Iblees Urdu Novel By Nimra Ahmed – Episode 1

ابلیس ناول (Iblees Novel):

یہ کہانی جو میں آپ کو سنانے جا رہی ہوں، یہ میری کہانی نہیں ہے  بلکہ میں تو صرف اس کہانی کی خاموش تماشائی ہوں۔ میرا یعنی حلیمہ داؤد کا نام تو اس داستان کے کسی پڑھنے والے کے لیے شاید یاد رکھنے کے لیے قابل نہ ہو مگر ان دوکرداروں کا ضرور ہوگا جنہیں میں ان کے خوبصورت  ناموں سے  جانتی ہوں۔

فلزہ ابراہیم اور رضا حیات خان۔

میں نے ان دونوں کو بہت قریب سے دیکھا  ہے اور ایسے دیکھا ہے جیسے کسی نے نہ دیکھا ہوگا اسی لیے آج میں ایک بات کہنے کے قابل ہوئی ہوں۔ وہ بات جس کو میں ہمیشہ  جھٹلاتی تھی کہ شک کا فائدہ ہر ایک کو نہیں دینا چاہیے۔ ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے اور جب وہ حد پار کرلی جائے تو اس اسفل السافلین کو شک کا فائدہ نہیں دینا چاہیے۔ اصولوں پر سمجھوتے نہیں کیا کرتے اور جو یہ کرتے ہیں وہ اپنے ساتھ بہت غلط کرتے ہیں۔

ہماری یہ کہانی قریباً سال بھر پہلے سے شروع ہوئی تھی جب میں اپنے ماسٹرز کے پہلے روز سائیکالوجی کی کلاس لینے گئی تھی۔ میں نے زندگی میں کبھی اتنا پن ڈراپ سائلینس نہیں دیکھا تھا جو اس روز کلاس میں چھایا تھا۔ گردنیں سحر زدہ سی اس شخص کی طرف اٹھی ہوئی تھیں جو ہمارے سائیکالوجی کے پروفیسر تھے۔  پروفیسر۔۔۔۔ جو وہ کہیں سے نہیں لگتے تھے۔  میں بھی اس مسحور ہوئی اکثریت کے ساتھ تھی اور ان سب کی طرح میں بھی کچھ نہیں لکھ  پارہی تھی ۔ نوٹس لینے کا ہوش ہی کسے تھا۔ وہ تھے ہی ایسے شخص کہ جن کے سامنے نگاہ ٹھہرتی نہ تھی۔

وہ روسٹرم پر کھڑے ، اپنے سنجیدہ انداز میں لیکچر دے رہے تھے ۔ تیکھے نقوش ، خوب صورت آنکھیں،  صاف رنگت، جیل سے پیچھے کیے بال، قیمتی اور نفیس ایش گرے ٹو پیس میں ملبوس ، وہ بلا کے ہینڈ سم تھے۔ صرف و جاہت نہیں ایک اور کشش بھی ان کے اندر تھی جو مقابل کو اوندھے منہ گرا دیتی تھی ۔ وہ کشش کیا تھی، میں اسے کوئی نام نہ دے سکی۔  بس کوئی مقناطیسی اثر تھا جو ان کے گرد پھیلا تھا اور اس مقناطیسیت سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا تھا۔ کلاس ختم ہوئی تو سب کے لبوں پر ایک ہی نام تھا۔ سر رضا حیات خان۔

اس روز مجھے پہلی دفعہ پروفیسر رضا کا نام معلوم ہوا تھا۔ وہ ینگ تھے۔ اسمارٹ تھے اور ان کی حسِ مزاح بہت زبردست تھی ۔ ان کے لیکچر میں کوئی بور نہیں ہو سکتا تھا۔ کچھ ان کی شخصیت کا فسوں تھا اور کچھ کمال گفتار، وہ اپنے موضوع پر مکمل عبور رکھتے تھے اور وہ بھی لاجواب نہیں ہوتے تھے۔ ان سے پوچھے جانے والے ہر سوال کا جواب سائل کو ہمیشہ بروقت ملتا تھا۔  عمر میں وہ زیادہ نہ تھے۔  ایم فِل کیے ہوئے بھی انہیں زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور یونیورسٹی سے وہ پانچ برس سے منسلک تھے۔ ہم تو ان کے پرستار بن ہی گئے۔ ہمارے سینئرز کا تو اور برا حال تھا۔  پورے ڈیپارٹمنٹ میں اگر کسی کا چرچا تھا تو وہ سر رضا تھے۔

ان سے میرا با قاعدہ تعارف ان کی دوسری کلاس میں ہوا جب انہوں نے تمام طلبا سے اپنا نام بتانے کی درخواست کی۔  جب میری  باری آئی تو میں قدرے جھجک کر کھڑی ہوئی ۔  ”سر میرا نام حلیمہ داؤد ہے۔“

انہوں نے جواباً مجھے ہلکی نرم سی مسکراہٹ دی ۔  میں دھڑکتے دل کے ساتھ واپس نشست پر بیٹھی ۔ ان کی وہ مسکراہٹ میری متاع جاں بن گئی۔ وہ میرے لیے مسکرائے ، میرا نام سن کر مسکرائے۔۔۔۔۔  مجھے لگتا تھا میں کبھی اس لمحے سے نکل نہیں سکوں گی۔ مگر صبر اے  دل۔۔۔۔ ابھی اور بہت سے لمحے آنے تھے ۔

اس روز باہر زوروں کی بارش ہو رہی تھی اور اندر ہماری کلاس جاری تھی ۔ آج وہ سائیکا لوجی سے  ہٹ کر بات کرنے کے موڈ میں تھے اور ہم مسحور لوگ تو بندآنکھوں ان کی پیروی کیا کرتے تھے ۔

”کون بتائے گا کہ انسان کی شناخت کن چیزوں سے ہوتی ہے ؟ “ وہ چہرہ قدرے جھکا کر مائیک میں بولے تو بہت سے ہاتھ فضا میں بلند

ہوئے۔

”انسان کی شناخت اس کے نام سے ہوتی ہے سر،“

”اس کے ملک سے۔“

” قبیلے یاذات سے ۔“

” رسم ورواج سے۔“

” زبان سے۔“

” اس کے کردار کی خصوصیات سے۔“

”  کسی اچھے یا برے کا رنا مے سے۔“

وہ مسکرا کر ایک ایک کی سنتے گئے۔ دفعتاً میں نے اپنا کمزور سا ہاتھ بلند کیا، جانے اتنے لوگوں میں انہیں میرا ہا تھ کہاں سے نظر آ گیا۔

”جی حلیمہ داؤد۔۔۔۔۔۔ آپ بتائیں۔ انسان کی دنیاوی شناخت کس شے سے ہوتی ہے؟“ بہت سی گردنیں میری جانب گھومیں ، میں نے بہ مشکل تھوک نگلا ۔  سب کے سامنے بولنا میرے لیے ہمیشہ کٹھن رہا تھا مگر پروفیسر رضا کی ہمت افزا مسکراہٹ میرے اندر نئی روح پھونک گئی۔

”د۔۔۔دین سے ۔ “ میں ہکلا کر بولی تو ان کے چہرے پر چمک سی آگئی ۔

”فائنلی حلیمہ نے وہ بات کہی ہے جس کے سننے کا میں منتظر تھا ۔ ہم شناخت کے معاملے میں دین کو کیسے اسکپ کر سکتے ہیں؟ در اصل یہ سوشل سائینسز کا ایک اہم سوال ہے کہ جب ہم انسانی شناخت کی بات کرتے ہیں تو دین کو کیوں بھلا دیتے ہیں؟“ وہ اپنے

مخصوص پرکشش انداز میں ہاتھ ہلا کر کہہ رہے تھے اور میں بس اس ایک فقرے پر ہی ٹھہر گئی ۔

” فائنلی حلیمہ نے وہ بات کہی ہے جس کے سننے کا میں منتظر تھا۔“  باہر گرتی بارش کے قطرے میرے دل کو بھگو نے لگے تھے۔  مجھے لگ رہا تھا میں ابھی رو دوں گی۔

میں وہ تھی جسے ہجوم تو کیا دو لوگوں میں بھی کھڑی ہوں تو کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھے۔ چہرے پر عبایہ پہنے، کڑھائی والی چادر اوڑھے،  میں بے حدمعمولی شکل کی لڑکی تھی۔ اگر کوئی میری موجودگی کو نوٹ کرتا بھی تھا تو شاید میری ۔۔ بیساکھی کے باعث، جس کے سہارے میں چلتی تھی ۔ ایک حادثے میں کئی برس قبل میری دائیں ٹانگ مفلوج ہو گئی تھی اور اب میرا واحد سہارا میری بیساکھی تھی ۔  ایک کم شکل، معذور لڑکی کو کسی نے لمحے بھر کو تعریفی نگاہوں سے نوازا تھا، میں خود کو بادلوں میں تیرتا محسوس کرنے لگی تھی۔

شام کو جب میں اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تو خود سے باتیں کرنے لگی۔  ہر شخص خود کلامی کرتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ وہ خود کلامی نہیں کرتا ، وہ جھوٹ بولتا ہے، تنہائی میں، میں نے بھی اپنی ایک دنیا بنارکھی تھی، جہاں میں معذور اور کم شکل نہ تھی۔  جہاں میری ہتک اور تذلیل نہیں ہوتی تھی اور جہاں مجھے کوئی احساس کمتری نہیں ہوتا تھا۔  وہاں اس دنیا میں میں حلیمہ داؤد نہیں تھی۔ میں اینا یاورتھی ۔  یہ نام بھی خود کو میں نے۔۔۔۔ ہی دیا تھا۔  یہ نام مجھے بہت پسند تھا۔  اپنا نام بدلنے کا اختیار نہ تھا مجھے، اگر ہوتا تو بھی حلیمہ داؤد کے ساتھ میرا وجو د بھی نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا تھا اور میں خود کو کبھی اینا کا نام نہ دیتی۔

اینا بہت خوب صورت تھی، بے تحاشا امیر اور شاہی خاندان کی اکلوتی اولاد ۔  باپ کے اربوں کے بزنس کی اکلوتی جانشین اور یونیورسٹی کے ہر اسٹوڈنٹ کے دل کی دھڑکن روکنے کا سبب۔  وہ جب چلتی تھی تو لوگ سحرزدہ سے ٹھہر کر اسے دیکھتے تھے۔ اس کے حسن ، ذہانت اور دولت کے قصے ہر جگہ پھیلے تھے۔  وہ راجدھانی کی شہزادی تھی اور اس جیسا کوئی نہ تھا۔

اماں کی آواز آئی تو میں چونکی، پھر بیسا کھی سے خود کو گھسیٹتی باہر آئی ۔  اماں کی آواز یو نہی اکثر میرےارد گرد تیر تے ‘اینا یاور’  کے ست رنگے بلبلے میں چبھ کر اسے پھاڑ دیا کرتی تھی۔

”جی اماں!“  میں نے کچن کے کھلے دروازے سے جھانکا۔ وہ سِنک کے سامنے کھڑی برتن دھو رہی تھیں ۔ آواز پر پلٹیں۔

” تمہارے ماموں آئے تھے، آج پھر کرایے کا تقاضا کر رہے تھے ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں ۔ “ ان کے چہرے پر پریشانی رقم تھی۔ ہم جس گھر میں رہتے تھے اس کا کرایہ باقاعدگی سے ماموں کو ادا کردیتے تھے کہ نانا کی ملکیت تھا اور ان کے بعد اب ماموں اس کے مالک تھے ۔

 اماں کی بیوگی کے آغاز کے چند برسوں میں جب میں بہت چھوٹی تھی، ماموں نے ازراہ ہمدردی  ہمیں اس گھر میں مفت رہنے دیا تھا۔ (تب وہ خود بھی ادھر ہی مقیم تھے ۔ ایف سکس والے نئے گھر میں شفٹ ہوئے تو انہیں پانچ چھ برس ہی ہوئے تھے ) بعدازاں وہ ہم سے کرایہ وصول کرنے لگے اور اب وہ ان چند سالوں کی مفت کی رہائش کا کرایہ بھی سکہ رائج الوقت کے پیمانے پر طلب کر رہے تھے ۔  ابو کی چھوڑی دو دکانوں کے کر ائے سے ہمارے گھر کا خرچ ، مکان کا کرایہ اور میری تعلیم کے اخراجات بہ مشکل پورے ہوتے تھے۔ اب یہ اضافی خرچ کہاں سے لاتے؟

کوئی اور دن ہوتا تو میں اماں کو تسلی دیتی مگر آج میں خود بھی خاموش ہوگئی ۔  شاید میں ذہنی طور پر اماں کے پاس کچن میں تھی ہی نہیں بلکہ ابھی تک کلاس روم میں تھی۔ جہاں بارش کے تڑاتڑ گرتے قطرے بند کھڑکیوں کے شیشوں پر لڑھک رہے تھے ۔  اماں کافی دیر اپنے مسائل کا رونا روتی رہیں مگر جب میں خاموشی سے خلا میں گھورتی رہی تو وہ شکست خوردہ سی اپنے کاموں کی جانب پلٹ گئیں۔

ایک روز میں کلاس کے بعد لائبریری میں بیٹھی پڑھ رہی تھی جب مجھے سامنے کھڑے  بُک ریک کے پیچھے سے  مدھم سی آوازیں سنائی دیں۔ لاشعوری طور پر میں ان کی جانب متوجہ ہو گئی۔ وہ کسی اور کی نہیں بلکہ پروفیسر رضا کی ہی آواز تھی ۔

”آپ روئیں مت، آپریشن ہو جائے گا، میں کہہ رہا ہوں نا کہ ہو جائے گا۔“  میں نے گردن ذراسی ترچھی کی ۔ وہ بک ریک کے عقب میں کھڑے ہاتھ اٹھا کر کسی کو تسلی دے رہے تھے ۔

”سر آپریشن نہیں ہو سکے گا، ڈاکٹر نے آج کی آخری تاریخ دی تھی۔  میری بہن مر جائے گی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ “ وہ رندھی آواز میں بولتا زورین تھا۔ میرا کلاس فیلو، میں نے سنا تھا اس کی بہن کی کوئی پیچیده سی سرجری ہونی ہے، کبھی وقت ہی نہیں ملا کہ مزید تفصیل پوچھتی۔  ویسے بھی میں ان شریف لڑکیوں میں سے تھی جو لڑکوں سے مخاطب نہیں ہوا کرتی تھیں۔

”اچھا روم نمبر کیا ہے اس کا ؟“ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھے اپنے ازلی نرم انداز میں پوچھنے لگے۔ ذورین نے روم نمبر بتایا اور سر  جھکا ئے ، آنکھ کا کنارہ انگلی کی نوک سے پو نچھا۔  میں نے دیکھا، پروفیسر کے چہرے پر سوچ کی گہری پرچھائیاں تھیں، میں دھیرے سے سر جھٹک کر پڑھنے لگی مگر اب کتاب کی طرف ذہن کہاں متوجہ ہونا تھا۔

بہ مشکل تین دن گزرے تھے کہ مجھے ذورین کیمپس میں ایک جگہ سیڑھیوں پر بیٹھا نظر آیا۔ ساتھ اس کے دو تین دوست بھی تھے۔ اور وہ کسی بات پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس رہے تھے۔  مجھے ذرا اچنبھا ہوا  مگر خیر۔۔۔۔  میں سر جھکائے ، بیساکھی سے خود کو گھسیٹتی ان کے قریب سے گزر رہی تھی جب ذورین کے دوست کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔

”بہت مبارک ہو زوری،  میں گھر پر آنٹی کو مبارک بارہ دینے بھی آؤں گا۔“

”ہاں یار!  میں بتا نہیں سکتا کہ کتنا پرسکون ہوں ۔ “ ذورین  کے چہرے پر سچی خوشی بکھری تھی۔

”ارے ہاں ، کچھ پتا چلا کہ آپریشن کی پے منٹ کس نے کی تھی؟“

”نہیں۔۔۔۔ مگر وہ جو بھی تھا، فرشتہ تھا میرے لیے، اللہ اسے اجر دے۔ “ اور ان سے دور جاتے ہوئے میرے لبوں سے بے اختیار  نکلا تھا۔ ” آمین ۔ ” زورین بھلے نہ جانتا ہو مگر میں جانتی تھی کہ وہ کون تھے ۔

کچھ بدلتے موسم کا اثر تھا اور کچھ میری نازک طبیعت نے  مجھے ایسے نزلے زکام نے گھیرا کہ میں تین روز تک یو نیورسٹی نہ جاسکی۔ چوتھے روز جب کلاس میں گئی تو بھی زکام کی باقیات باقی تھیں۔ لیکچر کے اختتام پہ ج ب میں کلاس سے نکلی تو رضا حیات خان کاریڈور میں جیسے کسی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ایک لمحے کو مجھے اس پر رشک آیا جس کے انتظار میں وہ تھے۔ ان لمحوں کے انتظار نے اس نا معلوم شخص کو کتنا معتبر کر دیا تھا۔

”حلیمہ داؤد کدھر تھیں آپ ؟ میں آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔“  میں ان کے قریب سے گزرنے لگی  تو وہ مسکرا کر میری طرف  بڑھے۔ میں ٹھٹک کررک گئی۔ وہ میرا انتظار کر رہے تھے؟

”جج۔۔۔ جی پروفیسر؟“  میں سانس روکے انہیں دیکھے گئی۔  وہ میرے بالکل سامنے آرکے۔ ان کے شاندار وجود سے کسی قیمتی پر فیوم کی مسحور کن مہک اٹھ رہی تھی۔

”تین دن کدھر غائب رہیں ؟ میں تو پریشان ہی ہو گیا تھا۔“

”مم۔۔۔ میں ذرا۔۔۔۔ وہ فلو ہو گیا تھا۔“

”اوہ۔۔۔۔ اپنا خیال رکھا کرو، اسٹوڈنٹ کو بیمار نہیں پڑنا چاہیے اور اتنے برائٹ اسٹوڈنٹ کو تو ہر گز نہیں۔“  وہ مر کر دھیمے لہجے میں کہہ کر پلٹ گئے۔۔۔۔ اور میں حلیمہ داؤد اپنے ست رکھے بلبلے میں مقید فضا میں تیرنے لگی۔

ذورین کہتا تھا کہ وہ فرشتہ ہے ، مجھے لگتا تھا وہ کوئی یونانی دیوتا ہے جو آسمانوں سے اترا ہے مگر شاید وہ اس سب سے بڑھ کر کچھ اور تھے۔ وہ ساحر تھے ان کے ایک اشارے پر بل کھاتی رسیاں سانپ بن جایا کرتی تھیں اور مجھے سحر کہاں آتے تھے؟

ان دنوں مجھے لگتا تھا کہ دنیا میرے بلبلے کے آس پاس کہیں تحلیل ہو گئی ہے، سب فنا ہو چکا ہے اوراگر کچھ ہاتی ہے تو میرا انتظار۔۔۔۔ ہر روز رضا حیات خان کی کلاس کا انتظار۔۔۔ انہیں ایک نظر دیکھنے، ان کی ایک مسکراہٹ حاصل کرنے کا انتظار اور پھر کلاس کے اختتام کے بعد اگلے روز کلاس کا انتظار شروع۔۔۔۔ کبھی وہ مجھے دیکھتے، کبھی مسکرا بھی دیتے اور کبھی وہ اپنے ارد گرد لگے جمگھٹے میں اتنے مصروف ہوتے کہ انہیں میں دکھائی نہ دیتی۔ وہ دن میرے لیے بہت اذیت ناک ہوتا تھا جب ان کی نگاہ میری جانب نہ اٹھتی۔  اس دن مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ میں عجیب بیزاریت کی لپیٹ میں رہتی۔

وہ دسمبر کا ایک سرد دن تھا جب میں اماں کے ساتھ کسی کام سے شاہین کیمسٹ تک آئی۔ دکانوں کے سامنے سڑک پر خاصا رش تھا اور پر ہجوم جگہوں پر مجھے ویسے خوف آتا تھا۔ میں اپنی بیساکھی کے سہارے خود کو گھسیٹتی فٹ پاتھ پر چلتی جارہی تھی جب مجھے سڑک کے دوسری جانب ایک منظر دکھائی دیا ۔

Download Iblees Novel in Urdu PDF

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close