Funny Jokes in Urdu For Students – Part 4

Funny Jokes in Urdu

ثواب:       

ایک عورت اپنے شوہر کی وفات کے بعد رو رو کر کہہ رہی تھی : ” اب میرے شوہر کے اتنے قیمتی جوتے کون پہنے گا ؟ "

سب رشتے دار بھی جمع تھے ۔ ان میں سے ایک بولا : ”بہن ! فکر نہ کرو، میں پہن لوں گا۔”

عورت بولی : ” ہائے ! ان کے کپڑے کون پہنے گا اور میں کھانے کے لیے کسے بلاؤں گی؟“

وہ صاحب پھر بولے : ”بہن! اس میں فکر کی کیا بات ہے ، میں جو موجود ہوں ۔“

عورت نے کہا: ” میرے شوہر کا قرض کون اُتارے گا ؟“

اس شخص نے سب کی طرف دیکھا اور کہا: ” کیا سارا ثواب میں ہی لے لوں!  آپ لوگوں میں سے بھی تو کوئی بولے ۔“

دانت:

مریض دانت کے ڈاکٹر سے۔” ڈاکٹر صاحب! آپ ہمیشہ میر اغلط دانت نکال دیتے ہیں۔“

ڈاکٹر : ” آج یقیناً صحیح دانت نکالنے میں کامیاب ہو جاؤں گا ۔“

مریض : ”وہ کیسے؟“

ڈاکٹر : ” کیوں کہ آپ کے منہ میں اب صرف ایک ہی دانت رہ گیا ہے۔“

پولیس چوکی:

استاد شاگرد سے : ”پولیس چوکی کسےکہتے ہیں؟“

شاگرد: ”وہ چوکی جس پر پولیس بیٹھتی ہے۔“

عیادت:

چھت سے گر کر ایک شخص اپنی دونوں ٹانگیں تڑوا بیٹھا۔ ایک دوست اسپتال میں عیادت کے لیے آیا اور کہا:

”سمجھ میں نہیں آتا، چھت سے گر کر ٹانگیں کیسے ٹوٹ گئیں؟“

اس نے جل کر جواب دیا۔  ‘پتھریلی زمین پرچھت سے گر کر دیکھو تو فورا سمجھ میں آجائے گا۔“

سواری:

ایک آدمی رکشے والے سے:  ”اسٹیشن جانے کے کتنے روپے لو گے؟“

رکشے والا : ”۵۰ رپے ۔“

آدمی : ”۲۰ روپے لو گے؟“

رکشے والا: ”۲۰ رپے میں کون جائے گا ؟“

آدمی : ” پیچھے بیٹھو، میں لے کر جاؤں گا ۔“

چوکیداری:

”مجھے ایسی جگہ چوکیدار کی ملازمت مل گئی ہے ، جہاں آثار قدیمہ کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ایک شخص نے اپنے دوست کو بتایا۔

”اچھا ….. ایسی کون سے جگہ ہے؟“

دوست نے اشتیاق سے پوچھا۔

”بیوٹی کلینک ۔ “ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

ادب:

دکان کا مالک نوکر سے بولا : ”دکان میں کوئی گاہک آئے اور کچھ مانگے تو اس کی تعمیل ادب سے کرنا ۔ میں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں ۔“

مالک واپس آیا اور پوچھا،   کوئی آیا تھا ؟

نوکر نے بتایا : ”جی ہاں، ایک آدمی آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھا۔ اس نے نقدی طلب کی تو میں نے نہایت ادب سے اس کی تعمیل کی۔“

مصیبت:

ایک ہٹے کٹے فقیر نے ایک خاتون کےسامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا : ” مجھےصرف دس رپے دے کر ایک بہت بڑی مصیبت سے بچا لیجیے ۔ یقین کیجیے، اس مصیبت کا خیال آتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔“

خاتون نے دس کا نوٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھا اور کہا:  ”میں پوچھ سکتی ہوں کہ وہ بڑی مصیبت کیا ہے؟“

فقیر چیک کر بولا: ” کام کرنے کی مصیبت ۔“

ٖFunny Jokes of Beggar

بے وقوف:

ایک فیکٹری کا منیجر اپنے ماتحت پر ناراض ہور ہا تھا: ” کیا تم نے فیکٹری کے ملازمین سے یہ کہا ہے کہ میں بے وقوف ہوں۔“

ماتحت کانپتے ہوئے بولا : ”نہیں جناب ایہ تو انہیں پہلے ہی معلوم ہے۔“

بھائی چارہ:

استاد : ”بھائی چارہ کا فقرہ بناؤ۔“

شاگرد: ”میں نے دودھ والے سے  پوچھا ، دودھ اتنا مہنگا کیوں کردیا تو وہ بولا ، کیا کریں بھائی ، چارا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔“

کھیت:

استاد شاگرد سے : اس شعر کا دوسرا مصرعہ بتاؤ۔ ”جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی“

شاگرد: اس کھیت میں فورا ٹیوب ویل لگا دو

کھانا اور مکان:

نوکر کنجوس مالک سے۔ ”حضور! میں بہت غریب ہوں ، نہ کھانے کو روٹی ہے ، نہ رہنے کو مکان ۔“

مالک : ” تو کیا ہوا ! خیالی پلاؤ پکایا کرو اور ہوائی قلعے میں رہا کرو ۔“

لڈو:

 باپ : ” بیٹا ا وہ لڈو کہاں ہیں ، جو میں  نےتمہیں صبح دیے تھے ؟“

بیٹا: ”وہ تو میں نے کھا لیے، آپ نے کہا تو تھا کہ آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے ۔“

تعاون:

ایک خاتون ٹی وی میزبان نے گھر پر سہیلیوں کی دعوت کی۔ جب کھانا لگ گیا تو میزبان نے اعلان کیا۔

” یہ کھانا آپ سب کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کے تعاون سے پیش کیا جارہا ہے۔“

گاڑی:

ایک دوست : ”ہماری گاڑی پیٹرول سے چلتی ہے۔“

دوسرا دوست : ”ہماری گاڑی ڈیزل سے چلتی ہے۔“

تیسرا دوست : ”ہماری گاڑی ڈنڈے سے چلتی ہے۔“

پہلا دوست : ” کیا مطلب؟“

تیسرا دوست : ”ہمارے پاس گدھا گاڑی ہے۔“

مشاعرہ:

کراچی ٹی وی سینٹر پر مشاعرہ ہونے والا تھا۔ افتخار عارف،  جوش ملیح آبادی کو دعوت دینے گئے تو انہوں نے جوش صاحب سے کہا:

”مشاعرے والے دن  ہم آپ کو گھر سےلے لیں گے اور واپس بھی چھوڑ دیں گے۔“

جوش صاحب زور سےہنسے اور بولے: ”ہمیں تو پہنچا دیجئے گا۔چھوڑے تو کتے جاتے ہیں۔“

سیلفی:

ماں نے گھبرائے ہوئے  لہجے میں بیٹے کو آواز دی: ”بیٹا! جلدی آؤ، بہو پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔ منہ ٹیڑھا ہوگیا ہے، آنکھیں اوپر کو چڑھ گئی ہیں، گردن ایک طرف کو گھوم گئی ہے۔

بیٹا: ”پریشان نہ ہوں اماں! وہ سیلفی لے رہی ہے۔“

ذائقہ:

ایک کنجوس آدمی انگور کھا رہا تھا۔ دوست نے انگور مانگے تو کنجوس نے اس کی ہتھیلی پر ایک انگور رکھ دیا۔

دوست بولا: ”صرف ایک؟“

کنجوس نے کہا: ” ہاں، باقی سب کا ذائقہ بھی اسی کے جیسا ہے۔“

اہم معلومات:

ٹی وی پر معلومات کا مقابلہ ہورہا تھا۔ کمپیئر نے ایک نوجوان سے کہا:

 ”شاباش نوجوان! اب آخری سوال کا جواب دے دو، موٹر سائیکل تمہاری ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ  وہ کون سا جملہ ہے جسے کالج کے طلباء بے تحاشا استعمال کرتے ہیں۔“

نوجوان طالبعلم   (مایوسی سے) ”مجھے  نہیں معلوم۔“

کمپیئر: جواب  درست ہے، مبارک ہو، آپ موٹر سائیکل جیت گئے۔“

تلاش:

ایک سپاہی  (بوڑھے آدمی سے): ”کیا تلاش کررہے ہیں! میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟“

بوڑھے نے کہا: ”جی ہاں! میری ٹافی گم ہوگئی ہے، اُسے ڈھونڈ دو۔“

سپاہی: ”کیا وہ کوئی خاص قسم کی ٹافی ہے، جس کے لیے آپ اتنے فکر مند  نظر آرہے ہیں؟“

بوڑھے نے جواب دیا: ”ہاں، اس ٹافی کے ساتھ میرے دانت چپکے ہوئے ہیں۔“

رشتہ:

استاد: ”بتاؤ، زمین اور چاند کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟“

شاگرد: ”بہن اور بھائی کا۔“

استاد: ”وہ کیسے؟“

شاگرد: ”سر! چاند کو ہم ماموں اور زمین کو ماں کہتے ہیں۔“

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close