر نکالنا چاہتی تھی ۔ اب وہ خود کو بہت پُر سکون محسوس کررہی تھی پھر وہ ٹیلیفون کا ریسیوراُٹھا کر پولیس ہیڈکوارٹر کا نمبر گھمانے لگی۔

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے