Maka Zonga by Mazhar Kaleem – Imran Series

سردی اپنے پورے شباب پر تھی۔ عموماً زندگی کی جوانیاں شام ہوتے ہی ختم ہوجاتی ہیں لیکن امراء طبقہ کی اصل زندگی شام سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس لیے شہر کے تمام بڑے بڑے ہو ٹلوں، رقص گاہوں، جوئے خانوں اور عیاشی کے خفیہ اڈوں میں شام ہوتے ہی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے اور پھر صبح تک رنگ و نور کا ایک سیلاب ہر طرف روں دوں نظر آتا۔ رین بو ہوٹل دار الحکومت کا انتہائی شاندار اور وسیع و عریض ہوٹل تھا جہاں صرف اعلیٰ امراء طبقہ ہی داخل ہونے کی جرات کر سکتا تھا۔ ویسے تو چہل پہل یہاں ہر رات ہوتی تھی لیکن آج تو یہ چہل پہل اپنے پورے شباب پر تھی۔ ہول میں کرسیاں انتہائی قرینے سے سجائی گئی تھیں ہر خالی ٹیبل پر ریزرویشن کار ڈلگا ہوا تھا۔ ہال کو اتنے خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا کہ انسان دیکھتے کادیکھتا ہی رہ جاتا۔ وہ ایسا محسوس کرتا جیسے الف لیلی دنیا میں آپہنچا ہو۔ پور اہال بھرا ہوا تھا۔ صرف چند میزیں خالی تھیں۔ یہ سجاوٹ اور رونق رقاصہ میری کے دم سے تھی جس کی شہرت کا ستارہ آج کل بام عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ پوری دنیا میں اس کے رقص اور حسن کی شہرت تھی، ہوٹل رین بو میں یہ اس کادوسرا رقص تھا۔ کل رقص ہی اتنا جذبات خیز اور نشہ آور ثابت ہوا کہ لوگ اس کے فن حسن اور شباب پر مرمٹے تھے۔ اس لیے آج کل سے بھی زیادہ رونق تھی۔ ابھی پروگرام شروع ہونے میں کافی دیر تھی۔ اس لیے تمام لوگ کافی اور شراب وغیرہ سے شغل کر رہے تھے۔ ہال میں ہلکے ہلکے مترنم قہقے گونج رہے تھے جن کی شیرینی کے سامنے ہال میں بجنے والا آرکسٹرا بھی کبھی کبھی ماند پڑ جاتا۔

Imran Series Maka Zonga

عمران کا ہوٹل میں شغل میلہ:

اچانک ہال کے دروازے پر عمران نمودار ہو اور زور سے کھنکھارا تو ایک دم تمام لوگوں کی نظریں اس طرف اٹھ گئیں اور پورے ہال میں ایک دم قہقے گونج اٹھے اس کی حالت ہی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان بھی ہنسنے پر مجبور ہو جاتا۔ ایک تو ٹیکنی کلر لباس پھر چہرے پر حماقت کی دبیز تہیں وہ ہال کو اتنی حیرانگی سے دیکھ رہا تھا جیسے پتھر کے زمانے کا انسان ہو۔ اور یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ دیکھنے کا انداز ہی اتنا مضحکہ خیز تھا کہ لوگوں کو بے تحاشہ ہنسنے پر مجبور کر دیتا۔ وہ غور سے ہر چیز کو دیکھتا پہلے ایک آنکھ بند کر کے پھر دوسری اور پھر دونوں آنکھیں جب دونوں آنکھوں سے کچھ نہ نظر آتا تو چہرے پر جھنجلا ہٹ طاری ہو جاتی اسے وہاں اس طرح دیکھ دیکھ کر ایک ویٹر ادب سے اس کی طرف بڑھا اور اس سے ریزرویشن کارڈ کے متعلق پوچھنے لگا پہلے تو عمران نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جب ویٹر زور سے بولا تو وہ ایسے اچھلا جیسے کسی سانپ نے اسے ڈس لیا ہو وہ سنبھلتے سنبھلتے ویٹر کو اپنے ساتھ زمین پر لے آیا ویٹر کے چہرے پر شدید غصے کے آثار تھے۔ لیکن وہ کچھ نہ بولا اور عمران کھڑے ہو کر ایسے کپڑے صاف کر رہا تھا جیسے گرنا اس کا معمول ہو پھر وہ وہاں سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک میز پر جابیٹھا میز پر اس کے نام کا کار ڈلگا ہوا تھا۔ جو اس کے بیٹھتے ہی پاس کھڑے ہوئے ویٹر نے اٹھا کر میز کے نیچے رکھ دیا اس میز پر چار کرسیاں تھیں۔ عمران نے ساتھ والی کرسی پرٹانگیں رکھ دیں اور اطمینان سے جیب میں ہاتھ ڈال کر چیونگم کا پیکٹ نکالا اُسے پھاڑا اور پھر چیونگم کا ایک پیس منہ میں ڈال لیا۔ لوگ اسے انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اور پھر اس کے بیٹھنے کا انداز۔ اب بھی ہنسی لوگوں کی برداشت سے باہر تھی۔ ایک سمارٹ نوجوان پاس والی میز سے اُٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا عمران کے انہاک میں کوئی فرق نہ آیا۔ نوجوان بولا۔
کیا آپ پہلی بار کسی ہوٹل میں آئے ہیں ؟ عمران چونکا اور نوجوان کی طرف دیکھ کر فوراً کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر سینے سے لگایا اور زور سے بولا۔ ہائے میری جان تیری تلاش میں میں نے تو سمندر چھان مارے ہیں، روسی راکٹ میں بیٹھ کر خلا میں ہو آیا ہوں مگر تم کہیں نہ ملے نوجوان گھبرا گیا اور غصے سے بولا کیا تم پاگل ہو۔
میری جان ہر عاشق کو پاگل ہی کہا جاتا ہے اور پھر تمھاری جیسی حسینہ کا عاشق۔ نوجوان جھینپ گیا اور پھر اس نے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس کی حالت دیکھ کر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے مگر وہ پھر اسی طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ اتنے میں صفدر جو لیا اور چوہان ہال میں داخل ہوئے وہ تینوں اعلیٰ لباس میں ملبوس تھے خاص تور پر جو لیا تو آج خوب بن سنور کر آئی تھی آج کی دعوت بھی انھیں عمران نے دی تھی۔ وہ عمران کی طرف تیر کی طرح بڑھے اور ہیلو کا نعرہ لگاتے ہوئے کرسیوں پر بیٹھ گئے مگر جولیا کی کرسی پر تو عمران پیر پھیلائے بیٹھا تھا اس لیے وہ کھڑی رہی اور عمران کی یہ حالت دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
یہ کوئی بیٹھے کا انداز ہے۔ ہٹاؤ میری کرسی پر سے پیر ۔ لیکن عمران بھلا ایسی کچی عرض کہاں سنتا ہے ؟ اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی وہ اس طرح پیر پھیلائے چیونگم چباتا رہا اب تو جولیا کا پارہ ایک دم ایک سو دس ڈگری پر پہنچ گیاوہ اور تو کچھ نہ کر سکی اس نے میز پر سے ایش ٹرے اُٹھایا اور عمران کے سر پر دے مارا مگر مقابل بھی عمران تھا۔ اس صدی کا چالاک ترین انسان۔ ایش ٹرے لگنے سے پہلے وہ کرسی چھوڑ چکا تھا جو لیا جھنجلا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ عمران پھر اپنی کرسی پر ایسے بیٹھ گیا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ تمام ہال کی نظریں ان کی طرف تھیں ان میں سے چند کی نظروں میں ملامت کے آثار تھے اور باقی مسکرارہے تھے۔ صفدر عمران کی طرف دیکھ کر بولا۔ عمران صاحب آج کی دعوت آخر کس مقصد کے لیے ہے؟
آج میں اور جولیا اپنے عشق کی پہلی سالگرہ منارہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ دعوت دی ہے ورنہ مجھے کسی حکیم نے بتایا تھا کہ میں اتنے پیسے خرچ کروں۔ صفدر اور چوہان ہنسنے لگے اور جو لیا بھنا کر رہ گئی۔ مگر کچھ نہ بولی۔اس کے بعد باتوں کا سلسلہ چل نکلا عمران نے کافی منگائی تھی آہستہ آہستہ جولیا بھی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔اور اس کا غصہ اتر گیا مگر عمران باتوں کے ساتھ ساتھ ہال پر بھی نظر دوڑا لیتا۔ اچانک وہ بری طرح چونکا اور کچھ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ لیکن یہ صرف چند سیکنڈ کے لیے ہوا۔ اس کے بعد وہ اسی طرح لاپرواہ ہو گیا لیکن صفدر خاص طور پر تشویش میں پڑ گیا کیوں کہ عمران کا اس طرح چونکنا اس کے لیے کسی خاص بات کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ اس کی نظریں فوراً داخلی دروازے کی طرف اٹھیں۔ وہاں سے ایک غیر ملکی نوجوان انتہائی اعلی گرم سوٹ میں ملبوس آہستہ آہستہ ایک میز کی طرف بڑھ رہا تھا۔ صفدر نے سمجھ لیا کہ عمران اسے ہی دیکھ کر چونکا ہے اس نے عمران سے پوچھا، یہ کون ہے ؟
”میری ہونے والی بیوی کے داماد کا سسر ۔“
یہ کیا بات ہوئی۔ چوہان نے حیرت سے منہ پھاڑ کر پوچھا۔ کمال ہے اتنی بڑی بات ہو گئی۔ اور تم کہتے ہو کوئی بات ہی نہیں۔عمران منہ بنا کر بولا۔
"آخر ہوا کیا ؟” جولیا نے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا۔ عمران نے ان کی طرف منہ کر کے آہستہ سے کہا۔
یہ نوجوان جرمنی کی سیکرٹ سروس سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام ملڈن ہے۔ ”جر منی “۔مگر یہ یہاں کہاں۔ صفدر اپنی حیرت نہ چھپا سکا۔
” یہی تو میں سوچ رہا ہوں۔“
”مگر تم اسے کس طرح جانتے ہو؟“
میں کس کو نہیں جانتا، کہو تو اس کی سات پشتوں کا حال بیان کر دوں۔ خیر ہو گا ہمیں کیا۔ عمران بولا۔ لیکن اس کے چہرے پر بھی تشویش کے آثار نمایاں تھے۔ صفدر کیا تمھارے پاس ریوالور ہے ؟ عمران اچانک صفدر سے مخاطب ہوا۔ نہیں کیوں ہم یہاں دعوت کھانے آئے ہیں نشانہ بازی کرنے نہیں۔ ہوں لیکن مجھے یہاں ہنگامہ ہوتا نظر آتا ہے خیر دیکھا جائے گا۔
اتنے میں رقص شروع ہو گیا، رقص واقعی ہیجان خیز تھا سب لوگ رقص دیکھنے میں مصروف ہو گئے لیکن عمران برے برے منہ بنارہا تھا، جولیا سے رہا نہ گیا۔ اس نے عمران سے پوچھا۔” تم یہ کونین کیوں چبار ہے ہو ؟“
”میں سوچ رہا ہوں کہ لوگ اس بے معنی اچھل کو دپر عاشق ہو گئے ہیں اس سے زیادہ اچھی اچھل کود تو کلو کی اماں کلو کے ابا سے لڑائی کے وقت کر لیتی ہو گی۔“
رقص اپنے پورے عروج پر تھا اور میری کا جسم آہستہ آہستہ لباس سے بے نیاز ہوتاجارہا تھا۔ لوگوں کے منہ سے سسکاریاں سی نکل رہی تھیں۔ اچانک عمران تیر کی طرح سیڑھیوں کی طرف بڑھا چلا گیا۔ اس کو گئے تھوڑی دیر ہوئی تھی۔ کہ ایک زور دار چیخ بلند ہوئی۔ رقص رک گیا۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان تینوں نے دیکھا کہ وہی نوجوان سینے پر ہاتھ رکھے فرش پر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ قتل قتل کا شور مچ گیا۔
لوگ جلدی سے کھسکنے لگے لیکن منتظمین نے دروازے بند کر دیئے جس پر چند لوگوں نے احتجاج کیا لیکن منیجر نے معذرت کی کہ جب تک پولیس نہ آجائے وہ دروازہ نہیں کھول سکتے۔ اتنے میں عمران واپس آتا ہوا نظر آیا۔ اس کے بال کچھ بکھرے تھے اور چہرے پر بھی دو تین خراشیں تھیں وہ آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جولیا نے کہا۔
کہاں گئے تھے ؟
”اپنی بیوی کے داماد کے سسر کے قاتل کو پکڑنے۔“
مگر تم نے اسے دیکھ کیسے لیا۔
مجھے گیلری کے پردے کے پیچھے پستول کی نالی کی جھلک نظر آگئی تھی۔ لیکن پہنچنے سے پہلے ہی وہ گولی چلا چکا تھا۔ اور پھر بھاگ گیا خیر میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ اتنے میں پولیس آ پہنچی اور تھوڑی سی تفتیش کے بعددروازے کھول دیئے گئے اور حسب توقع قاتل کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔

سیکرٹ سروس ممبران کی دانش ہوٹل میں میٹنگ:

ٹیلی فون کی گھنٹی زور سے بجی جولیا نے لپک کر ریسیور اٹھا لیا۔
”ہیلو جو لیا اسپیکینگ!“ اس نے کہا۔
ایکسٹو ایک غراہٹ سی بلند ہوئی اور جو لیا سنبھل گئی۔
”گڈ مارننگ سر۔“
”مار ننگ۔“
”جو لیا تمام ممبروں سے کہ دو کہ ایک گھنٹہ بعد دانش منزل میں جمع ہو جائیں آج ہماری ٹیم میں ایک نئے ممبر کا اضافہ ہو رہا ہے۔اس کا تعارف تم سب سے کرایا جائے گا۔“
جولیا نے تمام ممبروں کو فون کر کے یہ خبر سنادی۔
ایک گھنٹہ بعد سیکرٹ سروس کے تمام ممبران دانش منزل کے ایک ہال میں بیٹھے تھے۔ وہ آپس میں اس نئے ممبر کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔
آخر اتنے سارے ممبر بھرتی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم لوگ کم ہیں ؟ تنویر نے ناک سکوڑ کر کہا۔ ایکسٹو تم سے بہتر سمجھتا ہے۔ جولیا نے تنگ آکر جواب دیا۔
”ایکسٹو کوئی خدا نہیں۔ آخر وہ بھی ہماری طرح انسان ہے۔ خیر یہ تو نہ کہو۔ ایکسٹو جیسادماغ تو ہم سب مل کر بھی پیدا نہیں کر سکیں گے۔“ چوہان نے کہا۔ اتنے میں عمران دروازے میں داخل ہوا۔
یہ تم سب مل کر کسے پیدا کر رہے ہو، کیا اس کے لیے جو لیا اکیلی کافی نہیں۔ سب قہقہ مار کر ہنسنے لگے لیکن جولیا اور تنویر کامنہ بن گیا۔
ابھی وہ جواب دینے ہی والے تھے کہ یکایک ٹرانسمیٹر کا بلب سپارک کرنے لگا اور وہ سب ایکسٹو کو سننے کے لیےسنبھل گئے۔ لیکن عمران اسی طرح لا پرواہی سے بیٹھا رہا۔ کیا تمام ممبر آگئے ہیں ؟ ایکسٹو کی آواز آئی۔
جی ہاں ! جولیا نے جواب دیا۔
”خوب ! تو سنو آج میں آپ کا ایک نئے ممبر سے تعارف کرارہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ تم سب بھی اس سے مل کر ضرور خوش ہوں گے اور وہ ہماری ٹیم میں ایک شاندار اضافہ ہو گا اس کا نام کیپٹن شکیل ہے۔ میں نے اسے ملٹری انٹیلیجنس سے لیا ہے اور اس کا سابقہ ریکار ڈانتہائی شاندار ہے، باقی رہی پرسنالٹی والی بات تو وہ آپ سب خود دیکھ لوگے۔ ایکسٹو کی آواز آنا بند ہو گئی تھی۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور ایک دراز قدسید ھے بالوں والا نوجوان جس نے انتہائی خوبصورت چا کلیٹی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اس کا قد تقریباً چھ فٹ چار انچ کے قریب تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھرا ہوا اور فولاد کی طرح سخت معلوم ہوتا تھا۔ چہرہ بالکل سپاٹ تھا صرف کشادہ پیشانی پر دو لکیریں ابھری ہوئی تھیں جو اس کی وجاہت میں اور بھی اضافہ کر رہی تھیں۔ سب اس کی وجاہت اور خوبصورت شخصیت سے متاثر نظر آنے لگے۔ کیپٹن شکیل نے اندر داخل ہو کر سب کو سلام کیا اور پھر ایک ایک سے ہاتھ ملانے لگا۔ صفدر نے تعارف کی رسم ادا کی اور پھر وہاں چائے کا دور چلنے لگا۔اور اس دوران باتوں کا سلسلہ چھڑ گیا جس کا تعلق کیپٹن شکیل کی ذات ہی سے تھا۔

نئے ممبر (کیپٹن شکیل ) کا تعارف:

کیپٹن شکیل نے اپنا تعارف تفصیل کرایا کہ وہ ایک اعلیٰ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملٹری میں چلا آیا، وہاں سے ملٹری انٹیلیجنس میں لیا گیا اور اب اسے یہاں بھیج دیا گیا۔ اس کی باتیں کرنے کا انداز بھی انتہائی دلکش تھا لیکن یہ عجیب بات تھی کہ باتیں کرنے کے دوران اس کا چہرہ انتہائی سپاٹ رہتا تھا جیسے وہ میک اپ میں ہو۔ اس چیز کو جو لیا اور صفد ر نے محسوس کیا لیکن وہ چپ رہے۔
ایکسٹو کی آواز ٹرانسمیٹر سے دوبارہ ابھری۔
” کیپٹن شکیل۔“
”یس سر!“ کیپٹن شکیل فورا بولا۔
باقی سب لوگ قہقہ مار کر ہنس پڑے۔
صفدر بولا۔
آپ حیران نہ ہوں کیپٹن صاحب یہ ہیں ہی ایسے ابھی تو آگے آگے آپ پر ان کے جوہر کھلیں گے۔ میں کوئی مس جوہر کلکتے والی ہوں جو میرے جوہر کھلیں گے۔ صفدر تم نے میری توہین کر دی ہے اب میں یہاں سے ہر گز نہیں جاؤں گا۔ عمران براماننے والے انداز میں بولا اور ایک بار پھر سب ہنس پڑے جن میں کیپٹن شکیل بھی شامل تھا پھر یہ دلچسپ مجلس برخاست ہو گئی۔

ماکا زونگا کی دھمکی:

شہر میں گہما گہمی پورے زوروں پر تھی ہر شخص اپنے اپنے حال میں مست تھا ریڈیو پر دو پہر کی خبریں نشر ہو رہی تھیں۔ کہ اچانک ریڈیو کی نشریات میں گڑ بڑ ہونے لگ گئی اور پھر ایسا معلوم ہوا جیسے اناؤنسر کی آواز مدھم ہوتی چلی گئی وہ کہ رہی تھی کہ اے کرہ عرض کے لو گو سنبھل جاؤ۔ اب بھی وقت ہے کہ تم لوگ اپنے ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دو جنہوں نے تمھارے حقوق ضبط کر رکھے ہیں جو تمہیں غربت کی چکیوں میں پیس رہے ہیں، یہ سب غدار ہیں ان کو ان کی غداری کی بھیانک سزادو، یہ پہلا الٹی میٹم ہے اگر دوروز کے اندراندر تم لوگوں نے اپنے موجودہ حاکموں کے خلاف بغاوت نہ کی تو ”ماکاز و نگا“ کی نظروں میں تم بھی غدار ہو جاؤ گے۔ اور پھر تمہاری بھی وہی سزا ہو گی جو ان کی ہے۔ سنو اب بھی سنبھل جاؤ، ”ماکاز و نگا “ تمہیں وقت دے رہا ہے۔ دو دن صرف 48 گھنٹے، اس کے بعد تم سب پر ایک آفت ٹوٹ پڑے گی جس سے نہ جوان بچ سکیں گے نہ بوڑھے نہ عورتوں کو پناہ دی جائے گی اور نہ بچوں کو ہر امیر و غریب کو یکساں سزادی جائے گی اگر دوروز کے اندر اندر تم نے موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تو عوام اس سزا سے بچ جائیں گے اورماکازونگا کی نگرانی میں یہ دنیا جنت بن جائے گی۔ ماکازونگا زندہ باد۔ تقریر ختم ہوتے ہی اناؤنسر کی آواز دوبارہ آنے لگی۔
اس آواز کو سنتے ہی حکومت کی تمام مشرنغی پریشان ہو گئی ٹیلی فون پر ٹیلی فون ہونے لگے اس کی آواز کا مخرج معلوم کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ اسی وقت تمام دنیا کی نشریات جام ہو گئیں اور یہی آواز تقریباً ہر ملک کے اس علاقہ کی قومی زبان میں نشر ہوئی تمام دنیا اس اعلان سے بوکھلا اٹھی۔ عوام میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ چند لوگ اس کی حمایت میں تھے اور چند اس کے خلاف۔ شر پسند عناصر نے اپنی سر گرمیاں تیز کر دیں۔ لیکن ہر ملک کی حکومت نے سختی سے اس تقریر کی تردید کی۔ لوگوں کو ہوشیار کیا کہ اس کالے پروپیگینڈے سے بچیں دارالحکومت میں فوری طور پر حکام کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں کافی بحث و مباحثہ کے بعد یہ طے پایا گیا کہ نظم و نسق کو ہر حالت میں برقرار رکھا جائے اور غنڈہ عناصر پر کڑی نظر ر کھی جائے۔
شام کی خبروں میں ایک بار پھر یہ اعلان دہرایا گیا جس سے ہلچل میں اضافہ ہو گیا پھر تو خبروں کے ہر بلٹن کے دوران یہ اعلان دہرایا گیا اور مہلت کی مدت باقاعدہ گھنٹوں میں بتائی جاتی، پوری دنیا کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ساری دنیا میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا جیسے جیسے مدت ختم ہوتی جاتی۔،خوف وہراس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔
دار الحکومت کا نظم و نسق فوج نے سنبھال لیا لیکن حکام اور عوام دونوں پریشان تھے کہ یہ مصیبت کہاں سے نازل ہو گئی اور کس طرح ہو گی۔ اور کس قسم کی ہو گی سب کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا جس کا کوئی مناسب جواب نہ مل سکا تھا۔ آخر اس مہلت کے ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی رہ گیا پھر آہستہ آہستہ وہ گھنٹہ بھی گزر گیا لوگ پریشانی کے عالم میں گھروں میں گھس گئے اچانک فضا میں وہی آواز گونجنے لگی۔ کرہ ارض کے لوگو! تمھاری سزا کا وقت آپہنچا ۔ ماکازو نگا تمھیں بھیانک سزاد دینا چاہتا ہے لیکن چونکہ یہ پہلی وار ننگ تھی اس لیے سزا انتہائی کم دی جائے گی۔ اس کے بعد جو سزا ہو گی وہ انتہائی بھیانک ہو گی، لوگو تیار ہو جاؤ۔

ماکا زونگا کی سزا:

اب سے ٹھیک پانچ منٹ کے بعد تمہاری زمینوں میں پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمین کے چپے چپے میں سے پانی نکلنے لگا۔ تمام عمارتیں چاہے وہ کچی تھیں یا پکی ایسے گرنے لگیں جیسے ریت کی دیوار۔ لوگ ڈوبنے لگے تمام انتظامی مشینری فیل ہو کر رہ گئی سڑکوں پر پانی ہی پانی بہنے لگا۔ اور لوگ دھڑادھڑ اونچی اونچی جگہوں پر پہنچنے لگے لیکن اس دھکم پیل میں سینکڑوں لوگ مرگئے۔ لوگ حکومت کے خلاف ہو گئے۔ یہ سب کچھ آدھے گھنٹے کے لیے ہوا اس کے بعد زمین سے پانی نکلنا بند ہو گیا، اب ہر طرف قیامت کا سماں تھا ۔طوفانِ نوح کی تو صرف حکایتیں سنی ہوئی تھیں اب لوگوں نے اپنی آنکھوں سے طوفانِ نوح کا منظر دیکھ لیا تھا ہر طرف پانی ہی پانی تھا اب پانی نکلنا تو بند ہو گیا تھا لیکن عمارتیں دھڑا دھڑ گررہی تھیں لوگ عمارتوں سے سامان نکالنے لگے لیکن ہر طرف پانی ہی پانی تھا،سینکڑوں لاشیں اس پانی میں تیر رہی تھیں۔ ان میں بچے بھی تھے بوڑھے بھی اور عور تیں بھی۔ مختلف سامان بھی پانی میں تیر رہا تھا ہر طرف موت کی سی ویرانی چھائی ہوئی تھی لیکن یہ اچھا ہوا کہ ہر لمحہ پانی کی سطح نیچے گر رہی تھی۔ آخر جب پانی کی سطح بالکل نیچے ہو گئی تو بچے کھچے بد حال لوگ بلڈنگوں کی آخری منزلوں سے نکل آئے۔ اب شہر میں ہر طرف ما تم ہو رہا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ مر چکے تھے کروڑوں کا نقصان ہو چکا تھا۔ دار الحکومت کو فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا اور فوجی گاڑیاں اور ٹینک شہر میں گشت کر رہے تھے۔ ہر طرف اداسی ہی اداسی چھائی ہوئی تھی ویرانی ہی ویرانی موت کی ویرانی۔

صفدر کا تعاقب:

صفدر آرام سے بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ ایک دم اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کا نام لیا ہو وہ چونک اٹھا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ لیکن ہوٹل کے سب لوگ اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے وہ بڑا حیران ہوا پھر سوچا شاید کسی کے ساتھی کا نام ہو چنانچہ وہ پھر چائے کی پیالی کی طرف متوجہ ہو گیا کہ اچانک اسے ایک چھوٹاسا کنکر لگا بے ساختہ اس کی نظر اوپر اٹھ گئی تو گیلری میں اسے کیپٹن شکیل بیٹھا ہوا نظر آیا۔ کیپٹن شکیل نے اسے آنکھ اشارہ کیا وہ خود اٹھ کر باتھ روم کی طرف چلا گیا۔
صفدر نے اطمینان سے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور اٹھ کر باتھ روم کی قطار کی جانب بڑھ گیا ایک طرف اسے کیپٹن شکیل سگریٹ پیتا نظر آیا اس کی آنکھوں میں بے تعلقی تھی اور چہرہ ہمیشہ کی طرح ہر قسم کے جذبات سے عاری۔ صفدر جیسے ہی اس کے پاس سے گزرا ایک کاغذ کا پرزہ اس کے ہاتھ میں منتقل ہو گیا صفدر فوراً ایک خالی ہاتھ روم میں گھس گیا اس نے پرزہ پڑھاتو لکھا تات۔ صفد ر اپنی سامنے والی میز پر گرے سوٹ والے کا خیال رکھنا وہ تمہارا تعاقب کرتا ہوا یہاں تک آیا ہے۔
صفدر نے کاغذ کو مروڑ کر بیسن میں بہادیا اور خود دروازہ کھول دیا۔ باہر آگیا تو اسے وہی گرے سوٹ والا اپنی طرف آتا ہوا نظر آیا صفدر کو دیکھتے ہی اس کے چہرے ہر اطمینان کی جھلک نمایاں ہوئی صفدر بغیر توجہ دیئے اس کے پاس سے گزرتا چلا گیا صفد ر سیدھا کاؤنٹر پر گیا اور کاؤنٹر گرل سے فون کی اجازت چاہی۔ صفدر نے ایکسٹو کے نمبر گھمائے فوراادھر سے ایکسٹو کی مخصوص آواز ابھری۔
”ایکسٹو۔“
”میں صفدر بول رہا ہوں جناب۔“
”کہو کیا بات ہے ؟“ آواز میں سختی نمایاں تھی۔
”جناب میں آپ کے حکم کے مطابق ہوٹل شیزان میں ٹھیک چھ بجے پہنچ گیا تھا وہاں مجھے کیپٹن شکیل نے ایک گرے رنگ والے سوٹ کے متعلق بتایا کہ وہ میر ا تعاقب کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔“
صفدر۔۔۔۔۔۔ایکسٹو غرایا۔
یس سر! صفدر نے فورا کہا۔
تم فوراہوٹل سے چلے جاؤ، گرے سوٹ والا تمہارا پیچھا کرے گا اسے ہر حالت میں لے کر دانش منزل میں پہنچ جاؤ۔ میں ناکامی کی بات نہیں سنوں گا۔
او کے سر ۔ صفدر نے جواب دیا اور سلسلہ منقطع کر دیا۔ اس نے فون رکھ کر کاؤنٹر گرل کی طرف دیکھا لیکن وہ اس طرف متوجہ نہ تھی۔ صفدر نے آہستہ سے جیب سے پیسے نکالے اور کاؤنٹر پر رکھ کر باہر نکلتا چلا گیا۔ باہر آکر اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور ایک ٹیکسی کو بلا کر اس میں بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو نیو ہائی سٹریٹ کی طرف چلنے کا حکم دیا۔ ٹیکسی چل پڑی صفدر نے تھوڑی دیر بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سرخ رنگ کی کار بڑی تیزی سے اِن کے آگے نکل گئی اسے وہی گرے سوٹ والا ڈرائیو کر رہا تھا۔ صفدر مسکرایا اور اس نے ڈرائیور کو کہا کہ اس کا پیچھا کرو۔
ڈرائیور نے کہا مگر جناب۔ صفدر نے کہا کہ یہ پولیس کا کام ہے گھبر اؤمت اور ڈرائیور بڑی مستعدی سے اس کا پیچھا کرنے لگا۔ اچانک سرخ رنگ کی کار جھرنا جھیل کی طرف مڑگئی۔ یہ ایک سنسان سڑک تھی صفدر سنبھل گیا اب تمام راستہ سنسان شروع ہو گیا تھا اچانک سرخ رنگ کی کار سڑک پر ٹیڑھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے بڑی پھرتی سے بریک ماری ٹیکسی رک گئی ایک کار پیچھے بھی آرکی اس میں سے چار آدمی پستول لئے نیچے اتر آئے۔
صفدر بری طرح گھر چکا تھا لیکن وہ اطمینان سے بیٹھار ہا وہ چاروں اس کی کار کے گرد کھڑے ہو گئے ان میں سے ایک نے صفدر کو نیچے اتر نے کو کہا جیسے ہی صفدر نیچے اتر اوہ سرخ رنگ کی کار تیزی سے آگے بڑھ گئی اور صفدر اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔ وہ چاروں اسے پستول کی زد میں لئیے اپنی کار کی طرف بڑھنے لگے۔ صفدر نے سوچا۔
اس طرح تو وہ خود کسی حقیر چوہے کی طرح چوہے دان میں پھنس جائے گا۔ اسے کچھ کرنا چاہیے۔ یہ سوچتے ہی وہ چلتے چلتے ایک دم بیٹھ گیا۔ اس سے بالکل پیچھے آنے والا اس کے اوپر سے گرتا ہوا آگے جاپڑا صفدر کو اتنا موقع کافی تھا۔ وہ باقی تینوں سے الجھ پڑا اور اتنی تیزی سے لاتیں اور گھونسے مارنے لگا کہ ان کے ہاتھ سے پستول چھوٹ گئے اور وہ صفدر سے گتھم گتھا ہو گئے صفدر بھلا تین آدمیوں کے بس میں کہاں آتا تھا۔ اس نے دومنٹ سے بھی کم عرصے میں تینوں کو لٹاد یا اچانک اس کے پیچھے سے ایک چیخ ابھری اور وہ اچھل کر ایک طرف ہٹ گیا۔ اسے اپنے پیچھے ایک آدمی جس کو اس نے نیچے بیٹھ کر گرایا تھا گرتا ہوا نظر آیا۔ یہ کارنامہ ٹیکسی ڈرائیور کا تھا جس نے ایک پتھر سے اسے مار گرایا تھا۔ صفدر نے ان چاروں کی تلاشی لی تو سب کی جیبوں سے ایک عجیب و غریب کارڈ نکلا جس پر سرخ روشنائی سے ماکازونگا لکھا ہوا تھا۔ نیچے موت کی تصویر یعنی کھوپڑی اور اس کے نیچے دو ہڈیاں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں وہ ٹیکسی ڈرائیور بھی قریب آ گیا۔ صفدر نے اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھا اور اس کی مدد سے ان چاروں کو اٹھا کر ان کی کار میں ٹھونس دیا اور خود ٹیکسی میں بیٹھ کر واپس شہر کی طرف چل پڑا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ وہ اس سرخ رنگ کی کار کو نہیں پاسکتا۔ وہ ایکسٹو سے سخت شرمندہ تھا اب نہ جانے اس کی اس ناکامی پر ایکسٹو کارد عمل کیا ہوگا لیکن شاید ان کارڈوں کی وجہ سے جان بچ جائے۔ شہر آنے پر اس نے ٹیکسی فون بوتھ کے قریب رکوادی۔

کیپٹن شکیل اور حبشی کے درمیان لڑائی:

جیسے ہی گرے سوٹ والا ہوٹل سے اٹھا کیپٹن شکیل نے اپنی جگہ چھوڑ دی بل وہ پہلے ہی ادا کر چکا تھاوہ تیر کی طرح گرے سوٹ والے کے پیچھے گیا۔ گرے سوٹ والا ایک سرخ رنگ کی سپورٹس کار میں بیٹھ رہا تھا۔ کیپٹن شکیل نے تیزی سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر وہ ڈگی کو آہستہ سے اٹھا کر پھرتی سے اندر گھس گیا۔ اتنے میں کار آہستہ آہستہ چل پڑی پھر وہ تیزی سے بھاگنے لگی کیپٹن شکیل ایک جھری سے پیچھے کا نظارہ دیکھ رہا تھا اچانک کار نے ایک ٹیکسی کو کراس کیا اس میں اسے صفدر کی قمیض کے کف میں لگے ہوئے مخصوص بٹن کی جھلک نظر آئی۔ پھر وہ سرخ ٹیکسی تیزی سے کار کے پیچھے بھاگتی ہوئی نظر آئی۔ اچانک کار رک گئی۔ کیپٹن شکیل نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا، نہیں تو اس کا سرڈگی کے ڈھکنے سے جا ٹکراتا۔ ٹیکسی کے بریک بھی بڑی تیزی سے لگے تھے۔ کیپٹن شکیل کو ڈر تھا کہ کہیں کار میں موجود گرے سوٹ والا اتر کر پیچھے نہ چلا آئے لیکن کوئی نہ آیا۔ اس نے دیکھا کہ صفدر کی کار کے پیچھے ایک اور کار آکر ر کی اور صفد ر چار پستولوں کی زد میں نیچے اتر رہا ہے ابھی وہ کچھ کرنے کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ کار تیزی سے چل پڑی۔ اب ساری سکیم اس کی سمجھ میں آگئی تعاقب کو روکنے کا بہترین طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔

کار تیزی سے چل رہی تھی اچانک وہ کچے میں اتر گئی۔ اب کیپٹن شکیل سخت مشکل میں پھنس گیا۔ کیوں کہ اسے خطرہ تھا کہ کہیں ڈگی کے اچھلنے یا خود اس کے اچھلنے سے گرے سوٹ والا ہوشیار نہ ہو جائے۔ لیکن کچے میں تھوڑی دیر ہی چل کر کار رک گئی اور وہ گرے سوٹ والا اتر کر ایک طرف چل پڑا۔ کیپٹن شکیل بھی پھرتی سے ڈگی میں سے اترا اور ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ سامنے ہی ایک کچی سی عمارت نظر آرہی تھی وہ کار سے اترنے والا شخص اس میں داخل ہو گیا۔ کیپٹن شکیل نے بھی اس عمارت میں داخل ہو کر عمارت کے دروازے کے بعد ایک راہداری بنی ہوئی تھی جس کے دونوں طرف کمرے تھے۔ ایک دروازے کی درز میں سے روشنی کی پتلی سی باہر لکیر آرہی تھی۔ کیپٹن شکیل بلی کی سی چال چلتے ہوئے اس دروازے تک پہنچا اس کے ہاتھ میں ریوالور مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ اور وہ انتہائی چوکنا نظر آرہا تھا۔ اس نے درز سے آنکھ لگا کر دیکھا تواند ر چار آدمی نقاب پہنے صوفوں پر بیٹھے تھے۔ گرے سوٹ والا ایک طرف کھڑا تھا۔
کیا رہا۔ ایک نقاب پوش نے پوچھا
سب ٹھیک ہے۔
گرے سوٹ والے نے جواب دیا۔
کسی نے تعاقب تو نہیں کیا؟
تعاقب کیا تھا مگر ترکیب نمبر چار سے روک دیا۔
اچانک کیپٹن کو پیچھے سے ایک لات لگی۔ اور کیپٹن بے خیالی میں کمرے کے اندر جا گرا لیکن فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ دروازے پر ایک قوی ہیکل حبشی ہاتھ میں پستول تھامے کھڑا تھا اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ کمرے میں بیٹھےہوئے چار نقاب پوش ہڑ بڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ کیپٹن کا پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرے سوٹ والے کے قدموں میں جا گرا تھا۔ جسے اس نے اٹھا لیا تھا اب کیپٹن شکیل خالی ہاتھ تھا۔
”صاحب یہ کتا باہر سے باتیں سن رہا تھا۔“ حبشی غرایا۔
”ہوں۔“ایک نقاب پوش کی پھنکارتی ہوئی آواز آئی۔
کون ہو تم اور یہاں کیسے آئے۔ اس نے کیپٹن شکیل کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا۔ سوال کے پہلے حصے کا جواب میں نہیں دے سکتا۔ البتہ دوسرے کا بتا سکتا ہوں کہ میں (گرے سوٹ والے کی طرف اشارہ کر کے ) ان کی کار کی ڈگی میں آیا ہوں۔ تمہیں یہ بتانا پڑے گا کہ تم کون ہو اور یہاں کیسے آئے ہو۔ نقاب پوش کی غراہٹ بھیانک ہو گئی۔ لیکن کیپٹن شکیل نے کوئی جواب نہ دیا۔ نقاب پوش نے حبشی کی طرف دیکھ کر کہا اس کے دماغ ٹھکانے لگاؤ۔ اس گرانڈیل حبشی نے اپنا پستول ایک نقاب پوش کے حوالے کر دیا اور خود آہستہ آہستہ کیپٹن شکیل کی طرف برھا۔ انداز انتہائی مرعوب کن تھا لیکن کیپٹن شکیل ایک ٹھوس چٹان کی طرح کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی شکن نہ تھی۔ وہ انتہائی اطمینان سے اس حبشی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
حبشی اس کا یہ اطمینان دیکھ کر ایک لمحے کے لیے جھجکا لیکن پھر اچانک اچھل کر کیپٹن شکیل کی طرف آیا۔ کیپٹن شکیل انتہائی پھرتی ایک طرف ہٹ گیا۔ حبشی اتنی تیزی میں ہی آگے کی طرف بڑھا پیچھے سے کیپٹن شکیل نے اس کی پشت سے ایک بھر پور لات ماری اور حبشی اچھل کر سامنے والی دیوار ٹکڑا گیا پھر اچانک وہ تیزی سے پلٹا اس کا چہرہ لہولہان ہو گیا تھا اور انتہائی بھیانک لگ رہا تھا آنکھوں میں شعلے سے بھڑک اٹھے تھے اس نے اپنا دایاں ہاتھ تیزی سے ہلایا کیپٹن شکیل نے فورا پہلو بدلا لیکن حبشی اسے ڈاج دینے میں کامیاب ہو گیا۔ فوراً انتہائی پھرتی سے بیٹھ گیا اور زور سے اپنے بائیں ہاتھ سے کیپٹن شکیل کے منہ پر بھر پور گھونسہ مار دیا اور کیپٹن شکیل لڑکھڑاتا ہوا تین قدم پیچھے چلا گیا۔ اب کیپٹن شکیل کی آنکھوں میں سرخی آگئی لیکن چہرے پر وہی اطمینان تھا۔ اچانک کیپٹن شکیل اپنی جگہ سے اچھلا اور اس کے دونوں پیر تیزی سے حبشی کے سینے سے ٹکڑائے حبشی کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی اور وہ زمین پر گر پڑا اس کے منہ اور ناک سے خون کے فوارے ابل پڑے کیپٹن شکیل کی زور دار فلائنگ کک سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں وہ چند سیکنڈ کے لیے تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا چاروں نقاب پوش ایک لمحے کے لیے حیران رہ گئے ۔
کیپٹن شکیل انتہائی تیزی سے گھوما اور دوسرے لمحے گرے سوٹ والا اس کے ہاتھوں میں تھا۔ وہ دروازے کی طرف بھاگا گرے سوٹ والا اس کے ہاتھوں میں ایک بے بس پرندے کی طرح مچل رہا تھا۔ اچانک نقاب پوشوں کو ہوش آیا ایک نے گولی چلا دی لیکن بے سود گولی دروازے کے سامنے والی دیوار سے ٹکرائی تھی کیپٹن شکیل راہداری کے آخری سرے تک دوڑتا گیا پھر اچانک پلٹا اور ایک ساتھ کے کمرے میں گھس گیا۔ گرے سوٹ والا اب بھی اس کے ہاتھوں میں مچل رہا تھا لیکن کیپٹن شکیل نے اس کا منہ سختی سے دبادیا۔ نقاب پوش ڈرتے ہوئے راہداری میں آئے لیکن کیپٹن شکیل انہیں نظر نہ آیاوہ راہداری سے باہر نکل گئے وہاں بھی کیپٹن شکیل کا کوئی پتہ نہ تھا۔ اتنی جلدی بھلا کہاں جاسکتا ہے ۔ایک نقاب پوش نے کہا۔ پتہ نہیں، ایک غراہٹ بلند ہوئی۔ کہیں پچھلے دروازے سے تو نہیں بھاگ گیا۔ پہلے نے کہا اور چاروں پچھلے دروازے کی طرف بھاگے لیکن وہاں بھی نہ تھا۔ ایک نقاب پوش نے جو ان کا سردار تھا تینوں کو عمارت کے مختلف کونوں میں دیکھنے کے لیے بھگادیا
اور خود بلڈنگ دیکھنے کے لیے گیا۔ اتنا وقفہ کیپٹن شکیل کے لیے کافی تھا اس نے گرے سوٹ والے کو ہاتھوں پر اٹھایا اس کے منہ پر ہاتھ رکھنے کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا تھا وہ گیٹ کے سامنے کھڑی ہوئی سرخ کار میں جی کچھ نہ کچھ تو ہو جائے گا میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں۔
گرے سوٹ والے کو اس نے پچھلی سیٹ پر پھینکا اور پھر انتہائی تیزی سے کار بیک کی۔ اور سڑک پر سے ہوتا ہوا تیزی ایک طرف چل پڑا اس کی کار کی پچھلی طرف سے گولیاں ٹکرائیں لیکن جلد ہی اس کی کار پستول کی رینج سے نکل گئی چند ہی لمحوں میں وہ جام نگر والی سڑک پر تھا۔ اس کی کار انتہائی تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ اور اس کارخ دانش منزل کی طرف تھا۔

عمران اور سر سلطان کی بات چیت:

عمران کی سرخ رنگ کی کار سر سلطان کی وسیع و عریض کو ٹھی کے پورچ میں جا کر رک گئی۔ وہ دروازہ کھولتے ہی تیزی سے نیچے اترا۔ اس بار اس کے جسم پر سلیقے کے کپڑے تھے اور چہرے پر حماقت کی تہیں بالکل غائب تھیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ عمران کی بجائے کوئی اور ہے۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہو اسر سلطان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو گیا۔ سر سلطان اپنے ڈرائنگ روم میں بڑی پریشانی سے ٹہل رہے تھے ان کی پریشانی پر غور و فکر کی گہری لکیریں نمایاں تھیں۔ عمران کو دیکھتے ہی ان کے چلتے قدم رک گئے عمران نے سلام کیا۔ سر سلطان نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ سر سلطان عمران کو اس روپ میں دیکھ کر اور بھی سنجیدہ ہو گئے۔ دومنٹ تک تو کوئی بھی نہ بولا پھر سر سلطان نے سکوت توڑا۔
عمران بیٹے حالات کا تو تمہیں علم ہے۔ جی ہاں بخوبی۔ عمران نے جواب دیا۔میں تو سوچتے سوچتے تھک گیا ہوں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا اُدھر عوام حکومت کے خلاف بغاوت پر تلے کھڑے ہیں اور ادھر حکومت بے بس نظر آتی ہے کہ وہ کس طرح اس مصیبت کا مقابلہ کرے۔ سر سلطان نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
بیٹا اب سب کی نظریں تمہاری طرف ہی لگی ہوئی ہیں اور ہاں ملڈن کا پتہ چلا کہ وہ یہاں کس لیے آیا تھا۔ بلیک زیرو نے اس کے متعلق تحقیق کی ہے اس رپورٹ کے مطابق وہ بھی اسی "ماکاز ونگا” کے چکر میں یہاں آیا تھا لیکن کسی سے رابطہ قائم کرنے سے پہلے ہی ہوٹل میں قتل کر دیا گیا۔
” ہوں۔“ سر سلطان نے سوچتے ہوئے کہا۔
کیا جر من حکومت کو اس کی ہلاکت کی خبر پہنچادی ہے ؟
ہاں۔ ہماری حکومت نے اسے مطلع کر دیا ہے۔ اچھا مجھے اجازت دیجئیے میں نے بہت سے کام کرنے ہیں۔ عمران نے اٹھتے ہوئے کہا۔
اچھا اللہ تمہیں کامیاب کرے سر سلطان نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا اور عمران تیزی سے باہر نکل گیا۔ اس نےبڑی تیزی سے کار کو ٹھی سے باہر نکالی۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی اور دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی دار الحکومت میں اس دفعہ ایسی تبا ہی آئی تھی کہ اس سے پہلے اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور دارالحکومت غیر ملکی جاسوسوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں عمران اور اس کی ٹیم کے سر پر ہی تمام ذمہ داریاں آ گئی تھیں۔

عمران کا جھرنا جیل کی عمارت کا دورہ:

عمران کی کار بڑی تیزی سے جھرنا جھیل کی طرف جارہی تھی۔ اس کی آنکھیں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں وہ بے انتہا چوکنا تھا جھرنا جھیل کے قریب جا کر اس نے کار روک دی اور پھر وہ آہستہ سے کار کا دروازہ کھول کر نیچے اتر آیا۔

اس کا دایاں ہاتھ اس کے کوٹ کی جیب میں تھا آہستہ آہستہ وہ ہاتھ کوٹ کی جیب سے باہر آیا اس میں کارڈ تھا جس پر ما کازونگا لکھا ہوا تھا اس نے وہ کارڈ نکال کر غور سے دیکھا اور پھر اسے جیب سے لائٹر نکال کر جلایا اور اس کارڈ کو اس کی لوپر رکھ دیا آہستہ آہستہ اس کارڈ پر ایک عمارت ابھرتی ہوئی نظر آئی اس نے غور سے اس عمارت کی طرف دیکھا اور پھر کارڈ کو جیب میں ڈال دیا اب وہ آہستہ آہستہ وہ درختوں کی قطاروں کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جارہا تھا۔ تھوڑی دور چل کر اسے یہ عمارت نظر آگئی جس کی تصویر اس پراسرار کارڈ پر تھی۔ عمارت انتہائی خستہ اور پرانی تھی۔ کسی زمانے میں یہ عمارت واقعی فن تعمیر کا در نمونہ تھی لیکن اب بے رحم زمانے کے ہاتھوں اس کی تمام دلکشی اور خوبصورتی مٹ چکی تھی۔ اب تو وہ شکستہ اینٹوں اور گرد و غبار کا ایک ڈھیر تھی لیکن اس کے باوجو د کھنڈر بتارہے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔ عمران نے ایک نظر اس پر ڈالی کچھ دیر سوچتا رہا پھر واپس اپنی کار کی طرف چل پڑا اب اس کے قدم تیز تیز بڑھ رہے تھے۔

اس نے کار کا سٹیر نگ سنبھالا اور اسے سڑک کے ایک طرف لمبی لمبی گھاس میں اگی ہوئی خود رد جھاڑیوں کے گھنے جھنڈ میں اس طرح چھپادیا کہ وہ بالکل نظر نہ آتی تھی اور خود وہ دوبارہ اس عمارت کی طرف چل پڑا جب وہ اس جگہ پہنچا جہاں سے وہ واپس مڑا تھا۔ تو اس نے ایک بار پھر غور سے عمارت کو دیکھا لیکن عمارت کاارد گرد کا ماحول بالکل خاموش تھا ایک بار اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ اس عمارت کو رات کی تاریکی میں چیک کرے لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ اس عمارت کی طرف چل پڑا اسے یہ تو یقین تھا کہ کسی نہ کسی واسطے سے یہ عمارت ماکازونگا سے تعلق رکھتی ہے اس لئے وہ انتہائی محتاط تھاوہ لمبی لمبی گھاس کی آڑ لے کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔

جب وہ عمارت کے نزدیک پہنچاتو کچھ دیر اس گھاس میں دبک کر بیٹھا رہا پھر وہ آہستہ سے اٹھا اور عمارت میں داخل ہو گیا۔ عمارت تمام تر سنسان تھی کوئی بھی ایسا کمرہ نہ تھا جو شکستہ نہ ہو۔ ہر طرف مکڑی کے جالے تنے ہوئے تھے۔ وہ سخت پریشان ہو گیا۔ کہ اس ویران عمارت کا ماکاز و نگا سے کس طرح تعلق ہو سکتا ہے۔ اس عمارت کو دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں کوئی نہیں آیا ہر چیز گرد و غبار سے اٹی ہوئی تھی۔ اس کی باریک بین نظریں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں اچانک وہ چونکا اسے ایک چھوٹا سا پیچ پڑا ہوا نظر آیا جو عموماً کوٹ کے کالر پر لگایا جاتا ہے اس پر ایم زیڈ کے الفاظ کندہ تھے اور اس پر ایک بل کھاتا ہوا اثر رہا ابھرا ہوا تھا جس کی سرخ زبان باہر کو نکلی ہوئی تھی اس نے وہ پیج اٹھا کر جیب میں ڈال دیا۔
اب وہ انتہائی احتیاط سے ادھر اُدھر نظریں ڈال رہا تھا۔ ایک جگہ اسے گرد و غبار ذرا کم نظر آیا۔ اس نے بغور دیکھا تو کسی کے جوتوں کے ہلکے ہلکے نشان نظر آنے لگے وہ کچھ سوچ کر مسکرایا اب اس کا ازلی احمق پن اس کے چہرے پر دوبارہ نظر آنے لگا ۔اس نے ایک بار پھر چاروں طرف دیکھا پھر منہ لٹکالیا اور مایوسی سے گردن جھٹک کر واپس مڑ گیا وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا باہر آیا اور پھر تھوڑی دور چل کر ایک اونچے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ ابھی اسے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اس عمارت سے دو آدمی نکلے ان کے ہاتھوں میں سٹین گنیں تھیں۔انہوں نےچاروں طرف دیکھا اور پھر کسی کو نہ پا کر واپس چلے گئے عمران کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا اور وہ وہاں سے اتر کر واپس کار کی طرف آیا اور تھوڑی ہی دیر بعد اس کی کار شہر کی طرف دوڑنے لگی۔ اب اس کے ہاتھ سراغ کی ایک کڑی آگئی تھی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ کم از کم یہ ان کا کوئی اہم اڈہ ہے جس میں یقیناً تہہ خانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہو گا۔

عمران اور جولیا کی چپقلش:

جو لیا جھلائی ہوئی ایک بس اسٹینڈ پر کھڑی تھی۔ نجانے آج کیا بات تھی کہ اس کے اشارے پر کوئی ٹیکسی بھی نہیں رکتی تھی۔ وہ اپنے فلیٹ میں آرام سے لیٹی ہوئی تھی کہ ایکسٹو کا فون آیا کہ فورادانش منزل پہنچو اور وہ اس وقت سے ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی سوکھ رہی تھی۔ آخر تنگ آکر وہ بس سٹاپ پر آگئی لیکن بس تھی کہ آنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی کہ اچانک ایک کار اس کے پاس آکر رکی اس میں سے عمران اپنی تمام حماقت مابیوں سمیت تشریف فرما تھے۔ جوزف کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ عمران نے اسے دیکھتے ہی آنکھیں جھپکنی شروع کر دیں۔ میں نے کہا کہ محترمہ اندر تشریف لائیے دھوپ میں رنگ کالا ہو جائے گا۔ نہیں مجھے دانش منزل جانا ہے جو لیا نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔

Download Maka Zonga PDF – Imran Series


متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close