Funny Jokes in Urdu – Part 2

Funny Jokes in Urdu

حصہ اول کی بھر پور پذیرائی کے بعد پیش خدمت ہے حصہ دوم۔ جس میں اس مشکل دور میں قارئین کے چہروں پہ   تھوڑا مسکراہٹ لانے  کی کاوش کی گئی ہے۔  

جلد بازی:

ایک لائبریرین کو رات کے دو بجے اس کے گھرپرفون آیا ۔ دوسری طرف کوئی اس سے پوچھ رہا تھا۔

”جناب ! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ صبح کو لائبریری کس وقت کھلے گی ؟“

لائبریرین نے قدرے غصے سے پوچھا۔” کیوں! کیا آپ کو صبح سب سے پہلےلائبریری میں داخل ہونے کا اعزاز حاصل کرتا ہے؟“

فون کرنے والے نے جواب دیا۔ ”ارے جناب! داخل کس کو ہوتا ہے۔ آپ جلد بازی میں مجھے یہاں بند کر کے چلے گئے ہیں۔“

درخواست:

شاہدہ نے اپنی دوست ریحانہ کو بتایا۔ ”مجھ سے ہزاروں مرتبہ درخواست کی جاچکی ہے کہ میں شادی کرلوں ۔۔۔!“

”کون کرتا ہے تم سے یہ درخواست؟“ ریحانہ نے تجسس سے پوچھا۔

”میرے والدین۔“ شاہدہ نے جواب دیا۔

بے چارگی:

سنیما کی اسکرین پر ایک المیہ سین چل رہا تھا۔

ویسے تو زیادہ تر فلم بین خاموش اور اداس تھے لیکن ایک صاحب با قاعدہ آہ وزاری کر رہے تھے۔ انہوں نے بلند آواز میں رونا پیٹنا مچایا ہوا تھا۔ جب وہ کسی طرح خاموش نہ ہوئے تو تماشائیوں میں سے کسی نے منیجر کو بلوا بھیجا۔

 منیجر نے اندھیرے میں آنکھیں سکیڑتے ہوئے ان صاحب سے پوچھا۔

”آخر آپ آئے کہاں سے ہیں؟“

وہ صاحب بری طرح کراہتے ہوئے بولے۔ ”ا بے حمق! میں کہیں سے نہیں آیا۔ اوپر والی بالکونی سے گرا ہوں ؟“

گھر یلو انقلاب:

” کیوں بھئی! شادی سے خوش تو ہونا ؟“ خاندان کے ایک بزرگ نے نوجوان سے پوچھا۔

”جی! بہت خوش ہوں ہر چیز کا بڑ آرام ہو گیا ہے۔ وقت پر اٹھ جاتا ہوں  اور وقت پر ناشتہ کرتاہوں ، دفتر بھی وقت سے پہلے پہنچ جاتا ہوں۔ وقت پرکپڑے استری ہوتے ہیں۔ گھر صاف ستھرا رہتاہے۔ کھانے پینے کے اوقات بھی صحیح ہیں۔ صحت بھی ٹھیک رہتی ہے۔ نوجوان نے تفصیل بتاتے ہوئےکہا۔

”مبارک ہو بھئی ! تمہیں اچھی بیوی مل گئی …جو تمہارے اتنے سارے کام کرتی ہے۔“  بزرگ نےخوش دلی سے کہا۔

”نہیں جناب ! سارے کام تو اب بھی میں ہی کرتا ہوں۔ بس بیگم نے ہر کام کا وقت مقرر کر دیا ہے اور بڑی سختی سے عمل کرواتی ہے۔“  نوجوان نے بےبسی سے جواب دیا۔

پریشانی:

ایک شخص آدمی رات کو گاڑی چلاتے ہوئے ممنوعہ علاقے میں جانکلا۔ سیکیورٹی والوں نے پکڑلیا اور ساری رات ایک کوٹھڑی میں بند رکھا۔ صبح اسے چھوڑتے ہوئے کہا۔

”یہاں عام گاڑی نہیں آسکتی۔ اس لیے اگر دوبارہ ایسی حرکت کی تو وضاحت کا موقع بھی نہیں ملے گا۔“

اگلی رات کو پھر وہی شخص ممنوعہ علاقے میں آگیا۔ اسے دیکھ کر سیکیورٹی والوں نے گنیں تان لیں۔ وہ آدمی فوراً گاڑی سے باہر نکلا اور اوپر ہاتھ اٹھاتے ہوئے زور سے بولا۔

”آپ بے شک مجھے گولی ماردیں لیکن خدا کے لیے گاڑی میں بیٹھی ہوئی میری بیوی کو یہ یقین دلا دیں کہ میں پچھلی رات آپ کے پاس تھا۔“

مذاق:

ایک شخص اونچی آواز میں گانا گاتے ہوئے اپنے آفس میں داخل ہوا اور آتے ہی اپنے سینئرآفیسر کے منہ پر طمانچہ مار دیا۔ اس کے بعد گنگناتے ہوئے جا کر اپنی میز پر پاؤں رکھ کر بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد اس کے آفس کے ایک آدمی نے آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

”معاف کرنا یار! میں نے تم سے مذاق کیا تھاکہ تمہاری لاٹری نکل آتی ہے۔“

حقیقت:

پرانی عمارت میں ایک ہی لفٹ تھی اور وہ بھی انتہائی پرانی۔ ایک مرتبہ لفٹ دسویں اور گیارہویں فلور کے درمیان پھنس گئی۔ اندر ایک ہی آدمی تھا۔

چوکیدار نے آ کر لوہے کی جالی کے دروازےسے اسے دیکھا اور تسلی دی۔

”گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نےلفٹ ٹھیک کرنے والے مستری کو فون کر دیا ہے۔ وہ آتا ہی ہوگا۔“

”جھوٹے کہیں کے۔“ اندر پھنسا ہوا آدمی غصے سے بولا۔ ” میں ہی لفٹ ٹھیک کرنے والا مستری ہوں۔“

خوشی:

نیو یارک میں رہنے والا ایک پاکستانی خوشی خوشی اپنے فلیٹ میں داخل ہوا اور اپنی بیوی جو کچن میں برتن دھو رہی تھی ، سے کہنے لگا۔

”بیگم! آج ہمیں امریکن نیشنلٹی مل گئی ہے۔ آج سے ہم لوگ امریکی کہلائیں گے۔“

” کتنی خوشی کی بات ہے۔“  بیگم برتن دھونا چھوڑ کے کچن سے باہر آئی اور بولی۔ ”تم نے بڑی اچھی خبر سنائی ہے۔ آج سے برتن دھونے کی ذمہ داری تمہاری ، میں ذرا سیر کرنے باہر جارہی ہوں۔“

تعریف:

نفسیات کے ایک پروفیسر نے نوجوان امیدوارسے سوال کیا۔

”عورت کی تعریف کرو۔“

” وہ شخصیت جو دروازے میں کھڑی ہو کر بیس منٹ تک مسلسل باتیں کرتی ہے لیکن وقت کی کمی کے باعث اندر نہیں آسکتی ۔“  امیدوار نے جواب دیا۔

اقرار:

بیوی نے ناشتہ کرتے ہوئے شوہر سے کہا۔ ”تم ہر ہفتے کو مچھلی کے شکار پر جاتے ہو نا؟“

شوہر نے ناشتے سے نظر اٹھا کر فخریہ لہجے میں کہا۔

”ہاں۔“

بیوی: ” وہ مچھلی کل مجھ سے ملنے گھر آئی تھی ۔“

Funny latifay part 2

تبدیلی:

احمد، عبد اللہ سے کہتا ہے : ”یار تمہیں وہ لڑکی یاد ہے جو کلاس میں ہماری پٹائی کیا کرتی تھی ؟“

عبد اللہ جواب دیتا ہے کہ ”ہاں ہاں یاد ہے، کیوں کیا ہوا؟”

 احمد انتہائی رنجیدہ لہجے میں کہتا ہے۔ ”وہ میرے ساتھ شادی کر کے بھی بالکل نہیں بدلی۔“

فخر:

بیوی شوہر سے ۔ ”میں آپ کی سالگرہ کے لیے بہترین سوٹ لائی ہوں ۔“

شوہر حیرت اور خوشی کے جذبات سے پوچھتا ہے۔ ”اچھا دکھاؤ۔۔۔۔“

بیوتی کہتی ہے ۔” ابھی پہن کر آتی ہوں۔“

تراشا:

”تم اخبار میں سے کیا کاٹ رہے ہو؟“

ایک شخص نے اپنے دوست سے پوچھا۔

”ایک خبر ، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے طلاق دے دی کہ وہ اکثر اس کی جیبوں کی تلاشی لیتی رہتی تھی ۔“ دوست نے جواب دیا۔

اس شخص نے حیرت سے پوچھا۔ ”مگر تم اس تراشے کا کیا کرو گے؟“

”اپنی جیب میں رکھوں گا ۔ “ دوست نےمسکراتے ہوئے جواب دیا۔

خیال:

شوہر نے عدالت میں مجسٹریٹ سے شکایت کی ۔ ” جناب ! یہ سپاہی ہم میاں بیوں کو یونہی پکڑ کرعدالت میں لے آیا ہے ۔ ہم تو گلی میں کھڑے معمولی بات پر جھگڑا کر رہے تھے ۔“

مجسٹریٹ نے کہا۔ ”مگر آپ گھر کے بجائے گلی میں کیوں جھگڑا کر رہے تھے؟“

بیوی بولی : ”تو آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم اپنے گھر کا سارا فرنیچر توڑ ڈالتے۔“

عقل:

ایک صاحب کی آواز کافی بلند تھی۔ جب وہ کسی سے فون پر ناراض ہوتے یا بحث کرتے تو ان کی آوازمزید تیز ہو جاتی۔ وہ اور بھی زیادہ زور سے چلانے لگتے۔

ایک مرتبہ وہ اپنے دفتر میں اسی طرح چلا رہےتھے کہ آواز جنرل منیجر کے کمرے تک پہنچ گئی۔ جی ایم نے گھنٹی بجا کر چپڑاسی کو بلایا اور پوچھا۔

”یہ کون صاحب چلا رہے ہیں؟“

”سر! یہ عابد خان صاحب ہیں، لاہور اپنے بہنوئی سے بات کر رہے ہیں ۔ ” چپڑاسی نے بتایا۔

”تو کم بخت عقل کیوں نہیں استعمال کرتا۔ آخر ہم نے فون کس لیے لگوائے ہیں ۔“  جی ایم غصے سے بولے۔

الجھن:

ایک ریسٹورنٹ میں دو سہیلیاں بیٹھی تھیں۔

کھانے پینے کی چیزیں آئیں تو کھاتے کھاتے ایک نے دوسری سے کہا۔

”کیا بات ہے، تم نے کچھ کھایا نہیں ؟ کیا کوئی تکلیف ہے؟“

دوسری بولی۔ ” کیا بتاؤں، مجھے ایک دھمکی آمیز خط ملا ہے، جس میں لکھا ہے کہ اگر تم نے میرےشوہر سے ملنا بند نہ کیا تو میں تمہیں قتل کر دوں گی ۔ بس اس وقت سے میری بھوک مرگئی ہے۔“

پہلی نے کہا۔ ” تو تم ملنا چھوڑ دو۔ یہ کون سی بڑی بات ہے۔“

دوسری پریشان ہو کر بولی۔ ”مگر مشکل یہ ہےکہ یہ خط گمنام ہے، پتا نہیں کس شوہر کی بیوی نے لکھاہے۔“

تیر بہ هدف:

ایک صاحب اپنی کار میں کہیں جارہے تھے۔ راستے میں انہیں ایک نوجوان تیزی سے بھاگتا ہوادکھائی دیا۔ ان صاحب نے نوجوان کے پاس کار روک کر اسے اپنی کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ نوجوان جب بیٹھ گیا تو ان صاحب نے اس کی منزل معلوم کرنے کے بعد پوچھا۔

”شاید تم کسی بہت ہی اہم وجہ سے جلد از جلد پہنچنا چاہتے ہو۔ اسی لیے اتنا تیز دوڑ رہے ہو۔“

نوجوان بولا: ”جی نہیں ۔۔۔ جب بھی لفٹ کی ضروت ہوتی ہے میں اسی طرح تیز دوڑ نے لگتا ہوں۔ یہ ترکیب آج تک بے کار نہیں گئی۔“

لطائف:

”میرے والد بہت دولت مند ہیں وہ ایک اخبار کے مالک ہیں۔“ لڑکے نے رعب ڈالتے ہوئے کہا۔

” تو پھر کیا ہوا ۔“ لڑکی نے کہا ۔ ” اخبار کی قیمت تو فقط پندرہ روپے ہوتی ہے۔“

فروخت شده:

ایک دولت مند صاحب کھانا کھانے کے لئے اپنے مخصوص ہوٹل میں پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر پریشانی ہوئی کہ آج انہیں نیا بیرا اٹینڈ کر رہا ہے۔

” وہ پرانا بیرا کہاں ہے؟“ انہوں نے ڈپٹ کر نئے بیرے سےپوچھا۔

”جناب میں ہی اب آپ کی خدمت کیا کروں گا۔ رات میں نے جوئے میں آپ کو اس سے جیت لیا ہے۔“

نئے بیرے نے انتہائی متانت سے جواب دیا۔

تقریر:

جلسے کے بعد سیاسی لیڈر نے اپنے سیکریٹری کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔

”میں نے تمہیں صرف پندرہ منٹ کی تقریر لکھنے کو کہا تھا مگر تم نے پورے ایک گھنٹے کی تقریر لکھ دی۔ بولتے بولتے میرا منہ تھک گیا ۔“

”میں نے صرف پندرہ منٹ کی تقریر لکھی تھی مگر آپ جلد بازی میں تقریر کی چار کا پیاں ساتھ لے گئےتھے ۔ “ سیکریٹری نے جواب دیا۔

محسوسات:

شیدا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ چپس کھا رہا تھا۔

گرل فرینڈ نے نہایت رومانٹک اندانہ میں پوچھا۔

”شیدے ! کیسا محسوس کر رہے ہو ؟ “

شیدے کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ”تم زیادہ تیزی سے کھا رہی ہو۔“

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close