بند کمرے کا راز – اردو کہانی

بند کمرے کا راز

امتیاز کمرے کی صفائی کرنے میں مصروف تھا ۔ آج سیٹھ احسان کو گھر آنا تھا ، اس لیے امتیاز گھر کی اچھی طرح سے صفائی کرنا چاہتا تھا۔ اسے سیٹھ احسان کے پاس ملازم ہوئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنی نوکری کو پکی کرنے کی خاطر خوب دل لگا کر کام کرتا تھا۔  روزانہ گھر کر چمکانا اس کے معمول میں شامل تھا۔ ویسے بھی اس گھر میں زیادہ کام نہیں تھا ۔ سیٹھ اکیلا رہتا تھا۔ وہ علاقے میں اکھڑ مزاج اور پُر اسرار شخصیت کے طور پر مشہور تھا۔ کسی کو بھی اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں اور نہ وہ کسی سے میل جول پسند کرتا تھا۔ گھر میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی سختی سے ہدایت تھی کہ وہ محلے میں کسی سے بات چیت نہ کریں اور اپنے کام سے غرض رکھیں۔

سیٹھ گھر سے کئی کئی دن غائب رہتا تھا ۔ امتیاز کو وہ اتنا بتا کر جاتا تھا کہ کاروبار کی غرض سے جا رہا ہے۔ کبھی اس کی واپسی تین دن، کبھی ہفتے میں ہوتی تھی ۔ وہ جب بھی آتا ، اس کے پاس ایک تھیلا ہوتا تھا اور اس تھیلے کو اپنے ایک خاص کمرے میں لے جاتا۔ اس خاص کمرے میں اس کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی ۔

کمرے کی صفائی کرتے ہوئے امتیاز کو بند کمرے کا خیال آیا۔ اس نے سوچا کہ سیٹھ کے آنے میں بہت دیر ہے، کیوں نہ دیکھا جائے کہ اس کمرے میں ایسی کیا چیز ہے کہ کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس کمرے کی ایک چابی سیٹھ جہاں رکھتا تھا، اتفاق سے وہ جگہ امتیاز علی نے دیکھ لی تھی ۔ وہ ڈرتے ڈرتے اس جانب بڑھا ۔ چابی وہاں موجود تھی ۔ اس نے چابی اُٹھالی۔

وہ تالا کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے میں بہت ساری بوریاں بھری ہوئی رکھی تھیں ۔ یہ کمرا دوسرے کمروں سے خاصا بڑا تھا۔ امتیاز نے ایک بوری کا منہ کھول کر دیکھا تو وہ دھک سے رہ گیا۔ بوری زیورات اور ہیرے جواہرات سے بھری ہوئی تھی۔ امتیاز نے سب بوریاں دیکھ ڈالیں۔ تمام بوریوں میں زیورات اور دیگر قیمتی سامان بھرا تھا۔ اس نے اتنے ہیرے جواہر اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھے تھے ۔ اس کی عقل کام نہیں کر رہی تھی ۔

Raaz Band Kamray ka

امتیاز کمرے کے اندر سے نکلا تو دروازے کے باہر سیٹھ احسان کھڑا اسے غصے سے گھور رہا تھا ۔ وہ سیٹھ کو اپنے سامنے پاکر بدحواس ہو گیا ۔

”میں نے تمھیں منع کیا تھا کہ اس کمرے میں نہیں جانا ، پھر بھی تم اس کمرے میں چلے گئے؟“

”مم۔۔۔ میں۔۔۔ وہ ۔۔۔۔“ امتیاز نے کہنا چاہا۔

”تم نے سوچا کہ پتا نہیں میں کب آؤں گا ، چلو، یہ دولت کو چُرالوں ۔“

امتیاز منمنایا: ” میں چور نہیں ہوں ۔“

”جو میرے راز سے واقف ہو جائے ، اس کی سزا موت ہے۔ تم نے بہرام ڈاکو کا نام تو سنا ہوگا، وہ میں ہی ہوں ، جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لوٹ مار کرتا ہوں۔ جو لوگ اپنا مال آسانی سے نہیں دیتے، انھیں بڑی رحمی سے قتل کر دیتا ہوں ۔“

امتیاز گڑ گڑایا : ”مجھے چھوڑ دو ۔  میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گا ۔“

”تم محض موت کے خوف سے یہ کہہ رہے ہو، حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی تم یہاں سے جاؤ گے۔ کسی کو یہ راز ضرور بتاؤ گے ۔  یہ انسانی فطرت ہے ، وہ اپنا راز کسی نہ کسی کوضرور بتاتا ہے۔“

امتیاز بُری طرح سے پھنس چکا تھا۔ وہ اس وقت کو کوس رہا تھا ، جس وقت اس کے دل میں کمرا دیکھنے کا خیال آیا تھا۔ بہرام ڈاکو نے غصے سے اسے اندر کی طرف زور دار دھکا دیا ، جس سے وہ زمین پر گر پڑا۔ اس سے پہلے کہ وہ اُٹھتا، بہرام ڈاکو نے کمرے کے دروازے کو تالا لگا دیا۔ امتیاز نے خوب دروازہ پیٹا ، آخر تھک ہار کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ یہ کمرا اندر کی طرف تھا ۔ اس کے شور کرنے پر اس کی آواز باہر نہیں جاسکتی تھی ۔ وہ بظاہر خاموش ہو گیا تھا، لیکن اس کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔

اچانک اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی ۔ آج صبح دو پولیس والے گلی میں سے گزرے تھے ۔ وہ گلی کے کونے پر کچھ دیر رک کر کیبن والے سے پان لے کر آگے بڑھ گئے تھے ۔ امتیاز نے انھیں چھت پر سے دیکھا تھا، اس نے فوراً ایک کہانی ذہن میں گھڑ لی۔ امتیاز نے قدموں کی آواز سنی تو زور زور سے ایک باہر پھر دروازہ پیٹنا شروع کر دیا ۔

”یہ دروازہ کتنا ہی پیٹ لو، میں دروازہ نہیں کھولوں گا ۔“  ڈاکو نے گرج دار آواز میں کہا۔

” میں تمھیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں نے یہ دروازہ کیوں کھولا تھا ۔“

”کیوں کھولا تھا ؟“

”پولیس آئی تھی ۔“

”پپ۔۔۔پولیس۔۔۔ آئی تھی ؟“

”ہاں پولیس آئی تھی ۔“

ڈاکو نے فورا دروازہ کھول دیا ۔

”پولیس کیوں آئی تھی اور کہیں تم نے انھیں یہ کمرا تو نہیں دکھا دیا؟ “ ڈاکو کے ماتھے پر پریشانی سے شکنیں نمودار ہوگئی تھیں ۔

”میں نے پولیس کو صرف یہ بتایا تھا کہ سیٹھ کا ربار کے سلسلے میں گیا ہوا ہے۔ وہ اس کمرے کی تلاشی لینا چاہتے تھے ،مگر میرے پاس چابی نہ ہونے پر وہ کل پھر آنے کا کہ کر گئے ہیں ۔“

سے دیکھا۔

”جب تمھارے پاس چابی نہیں تھی ، پھر یہ تالا کیسے کھولا ؟“ ڈاکو نے امتیاز کو غور سے دیکھا۔

”پولیس کے جانے کے بعد اچانک میری نظر چابی کی جگہ پر پڑ گئی تھی اور میں تجسس میں پڑ گیا تھا کہ آخر پولیس اس کمرے کو دیکھنا کیوں چاہتی ہے اور میں نے تالا کھول کر کمرا دیکھ لیا ۔“

”تم نے بہت اچھا کیا ، پولیس کے سامنے چابی تلاش کر کے تالا نہیں کھولا ۔ مجھے رات ہی رات میں اس خزانے کوکسی دوسری جگہ منقل کرنا پڑے گا۔ پولیس کو محلے میں کسی نے دیکھا تو نہیں ؟“ ڈا کو سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔

”یہ مجھے نہیں معلوم مین گیٹ کھولنے پر وہ فوراً اندر گھس آئے اور مشکوک نگا ہوں سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے اور ہاں ، یاد آیا گھر سے نکل کر وہ تھوڑی دیر کونے پر کیبن والے کے پاس کھڑے رہے اور اس سے بات چیت بھی کی تھی ۔“

امتیاز کی فرضی کہانی سوداگر کے دل پر اثر کر گئی تھی اور وہ اس کہانی کو سچ سمجھ بیٹھا تھا ، اس لیے پریشان ہو گیا تھا۔

ڈاکو نے کچھ سوچ کر کہا: ”دیکھو امتیاز ! میں تمھیں ایک شرط پر زندہ چھوڑ سکتا ہوں کہ تم میرے بارے میں پولیس کو کچھ نہیں بتاؤ گے۔“

”ٹھیک ہے، میں کچھ نہیں بتاؤں گا، مگر پولیس نے تالا توڑ کر کمرے میں بوریاں دیکھ کر مجھ سے پوچھا تو انھیں کیا بتاؤں؟“

ڈاکو نے کہا : ” میں رات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کمرے کو خالی کردوں گا۔“

امتیاز نے کہا : ”پھر ٹھیک ہے۔“

امتیاز دل ہی دل میں سوداگر کی بے وقوفی پر خوش ہو رہا تھا کہ اتنا چالاک اور عیار شخص کیسے اس کی باتوں میں آ گیا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ دو سپاہی اس گلی سے گزرے ضرور تھے مگر وہ گھر میں نہیں آئے تھے ۔

ڈا کو کپڑے تبدیل کر کے گھر سے نکل گیا ۔ گھر کے باہر دروازے پر وہ موٹا سا تالا لگانا نہیں بھولا تھا۔ امتیاز کے پاس بس اتنی مہلت کافی تھی ۔ بدحواسی میں سوداگر اسے کمرے میں بند کرنا بھول گیا تھا۔

اس کے جانے کے بعد امتیاز نے کھڑکی سے گلی میں جھانکا ۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ پڑوس میں رہنے والا نصیر اپنے گھر سے نکل کر کہیں جا رہا تھا ۔ امتیاز کے بلانے پر وہ اس کے پاس آ گیا۔امتیاز نے مختصر ساری تفصیل بتادی۔ نصیر نے اس کی مدد کا وعدہ کیا اور گلی سے با ہر نکل گیا۔

نصیر کے جانے کے بعد امتیاز بے چینی سے پولیس کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزر گئی مگر پولیس والے آئے ، نہ نصیر آیا ۔ وقت  گزرنے ساتھ ساتھ امتیاز کی بے چینی میں بھی اضافہ ہونے لگا تھا۔ نصیر شاید پولیس کا سن کر ڈر گیا تھا ، اس لیے غائب ہو گیا تھا۔ دن ڈھلا، شام ہوئی اور پھر ہر طرف تاریکی چھا گئی۔ امتیاز جو پُر اُمید تھا کہ پولیس والے اسے چھڑا لیں گے ، اب مایوس ہو گیا تھا۔

رات کو ڈا کو اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ گاڑی لے کر آ گیا تھا ۔ اس کو دیکھ کر امتیاز کا دل بجھ گیا۔ وہ جلدی جلدی گاڑی میں بوریاں رکھنے لگے ۔ جب ساری بوریاں رکھ لیں تو ڈاکو نے مکان کو تالا لگا دیا اور امتیاز کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔

وہ بوجھل قدموں سے ان کے ساتھ چل دیا۔ اسے ڈر تھا کہ ڈاکو اسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ وہ جیسے ہی گلی سے باہر آئے ، پولیس نے انھیں چاروں طرف سے گھر لیا۔ فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا ، اس لیے سب گرفتار ہو گئے ۔ ڈاکو کا سارا خزانہ بھی پولیس نے تحویل میں لے لیا۔

 امتیاز بہت خوش تھا۔ اسے یہ بات بعد میں معلوم ہوئی کہ پولیس نے بہرام ڈاکو اور اس کے ساتھیوں کو ساتھ گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور نصیر کو بھی منع کر دیا تھا کہ یہ بات امتیاز کو نہ بتائے ۔ حکومت نے بہرام ڈاکو پر جو انعام رکھا تھا ، جو امتیا ز کو مل گیا تھا۔ یہ انعام اتنا تھا کہ امتیاز کے والد نے ایک دکان کھول لی اور امتیاز کو دوبارہ کالج میں داخل کر دیا ، تا کہ وہ اپنی ادھوری تعلیم کو مکمل کرلے ۔

تحریر:  خلیل جبار

Download PDF File

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے