طلحہ نے بڑے ضبط سے روحان کا ہاتھ عنزہ کے برہنہ بازوں پہ برداشت کیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا
وہ روحان کا ہاتھ توڑ ڈالتا اس کو شاک تو اس بات پہ تھا کے عنزہ اتنا نارمل بیہیو کیوں کررہی تھی
اس کو روحان سے بیس قدموں کے فاصلے پہ ہونا چاہیے تھا اس کو اپنی اندر گھٹن کا احساس ہورہا تھا
یہاں آنے کا فیصلہ اس کو بیوقوفانہ لگا تھا۔
طلحہ بھائی چلیں رسم شروع ہونے والی ہے۔ رویام نے طلحہ سے کہا۔
تم چلو میں آتا ہوں۔ طلحہ مصنوعی مسکراہٹ سے بولا ورنہ دل تو خون کے آنسو رو رہا تھا
وہ جانتا تھا عنزہ کے بنا زندگی آسان نہیں ہوگی پر اس نے سوچا تھا وہ خود کو سنبھال لیں گا
پر وقت کے ساتھ ساتھ اندازہ ہورہا تھا خود کو سنبھالنا مشکل ہے جس سے آپ محبت کرتے ہو
اس کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا عذاب ہے بہت بڑا عذاب۔ طلحہ اپنی ماں کے بلانے پہ ناچاہتے ہوئے
بھی اسٹیج کی طرف آیا اور سائیڈ پہ کھڑا ہوگیا۔
یہ لو انگھوٹی۔ سمیہ بیگم نے پہلے عنزہ کو دی تو عنزہ نے ایک نظر طلحہ کو دیکھا جو ایسے
کھڑا تھا جیسے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہو عنزہ کے اندر کجھ چھن کے ٹوٹا تھا طلحہ کی
اس قدر لاتعلقی دیکھ اس نے گہری سانس لی اور مسکراکر روحان کے ہاتھ کی انگلی میں انگھوٹی پہنائی
تو پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا روحان نے جتاتی نظروں سے طلحہ کو دیکھا
جو اس کے دیکھنے پہ مسکراہٹ پاس کی تھی جس سے روحان کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی
عنزہ کے انگھوٹی پہنانے کے بعد گل ناز نے روحان کو انگھوٹی دی جس پہ روحان نے عنزہ کا
مخروطی نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اس کو انگھوٹی پہنائی جس سے دوبارہ ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا-
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕