Best 5 Sad Ghazals – Poetry in Urdu

—————————————————

غزل نمبر ۱

—————————————————

بس گیا میری آنکھ میں وہ خواب کی طرح

گزر رہی ہے ہر شب میری عذاب کی طرح

میرے سامنے وہ پھر ایسے گزرے آج

میں لفظ در لفظ پڑھوں اسے کتاب کی طرح

میں کیسے اسے اپنے دل سے پھر بھلا دوں

میری چاہت کو گھیرے ہے وہ گرداب کی طرح

لمحہ در لمحہ اس کے احساس کی خوشبو مہکے

برس جائے وہ میرے جیون پہ سحاب کی طرح

میں  راہ ِ وفا  کے  اس  مقام   پر  ہوں  جہاں  جاویدؔ

کانٹے  بھی  گلے  آ  ملتے  ہیں  پھر  گلاب  کی  طرح

(محمد اسلم  جاوید)

—————————————————

غزل نمبر  ۲

—————————————————

ختم ہوتے ہوتے پھر سے پیار ہورہا ہے

اچانک ہی اس شخص کو مجھ پہ اعتبار ہورہا ہے

وہ دن بھی تھے ان کے پاس وقت نہ تھا میرے لئے

یہ دن بھی ہیں کہ میرا انتظار ہو رہا ہے

مل رہا ہے میری ہر بات کا الفت سے جواب

انکار  ختم  ہو چکا،  اقرار ہو  رہا  ہے

اک عرصہ رلایا ہم کو صبح و شام اس نے مگر

رلاتا ہے اب رقیبوں کو، سمجھدار ہورہا ہے

میری نوازشوں کا اب جاکر اثر ہوا ہے

ہونٹ اس کے کھل گئے ہیں, اظہار ہو رہا ہے

جو شکوے تھے اک دوسرے سے بہت دور رہ گئے ہیں

زندگی گزر گئی ہے مگر ایسے نہیں ہوا تھا

جیسے کہ آج صائمؔ  کو خمار ہورہا ہے

(ظہور احمد صائم – مانگا منڈی)

—————————————————

غزل نمبر  ۳

—————————————————

تسلی کون دیتا ہے ستم ڈھانے بہت آئے

ہمارے ساتھ دل اپنے کو بہلانے بہت آئے

مسافر ہوں تو کچھ ایسا کہ میری دیکھئے قسمت

شہر سے جب چلا راہوں میں ویرانے بہت آئے

سبق دنیا کے اس حیرت کدے سے یہ ملا مجھ کو

کہ مجھ سے ملنے اس میں دیوانے بہت آئے

یہ میری شومئی قسمت کہ سمجھا نہ میں بات ان کی

مجھے غمناک سے چہرے تو سمجھانے بہت آئے

مجھے باور کرا کے بات شمع بجھ گئی فوراً

تیرے جیسے یہاں جلنے کو پروانے بہت آئے

کوئی ناپے تو پھر مانوں شب فرقت کے لمحوں کو

ریاضی دان یوں تو لے کر پیمانے بہت آئے

اگر ملتا ہے بن مانگے تو غم ملتا ہے دنیا میں

یہاں آزاد کم دیکھے سزا پانے بہت آئے

کہا جب خون دینے کو رہا بس قیس ہی در پر

سگِ لیلٰی تو یوں شاکرؔ  کہلوانے بہت آئے

(محمد حنیف شاکر ۔ ننکانہ صاحب)

—————————————————

غزل نمبر  ۴

—————————————————

عمر گزری  تو  یہ  خیال  آیا

کتنے دکھ تھے،  کہاں سنبھال آیا

اس سے پہلے کہ خاک ہو جاتا

میں زمانے پہ خاک ڈال آیا

سنگ تھا تو کوئی دراڑ نہ تھی

آئینہ بن گیا تو بال آیا

پہلے تو ٹھیک ہی گزرتی تھی

جب عروج آیا، تب زوال آیا

ایک لمحے نے روک رکھا ہے

سالہا سال سے نہ سال آیا

پھر میرا وار دیکھنا باقیؔ

میری غیرت کا جب سوال آیا

(باقی احمد پوری)

Kitne dukh thay - Sad poetry

—————————————————

غزل نمبر  ۵

—————————————————

نیکیاں کیا رنگ لائیں حال کیا بنتا گیا

جو بھلا تھا وہ بھی بالآخر برا بنتا گیا

دور تک پہنچا اثر جب بھی کوئی پتھر گرا

بحرِ غم میں دائرہ در دائرہ بنتا گیا

ایک کیکر کے شجر کی کیا ہوئی نشوونما

دور تک کانٹوں کا گویا دشت سا بنتا گیا

پھر سبکدوش کے امکانات سارے مٹ گئے

جو چڑھا کاندھوں پہ پیر شمسہ بنتا گیا

میرے ہمسائے نے جانے کون سی پائی کلید

دیکھتے ہی دیکھتے وہ کیا سے کیا بنتا گیا

راہ پر پٹنے سے جو پیدل بچا انجام کار

زیست کی شطرنج میں وہ کام کا بنتا گیا

جس نے پارس پالیا وہ شخص واجدؔ  تا بہ دیر

سلسلہ در سلسلہ قارون سا بنتا گیا

(پروفیسر ڈاکٹر واجد نگینوی ….. کراچی)

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close