نمرہ احمد سوانح حیات

فنِ تحریر نے قاری اور مصنف کے درمیان ایک روحانی رشتہ قائم کر دیا ہے۔ ہر مصنف اپنے اندازِ بیان کی بدولت مدح سراحوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ لکھنے والے اورپڑھنے والے کے جذبات مشترکہ تسبیح کے دانوں کی طرح تصنیف کی لڑی میں پرو دیے جاتے ہیں۔ ان ہی میں ایک خاص مقام نئے دور کی نوجوان محترمہ نمرہ احمد خان نیازی کو حاصل ہے جن کی تحریر کا سورج دنیائے ناول نگاری میں اُن کے منفرد حسنِ تحریر اور انداز بیاں کی بدولت پورے  آب و تاب سے چمک رہا ہے۔

اہل ادب اور مفکرین نے جہاں ہمارے شعور،ہماری اجتماعی سوچ کو مختلف علمی خطوط پر استوار کیا ہے  ، وہیں ہمارے لیے اپنے بے پناہ فکر و تدبر اور تجربے سے کامیابی کے دشوار گزار راستوں کو ایک آسان راستے میں تبدیل کیا ہے ۔ صر حاضر کے اہل علم و ادب لوگ بلاشبہ مایوسی کے گھپ اندھیرے میں امید کا ٹمٹماتا چراغ ہیں جو ہر موڑ پر من حیث القوم ہماری بہتری کی نوید ہیں ۔ ادب کا خزانہ دشواری کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان موجود ناامیدی کی ایک غار میں چھپاہے جس میں شعور ہمارے ہاتھ کا چراغ ہے اور جس تک رسائی میں اہلِ تدبر ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ عدم برداشت اور نفسا نفسی کے اس دور میں علم ،ادب،فکر،تدبر،خودی کی طرف ہمارا رجحان ہمارے روشن کل کا عکاس ہے ۔

نمرہ احمد کا تعارف

محترمہ نمرہ احمد کسی تعارف کی محتاج نہیں، انہوں نے اپنے لکھنے کے فن کو قلم کی مدد سے ایسی خوبصورتی سے کاغذ پر اتارا ہے کہ بہت ہی کم عرصہ میں شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔انہوں نے 2007 میں تصنیف  کا آغاز کیا اور اب تک ناولز کے 11 مجموعے قارئین کی بصارتوں کی نظر کر چکی ہیں جن میں ہر ایک صنف کا موضوع اور متن دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والی معروف ناول نگار نمرہ احمد نیازی کی وجہ شہرت اپنے مخصوص انداز بیان سے ناول نگاری کو بام عروج تک پہنچانا ہے ۔تصنع سے پاک، اختصار ، جدت اور تعمیری سوچ کے ملے جلے تاثرات انکی تحاریر کا زینہ ہیں۔ بہترین اسلوب کے تڑکے سے قلم کی سیاہی کو قرطاس کے صفحوں پر نفیس ناول کی صورت میں لکھ کر وہ ناول نگاری کی دنیا میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں ۔ تصانیف کے مجموعوں میں شامل ناول مثلاً پہاڑی کا قیدی ،قراقرم کا تاج محل ،بیلی راجپوتاں کی ملکہ اور مہر النساء نمرہ احمد کی جانب سے مجموعہ ناول کو بالخصوص اور اردو ادب کو بالعموم تفویض کیے گئے بے مثال شاہکاروں میں سےایک ہیں۔ ناول نگاری کے علاؤہ افسانہ نگاری کی دنیا میں طبع آزمائی کر کے اسے بھی بام عروج تک پہنچانے والا یہ ستارہ اپنی لا متناہی چمک سے ادب کی دنیا میں روشنی کیے ہوئے ہے ۔

ناولز کے تو ویسے تو اور بھی بے شمار لکھاری ہیں جنہوں نے ناولز کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے لیکن نمرہ احمد کے ناولز میں روحانی امتزاج کی آمیزش نے ان کے ناولز کو اوروں سے الگ اور منفرد کر دیا ہے۔ نمرہ احمد کے ناولز کی ایک غیر معمولی خوبی قارئین کو عشق حقیقی  کی طرف راغب کرنا ہے جس میں  کتاب الہٰی اور سیرت نبوی سے  ماخوذحوالہ جات نے ان کی تحریر کو مزید توانا بنایا ہے۔

محترمہ نمرہ احمد کے ناولز کےمجموعوں کا زیادہ تر حصہ دو رسائل “خواتین ڈائجسٹ” اور “شعاع ڈائجسٹ” کی زینت ہے جو کہ دونوں مصنفین اور قارئین میں رابطے کے مؤثر ذرائع ہیں ۔

ابتدائی حالات زندگی

محترمہ نمرہ احمد نیازی 9 ستمبر 1990 کو  پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع  بھکر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا آبائی تعلق بھکر کے نواحی ضلع میانوالی سے ہے۔ بچپن ہی سے نمرہ احمد لکھنے کی شوقین تھیں لیکن ناول نگاری کا باقاعدہ آغاز ایم اے  انگلش (لٹریچر) کے بعد کیا۔ ان کا پہلا ناول 2007 میں  “میرے خواب میرے جگنو” کے نام سے شائع ہوا۔ اس وقت اُن کی عمر صرف سولہ برس تھی۔

وجہ شہرت

نمرہ احمد کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کا اہم وسیلہ اُن کا مشہور ناول “مصحف” بنا جس کی تقریب رونمائی 2017 میں دہلی کتب میلہ میں واقع ہوئی۔ محترمہ نمرہ احمد مسلسل 3 سال سے دنیا کی 50 معتبر خواتین میں شامل ہیں۔

نمرہ احمد کی مشہور تصانیف

  • مالا
  • نمل
  • مصحف
  • گمان
  • حد
  • پارس
  • ابلیس
  • حالم
  • لاپتہ
  • مہرالنساء
  • اپنی انگلی
  • احمق تماشائی
  • ہوم گرل
  • حسن انجم
  • میں انمول
  • جنت کے پتے
  • قراقرم کا تاج محل
  • میرے خواب میرے جگنو
  • وہ میرا ہے
  • پہاڑی کا قیدی
  • بیلی راجپوتاں کی ملکہ
  • سانس ساکن تھی

دیگر مشاغل

محترمہ نمرہ احمدکی قرآن کریم سے والہانہ محبت کا ثبوت اُن کی جانب سے قائم کیا گیا ادارہ  “طالبِ قرآن” ہے۔ نمرہ احمد نے مارچ 2016 میں بطور سربراہ  اپنے ذاتی کتاب گھر “زنجبیل” کا آغاز کیا۔ “زنجبیل” اپنے آپ ایک مکمل ادارہ ہے جو کہ خواتینِ خانہ کی خود مختاری کی طرف  ایک اور قدم ہے۔ اس کی حیثیت بےروزگاری کی دھوپ میں بے کس خواتین کے لیےایک شجرِسایہ دار کی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے