ہم قدم – اردو سسپنس ناول

اُس حسینہ خوش جمال کا  فسانہ جس نے ایک کامیاب واردات کی تھی اور وہ نہایت مطمئن تھی کہ اُس کا ہم راز اور اُ س کے جرم کا  کوئی گواہ نہیں۔

کشادہ گلی میں مڑ کر کیتھی نے کار واحد سنگل اسٹوری مکان کے سامنے روکی۔ وہ اُتری تو ریکس بھی اتر پڑا۔ دونوں ساتھ ساتھ مکان کی طرف بڑھے۔ کیتھی نے کال بیل دبائی تو بکھرے بکھرے لمبے بالوں اور ستے ہوئے چہرے والے نوجوان نے دروازہ کھولا۔ اس کا رنگ سانولا تھا نقوش تیکھے تھے۔ آنکھوں سے خمار جھلک رہا تھا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر کیتھی کو راستہ دیا۔ وہ اور ریکس اند رچلے گئے۔

کمرا بتاتا تھا کہ وہ بیک وقت ڈرائنگ روم اور بیڈروم تھا۔ اس پر ایک نظر ڈالنے سے ہی ظاہر ہوتا تھا کہ مکان میں کسی عورت کا وجود نہیں تھا۔ چھڑے کا رہن سہن خود بول پڑتا ہے۔ یہ بھی عیاں تھا مکین کوئی آسودہ حال نہیں تھا۔ کمرے کے وسط میں برسوں کا پرانا کاؤچ پڑا تھا۔ اس کے سامنے پالش سے محروم تپائی اور مقابل میں بید ک دو کرسیاں تھیں۔ تپائی پر سستی شراب کی نصف کے قریب بوتل اور چائے پینے کا مگ رکھا ہوا تھا۔  ایک کونے میں آثارِقدیمہ کی طرز کا سنگل بیڈ تھا جس پر ملگجی ہی داٖ دار چادر  تھی۔ تکیے کا ٖغلاف  جیسے ہفتوں سے دُھلا نہیں تھا۔ کیتھی ناک سکوڑ کر کاؤچ پر بیٹھ گئی۔ریکس ایک کرسی پر جم گیا۔ میزبان دوسری کرسی کے پیچھے کھڑا ٹکٹکی باندھے کیتھی کو دیکھ رہا تھا۔

"اینڈریو، تم نے فون پر کہا تھا کہ میرے بغیر نہیں رہ سکتے اس لیے خود کشی کر لو گے۔ سو میں تم سے آخری بار ملنے آگئی۔ تم نے کہا تھا کہ خود کو گولی مارلو گے۔ تمہارا پستول کہاں ہے؟ تم نے کب خریدا؟”

اینڈریو چند لمحے اس کے دل نشیں چہرے پر نظریں  جمائے رہا پھر دھیمی آواز میں افسردگی سے بولا۔ "تو تمہیں میری خودکشی کرنے کے  ارادے سے افسوس نہیں ہوا!”

"میں تمہیں اس ارادے سے باز رکھنے کے لیے ہی تو آئی ہوں۔”کیتھی نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ "تم میرے خاطر جان دینے پر کیوں تُل گئے ہو؟ جوان ہو۔ عورتوں اورکنواری لڑکیوں سے ملنا جلنا رہتا ہے۔ مجھ سے اچھی عورت تمہیں مل سکتی ہے۔”

"تم یہ تو جانتی ہو کہ میں آرٹسٹ ہوں۔” اینڈریو نے اسی دھیمے لہجے میں کہا۔ "لیکن شاید یہ نہیں جانتیں کہ آرٹسٹ کا دل کیسا ہوتا ہے۔ میں بتاتا ہوں۔” وہ آگے بڑھ کر کاؤچ کے دوسرے سرے پر بیٹھ گیا۔ "آرٹسٹ کا دل پتنگ کے مانند ہوتا ہے جو بے پروائی سے آسمان پر اڑتھی رہتی ہے، اسے آس پاس کی چیزوں کی پروا نہیں ہوتی اور جب وہ کسی کھمبے یا درخت کی شاخ سے اٹکتی ہے تو چھڑانے کے لیے بہت زور لگانا پڑتا ہے اور اس کوشش میں وہ پھٹ بھی جاتی ہے۔”

"بڑی بھونڈی مثال دی تم ۔” کیتھی نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا۔

"میرے جذبات کا مذاق اڑا ہی ہو۔” اینڈریو نے جذبات سے  عاری لہجے میں کہا۔

"تم نے کتنی دیر میں آدھی بوتل پی ہے؟” کیتھی نے تِنک کر کہا۔ "فون پر بھی تمہاری آواز سے لگتا تھا کہ نشے میں ڈوبے ہوئے ہو اور ہاں تم نے بتایا نہیں پستول کب خریدا، تصویروں کی بھاری قیمت ملی ہے؟”

"ایسا گیا گزرا آرٹسٹ نہیں ہوں۔” اینڈریو نے  برا مان کر کہا اور ہاتھ بوتلکی طرف بڑھایا۔ اس نے تھوڑی شراب مگ میں انڈیلی اور اسے اٹھا کر کونے میں دیوار گیر سنک پر لے گیا، اس میں پانی ڈالا اور آکر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔

"اینڈریو تم میرا خیال دل سے نکال دو۔” کیتھی نے نرم آواز میں کہا۔ ” میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ تم نے جادو ٹونے سے مجھے پھنسا لیا تھا البتہ یہ کہوں گی کہ میری عقل پر پردے پڑگئے تھے۔ جذبات کی تیز رو نے مجھے اندھا کردیا تھا۔ میں کیلے کے چھلکے پر پاؤں رکھ دیا تھا اور پھسل کر گندگی میں گر گئی، اتنا بھی خیال نہیں کیا کہ میں ایک شریف اور اچھے شوہر کو دھوکا دے رہی ہوں اف گاڈ۔۔۔۔”

"تم فلمی ڈائیلاگ بول رہی ہو ڈیئر۔” اینڈریو نے جھومتے ہوئے کہا۔ "تم جس گرما گرمی سے یہ سب کہہ رہی ہو اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ مجھ سے اسی طرح ملتی رہو جیسے اچھی کھلاڑی ہو۔ گویا شوہر کے بعد تمہاری زندگی میں آنے والا میں پہلا مرد نہیں تھا۔”

"بکواس بند کرو۔” کیتھی طیش میں آگئی۔ میں اس وقت کو پچھتا رہی ہوں جب اپنا پورٹریٹ بنوانے تمہارے پاس آئی تھی۔ تمہاری تعریف سنی تھی اس لیے آگئی تھی۔۔۔”

"اور میں نے فوراً تمہاری آنکھوں پر پٹی  باندھ دی! تم سے سوچنے سمجھنے کی طاقت چھین لی!” اب اینڈریو نے زہرخند سے اس کی قطع کلامی کی۔ "تم نادان بچی تھی کہ کھلونا یا ٹافی دے کر تمہیں پھسلایا ، ہے نا!”

"کہہ تو رہی ہوں کہ میرا پاؤں پھسل گیا تھا۔” کیتھی نے تقریباً چیختے ہوئے  کہا ۔ پھر روہانسی سی ہو کر کہنے لگی۔ ” میں انسان ہوں کوئی آسمانی مخلوق نہیں، عورت کمزور ہوتی ہے جسم سے بھی اور دماغ سے بھی۔ جلد بہک جاتی ہے۔ فور گاڈ سیک، میرا پیچھا چھوڑ دو تمہیں یہی سمجھانے آئی ہوں۔”

"اور اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟” اینڈریو نے مگ کو غٹا غٹ خالی کرکے کہا۔

"تو خود کشی کر لو۔” کیتھی نے جھلا کر کہا۔ معاً وہ  نرم پڑگئی اور زبان میں مٹھاس  پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ "تم ایک  گنی آدمی ہو۔ فضول باتوں میں اپنے آپ کو مت کھپاؤ۔ آرٹ کی طرف  پورا دھیان دو۔ ایک دن بہت بڑے آرٹسٹ بن جاؤ گے، ملک بھر میں تمہاری تصویروں کی مانگ ہوگی۔ دنیابھر میں تمہاری قدر ہوگی۔ ہائی سوسائٹی کی عورتیں تمہاری  آگے پیچھے  پھریں گی۔”

"پھر کہتا ہوں کہ فلمی ڈائیلاگ بول رہی ہو۔” اینڈریو نے تِنک کر کہا۔ "مجھے فلموں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مجھے صرف آرٹ سے  لگاؤ ہے اور تم آرٹ کا جیتا جاگتا نمونہ ہو۔ ایک آرٹسٹ  کے دل میں بس گئی ہو۔ دماغ پر چھا گئی ہو۔ میں خود کو تم سے الگ نہیں کر سکتا۔”

"میں تم سے ملنا بند کردوں گی۔ پولیس میں رپورٹ لکھا دوں گی کہ تم سے تصویر  بنوانے آئی تی تو تم نے۔۔۔ میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔”

اینڈریو نے کھوکھلا قہقہہ لگایا۔ اس نے بڑے اطمینان سے مگ میں تھوڑی سی شراب انڈیلی اور سنک پر جا کر اس میں پانی ملالایا۔ وہ چلتا ہوا لڑکھڑا رہا تھا۔

"میں بلیک میلر نہیں ہوں۔ تمہیں بلیک میل نہیں کروں گا لیکن تمہاری دھمکی کی وجہ سے کہنے پر مجبورہوا ہوں کہ کیمرے نے میرے ساتھ تمہارے کچھ پوز محفوظ کرلیے ہیں۔ تم پولیس میں جاؤ گی تو وہ تمہارے شوہر سمیت کئی لوگوں تک پہنچ جائیں گے۔”

کیتھی کا چہرہ فق ہوگیا۔ پورا جسم تھر تھر کانپنے لگا۔ اسے سنبھلنے میں دیر لگی۔ اس نے رک رک کر کہا۔ "تم اسے بلیک میلنگ نہیں کہتے ہو اینڈریو؟ اس کے لہجے میں پورے وجود کا دکھ سمٹ آیا تھا۔ "جسے اتنا چاہتے ہو جس کی جان تک دینے پر تُل گئے ہو اسے برباد کرنا چاہتے ہو؟”

"یہ میں نہیں تم  چاہتی ہو!”اینڈریو نے بے پروائی سے کہا۔

"پہلے میں نے تمہیں کبھی اتنا پیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔” کیتھی نے شراب کی بوتل کی طرف اشارہ کرکے  موضوع کو بدلتے ہوئے کہا۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ اس نشہ چڑھتا جا رہا تھا۔ وہ  بیٹھے بیٹھے جھول جاتا تھا۔

"میں  تم سے کوئی  تعلق رکھنا نہیں چاہتی۔” کیتھی نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔ "بزنس کی بات کرو۔ میرے وہ پوز دکھاؤ جو تم نے دھوکے سے اتارے ہیں۔”

"ابھی لاتا ہوں۔” اینڈریو یہ کہہ کر قدرے کوشش سے کھڑا ہوا اور ملحقہ کمرے کی طرف چلا تو اس کے قدم ڈگمکا رہے تھے۔ اس کی پشت  اپنی طرف ہوتے ہوئے  کیتھی نے ہینڈ بیگ کھول کر سفید دستانے نکالے اور ہاتھوں پر چڑھا لیے۔ اس نے ہینڈ بیگ کی زپ بند نہیں کی۔

اینڈریو ایک درمیانہ سائز کا خاکی لفافہ لیے ہو ئے لوٹا اور اسے تپائی پر ڈال دیا۔ خود کاؤچ پر دھم سےبیٹھ گیا اور مگ میں  گھونٹ بھر شراب ڈال کر پانی ملائے بغیر چڑھا گیا۔ اس اثناء میں کیتھی نے لفافے سے تصویریں نکالیں اور ایک ایک کرکے دیکھنے لگی، چھ مختلف پوز تھے۔ کیتھی نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔

"میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ خود کو آرٹسٹ کہلوانے والا اتنا کمینہ اور نیچ بھی ہو سکتا ہے۔”

"ہر آدمی اپنی نیچر میں کمینہ ہوتا ہے۔” اینڈریو نے ڈھٹائی سے قہقہہ لگایا۔ "لیکن اس پر اچھائی کا پردہ  ڈالے رہتا ہے۔ کبھی تیز ہوا کا جھونکا آتا ہے تو وہ پردہ اپنی جگہ سے سرک جاتا ہے۔ اس کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔”

"تم اپنی نیچر کی بات کررہے ہو۔ میں تمہارے ساتھ الجھنا نہیں چاہتی۔” کیتھی نے حقارت سے کہا۔ "بتاؤ اس بلیک میلنگ کی کیا قیمت لو گے؟”

"میں کہہ چکا ہوں کہ بلیک میلنگ نہیں کرتا ہوں۔ کبھی نہیں کی ورنہ آج لاکھوں کروڑوںمیں کھیلتا۔ تم نےمیری چاہت ٹھکرا دی۔ خود ہی مجھے گلے لگایا اور اب دھکا دے رہی ہو۔ اُس شام کو یاد کرو جب تم نے میری تعریفی نظروں کا پیار چھلکاتی ہوئی نگاہوں سے جواب دیا تھا۔ میں نے کوئی زبردستی نہیں کی تھی۔ دراصل تم نے مجھے بہکایا، ایک آرٹسٹ ہونے کے ناطے  اچھی چیز کی تعریف کرنا میری فطرت میں شامل ہے  تم تو۔۔۔ کٹی ہوئی شاخ کی طرح میری جھولی میں گرنے کے لیے بیتاب نظر آئیں۔”

"بس کرو۔ تم بہت بکواس کر چکے ہو۔ یہ بتاؤ ان تصویروں کی قیمت ادا کرنے کے بعد مجھے ان کے نیگیٹو مل جائیں گے؟ کیتھی نے نفرت آمیز لہجے میں کہا۔

"کیوں نہیں! وہ میں نے حفاظت  سے رکھے ہیں۔ اس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے۔ رقم ملنے پر نیگیٹوز دینے میں ایک منٹ کی دیر نہیں کروں گا۔” اینڈریو نے ہنس کر کہا۔

"آرٹسٹ کی آڑ میں بلیک میلر ہونے کی کیا قیمت لو گے؟”

"میرا دل توڑنے کی قیمت لگانا ہی چاہتی ہو تو ایک پوز کے ایک لاکھ روپے۔”

"منظور ہے۔ میں سوچ کر آئی تھی کہ  یہ تم سے میری آخری ملاقات ہوگی  اگر تم فراڈیئے نہ بھی نکلتے تو تو تب بھی مجھے تم سے تعلق ختم کرنا تھا۔”

کیتھی نے کلائی پر بندھی گھڑی میں دیکھا۔ سات منٹ بعد ٹرین کو گزرنا تھا۔ مکان کے عقب میں ریلوے لائن تھی اور جس وقت  ٹرین گزرتی تھی  تو اس کی گڑگڑاہٹ میں کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ اگر کیتھی اور اینڈریو باتیں کررہے ہوتے توٹرین   گزرنے تک خاموش ہو جاتے۔ کیتھی آج اسی بات کو ذہن میں رکھ کر آئی تھی۔

"تم اب تک کتنی عورتوں کو بلیک میل کر چکے ہو؟” سات منٹ پورے کرنے کے لیے اس نے غیر ضروری ساسوال کیا۔

اینڈریو بوتل خالی کر چکا تھا۔ اس کی نگاہیں کیتھی کے چہرے پر ٹِک نہیں رہی تھیں۔ جواب دینے کے لیے اسے دو بار منہ کھولنا پڑا۔ اس نے  ہنسنے  کی بھی  ناکام کوشش کی۔ قوتِ گویائی کو شاید سہارا دے کر اس نے  کہا۔ "کسی کو نہیں اگر تم سیدھی چلتیں تو تم سے بھی کچھ نہ مانگتا لیکن تم نے ٹیڑھی چال شروع کر دی اور مجھے بھی  راستہ بدلنے پر مجبور کردیا۔”

"تم جھوٹ بول رہے ہو۔” کیتھی پُھنکاری۔ "مجھے بلیک میل کرنے کا خیال تمہار ے دل میں پہلے سے تھا ورنہ تم پوز اپنے قبضے میں نہ رکھتے۔ تم نے مجھے خود کشی کرنے کا جھانسا دے کر بُلایا اور میں تمہیں  مرتا دیکھنے کے لیے آگئی۔”

"بہرحال ایک بڑے  بزنس مین کی بیوی کےلیے عیاشی کی  پیمنٹ چند لاکھ روپے زیادہ نہیں ہے۔ ایک بتا دوں کہ کیش لوں گا، چیک۔۔۔۔” ٹرین کی زور دار گڑگڑاہٹ نے اس کی پوری بات  کیتھی کے کانوں میں پڑنے نہیں دی۔

کیتھی کا ہاتھ پُھرتی سے کھلے ہوئے ہینڈ بیگ میں گیا اور باہر آیا تو اس میں سیاہ رنگ کا چھوٹا سا پستول تھا۔ گولی کی آواز ٹرین کے شور میں مدغم ہوگئی۔ اینڈریو لڑھک کر فرش پر آرہا۔ کیتھی کا نشانہ  خطا نہیں گیا تھا۔ اینڈریو کے سینے سے خون ابل رہا تھا۔ کیتھی پستول کو  ہینڈ بیگ میں ڈال کر کھڑی ہوگئی۔ ریکس کرسی سے اتر کر اس کے پاس آکھڑا ہوا۔ خون فرش پر پھیلتا جا رہا تھا۔ ٹرین گزر چکی تھی اور دوبارہ سکوت  چھا گیا تھا۔ کیتھی نے بے حس وحرکت اینڈریو کو غور سے دیکھا اور دروازے کی طرف بڑھی۔ ریکس اس کے پیچھے ہو لیا۔ معاً کیتھی کو نیگیٹوز کا خیال آیا اور پلٹی۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد اسے چابیوں کا رِنگ ملا۔ اب اسے کسی تالے کی تلاش تھی جسے کھولنے پر مطلوبہ خزینہ مل سکتا تھا۔

اس کمرے میں تالے والی کوئی چیز نہیں تھی۔۔۔ ساتھ کے کمرے میں گئی جسے اینڈریو بطور اسٹوڈیو استعمال کرتا تھا۔ وہ چھوٹے سے نگار خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ایزل پر کینوس کیتھی کی نا مکمل تصویر دکھا رہا تھا۔ وہ کونے میں کھڑی لوہے کی الماری کی طرف گئی۔ اسے سیف بکس میں ایک لفافے کے اندر نیگیٹوز مل گئے۔ وہ ایک فاتح کی طرح سر اٹھائے مکان سے نکلی اور ریکس کے بیٹھنےکے بعد اسٹیئرنگ پر بیٹھ گئی۔

دو اس طرح اطمینان سے گزر گئے جیسے اس نے چند لمحوں تک قتل کی واردات کی کوئی فلم دیکھی تھی۔ اس کے دل میں خوف تھا نہ ندامت۔ اس نے جو کیا تھا  اس کے لیے خودکو حق بجانب سمجھتی تھی۔ وہ اس نچلے درجے کے خطرناک شخص کو ختم کرنے کی ٹھان کر گئی تھی۔ وہ اسے اس دنیا سے نکال دینا چاہتی تھی جو  اس کی اپنی غلط کاری کے باعث اس کے وجود پر مسلط ہو گیا تھا۔ ایک لغزش پا نے اسے بلندی سے آبرو باختگی کی پستی میں لڑھکا دیا تھا۔  ہوس کے دباؤ میں آکر اس نے اپنا سب کچھ گنوا دیا تھا۔ اپنے معزز شوہر کے نام کو بٹا لگانے کے لیے ذلت  میں ملفوف ہوگئی تھی۔ اپنی بیش بہا شخصیت کو کتنا ارزاں فروخت کردیا تھا۔

وہ  بیڈ پر نیم دراز ان ہی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اس کا شوہر دروازے میں آکھڑا ہوا ور غیر جذباتی لہجے میں کہنے لگا۔”پولیس تمہیں آرٹسٹ اینڈریو کے قتل کے الزام میں گرفتار کرنے آئی ہے۔ اس کے کمرے کے فرش پر خون میں بھیگے ہوئے کسی کتے کے   پنجوں کے نشان ملے ہیں اور پولیس نے تفیتش کے دوران معلوم کیا کہ صرف تم ہی ایک کتے کے ساتھ اس سے ملنے آتی تھی۔ مجھے پہلے ہی شبہ تھا کیتھی کہ تمہارا چلن ٹھیک نہیں رہا ہے۔”

کیتھی گم صم بیٹھی تھی۔ ریکس فرش سے اُچھل کر پلنگ پر آگیا اور اس کے ہاتھ سے منہ رگڑنے لگا۔

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے