بطخ چور اردو کہانی ۔ الو کی زبانی

Duck Thief

(Duck Thief) بطخ چور

میاں الو کا گھونسلے سے نکلنا تھا کہ تمام جانور سنبھل کر بیٹھ گئے اور ان کا منہ تکنے لگے کہ دیکھیں آج گرو جی کون سی کہانی سناتے ہیں۔ میاں الو نے پہلے تو دو چار جمائیاں لیں، پھر ایک آنکھ میچ کرمینڈ کی سے بولے:

”کیوں بی مینڈ کی ، اتنے دنوں سے کہاں تھیں؟ سنا ہے تمہیں زکام ہو گیا ہے؟“

مینڈکی بولی۔ ” زکام ہو میرے دشمنوں کو ۔ میں تو بھلی چنگی ہوں ۔ بات یہ ہے کہ میرے گھر سرحدی علاقوں کے چند بے گھرلوگ آگئے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال میں لگی ہوئی تھی۔“

میاں اُلو خوش ہو کر بولے۔ ”جیتی رہو۔ مصیبت زدوں کی مدد کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔ اور پھر وہ تو تمہارے ہم وطن ہیں۔“

گائے بولی: ”ٹھیک ہے گرو جی، اب آپ جھٹ پٹ کوئی مزے دار کہانی سنا دیجئے۔“

میاں الو آہ بھر کر بولے۔ ”ہائے ! تمہیں کہانیوں کی پڑی ہے اور مجھے ملک وقوم کا غم کھائے جا رہا ہے۔ خیر، تمہارا دل توڑنا نہیں چاہتا اس لیے سنائے دیتا ہوں ۔ لوسنو ۔ یہ کہانی ایک بطخ چور کی ہے۔ ایک دن شام کے وقت ایک بطخ میرے پاس آئی اور بڑی عاجزی سے بولی۔ گرو جی، سنا ہے آپ جانوروں کے بڑے  ہمدرد ہیں۔ کسی پر کوئی مصیبت آ پڑے تو اس کی مدد کرتے ہیں۔ میں دکھیا، مصیبت کی ماری آپ کے پاس اپنا دکھڑا لے کر آئی ہوں۔ خدا کے لیے میری مدد کیجئے ۔“

Urdu story duck thief

میں نے کہا۔ ”نہ نہ نہ۔ تمام تعریفیں ثابت ہیں واسطے اللہ کے جو سارے جگ کا پالن ہار ہے۔ یہ بندہ ناچیز فقیر حقیر کس لائق ہے۔ پھر بھی تم اپنا حال سناؤ۔ شاید میں کچھ کر سکوں۔“

بطخ بولی۔  ”میرا نام نور جہاں ہے.“

مینڈ کی نے پوچھا۔ ”کون سی نور جہاں؟ جہانگیر بادشاہ والی یا یہ اپنی ملکہ ترنم ؟“

میاں اُلو ہنس کر بولے۔ اری بے وقوف، وہ تو انسان ہیں اور تمہیں بطخ کی کہانی سنا رہا ہوں خیر ، تو قصہ سنو ۔ بطخ بولی۔  میرا نام نور جہاں ہے اور میں پاس کے گاؤں میں رہتی ہوں۔ میرے ساتھ اور بھی بہت سی بطخیں رہتی ہیں۔ ہمارا مالک بہت شریف اور نیک انسان ہے۔ ہمارا بہت خیال رکھتا ہے لیکن بے چارے کا گھر اتنا چھوٹا ہے کہ رات کو ہمیں گھر نہیں لے جا سکتا۔ اس لیے ہم دن رات گاؤں کے تالاب میں پڑے رہتے ہیں۔

ایک ہفتہ ہوا کہ تالاب کا پانی آہستہ آہستہ خشک ہونے لگا اور تین چار دنوں میں بالکل سوکھ گیا۔ ہم لوگ بڑے گھبرائے مگر صبر کر کے بیٹھ گئے ۔ لیکن اب پرسوں سے یہ ہونے لگا ہے کہ صبح کو جب ہم سو کر اٹھتے ہیں تو دو تین بطخیں غائب ہوتی ہیں۔ خوف کے مارے ہمارا برا حال ہے اور ہمارا مالک بھی بہت پریشان ہے۔

میں نے تھوڑی دیر سر کھجایا ، سوچا اور پھر بولا۔ ”بی نور جہاں، تمہاری بپتا سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ لیکن افسوس ہے کہ میں تالاب میں پانی نہیں بھر سکتا۔ یہ پانی کسانوں نے اپنے کھیتوں میں دے لیا ہے۔ اب تمہیں بارش کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ہاں! میں بطخ چور کا پتا چلا سکتا ہوں۔“

نور جہاں پھڑک کر بولی۔ ”گرو جی زندہ باد! واقعی جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔ سچ مچ آپ قطب ہیں۔ اگر آپ نے اس موئے چور کو پکڑوادیا تو میں آپ کو بیس انڈے دوں گی۔“

میں دانت نکوس کر بولا۔” خیر، یہ تو تمہارا خیال ہے۔ میں نہ تو قطب ہوں اور نہ قطب صاحب کی لاٹھ ۔ خدا کا سیدھا سادہ بندہ ہوں  اور اپنی خدمت کا کوئی صلہ نہیں لیتا۔ ہاں، البتہ کوئی نذرانہ دے تو قبول کر لیتا ہوں۔ اچھابی نور جہاں، اب تم جاؤ ۔ کل شام کو میرے پاس آنا ۔ خدا حافظ ۔ “ بطخ چلی گئی۔

معاملہ بڑا ٹیڑھا تھا لیکن بھائیو، میں بھی تمہارا پھوکٹ کا گرو نہیں۔ کچھ ہوں جبھی تو سارے جانور میرے آگے سر جھکاتے ہیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد ایک ترکیب میری سمجھ میں آہی گئی۔ مگر ابھی نہیں بتاؤں گا۔ چپ چاپ سنتے رہو۔

دوسرے دن شام کو نور جہاں آئی اور آتے ہی بولی۔ ”کیوں گروجی؟ سوچی کوئی ترکیب؟“

میں نے کہا۔ "تدبیر کیا۔ اللہ والوں کی باتیں ہیں۔ جب موج میں آگئے تو کر دیا بیڑا پار ۔ اچھا اب وقت برباد نہ کرو اور جیسا میں کہوں، ویسا کرو ۔ تالاب کے پاس برگد کا جو درخت ہے، اس کے پیچھے چھپ کر بیٹھ جاؤ۔ اپنی سہیلیوں کو بھی لیتی جانا اور خبر دار آواز کوئی نہ نکلے۔ چپ چاپ دم سادھے بیٹھی رہنا۔“

بطخ کے جانے کے بعد میں وقت کاٹنے کے لیے ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔ جب رات کے بارہ بجے، چاروں طرف سناٹا چھا گیا تو اس برگد کے پاس پہنچا جہاں نور جہاں اور اس کی سہیلیاں بیٹھی اونگھ رہی تھیں۔

نور جہاں نے میری آہٹ پائی تو چونک کر بولی: ”کون؟“

میں نے کہا۔ ”چپ خاموش۔“ وہ سہم کر بیٹھ گئی۔ برگد کی سیدھ میں کچھ فاصلے پر، ببول کا درخت تھا۔ میں اس پر جا کر بیٹھ گیا۔ چاروں طرف گھور اندھیرا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ بجھائی نہ دیتا تھا لیکن میری آنکھیں اندھیرے ہی میں کام کرتی ہیں۔  بیٹھے ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پاس کی جھاڑیوں میں سرسراہٹ کی آواز آئی۔ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کوئی آدمی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ تالاب کی طرف آ رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ یہی حضرت روزانہ بطخیں اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ فاصلے کی وجہ سے ابھی تک اس کی شکل نظر نہیں آئی تھی ۔ وہ تالاب کے کنارے بطخوں کو تلاش کر رہا تھا۔

مگر وہاں کوئی بطخ ہوتی تو ملتی۔ آخر تھک ہار کر وہ ایک جگہ ٹھہر گیا اور بولا۔ ”آج شاید فتو انہیں گھر لے گیا ہے۔ میں نے بھی تو حد کر دی تھی۔ روز ہی چرانے لگا تھا۔“  یہ کہہ کر وہ واپس جانے کے لیے مڑا اور جب ببول کے پیڑ کے پاس سے گزرا تو میں نے جھٹ پہچان لیا۔ ”آخاہ! یہ تو اپنے گاؤں کے حجام راجا علم دین ہیں۔ خوب راجا جی۔ لوگوں کی حجامتیں بناتے بناتے اب بطخوں کی حجامتیں بنانے لگے ۔ ٹھہر جا بچو، تو بھی کیا یاد کرے گا۔“

علم دین کا گھر گاؤں کے کنارے پر ہی تھا۔ وہ پھو کے پھوکے قدموں سے دروازے پر پہنچا اور پھر گھر میں گھس کر دروازہ بند کر لیا۔

اب میری باری تھی۔ میں دیوار پر سے ہو کر صحن میں پہنچا اور ایک ٹوٹی ہوئی چار پائی کے پیچھے چھپ کر زور سے بطخ کی آواز نکالی۔ ”قیں۔ قیں۔ “ علم دین نے یہ آواز سنی تو چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔ میں چپکے سے کھسک کر دوسری طرف چلا گیا اور پھربولا۔” تیں۔ قیں۔“

وہ سٹپٹا کر ادھر دوڑا تو میں چپکے سے وہاں سے بھی کھسک گیا اور دوسری جانب جا کر قیں قیں کرنے لگا۔ وہ حیرت سےبولا ۔ ” خدا معلوم کوئی بطخ ہے یا میرا ہی دماغ خراب ہو گیا ہے۔“

غرض آدھے گھنٹے تک میں اسے یوں ہی پریشان کرتا رہا۔ آخر وہ اتنا خوف زدہ ہو گیا کہ دیوانوں کی طرح گاؤں کی گلیوں میں دوڑنے لگا۔

دوسرے دن نور جہاں آئی تو اس کی زبانی معلوم ہوا کہ گاؤں کا نائی علم دین پاگل ہو گیا ہے اور گاؤں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔

میں نے ہنس کر کہا۔ ”اری بھولی رانی، یہی تو وہ چنڈال تھا جو بطخوں کو اڑا کر لے جاتا تھا۔ چلو قصہ پاک ہوا۔ اب جہاں چاہو، رہو۔“

نور جہاں تعجب سے بولی۔ ”اے مجھ نگوڑی کو کیا پتا کہ یہ اس موئے کی کارستانی تھی ۔ گرو جی، آپ سچ سچ بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔ آپ نے ہمارے اوپر وہ احسان کیا ہے کہ۔۔۔۔۔ “

میں جلدی سے بولا۔ ”چھوڑو ان باتوں کو اور خدا کا شکر کرو۔ میں نے تو اپنا فرض ادا کیا ہے۔“

 ”تو میرے بچو! اس طرح میری عقل مندی سے بے چاری  بطخوں کو علم دین کے ظلم سے نجات مل گئی۔ اچھا۔ اب گھر جاؤ۔ رات بھیگ رہی ہے۔“

لومڑی بولی۔ ”ہائے ! میڈم نور جہاں یہاں ہوتیں تو ان سے وہ گانا ہی سن لیتے ۔ کون سا بھلا؟“

مینا چہک کر بولی۔ ”اے وطن کے سجیلے جوااااانو۔“

گرو جی بھنا کر بولے۔ ”اتنا سمجھایا پر خاک سمجھ میں نہ آیا۔ ارے بھئی، یہ گانا جس نور جہاں نے گایا ہے وہ انسان ہے اور میں نے جس نور جہاں کی کہانی تمہیں سنائی ہے وہ جانور ہے۔ اب جاکر آرام کرو ۔ کل تمہیں ایک اور مزے دار کہانی سناؤں گا۔“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے