Junoon e Ulfat Novel in Urdu by Mehwish Ali

Mehwish Ali Novelist

عصرِ جدید کے علمی اور ادبی تسلسل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور نئے دور کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہی ادیبوں اور ناول نگاروں کو موجودہ دور نے اپنی آغوش میں جگہ دی ہے۔ ان ہی میں ایک نمایا ں نام ممتاز ناول نگار ”مہوش علی “ ہیں۔ آپ نے اپنی تحریروں کو جدت اور نئی اصطلاحات کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ اپنی علیحدہ پہچان کا موجب وہ اپنے علوم و فنون میں نئے خیالات کے اضافے اور معاشرتی رحجان  کی عکاس قوت تحریر کو بتاتی ہیں ۔ آپ نے ادبی ڈھانچے میں اصطلاحات کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کے رحجان اور اجتماعی سوچ کی بھر پور نمائندگی کی ہے۔ دقیانوسی سوچ ، عدم دلچسپی کی موجب فن تحریر سے گریز ہی اُن کی دورِ حاضر میں پذیرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Mehwish Ali Novels

  • Junoon e Ulfat 
  • Dasht E Wehshat
  • Ehd E Ulfat
  • Intehai Junooniyat
  • Tera Ashiq Mein Dewana Hoon Awara
  • Dastak e Dil
  • Eid Sang e Mohabbat
  • The Bodyguard
  • The Wex Wolf

Junoon e Ulfat Urdu Novel by Mehwish Ali

Junoon e ulfat urdu novel complete

” آآ۔۔ آپ شش۔۔ شاہو ۔۔ ماما سے بات کیوں نہیں کرتے وہ رو رہی ہیں آپکے لئے۔“  خوف سے زرد پڑتی ہاتھ ملتی ہوئی وہ روتی جانے کیسے ڈرتےاس کے روم میں قدم رکھتی سامنے بیڈ پر بیٹھے ساحل شاہ کو دیکھتی ت بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔

اپنے روم میں اچانک سے سسکتی آواز پر اپنے سرخ غصے سے لہو ہوتی آنکھیں اس سمت اٹھائیں جہاں سے یہ آواز ابھری تھی۔  پردوسرے پل سامنے کھڑے وجود کو دیکھتے اسکی آنکھوں میں جیسے دنیاجہاں کی نفرت کا ابال امڈ آیا۔

”شاہو۔۔۔“

وہ شاکڈ کیفیت میں اس چھوٹی کانپتی تیز تیزسانسیں لیتی لڑکی کو دیکھتا بڑبڑایا۔

لبوں سے نام ادا ہوتے ہی سامنے چھناک سے مہکار کا سر اپا لہرایا، ساتھ ایک پرانی یاد جب وہ کبھی موڈ میں ہوتی اسے ”شاہو“ کہہ کر بلاتی تھی۔

اور آج اسکی ہی پالی ہوئی بیٹی اسکے سامنے کھڑی اسے شا ہو بلا رہی تھی یہ جانے بنا کہ اسے کس قدر نفرت ہے اس نام  سے اور ان دونوں کے وجودسے۔

اسکا بس چلے تو بھڑ کتی بھٹی کی نذر کر دے انکے وجود کو اور یہ لڑکی التجائیں کرنے آئی تھی کہ ”اسکی مام کو بچا لو۔۔۔“

اس ساحل شاہ سے جسکی اول و آخر خواہش تھی کہ وہ عورت تڑپے تا کہ اس کے وجود کو اس کی روح کو سکون ملے ۔ جس طرح وہ تڑپاتھا پل پل اسکے لئے پر وہ نفس کی پجارن، کبھی اسکی طرف پلٹ کر نہیں دیکھتی تھی اور آج اس کی زندگی کی بھیک کیلئے سب بار بار اس کے در پر آرہے تھے توکیا ساحل شاہ یہ موقعہ جانے دیتا۔

”دفع ہو جاؤ مریضہ !“ دفعتا اسے دیکھتے اسکا ضبط جواب دے گیاوہ دفعتا غصے اور حقارت سے غر ایااور ساتھ ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھا ٹائم پیس اٹھا کر ٹھا کے ساتھ ہی دیوار پر دے مارا۔۔

وہ جو پہلے ہی اس کے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی دیوار پر اس اچانک حملے سے اٹھتی ٹھاہ کی آواز سے اسکی چیخ وحشت ناک تھی۔

”ماما۔۔!“ وہ روتی چیختی سہم کر دروازے سے لگی۔

”جاؤ دفع ہو جا ؤ ورنہ یہ اب ٹیبل اٹھا کر تمہارے سر پر دے ماروں گا۔۔ شکل دفع کرو اپنی ،نفرت ہے مجھے تم دونوں ماں بیٹی سے۔“ بیڈ سے اتر کر وہ اسکی طرف بڑھتے ہوئےآپے سے باہر غر ا رہاتھا۔

حقیقت یہی تھی کہ انکے بارے میں سوچتے سنتے وہ آپے سے باہر ہوجاتا تھا۔ اس کا غصہ اس کی نفرت اس کے کنٹرول سے باہر ہو جاتی تھی۔اور اب تو وہ بالکل سامنے آکر اس وجود کی اس سے بھیک مانگ رہی تھی جو کہ دنیا کا سب سے ناگوار وجو دتھا اس کے لئے۔

”مم ۔۔ ممیں۔۔ جا۔ جاتی۔۔ ہوں۔۔شش۔ شاہو۔۔ م۔ مجھے۔۔مت۔۔ ما۔ مارو۔۔۔ “ اسکی سانسیں پھولنے لگیں حد سے زیادہ اسکا نازک سرا پا لرزتا ہوا ابھی زمین بوس ہونے لگا تھا۔

جیسے جیسے اسکے قدم اپنی طرف بڑھتے دیکھ رہی تھی ویسے ہی اسے اپنی موت اپنی سمت چلتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کر دی اسکے روم میں اسکے پیچھے آکر ۔۔

پر وہ تو اسے بتانا چاہتی تھی کہ مام ہم دونوں سے بہت پیار کرتی ہیں بلکہ روحا سے زیادہ وہ ساحل شاہ سے پیار کرتی ہیں۔ اپنے شاہو کو وہ نہیں بھول پار ہی۔ پر مقابل چلتا آرہا۔ اس کی مام کے "شاہو ” کا انداز دیکھتے  ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے موت ناچ رہی تھی۔

”م۔۔ میں۔۔ نہیں۔ کہتی۔۔ کچھ ۔۔“

”وو۔۔ وہ ۔۔۔۔ص۔۔ صرف۔۔ آپکی۔۔ ہیں۔۔ مم۔۔مام۔۔۔“ اس نے روتے ہوئے اسےاپنی طرف بڑھتے دیکھ کر نفی کرتی سامنے ہاتھ جوڑ گئی۔۔

”نفرت کرتا ہوں میں تم سے،سمجھی ، بے تحاشہ نفرت کرتا ہوں۔ بے انتہا تم دونوں سے۔۔“ وہ اسکے سر پر پہنچ کر حلق کے بل غر ایا۔۔

”آہ۔۔۔ مام۔۔۔“ اس کی غراہٹ پر پر روحا چیخ کر اچھل پڑی۔

”شٹ اپ ، نہیں وہ تمہاری مام ۔“اسکامنہ دبوچ کر وہ چیخا اس پر۔

”وہ۔۔۔ وہ ۔۔ ہماری۔۔ مام۔۔ ہیں۔۔ “ اس نے روتے ہوئے اپنا چہرہ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے نڈھال ہو کر سمجھانا چاہا۔

چٹاخ۔۔۔ اچانک اسکے گال پر پڑنے والا تھپڑ اس قدر زور دار تھا کہ اسے لگا اس کا دماغ گھوم گیا ہے۔۔ پل کیلئے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

سینت سینت مہکار شاہ کی آغوش میں پلتی آئی وہ نازک کمزور سی روحا شاہ آج انکے پتھر دل بیٹے کی نفرت کی آگ میں جل رہی تھی۔

”نہیں وہ ہماری مام ! نہ میری، نہ ہی تمہاری۔۔ اگر تم نے آئندہ اسے مام کہا تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔ مٹھی میں تنہاری زبان نوچ لوں گا۔ دور رہواس سے۔ تڑپنے دو ا سے، مرنے دوا سے، جس طرح اس نے مجھے مارا ہے۔۔۔“وہ زور سےاسے دروازے سے لگاتا پاگل بنہ غرار ہاتھا۔

”نہیں۔۔و۔۔۔ وہ۔۔۔ میری مام۔۔ ہیں۔۔۔شاہو۔۔۔“ وہ خوف سے تھر تھر کانپنے کے باوجود اس پر چیخی جس سے مقابل کی آنکھوں میں خون اترآیا۔

اسکی دہشت کے خوف سے اس چھوٹی سی لڑکی کا استھما بڑھ گیا اور وہ بری طرح کھانستی اس کی پکڑ میں مچلتی اپنی مام کو چیخ چیخ کر بلانے لگی۔

”ممم ۔۔ مم۔۔ میرا۔۔ انہیلر ۔۔۔۔” اسے ہاتھ دروازے پر مارے اسکےکندھوں پر مارے۔

اسے بری طرح انہیلر کیلئے تڑپتے مچلتے دیکھ کر مقابل کے لبوں پر گہری مسکراہٹ بکھر گئی۔ پر اس حالت کے باوجود اسے پھر سے مام کی رٹ لگاتے ، اپنے حکم کی نفی کرتے دیکھ کر بالکل پاگل ہوتا اسکی پتلی سی گردن کو دبوچ گیا۔۔

”اگر آج تم مر گئی تو تمہارے ساتھ وہ بھی ہمیشہ کیلئے اس اذیت میں دبوچ لی جائے گی۔ ایسے تڑپے گی، جس طرح میں تڑپا ہوں جس طرح مجھے تکلیف ہوتی تھی۔ “اسکی پکڑ مضبوط ہو گئی اس کی نازک سی گردن پر۔

”تم نے اپنی موت خود چنی ہے میرے راستے آکر ۔ تمہیں موت بھی بھی میں اپنی مرضی کی دوں گارو حا حیدر شاہ۔۔“

”میں شاہو نہیں، تمہارا دشمن ہوں۔۔“

اسکے کان میں سر گوشی کے انداز میں صور پھونکتے اس نے ہاتھ کا دباؤ بری طرح سے بڑھا دیا اس کی گردن پر کہ وہ پھڑ پھڑا اٹھی کسی ذبح بے قصور ہرنی کی مانند۔

”نن۔۔ نہیں۔۔ شش۔۔ شاہو۔۔ نن۔ نہیں۔۔ “ پھولتی دیتی ہوئی سانس اس کے منہ سے سفید جاگ کے ساتھ جانے کیسے یہ التجا لبوں سے آزاد ہوئی۔۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تشدد کا وحشت ناک منظر:

”کہاں لے جا رہے ہو مجھے ؟“ زخموں سے چور بدن لیے وہ بازو میں سخت گرفت ہونے کی وجہ سے مزاحمت کے سارے راستے بند دیکھ کر مقابل کے ساتھ تقریباً گھسیٹتا ہوا جارہاتھا۔

اسکے سوجے حلق سے بمشکل نکلے سوال کو بری طرح نظر انداز کیاگیا تھا۔

”کہاں لے جار۔۔۔ر رہے ہو ۔۔ چھ ۔۔ چھوڑو۔۔ مجھے ۔۔جانے۔۔ دو۔“  وہ سخت مزاحمت کی کوشش کرنے لگا پر اس کے بازو کو زور دار جھٹکا دیا گیا جس کےساتھ ہی اس کے وجود میں درد کی ایک خطر ناک لہر اٹھی جو پورےوجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ ساتھ ہی حلق سے ایک دلخراش چیخ ابل پڑی۔

”چپ کر کے چلو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔ “ مقابل نے اس کی مزاحمت کو دیکھا اور  ایک زور دار تھپڑ اس  کے پہلے سے زخمی پھٹے گال پر مارتے ہوئے جھٹکا دے کر بولا۔

”آہ۔ “ اسکی درد بھری سسکی فضا میں گونج اٹھی۔ سب نے اپنی سانسیں حلق میں دبالیں، کہیں ان کی موجودگی کا احساس کرتے اس کو

چھوڑ کر انہیں نہ اٹھا لیں۔

پر یہ بھی جانتے تھے اسکے ساتھ کوئی دشمنی ضرور تھی جسکی بنا پر وہ اس پر اس قدر بے رحمانہ تشدد کر رہے تھے۔ وہ جانے کیسےبرداشت کر رہا تھا اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا اپنی سانسیں ہار چکا ہوتا۔

افسوس یہ کہ وہ یتیم تھا اسکے اپنوں میں کوئی نہیں تھا نہ ہی اسےیہاں جہنم سے بچانے والے تھے۔ سیکنڈ سیکنڈ میں اسکے وجود کو بری طرح زخمی کیا جاتا، جگہ جگہ سے چیر کر اس میں نمک مرچ بھرتے اسے اذیت سے چیختے دیکھ کر اسکی ویڈیو بنائی جاتی۔ وہ نہ جانے کس روح کو سکون پہنچارہے تھے۔

جانے کیسی دشمنی تھی اس معصوم کے ساتھ کہ اسکا پور پور لہولہان کر دیا تھا۔ اسکے منہ پر مکے مارنے سے اب مسلسل تھوک کی جگہ لہو ٹپک رہا تھا۔ ناک سے بھی ٹپک ٹپک کر بہہ رہا تھا۔ وجود پر ایک لہو سے نم پھٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور آنکھیں مسلسل درد پررونے سے دھندلی ہو چکی تھیں کہ اسے احساس نہیں تھا رات ہے یا صبح۔

کچھ دیر پہلے وہ اس اندھیرے میں ڈوبے روم میں پڑا کراہ رہا تھا جہاں سے اب اسے نکال کر باہر گھسیٹتے ہوئے کسی اور جگہ منتقل کرنے کیلئے جار ہے تھے۔

اسکی مزاحمت بے کار تھی کیونکہ اب اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کسی بچے سے بھی لڑسکے۔ اسکا پور پور لہو سے نہایا ہوا درد سے سن تھا،  اس کا دماغ کام کرنے سے انکاری تھا،  وہ جتنی اذیت برداشت کر چکا تھاوہ بھی اس کے لئے داد کی بات تھی۔ پر اب وہ ناکام تھا۔ اپنے وجو د کے ہر عضو سے۔وہ کسی بھی طرح کی مزاحمت نہیں کر پارہاتھا۔

جانے کتنی مسافت طے کر کے آیا تھا پر اسے احساس نہیں تھا۔ اسے لا کر ایک جگہ پر بری طرح زور سے زمین پر مارا گیا۔

”آہ“۔۔۔۔ ایک دم سریخ بستہ فرش پر لگنے سے وہ خود میں سمٹ کر زور دار چیخ مارنے لگا۔

”چپ کر۔ ورنہ ابھی ہاتھ منہ میں ڈال کر حلق نوچ لیں گے۔“

اس کی چیخ پر ایک زور دار بوٹ میں مقید پاؤں کی بھاری ٹھو کر مارتے ہوئے وہ آدمی غرایا۔

فرش پر بہتے خون، سر کو گھومتے زوں زوں کی آواز کانوں میں محسوس کرتے، وہ چیخنے رونے لگاز مین پر ایسے جیسے کوئی بن پانی کی مچھلی تڑپے۔

”تجھے سمجھ نہیں آئی۔چپ کر ورنہ گلا ابھی کاٹ دوں گا۔ “ اپنی غراہٹ کا اس پر اثر نہ دیکھتے ہوئے مقابل نے غیظ و غضب میں اس کے وجود  پرپے در پے در لاتیں ٹھوکریں مارنا شروع کر دیں۔ساتھ ہی غلیظ گالیاں بکتے اس کے پھٹے خون سے نم بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا۔

”درد ہورہا؟؟؟ بہت درد ہو رہا ہے نہ تمہیں؟؟ پر دردا سے نہیں کہتے۔۔۔ درد سے تو تجھے اب روشناس کر وائیں گے کہ درد اصل میں ہوتا کیا ہے۔“ وہ اس کے مٹھی میں جکڑے بالوں سے اسے گھسیٹ کر کچھ آگے آئے۔

فضا میں اسکے ساتھ ہی دردناک چیخیں بلند ہو گئیں، اسکے وجودکی ساری رگیں درد سے سکڑ گئی تھیں جس سے اسے بے حد تکلیف ہورہی تھی۔ نہ صرف ہاتھوں پاؤں کی رگیں بلکہ چہرے ماتھے اور سر کی رگیں بھی درد سے اسکی روح کو نوچنے لگیں۔

”ماما۔۔۔ مم۔۔۔ما۔۔ماما۔۔۔“   فرش کو نوچنے کی کوشش کرتا وہ چیخ کر مدد کیلئے اپنی ماں کو بلانے لگا۔۔ ”پپ۔۔ پاپا۔۔۔۔ “ اس کی دردناک چیخیں مزید بلند ہوئیں ساتھ مقابل کے قہقہے بھی۔

”کوئی نہیں آئے گا نہ مامانہ ہی پاپا۔۔ تجھ جیسے حیوان وحشی سے وہ رشتہ ختم کر چکےہیں۔  تجھے ہمارے حوالے کر دیا ہے۔۔۔ انہوں نے تجھ سے جڑے ہر انسان سے رشتہ ختم کر دیا ہے بلکہ تجھے ایسی موت مارنے کا حکم دیا ہے تمہارےباپ نے کہ وہ آنے والی نسل کیلئے ایک عبرتناک مثال بن جائے۔“

پیشانی سے اوپر اسکے بال مٹھی میں جکڑ کر جھٹکا دیتے سر اونچا کیا اور بڑے خوفناک انداز میں قہقہہ لگاتے اسکے کانوں میں صورپھونکا۔ جسے سنتے ہی وہ وجو د درد کراہ آہ سب بھول کر خاموش ہو گیا۔

”تجھے مار کر تمہارے وجود کو ٹکڑوں میں کاٹ کر کتوں کے حوالے کریں گے۔ یا تجھے پاگل کر کے ایسی موت دیں گے جس سے ہم پر کوئی الزام نہ آئے بلکہ ۔ خودکشی قرار دی جائے ہاہاہاہا۔۔“ وہ اسے اپنے ارادوں سے آگاہ کرنے لگا۔

”جھوٹ بولتے ہو تم، بکواس کرتے ہو تم، میرا باپ ایسا نہیں کر سکتا۔ میری ماں مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔۔ “ وہ حلق بل چلایا۔۔ بس میں نہیں ورنہ ساری دنیا تہس نہس کر دیتا۔

بھلا کوئی ماں باپ کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کو جہنم میں پھینک سکتے ہیں۔ ماں باپ تو وہ ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کی غلطی کے باوجوداسےسات پردوں کے پیچھے چھپا لیتے ہیں تو بھلا کیسے ممکن تھا کہ اس کے ماں باپ خود اجازت دیتے کے اس کے وجود کا پور پور کاٹ کراس میں کانچ کے ٹکڑے بھرے جائیں۔

ایک معصوم کم سن دماغ رکھنے والے کو ٹارچر کیا جائے۔ اسکے زخموں پر نمک مرچیں ڈال دی جائیں اس کے اوپر کبھی گرم تو کبھی یخ پانی ڈالاجائے۔ اسے دنیا کی ہر اذیت دینے کی بھر پور کوشش کی جائے بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی ماں باپ ایسے کریں۔

”حیوان۔۔۔وحشی۔  تجھے ابھی امید ہے تمہارے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ؟ “ زور دار بوٹ کی ٹھو کر اس کے دائیں سائیڈ مارتے اس وجود کوزندہ قیامت کی سیر کروا کر آئے۔۔

”تجھ میں رحم ہے جو تو رحم کی بھیک مانگ رہا ہے؟“

”آہ۔۔۔“  ایک درد میں ڈوبی دھاڑ اس زیرو پاور بلب کی روشنی والی کو ٹھڑی کے درو دیوار سے ٹکرا کر پورے روم میں گونجتی دم توڑ گی۔

”چیخے گا؟ اور چیخ دیکھتا ہوں کتنا چیخ سکتا ہے۔“ مسلسل اسے غلیظ گالیوں سے نوازتے وہ بھاری بوٹ سیدھا اسکے چہرے پر رکھتے اسے زوردےکرکچلنے مسلنے لگا۔ اور اس بوٹ کی بے دردی تلے وہ نیچے اپنے پورے وجودسمیت تڑپنے لگا چیخنے لگاتھا۔

”میرے ماں باپ ایسا نہیں کر سکتے بکواس کر رہے ہو تم ۔۔“  وہ اٹکتے درد کرتے گلے کے ساتھ مشکل سے یہ الفاظ ادا کر پایا۔

”بکواس بند کرو۔ تم نے جو کیا ہے اس معصوم کے ساتھ اس کی سزا تمہارے لئے بھیانک ہو گی بہت بھیانک کہ آئندہ کوئی یہ سوچے تو اسکی روح کانپ جائے گی۔“

” یقین نہیں نا تمہیں کہ تمہارے ماں باپ نے تمہیں اس جہنم میں بھیجا ہے تو سنو اپنے کانوں سے۔ ” اسے غلیظ گالی دیتے ایک دماغ والی ٹھوکر رسید کرتے ہوئے وہ پوری کوشش میں تھا کہ اس کا  دماغی توازن بگڑجائے تا کہ اسے مارنا آسان ہو جائے۔

ایک نہیں بہت سے لوگوں کا پریشر تھا اس پر کہ ایسی سزاملنی چاہیے اسے کہ وہ زندہ ہو کر بھی زندہ نہ ر ہے۔ بار بار موت کی دہلیز سے لوٹ کر آئے اور ایسی ایسی اذیتیں ملنی چاہیے کہ انکے دیئے ہوئے پیسے فضول ضائع نہ ہوں۔

وہ کراہیں آہیں بھر رہا تھا کہ دفعتاً موبائل سے گونجتی اس بھاری آواز کوپہچان کر تھم گیا، سانس بھی مٹھی میں جکڑ لیں۔۔ "ہیلو! آپ کا بیٹا آپ سے ملنا چاہتا ہے۔“ زمین پر پڑا اپنی کراہیں گھونٹ کر ، سانسیں دبائے بے حس و حرکت پڑا اپنے تمام کمزورحواسات ، موبائل کے اس پار بیٹھے شخص کی چلتی سانسوں سے جوڑ چکا تھا۔ اس کے اگلے جواب سے جوڑ چکاتھا۔

 نہ جینے کی چاہ تھی نہ مرنے کی،  بیچ میں سولی پر لٹکاوہ وجود بھی ایک آس میں تھا۔ اس ممتا بھری چھاؤں کی آس میں تھا۔ جسے سوچتے

گزرے وقت اسکے آنچل میں منہ چھپائے سوتے یاد کر کے وہ بے آواز بے حرکت رونے لگا۔۔

وہ بے تحاشہ رونے لگا، جب خود کو اس مضبوط حصار گھنے درخت کی چھاؤں کے بجائے ممتا کی چھاؤں رحمتوں کے بجائے یخ بستہ فرش پر پھٹے کپڑوں لہو لہان وجو دسمیت پایا۔

دل کیا دھاڑیں مارے چیخے اتنا چیخے کہ اسکا حلق پھٹ جائے پر اسکی دھاڑیں عرش الہی تک جا پہنچیں۔

”کس بیٹے کی بات کر رہے ہو ؟“ دوسری طرف سپاٹ  سرد انداز میں انجان ہو کر پوچھا گیا۔ زمین پر اس وجود کے سینے میں جیسے خنجر پیوست ہو گیا۔ زخم گہر اپڑاتھا،  ادا ہوئے الفاظ سے۔  پر نہیں۔ ابھی ہمت نہیں ہارنی تھی۔ کیونکہ ابھی تو وہ استفسار کر رہاتھا۔ ضرور وہ اسے پہچان جائے گا۔

”وہ آپ کا بیٹا جو ہمارے پاس ہے۔ “ مقابل نے نام لیکر اس سے آگاہ کیا۔

”معذرت آپ لوگوں کو غلط فہمی ہو گئی ہے میرا اس نام سے کوئی بیٹا نہیں۔ “ دوسری طرف نام سن کر بھی صاف اور بری طرح جھڑک کر انکار کر دیا گیا جیسے حقیقت میں وہ اس سے واقف نہ تھے۔

کیسے واقف نہ ہوں گے وہ انکی بانہوں ان کے کندھوں پر کھیلا ہے۔ سالوں ساتھ گزارے ہیں، اپنوں نے ہی تو نام رکھا تھا پسند سے۔ آج اسی نام کو پہچاننے سے وہ انکاری تھے ۔۔

”سر پلیز وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے وہ پاگل ہو رہا ہے اپنے ماں باپ  کیلئے مسلسل چیخ چلا رہا ہے۔ سب کو مار پیٹ رہا ہے۔ زخمی ہو گیا ہے۔۔ اپنے ماں باپ سے بات کرنے کیلئے تڑپ رہا ہے ہمیں ہماری ڈیوٹی نہیں کرنے دے رہا وہ آدمی اس کے پاس بیٹھ ہر ممکن کوشش

کرتا کہہ رہا تھا جس سے ممکن ہو مقابل اس سے بات کرلے۔

”یہ تم لوگوں کا سر درد ہے جب میں کہہ رہا ہوں میرا اس نام سے کوئی بیٹا نہیں تو کیوں تنگ کر رہے ہو ؟ ہم دونوں میاں بیوی اس نام

کے کسی بیٹے کو نہیں جانتے، نہ ہی ہمارا اس نام سے کوئی بیٹا تھا یا ہے۔ اب اگر ہمیں دوبارہ کال کر کے ڈسٹرب کیا گیا یا میری غیر موجودگی میں میری بیوی کو تنگ کیا تو اگلی بار میں کال لگاؤں گا اور ایسی جگہ لگاؤں گا کہ تمہیں دوبارہ یہ ایرے غیرے کی ہمدردی کا بخار نہیں چڑھے گا۔“

غراتے نفرت سے کہہ کر ٹوں ٹوں کرتی آواز سے موبائل آف ہو گیاتھا۔

موبائل آف ہوتے ہی کو ٹھڑی میں گہراسکوت چھا گیا۔

”نہ ماں نہ باپ، نہ اپنے نہ ہی پرائے ہاہاہاہا۔۔۔“

ایک زور دار مکر وہ قہقہہ فضا میں گونجا اور اسکے ساتھ ہی اس کے بال مٹھی میں جکڑ لیے گئے۔۔

”اب تمہیں معلوم ہو گا اذیت کیا ہوتی ہے۔”

دفعتاً کسی جنگلی جانور کی طرح غراتے ہوئے بالوں کو جھٹکا دیا اور ساتھ ہی کوئی سخت چیز اس کے منہ میں ڈال کر اس کی آواز کو حلق میں دبا دیا گیا۔ اور اس کے ساتھ ہاتھ باندھتے ہوئے اسکے وجود پر قہری ستم برپا کیاگیا کہ کو ٹھڑی کے یخ بستہ فرش پر وہ کسی بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتا اس زیادتی پر چیختا چلاتا مزاحمت کر رہا تھا۔

اس کی روح کانپ رہی تھی اس کا وجود نوچا جا رہا تھا، کیسا ظلم، کیسا ستم تھا، اپنے ہو کر بھی کوئی اپنا نہیں تھا۔ وہ تن تنہا حیوانوں کے بیچ آگیا

تھا۔  جہاں اس سے اذیت پر چیخ چلانے کا بھی حق چھین لیا گیا تھا۔

وہ نوچا جا رہا تھا، اسکا پور پور جیسے کتوں کے منہ میں تھا ، نہ کوئی اپنا تھا،  نہ ہی اسے بچانے کیلئے پرایا۔

اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیر اچھانے لگا، پر اس اندھیرے میں جانے سے پہلے اس کے سامنے ایک کر کے سارے چہرے لہراتے گئے۔ جو کہ اس سے اپنے ہونے کا احساس منٹوں، سیکنڈوں،  پلوں میں چھین کر اس پر ہر قسم کے ظلم کی اجازت دے چکے تھے۔

درندہ اپنی دردنگی میں لگا ہوا اتھا، دیکھتے دیکھتے اسکے حلق کی غوں غرر دب گئی اور مزاحمت بے دم ہو کر دم توڑ چکی تھی۔ ہر سوں مکمل اندھیرا چھا گیا۔ اسکی زندگی میں بھی اور آنکھوں میں بھی۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

”کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے سائیں کی جان؟ “  تلاوت کے بعد اسے واپس بیڈ پر لیٹتے دیکھ کر صائم پریشان اسکے پاس آگئے۔ عموماً وہ

تلاوت کرنے کے بعد ناشتہ تیار کرنے چلی جاتی تھیں۔

جی ٹھیک ہوں سائیں، آپ پریشان نہ ہوں۔ بس کل ایک سیر یئس کیس میں ساری رات دن جاگنے سے ہلکا سا سر درد ہو رہا ہے۔“ لبوں پر مسکراہٹ سجاتے سامنے پریشان کھڑے اپنے شریک حیات کو مطمئن کر نا چاہا۔

پر جانتی تھیں سامنے کوئی عام نہیں جسے ٹالا جا سکے بلکہ اس کا سائیں   تھا جو اسکی رگ روح سے واقف تھاا۔

”یہ ہلکا سر درد ہے تمہاری آنکھیں پوری سرخ ہو رہی ہیں! تمہیں اتنا تیز سر درد ہے اور تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا تقویٰ؟“

 اس کی لا پرواہی پر وہ غصے سے بولتے سر سے ٹوپی اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے فوراً سے پاس آکر بیٹھ گئے۔

”آپ خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں سائیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔آپ کو خود ابھی ہاسپٹل جانا ہے۔ میں ٹھیک ہوں جاتی ہوں ناشتہ

۔۔۔ “اوہ ابھی کہہ ہی رہی تھیں کہ ایکدم صائم نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

”تم زیادہ نہیں بولنے لگی مولانی؟ جب کہہ رہا ہوں چپ تو کیوں مزید بحث کر رہی ہو ؟“ خاموش رہو اور مجھے اپنا کام کرنے دو اگر ذراسی مزاحمت کی تو مجھ سے سائیں کے روپ کی توقع مت رکھنا۔۔ ” انہوں نے غصے سے وارن کرتے تقویٰ کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ دیا۔۔

شدید سر درد ہونے کے باوجود اپنا سر ان کی گود میں دیکھ کر شروع کےدنوں کی طرح آج بھی تقویٰ کے چہرے کے خدوخال میں سرخی دوڑ گئی۔

Junoon e Ulfat Novel PDF Download (Complete)

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close