Urdu Novel Iblees by Nimra Ahmed – Episode 2

ایک جھلک، ایک گمان۔۔۔۔ میں چونکی ۔ وہ بلا شبہ رضا حیات ہی تھے۔ اپنے مخصوص حلیے سے ہٹ کروہ جینز اور جیکٹ میں ملبوس سڑک کے کنارے کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ ایک بوڑھا شخص بھی تھا جو آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے سفید اسٹک پکڑے ، کچھ بولتا ہوا ساتھ ہی ہاتھ کے اشارے سے رضا کو کچھ سمجھا رہا تھا۔ رضا اثبات میں سر ہلاتے اسے بغور سن رہے تھے۔

پھر وہ اس عمر رسیدہ شخص کا ہاتھ تھام کر آگے آئے اور احتیاط سے دو طرفہ بہتی ٹریفک کے درمیان سے گزرتے اسے سڑک پار کرانے لگے ۔  چند ہی لمحوں بعد وہ دونوں سڑک کے اس طرف پہنچ گئے ۔ بوڑھےکو نرمی سے کچھ سمجھا کے اب وہ جانے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ وہ عمر رسیدہ نابینا شخص دونوں ہاتھ  اٹھا کر انہیں دعا دینے لگا۔  رضا بہت ممنون ، بہت شرمندہ سے واپس پلٹے۔ میری نگاہوں نے اس وقت تک ان کا تعاقب کیا جب تک کہ وہ واپس اپنی کار میں نہ بیٹھ گئے پھر میں مسکرا کر ہولے سے سر جھٹک کرآگے بڑھ گئی۔

کہاں ہوتے ہیں آج کل ایسے لوگ؟

”شک کا فائدہ ہر ایک کو دینا چاہیے۔ میں اس بات سے متفق نہیں ہوں ۔ کیا آپ ہیں ؟“  کلاس میں سکوت چھایا تھا اور وہ اپنے ازلی سحر انگیز انداز میں کو پوچھ رہے تھے ۔ ہر ذی نفس خاموش، ساکن بیٹھا رہا۔ کسی کو ان سے اختلاف نہیں تھا، سوائے میرے۔

”میں ہوں ۔ “  میں نے اپنا کمزور ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ وہ ذرا چونکے شاید حیران ہوئے تھے۔

”حلیمہ داؤد؟“ وہ جیسے یاد کر کے بولے۔

”ہماری یہ سب سے برائٹ اسٹوڈنٹ اس بات سے کیوں متفق ہیں، ہمیں بتا ئیں پلیز ؟“

یہ مبالغہ آرائی تھی ، میں بہت ایوریج سی طالبہتھی اور یہ بات سب جانتے تھے معلوم نہیں وہ کیوں مجھے اتنی اہمیت دیتے تھے۔ یا پھر عام انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ مجھے لگا میں بھی وہی دیکھ رہی ہوں۔

”سر میرا خیال ہے کہ ہر شخص کو شک کا فائدہ دیا جانا چاہیے اگر آپ نے کچھ آنکھوں سے دیکھا یا نہیں دیکھا تو بھی بجائے کسی کو فوراً مورد الزام ٹھہرانے کے اسے شک کا فائدہ دے کر بری الذمہ قرار دینا چاہیے۔“

”آپ کو کیا لگتا ہے حلیمہ کہ آپ کا یہ آرگومنٹ کن جگہوں پر اپلائی ہوتا ہے؟“ ہال میں خاموشی چھائی تھی اور وہ ڈائس پر کہنیاں رکھے پوری سنجیدگی سے میری جانب متوجہ تھے ۔ اوه خدایا ، وہ کتنے ہینڈسم تھے۔

”ہر اس جگہ پہ جہاں کسی انسان پر ہمیں کسی گناہ کاشک ہوتا ہے۔“

 صرف انسان ؟ ” وہ ہولے سے مسکرائے۔

”آف کورس، ہم انسانوں کی ہی تو بات کر رہے ہیں۔“

”مگر آپ نے گناہ کا ذکر کیا تو گناہ ایک اور مخلوق سے بھی سرزد ہوتے ہیں۔“ میں الجھ کر انہیں دیکھنے لگی۔ جانور ، درندے، پودے، حشرات الارض میرے ذہن کے پردے پر ایک ایک کرتے کئی نام آتے گئے۔

”جنات“۔  میری خاموشی پر انہوں نے کہا تو سارے ہال میں ایک عجیب سنسنی سی دوڑ گئی ۔

“جنات ؟“ میں ہولے سے بڑ بڑائی۔

”جی ہاں ، جنات۔۔۔۔۔ اور یہ جو بیک بنچرز ہیں ان کو منہ بنانے کی قطعا ضرورت نہیں ہے، میں یہاں آپ کو کوئی ہارر اسٹوریز نہیں سنانے لگا۔“ ان کے چہرے کے تاثرات جیسے ہی سخت ہوئے، آخری نشستوں پہ بیٹھے سارے لڑکے تیر کی طرح سیدھے ہوئے۔ پھروه میری جانب متوجہ ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں سختی کی جگہ نرم تاثر نے لے لی۔

”تو  حلیمہ داؤد اگر گناہ کی بات ہے تو کیوں نہ  جنات کا ذکر کیا جائے؟“ وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہے تھے اور مجھے لگا میں نے اختلاف میں غلط سائیڈ لے لی ہے۔

”ہزاروں برس پہلے ایک جن ہوا کرتا تھا، ابوالجن، جنات کا باپ ۔ اس کا نام عزازیل تھا۔ وہ فرشتوں کا سردار تھا۔ مکرم تھا محترم تھا۔ اس سے زیادہ نیک اور پارسا کوئی نہیں تھا۔ وہ سب سے بڑا عبادت گزار تھا پھر کیا ہوا؟ آپ بتائیے حلیمہ داؤد پھر کیا ہوا؟ اس عزازیل کو آج آپ ابلیس  کے نام سے یاد کیوں کرتی ہیں؟“

میری ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں ۔

 ”اس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس نے اللہ کا حکم ماننے سے انکار کیا تھا، نہیں؟“

”جج۔۔۔ جی۔“

”اس نے کیوں کیا وہ سب ؟ کیوں وہ انسان سے حسد کا شکار ہوا؟ کیا ، اس کے تکبر بھرے انکار کی کوئی وجہ ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔“

ہال میں سناٹا چھایا تھا۔ سب دم سادھے انہیں سن رہے تھے۔

”ابلیس نے جو بھی کیا دہ میں ہی کیا اور وہ آج بھی بہت سے انسانوں کو اپنے جیسا ” ابلیس ” صرف اس لیے بنانا چاہتا ہے کہ اللہ انسان سے محبت نہ کرے۔ آپ نے کبھی سوچا کہ شک کا فائدہ اللہ نے ابلیس کو کیوں نہیں دیا۔  باوجود اس کے کہ اللہ سے بڑھ کر مہربان کوئی نہیں ہے؟“

وہ مجھے دیکھ کر استفسار کر رہے تھے اور میں بنا پلک جھپکے سانس روکے انھیں دیکھ رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا میری آواز کبھی نہیں نکل پائے گی۔

”وہ اس لیے ڈیئر اسٹوڈنٹس کہ ہرشے کی ایک حد ہوتی ہے جب وہ حد پار کر لی جائے تو پھر اس شخص کو رعایت نہیں دی جاسکتی ۔ بعض اصول ایسے ہوتے ہیں جن پرسمجھوتا ناممکن ہوتا ہے۔ سواپنی زندگی میں ایسے اصول بنا ئیں کہ اگر کوئی انہیں تو ڑے تو آپ اس ابلیس کو کوئی رعایت نہ دیں ۔ عزازیل ہر کوئی بن سکتا ہے مگر جو عزازیل سے ابلیس بنے وہ بندگی کی جنت سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کی کبھی واپسی نہیں ہوتی۔“

میں نے بے اختیار دانوں ہتھیلیاں اٹھا کر تالی میں ملائیں اور ایک دم ہو پورا ہال تالیوں سے گونجنے لگا۔

”اوه کم آن اسٹوڈنٹس۔“ وہ جھینپ کر ٹیبل پر رکھی کتاب کی طرف متوجہ ہو گئے۔

ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے ایک بہت پرانے پروفیسر، سر عثمان راؤ ان دنوں ریٹائر ہوئےتھے۔ ان کے اعزاز میں ایک شاندارسی  فیئر ویل پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس پر تمام فیکلٹی ممبران اپنی ازدواج کے ساتھ مدعو تھے۔ اس شام میں نے پہلی دفعہ  پروفیسر رضا کی بیوی کو دیکھا۔

اس کا نام علینا تھا۔ وہ دراز قد اور بھورے گھنگریالے بالوں والی بے تحاشا حسین لڑکی تھی۔ جیسے موم کی گڑیا۔ رضا بلیک ڈنرسوٹ میں ملبوس تھے اور وہ ان کے ساتھ سیاہ اسٹائلش لباس میں پورے اعتماد کے ساتھ کھڑی بہت خوب صورت لگ رہی تھی ۔ کوئی اتنا حسین بھی ہو سکتا ہے ؟ پانچ برس کا پیارا سا بیٹا ماں کی انگلی تھامے کھڑا تھا۔ وہ تینوں ایک ساتھ اتنے مکمل لگ رہے تھے کہ میں پوری تقریب میں انہیں تکے گئی۔ مجھے ان کی بیوی اچھی لگی تھی، وہ انہی کی طرح بے حد ملنسار اور شائستہ تھی البتہ میرا ان سے تعارف نہ ہو سکا کہ یہ وہ موقع تھا جب رضا کے ارد گرد لگے جمگھٹے کے پیچھے میں چھپ جایا کرتی تھی۔

وہ تینوں ایک تصویر کھنچوانے کے لیے ساتھ ساتھ کھڑے ہوئے اور کیمرا پکڑے ذورین کے کہنےپر مسکرا ئے۔  فلیش کی روشنی میں ان کی کاملیت اور بھی دمکنے لگی ۔ کھٹا کھٹ بہت سے اسٹوڈ ٹس ان کی تصاویر لینے لگے اور وہ ریڈ کارپٹ یہ فوٹو شوٹ کروانے والے اسٹار سیلیبریٹیز کے مانند ہر طرف کیمروں اور فلیش کی چکا چوند روشنیوں سے گھر گئے ۔ اپنے موبائل سے بہت دور سے ایک تصویر میں نے بھی لی تھی۔

اس رات میں اس تصویر کو دیکھ کر بہت دیر تک روتی رہی تھی۔ کیا مجھے بتانے کی ضرورت ہے کہ کیوں؟

 کاریڈور میں اسٹوڈنٹس آجارہے تھے۔ میں اپنی بیساکھی سے خود کو گھسیٹتی آہستہ آہستہ اس دروازے کی جانب بڑھنے لگی جس پر رضا حیات خان  کے نام کی تختی لگی تھی ۔

دروازہ نیم وا تھا۔ میں نے دو وفعہ کھٹکھٹایا پھر کوئی آواز  نہ پا کر ذرا ساد ھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا ۔

ان کی کرسی خالی تھی ۔ البتہ ایک خالی کونے  پہ وہ جائےنماز بچھائے نماز پڑھ رہے تھے ۔ جس پل میں  نے دروازہ کھولا وہ اسی پل سجدے میں گئے ۔ میرا دل احترام سے بھر گیا۔

ان کے سلام پھیرنے تک میں چوکھٹ میں کھڑی رہی۔  وہ فارغ ہوئے تو سر اٹھایا ۔ چہرے حیرت آگئی۔

”میری اتنی برائٹ اسٹوڈنٹ اتنے تکلف سے ابھی تک دروازے پر کھڑی ہے ، اس بات کا مجھے افسوس ہے۔ آئیں بیٹھیں نا۔“  وہ تاسف دندامت سے جا ئےنماز تہ کرتے اٹھ کھڑے ہوئے اور میرے لیے کرسی کھینچی۔

”سوری پروفیسر!“ میں لب کاٹتی دروازہ بند کے کرسی تک آئی۔ وہ اب گھوم کر میز کے پیچھے جا کے اپنی ریوالونگ چیئر پر بیٹھ رہے تھے۔ ان کا کوٹ کرسی کی پشت پر لٹکا ہوا تھا اور وہ شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک  موڑے ، ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کیے بہت بے تکلف اور ریلیکسڈ لگ رہے تھے ۔

” لائیں کتاب دکھا ئیں ، کون سا ٹا پک سمجھنا آپ نے؟“ وہ میرے ہاتھ سے کتاب لے کر پلٹنے لگے ۔ صبح کلاس کے بعد جب میں نے انہیں بتایا کہ مجھے ایک موضوع کے سمجھنے میں دشواری ہے تو انہوں نے فوراً مجھے ایک بجے اپنے آفس میں ملنے کو کہا تھا۔

” تو اس میں کیا سمجھ نہیں آیا آپ کو؟“  مطلوبہ صفحہ کھول کر اب وہ اس پر سرسری نگاہ دوڑاتے ہوئے پوچھ ر ہے تھے۔

” سر یہاں سے آگے میں آگے ہو کر انگلی لگا کر بتانے لگی۔ بمشکل دس منٹ لگے انہیں مجھے سمجھانے میں، اور ساری باتیں میری سمجھ میں آگئیں۔

”اب بتائیں چائے لیں گی یا کافی ؟“  کتاب بند کر کے انہوں نے ایک طرف رکھ دی۔

”دونوں نہیں۔“

پھر جوس تو لیں گی ہی۔“ وہ اٹھے اور سائڈ پر رکھی ایک ٹرے  سے ایک کین اٹھا کر کھولا اور ایک شیشے  کے گلاس میں انڈیلا۔

”تھینک یو۔ آپ کی وائف بہت اچھی ہیں پروفیسر ۔“ میں نے اور نج جوس کا ایک گھونٹ بھر کرگلاس میز پر رکھا۔

”جانے بھی دو حلیمہ داؤد۔“  انہوں نے ایک اداس مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا۔ میں شل رہ گئی۔

” کیوں پروفیسر کیا ہوا؟“

”اچھی مسلمان لڑکی وہ ہوتی ہے جو سر ڈھانپے، نقاب پہنے۔ اب آپ ہیں، مجھے آپ بالکل اپنی چھوٹی بہن کی طرح لگتی ہیں ۔ اور سر ڈھکے تو آپ بہت اچھی لگتی ہیں۔ مگر میری بیوی۔۔۔۔۔“  ایک تلخ مسکراہٹ ان کے چہرے پر بکھری تھی ۔ ”میری بیوی میری نہیں سنتی۔“

ان کا مجھے اپنی چھوٹی بہن کہتا مجھے معتبر کر گیا تھا اور ان کی بیوی کا رویہ دکھی۔

”وہ ایسے کیوں کرتی ہیں ؟“

”غرور۔۔۔ اپنی ذات کا زعم،  کچھ اپنے باپ کی  دولت کا تکبر، ایک عام سے پروفیسر سے اتنے بڑے باپ کی بیٹی  شادی کرے گی تو وہ برابر ی پر تو کبھی نہیں ہوگی۔

”ارینج میرج تھی ؟“ میں اس وقت سب کچھ سوچنا چاہتی تھی سوائے اس کے کہ میں بہت پرسنل ہورہی ہوں۔

”اونہوں۔۔۔۔ لو میرج ! بور کے لڈو۔“ ان کا و جیہہ چہره حزن و اداسی سے پُر تھا۔ میرا دل کٹنے لگا۔

” میں آپ کے لیے کچھ کر سکتی ہوں ؟“

”پتہ نہیں حلیم۔۔۔ہ میں اپنے لیے خود کچھ نہیں کر سکتا تو تم کیا کروگی۔۔۔ بعض دفعہ زندگی ایک مقام پر ٹھہر جاتی ہے، سمجھ نہیں آتا کہ کس طرف کو نکلیں۔ آگے یا پیچھے، ایسے میں اگر کوئی دل کا بوجھ ہلکا کر دے تو اچھا لگتا ہے۔ تم سے بات کر کے بھی اچھا لگا۔ اللہ تمہیں خوش رکھے۔“  پھر وہ میرے ساتھ ہلکی پھلکی دوسری باتیں کرنے لگے۔

وہ ساعتیں میری زندگی کی سب سے قیمتی متاع  بن گئیں۔ ان کے آفس سے نکلتے وقت میرے اردگرد میر است رنگا بلبلہ تن چکا تھا۔ میں اسی میں مقید فضا میں تیرتی رہی تھی۔ میں جاگتی آنکھوں سے دن کی روشنی میں پہلی بار اینا یاور بن گئی تھی۔

اس روز میں نے پہلی دفعہ ایک بچھڑا بنایا تھا۔ البتہ یہ بات میں اس وقت نہیں جانتی تھی۔

Download Iblees Urdu Novel PDF (Complete)

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close