Funny Jokes Series in Urdu – Part 1

Funny Jokes in Urdu

سچی  گواہی:

عدالت میں وکیل نے معمر خاتون گواہ سے پوچھا۔ ”آپ کی عمر کیا ہے محترمہ۔“

”میں اکتیس بہاریں دیکھ چکی ہوں۔“ خاتون نے جواب دیا۔

وکیل نے نرمی سے پوچھا۔ ”اور درمیان میں کتنے سال آپ نابینا رہیں۔“

نئی دیوار:

ایک شخص  نے اپنی محبوبہ سے کہا۔ ”تم سے ملنے کے آج میں ایک نئی دیوار پھلانگ کر آیا ہوں۔“

محبوبہ نے تشویش سے پوچھا۔ ”دیوار ٹوٹی تو نہیں، تمہیں کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔“

محبوب  نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”میں  اینٹوں والی دیوار کی بات نہیں کر رہا بلکہ میں  تمہیں اپنی بیگم کےبارے میں بتا رہا ہوں جس سے میری شادی چند روز قبل ہی ہوئی ہے۔“

Funny jokes part 1

چنده:

حفیظ جالندھری شیخ سر عبد القادر کی صدارت میں انجمن جماعت اسلام کے لیے چندہ جمع کرنے کی غرض سے اپنی نظم سنا رہے تھے۔

”سنا نظم ایسی ، ملے جس سے چندہ“

جلسے کے اختتام پر منتظم نے بتایا، ”آج پونے تین سو روپے چندہ جمع ہوا ہے۔ “ حفیظ نے کہا۔” یہ سب نظم کا کمال ہے .“

 منتظم نے کہا۔” مگر جناب۔ دو سو روپے ایک ایسے شخص نے دیے ہیں، جو بہرہ تھا۔“

جھوٹ اور سچ:

ایک پولیس والے نے ملزم سے پوچھا۔ ”تمہیں معلوم ہے کہ اگر تم جھوٹ بولو گے تو کہاں جانا ہو گا ؟“

ملزم نے جواب دیا۔”جی ہاں یہ معلوم ہے دوزخ میں جاتا ہو گا ۔ "

پولیس آفیسر نے کہا۔ "اگر سچ بولو گے تو ؟؟

ملزم نے کہا۔ "جناب جیل میں۔”

پریشانی:

ایک آدمی اپنے دوست سے۔۔۔ ”میری بیوی کا کل انتقال ہو گیا، میں نے رونے کی بہت کوشش کی لیکن آنسو پھر بھی نہیں نکلے، کیا کروں؟”

دوست !” کوئی مسئلہ نہیں ، صرف اتنا تصور کرو کہ وہ واپس آرہی ہے۔“

افسوس:

ایک دکان دار ایک عورت کو کپڑے دکھا دکھا کرتھک گیا۔ آخر میں بولا۔

”مجھے افسوس ہے کہ آپ کو کوئی کپڑا پسند نہیں آیا۔“

عورت ۔۔۔! ”کوئی بات نہیں میں ویسے بھی سبزی لینے نکلی تھی۔“

جن پہ تکیہ تھا۔۔۔!

ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا۔ ”یہ بتاؤ کہ اپنے ملک کا سب سے شریف آدمی کون ہے؟“

دوست نے کہا۔ ”یہ بتا کر میں اپنے منہ میاں مٹھونہیں بننا چاہتا۔“

”اچھا۔۔۔! تو سب سے زیادہ بے ایمان شخص کون ہے ؟“ اس شخص نے پھر پوچھا۔

”یہ بتا کر میں تم سے دشمنی مول لیتا نہیں چاہتا۔“ دوست نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

پاکستانی ہونے کی پہچان؟:

  • پاکستانی ہر کھانے میں لہسن پیاز کا استعمال کرتے ہیں۔
  • گفٹ پیپرز کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔
  • گیٹ پر رخصت ہونے سے پہلے آدھا گھنٹہ ضرور بات کرتے ہیں۔
  • بغیر ڈاکٹر کی تجویز کے دوائیں استعمال کرتے ہیں۔

نمک پارہ:

پاکستانی "جن” بھی اتنے ٹھرکی ہوتے ہیں کہ عاشق ہو کر چڑھتے بھی صرف عورتوں پر ہیں اور پھرجھاڑو کھانے سے بھی نہیں اترتے۔

ہدایات:

شوہر صاحب بیوی کو ڈرائیونگ سکھا رہے تھے۔ سامنے سے ایک تیز رفتار ٹرک کو آتے دیکھ کر بیوی گھبرا گئی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرنا چاہے۔ وحشت زدہ لہجے میں بولی۔

”اب کیا کروں؟“

”بس تم یہ سمجھو کہ گاڑی میں چلا رہا ہوں۔ایسے موقع پر تم جو ہدایات مجھے دیتی تھیں ان ہی پر عمل کرو۔“

شوہر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔

خوشی اور غم:

بیوی۔۔۔ ”تم مجھ سے ایسی دو باتیں کہو کہ ایک سےمیں خوش ہو جاؤں اور دوسری سے مجھے غصہ آجائے۔“

شوہر۔۔ ” تم میری زندگی ہو اور لعنت ہے ایسی زندگی پر۔“

‏شکایت:

ایک عورت نے ڈاک خانے فون کیا۔

”آپ کا نیا ڈاکیا میرے کتے کو تنگ کر رہا ہے اور اسے بھونکنے پر مجبور کر رہا ہے۔“

ڈاک خانے کے سپروائزر نے  پوچھا۔ ”محترمہ! آپ کا کتا کہاں ہے؟“

”وہ باغ میں درخت کے نیچے کھڑا بھونک رہا ہے۔“ عورت نے جواب دیا۔

”اور ڈاکیا کہاں ہے۔“

”وہ درخت کے اوپر ہے۔“ اِن محترمہ نے متانت سے جواب  دیا۔

 وجہ تسمیہ:

ایک صاحب نے اپنے بے حد موٹے دوست سے کہا۔ ”میں نے اکثر دیکھا  ہے کہ تم جیسے موٹے آدمی عام طور پر بڑے خوش مزاج ہوتے ہیں۔ بڑی سے بڑی نا معقول اور ناگوار بات کو بھی ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ بڑی بات ہے۔“

”اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہمارے لیے لڑنا اور بھاگنا دونوں ہی مشکل کام ہوتے ہیں۔“ موٹے دوست نے مسکرا کر جواب دیا۔

آرام طلبی:

مشہور امریکی طنز نگار مارک ٹوئن بڑا آرام طلب شخص تھا۔ مطالعہ اور تحریری کام وہ عموماً بستر میں ہی کرتا تھا۔ ایک دن ایک اخباری نمائندہ اس کے انٹرویو کے لیے آ پہنچا۔ مارک ٹوئن نے اپنی بیوی سےکہا۔ ”اسے خواب گاہ میں بھیج دو۔“

”تم بستر سے باہر کیوں نہیں جاتے ۔ کتنا برا لگے گا کہ تم بستر میں لیٹے رہو اور وہ کھڑا رہے۔ “  بیوی نے کہا۔

”اچھا۔۔۔“ مارک ٹوئن نے ایک لمحہ سوچنے کے بعد جواب دیا۔ ”بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ اچھا ایسا کرو،  ملازم سے کہو کہ یہاں ایک اور بستر لگا دے۔“

گرم جوشی:

ایک صاحب نے رومانس پر بات کرتے ہوئے اپنے دوست کو بتایا۔

”میری شادی کو پندرہ سال ہوچکے ہیں۔ اس تمام عرصے میں میری محبت اور گرم جوشی میں ذرا سا فرق بھی نہیں آیا ہے۔“

”کیا واقعی۔“ دوست نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

”ہاں بالکل۔“ ان صاحب نے اسی اعتماد سے جواب دیا۔”یہ الگ بات ہے کہ ابھی میری بیوی کو میری محبوبہ کے بارے میں علم نہیں ہے۔

اختتام:

دو بچے آپس میں ریڈیو، ریڈیو کھیل رہے تھے اور اس بات پر بحث کررہے تھے کہ اناؤنسر کون بنے اور پروگرام کون سنائے گا۔ بالآخر ٹاس پر فیصلہ ہوا۔ ہارے  ہوئے بچے کو اناؤنسر بننا تھا۔ اس نے اناؤنسمنٹ کی۔

”سامعین! رات کے بارہ بجے ہیں۔ اب ہماری نشریات اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں۔ اللہ حافظ۔۔۔“

احتجاج:

ایک بوئنگ طیارے نے سمند پر پرواز کے دوران ابھی نصف فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ کیپٹن نے اعلان کیا۔

”خواتین و حضرات توجہ فرمائیے! طیارے کا ایک انجن خراب ہوگیا ہے۔ تاہم ہائی مین انجن ہمیں بہ حفاظت  ہماری منزل پر پہنچا دیں گے۔ البتہ آدھے گھنٹے کی تاخیر ہوجائے گی۔“ ایک گھنٹے بعد  کیپٹن کی پھر آواز  ابھری۔

”توجہ فرمائیے!  ہمیں افسوس ہے کہ طیارے کا دوسرا انجن بھی خراب ہوگیا ہے۔ تاہم باقی دو انجنوں پر ہم اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہین۔ البتہ اب ہمیں دو گھنٹے  کی تاخیر ہوجائے گی۔“ تھوڑی دیر اور گزری تھی کہ کیپٹن  نے پھر اعلان کیا۔

”خواتین وحضرات! ہم انتہائی دکھ کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ جہاز کا تیسرا انجن بھی خراب ہوگیا ہے۔ لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ البتہ اب ہمیں تین گھنٹے کی تاخیر ہوجائے گی۔“

بار بار کے اعلانات سے بھنایا ہوا ایک مسافر بڑے غصے  سے بولا۔

”کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ اگر چوتھا انجن بھی خراب ہو گیا،  تو کیا ہم ساری رات پرواز ہی کرتے رہیں گے۔“

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close