Khooni Anjam Suspense Urdu Novel

خونی انجام

صبا اپنے محلے کی الہڑ مٹھیار تھی۔ وہ جدھر سے بھی گزرتی تو لڑکے اس کو حسرت سے دیکھتے۔ صبا بھی اپنے حسن پر بہت زیادہ ناز کرتی تھی۔ دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ جس کی وجہ سے وہ لوگوں کی قدر بھی بھول گئی تھی۔ وہ بہت زیادہ حسین تھی ، لمبی بل کھاتی ہوئی ناگن زلفیں ، جوانی اس پر ٹوٹ کر برسی تھی۔ جھیل سے گہری آنکھیں، کسا کسا جسم جو کہ لڑکوں کو بے چین کر دیتا تھا۔

khooni anjam urdu suspense novel

ایک روز صبانہ جانے کن خیالوں میں کلاس کےدروازے کے پاس کھڑی تھی کہ اتنے میں اس نے دیکھا ایک لڑکا آیا جس کا نام رضا تھا- وہ سر جمیل کے پاس آیا تھاجو کہ چند منٹ سر جمیل کی میز پر جھکا رہا اور پھر رجسٹر لے کر واپس چلا گیا۔ اور صبا کا دل مسوس کر رہ گیا۔ صبا کا دل بھی رضا کے پیچھے چلا گیا تھا۔ مضبوط جسم اونچے لمبے قد اورکشادہ پیشانی جو کہ حسن میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ آج پہلی بار صبا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی ، بجھے دل کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہو گئی ، پھر اس نے کتاب کھولی تو رضا کا چہرہ کتاب کے صفحہ پر نظر آنے لگا اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔ وہ رضا کے خیالوں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر تھی۔

کب چھٹی کے لئے گھنٹی بجی اسے پتہ نہ چلا اور کلاس کی ساری لڑکیاں اپنے گھر کو چلتا بنیں، پھر ساتھ بیٹھی لڑکی نے صبا کو کندھے سے ہلایا۔

”بھئی چھٹی ہو گئی اور تم کن خیالوں میں کھوئی ہوئی ہو۔“ یہ سنتے ہی اس نے ساتھ والی لڑکی کو بغور دیکھا اور کچھ بولے بغیر اپنا بیگ اٹھایا

 اور خیالوں میں کھوئے کھوئے سے انداز میں قدم اٹھاتی ہوئی اپنے گھر چلی گئی ، پورے راستے وہ رضا کے خیالوں میں الجھی رہی۔ صبا اب بلا ناغہ کلاس میں اور کلاس سے باہر رضا کے خیالوں میں غلطاں ہوتے ہوئے اس کے سامنے آنے لگی مگر وہ نظر جھکا کر اپنی راہ نکل جاتا۔

وقت کے ساتھ صبا کے دل میں رضا کے لئے محبت بڑھتی جارہی تھی۔ مگر رضا آنکھ اٹھا کر بھی صبا کی طرف دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا جیسے کہ اس کے سامنے کوئی موجود ہی نہیں ہے۔

صبا نے آہستہ آہستہ رضا کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی شروع کردیں تو پتہ چلا کہ رضا کا غریب گھرانے سے تعلق ہے اور نہ ہی رضا کا کوئی بھائی ہے اور نہ ہی کوئی بہن ہے اور والد بھی کچھ ماہ پہلے وفات پاچکے ہیں۔ رضا اور اس کی والدہ ایک چھوٹے سے مکان میں

رہتے ہیں۔ رضا فرسٹ ٹائم کالج اور چھٹی کے بعد ایک ورک شاپ میں کام کرتا تھا۔ اور اس طرح اس کے گھر کا گزارہ ہوتا تھا۔ تمام معلومات حاصل ہونے کے بعد صبا کو رضا پر بڑا ترس آیا۔ تو صبا نے اپنے ابو سے بات کی۔

”بابا میرا ایک کلاس فیلو ہے۔ جو اپنے والد کی وفات کے بعد نوکری کی تلاش میں ہے۔ پاپا پلیز! آپ اسے کوئی اچھی سی نوکری اپنی فیکٹری میں دے دیں۔”

یہ سن کر صبا کے پاپا مسکرانے لگے اور صبا کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہنے لگے۔ ”کل اس سے کہنا کہ بجے میرے آفس پہنچ جائے۔“ یہ سن کر صبا خوشی خوشی اپنے کمرے میں واپس آگئی اور سوچنے لگی کہ کل رضا کو کس طرح مناؤں گی، وہ تو میری طرف دیکھنا بھی پسندنہیں کرتا۔ بس رضا کے بارے میں سوچتے ہوئے جانے کب وہ نیند کی وادی میں پہنچ گئی۔

صبح اٹھی اور جلدی جلدی تیار ہو کر کالج پہنچ گئی۔ سامنےاس کو پارک میں رضا نظر آ گیا۔ صبا کے قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ جلدی جلدی اس کے پاس گئی اور بولی۔ ”رضا کیا تمہیں جاب چاہئے؟“ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد پوچھا۔

یہ سن کر رضا بولا۔ ”آپ مجھے  کیا جاب دلا سکتی  ہیں ؟ “ صبا دل ہی دل میں خوش ہونے لگی اور پھر جلدی سے بولی۔ ”فلاں فیکٹری میں تمہیں جاب مل جائے گی جس سے تمہاری تعلیم اور گھر کا خرچ آرام سے چلے گا، اور ہاں فیکٹری کا ٹائم 3 بجے سے 8 بجے تک ہوگا۔“

یہ سن کر رضا بہت خوش ہوا اور اس نے جلدی سے ہاں کردی، تو صبا بولی۔ ”آج ہی کالج ٹائم کے بعد تم میرے ساتھ چلنا۔ اور یہ بول کر وہ ایک سہیلی کے پاس چلی گئی۔

پورے تین بجے رضا اس کی گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔ اور پھر چند منٹ بعد صبا آئی اور اس نے رضا کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گئی۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گاڑی کو ایک طرف تیزی سے بھگانے لگی۔

کوئی آدھا گھنٹہ بعد اس نے مطلوبہ فیکٹری کے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی تو چوکیدار نے گیٹ کھول دیا تو وہ گاڑی کو فیکٹری کے اندر لے گئی۔

صبا کے پاپا رضا کو کام کے بارے میں بتانےلگے۔ اور رضا شکر یہ ادا کرتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا اور صبا کے پاپا سے مصافحہ کرتا ہوا دوسرے دن فیکٹری آنے کا وعدہ  کے گھر آگیا۔

دوسرے دن سے صبا بھی فیکٹری آنے لگی۔ اور آفس ٹائم میں رضا کے ساتھ تھوڑی بہت گپ شپ ہو جاتی۔ ایک دن رضا آفس نہیں گیا تو صبا نے مینیجر سے پوچھا۔ ”رضا کیوں نہیں آیا؟“  تو اسے بتایا گیا کہ ”رضا کی والدہ کی طبیعت خراب ہے جس کی وجہ سے وہ آج کام پر

نہیں آیا۔“ رضا کو صبا نے کال کی اور اسپتال پہنچ گئی۔وہاں پہنچنے پر اسے پتہ چلا کہ رضا کی والدہ وفات پاگئی ہیں۔ اس وقت رضا زار و قطار رو رہا تھا۔ صبا نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا اورتسلی دی۔ خیر کفن دفن کے بعد رضا  غمزدہ تھا، وہ ہر وقت افسردہ رہنے لگا۔ لیکن روزانہ صبا اس کے پاس آتی اور اس کا دل بہلاتی اور اس طرح رضا کا غم وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگا۔

اور پھر ایک روز صبا نےارادہ کیا کہ وہ رضا سے اپنی محبت کا اظہار کر دے گی اور جب آفس گئی تو اسے پتہ چلاکہ آج خالہ کی لڑکی سے رضا کا نکاح ہو رہا ہے۔ لہذاوہ دو دن اپنی ڈیوٹی پر نہیں آئے گا۔ یہ سنتے ہی صباغم کے سمندرمیں غوطہ زن ہوگئی ، اس کا دل آفس میں نہیں لگا اور وہ فوراً گھر آگئی اور بستر پر گر کر زار و قطار رونے لگی ۔  خوب روئی اور اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا اور کالج جانا بھی

چھوڑ دیا۔ اس کے والدین اس کو سمجھاتے مگر ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے نکال دیتی۔

ایک صبح باتھ روم سے باہر آئی تو سامنے رضا کو پا کر دنگ رہ گئی۔ کیونکہ رضا کے ہاتھ میں ایک پیارا سا گلدستہ تھا صبا شش و پنج میں تھی کہ رضا نے گلدستہ صبا کی طرف بڑھایا اور جب صبا نے گلدستہ پکڑا اور دیکھا توساتھ ہی رضا کی شادی کا کارڈ تھا۔ رضا نے شرارت سے کہا۔ میں آپ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ اسی لئے آج کارڈ لے کر آیا۔

” کل میری شادی ہے ضرور آتا ۔“ یہ کہتے ہوئے رضا چلا گیا اور صبا پتھر کی مورتی بنی اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ پھر اس کی آنکھیں ساون بھادوں بن گئیں ۔” کیا میں اپنی آنکھوں کے سامنے رضا کو کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھ سکوں گی۔ نہیں رضا! ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں اس کی جان لے لوں گی جو میری جگہ لے گا۔“ وہ پھر اس سوچ کے ساتھ اٹھی اور شادی میں جانے کی تیاری کرنے لگی۔

صبح صبح صبا کی گاڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی اور رخ رضا کے گھر کی طرف تھا اور آنکھیں جو ساون کی طرح  ٹوٹ کر برس رہی تھیں۔ اسی وقت اس کی نظر سامنے ایک بورڈ پر پڑی جو سڑک کے دائیں سائیڈ پر لگا تھا۔ ہر قسم کے مسائل کے لئے تشریف لائیں۔ کسی کی شادی روکنی ہو یا کسی سے شادی کرنی ہو۔ منٹوں میں کام ہوگا، آزمائش شرط ہے۔ عامل گنیت اور عاملہ گنگا ۔

صبا نے گاڑی رضا کے گھر کے بجائے اس طرف موڑ دی۔ اس مکان کے سامنے گاڑی روک کر مکان کے اندر داخل ہو گئی۔ اندر ایک بڑھیا بیٹھی تھی ۔ جس کا لباس گیروا رنگ کا تھا۔ اس نے صبا کو دیکھتے ہوئےکہا۔ ”صحیح جگہ پر آئی ہے، تجھے تیرے من کی مراد مل جائے گی، تیرا کام ضرور ہوگا، جس کے لئے بے قرارہے۔“ صبا نے بڑھیا گنگا کو ساری داستان سنائی اورا زار و قطار رونے لگی۔

صبا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بڑھیا کہنے لگی۔”پریشان نہ ہو اس کا بھی حل ہے۔ جس کے لئے تجھےپچاس ہزار روپیہ دینا ہوگا، تیرا محبوب تیرے قدموںمیں ہوگا۔ اور تجھے سب سے عزیز چیزکی بَلی دینی ہوگی اورتین دن ایک جاپ کرنا ہوگا۔ اگر یہ تمہیں منظور ہو تو کل

آجانا اور پچاس ہزار لیتے آنا۔“

یہ سن کر صبا گاڑی میں بیٹھی اور گھر واپس آگئی اور اس کے بارے میں سوچنے لگی اور پھر بڑھیا گنگا کےپاس نہ گئی۔ تقریباً ایک سال گزر گیا۔ لیکن رضا کو پانے کا جنون صبا کے دل میں کم نہیں ہوا۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اسکے دل میں رضا کو حاصل کرنے کی خواہش مزید

بڑھ گئی تو ایک روز پچاس ہزار لئے وہ گنگا کی خدمت میں حاضر ہو گئی۔ اسے دیکھ کر گنگا بہت زیادہ خوش ہوئی۔

صبا گنگا سے بولی ۔” اماں اس کی شادی ہو چکی ہےاور اب تو اس کی ایک بچی بھی ہوگئی ہے۔ مگر اس کے باوجود میں اسے حاصل کرنا چاہتی ہوں۔“

یہ سن کر گنگا بولی۔ ”خیر تیرا کام ہو جائے گا، گھبرا نہیں ۔ اس لڑکے اور اس لڑکی کی تصویر لانا پڑے گی ۔ اورساتھ ہی لڑکی کا ایک پہنا ہوا سوٹ بھی لانا ہوگا۔ کل یا پرسوں یہ دونوں چیزیں لے کر آجانا۔“ اور پھر گنگا نے صبا سے پچاس ہزار لے لئے۔ اور ہاں ! گھر والوں سے اجازت لے کر آنا ۔ کیونکہ تجھے گھر سے باہر تین دن رہنا ہوگا۔ عمل کے لئے۔“

صبا نے بے تابی سے پوچھا۔ ”کیا مجھے رضامل جائے گا ؟“ تو  گنگا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”ہاں ضرورمل جائے گا۔“

صبا گھر آئی اور سوچنے لگی۔ رضا اور اس کی بیوی کی تصویر اور بیوی کا سوٹ کیسے حاصل کیا جائے۔ اتنے میں اس کے پاپا نے آکر بتایا۔ ” صبا بیٹا!  رضا کے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ اس نے نہیں بلایا ہے۔“

صبا خوشی خوشی تیار ہوئی اور رضا کے گھر چلی گئی۔ رضا کی بیوی نسرین جو کہ اتنی حسین تو نہیں تھی۔ لیکن سیرت کی اتنی ہی اچھی تھی۔ اس نے صبا کی زبر دست مہمان نوازی کی۔ اور اپنی بیٹی کو صبا کی گود میں ڈالتے ہوئے کہا۔ ”بیٹا تمہاری پھوپھو آئی ہیں۔“ یہ سن کر صبا کو جیسے کرنٹ کا جھٹکا لگا، اسے نسرین کی بات بہت بری لگی تھی۔ اور رضا کو دیکھتے ہی اسے نسرین سے بہت نفرت محسوس ہونے لگی۔ اس

نے رضا سے شکوہ کیا۔ ” کیا آپ مجھے شادی کی تصویر نہیں دکھائیں گے؟“

رضا حجٹ سے البم نکال لایا۔ اور اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا تو صبا کو تصویر لینے میں کوئی پریشانی نہ ہوئی، یعنی صبا نے آنکھ بچا کر ایک تصویر جو کہ دونوں میاں بیوی کی تھی نکال لی۔ اب مسئلہ رہا سوٹ کا تو وہ بھی اس نے ضدکر کے لے لیا۔ ” میں اپنی بھابھی کے لئے سوٹ سلوا کرلانا چاہتی ہوں۔“ اور صبا کی ضد کے آگے رضا ہار گیا اور نسرین کا ایک سوٹ دے دیا۔

سوٹ اور تصویر لے کر صبا سیدھی گنگا کے پاس گئی۔

سوٹ اور تصویر دے کر خود کل آنے کا وعدہ کر کے چلی گئی۔

صبا نے اپنے پاپا سے کہا کہ وہ چند دوستوں کےساتھ ٹرپ پر جارہی ہے۔ تو صبا کے پاپا نے پیار سے پوچھا۔ ”میرا بیٹا تین دن کی ٹرپ پر کہاں جا رہا ہے۔؟“ اور صبا کو اجازت مل گئی۔ دوسرے دن صبا نے کالج سے اپنی دوست نازیہ کو ساتھ لیا اور جادو کرنے والی گنگا کےپاس چلی گئی۔

 پھر گنگا نازیہ ، صبا اور دو مزید آدمیوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اور ضروری سامان بھی گاڑی میں رکھ لیا اور گاڑی ایک طرف چل دی۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک ویرانے سےگزر رہی تھی۔ تھوڑا آگے جا کر ایک مکان نظر آیا۔ صبا کوبڑی حیرت ہوئی کہ اس ویرانے میں کون رہتا ہے۔ گاڑی اس مکان کے سامنے جا کر ر کی اور سب گاڑی سے باہر نکل آئے اور اس مکان کے اندر داخل ہو گئے ۔ تھکن سے برا حال تھا۔ سب نے ہاتھ منہ دھویا اس کے بعد ناز یہ سوگئی۔ صبا اور بڑھیا گنگا ایک کمرے میں چلی گئیں۔

اور رات والے عمل کی تیاری کرنے لگی۔ صبانےچائے بنائی ، خود ایک کپ پی اور نازیہ کے لئے کپ میں چائے ڈالی اور ساتھ نیند کی گولی بھی ڈال دی، جسے پیتے ہی نازیہ دوبارہ سوگئی۔

صبا نے بڑھیا کو بتایا۔ ”آنٹی جی اب کیا کرتا ہے؟“

شام کا دھندا کا پھیل رہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا پھیلنے لگا۔ صبا کو اس ویرانے میں وحشت محسوس ہونے لگی۔ اتنے میں گنگا صبا کے پاس آئی اور اس کو ساتھ لے کر نازیہ کے کمرے میں چلی گئی ۔

گنگا نے ایک ملازم کو آواز دی۔ جس نے نازیہ کو اٹھایا اور اس مکان سے باہرلے گیا۔ گنگا اور صبا بھی اس کے پیچھے باہر نکل گئیں۔ کچھ دور جانے کے بد اس شخص نے نازیہ کو ایک جگہ پر لٹا دیا۔

خاموشی نے عجیب خوفناک اور دہشت ناک فضا قائم کی ہوئی تھی۔ گنگا اور صبا، نازیہ کے بائیں جانب بیٹھ گئیں۔ اور بڑھیا گنگا نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر نازیہ پر پھونک ماری۔ اور ایک بڑا سا خنجر لے کر کھڑی ہوگئی اور ایک بلند نعرہ جے کالی کا لگایا اور ساتھ ہی خنجر نازیہ کے سینے میں گھونپ دیا۔ جس سے خون ابل کر باہر نکلنے لگا۔

صبایہ منظر دیکھ کر چیخنے لگی۔ پھر گنگانے نازیہ کے خون سے ایک کٹورا بھر لیا اور اپنے ایک آدمی کو سرگوشی میں کچھ کہہ کر مکان کی طرف چل دی اور پھر اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔

صبا ساری رات روتی رہی کیونکہ جان سے پیاری دوست کا اس کے سامنے قتل اس کی وجہ سے کیاگیا اور پھر وہ کچھ بھی نہ کر سکی۔ اور اب رضا کو پانے کی ہوس اور بھی بڑھ گئی۔

دوسری رات اسی جگہ نازیہ کے خون سے ایک گول دائرہ بنا کر سامنے رضا اور نسرین کی تصویر اور نسرین کا سوٹ رکھ کر گنگا منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتی رہی پھر تصویر اورسوٹ پر پھونک مار کر اٹھ گئی ۔

اور آج تیسری رات تھی۔ گنگا تصویر سوٹ اور خنجرلے کر اس جگہ پہنچ گئی جہاں نازیہ کا خون کیا تھا۔ اس نے ایک دائرہ بنایا اور اس دائرہ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی اور اشارہ پاتے ہی صبا اس کے دائیں طرف بیٹھ گئی ۔ گنگا منتر پڑھنے گئی پھر تھوڑی دیر بعد خنجر سے رضا اور نسرین کی تصویرکو الگ الگ کر دیا۔ اور پھر کچھ پڑھنے لگی ۔ تھوڑی دیر بعدخنجر پکڑ کر صبا کی انگلی پر ماری تو صبا درد سے کراہ اٹھی۔ اورانگلی سے خون نکلنے لگا۔ تو گنگا نے صبا کا خون ایک پیالے میں رکھ لیا۔ پھر نسرین کے سوٹ پر خون چھڑک دیا، اس کے بعد صبا پر پھونک ماری اور پیالے میں بچا ہوا خون زمین پر گرایا تو اس جگہ سے گاڑھا گاڑھا دھواں نکلنے لگا، لیکن گنگا برابر  اپنا منتر پڑھتی رہی کہ اتنے میں ایک عجیب الخلقت وجود ظاہر ہوا، اس کی شکل بہت ہی بھیا نک تھی۔ جسے دیکھ کر صبا پر کپکپی طاری ہو گئی، اس کے بعد اس کو گنگا کی آواز سنائی دی۔” صبا اس سوٹ کو اٹھا اور سامنے موجود قبرستان میں جا کر اس سوٹ کو کسی قبر میں دفن کر دے۔ دیرمت کر یہ کام پندرہ منٹ میں کرنا ہے اور دیر ہو گئی تو کام ہونے سے رہ جائے گا۔“

صبا پر تو رضا کو حاصل کرنے کا جنون سوار تھا، گنگا کی یہ بات سنتے ہی صبا بجلی کی تیزی سے اٹھی اور سوٹ کو اٹھا کرقبرستان کی طرف دوڑ پڑی، بہر حال صبا قبرستان میں پہنچ میں گئی اور ایک پرانی شکستہ حال قبر کی مٹی ہٹا کر سوٹ کو گڑھے میں ڈالا اور پھر اوپر مٹی ڈال کر واپس مڑی اور دوڑتی ہوئی گنگا کے پاس آگئی۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ پینے سے شرابور حال سے بے حال ہو رہی تھی۔

گنگا کے مطابق وہ اپنے عمل میں کامیاب ہو چکی تھی۔ صبح ہوتے ہی وہ شہر میں واپس آگئیں، گنگا اپنے گھر اور صبا اپنے گھر چلی گئی۔

نہا دھو کر صبا نے ناشتہ کیا اور خوشی خوشی آفس چلی۔

صبا جب آفس پہنچی تو پتہ چلا کہ رات میں رضا کی بیوی کو دل کا دورہ پڑا تو بیوی کو لے کر رضا اسپتال گیا مگر افسوس کہ  بیوی اپنی زندگی ہارگئی۔

یہ خبر سنتے ہی دلی طور پر صبا بہت خوش ہوئی اور سیدھی جادو گرنی گنگا کے پاس گئی اور گنگا کو مٹھائی دے کرآئی۔ گنگا خوش ہوتے ہوئے بولی۔” بالکل بھی فکر نہ کر تیرا کام ہو جائے گا، تیرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ۔ “ اور صبا واپس اپنے گھر آ گئی۔

بیوی کی وفات کے بعد رضا کوئی دو ہفتے آفس نہ آیا اور پھر جب آیا تو صبا کو اپنا منتظر پایا۔ رضا سے صبا والہانہ طور سے ملی۔ ڈھیر ساری تسلی دی۔ اور رضا پر ظاہر کرنے لگی کہ رضا کا اس سے بڑھ کر کوئی اور ہمدرد نہ ہوگا۔ اپنی آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے بولی۔ ”رضا میری طرف سے یہ پچاس ہزار کی رقم رکھ لو اور میری خوشی کی خاطر کچھ بھی نہ بولنا، اگر تم انکار کرو گے تو میرا دل کرچی کرچی ہو جائے گا تمہیں میری قسم یہ رقم رکھ لو۔“ رضا اس کے سامنے کچھ نہ بول سکا، صبا کی عزت اس کی نگاہ میں مزید بڑھ گئی۔ وہ سوچنے لگا کہ ”صباواقعی بہت ہمدرد، دل میں نرم گوشہ رکھنے والی، غریب پرور اور ہمدرددل کی مالک ہے۔ “ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے صبا نے رضا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے اور پھر اچانک اس نے اپنا سر رضا کے کندھے پر رکھ دیا تو رضا گھبرا کر نروس ہو گیا۔ اور تھوڑی دیر بعد رضا اپنے گھر واپس آگیا۔

رضا کے جاتے ہی صبانے گنگا کو فون کیا کہ ”جب میں نے اپنا سر رضا کے کندھے پر رکھا تو وہ گھبراتے ہوئے اپنی جگہ سے ہٹا اور گھر چلا گیا، اور جہاں تک میرا دل کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ گنگا آنٹی ایسا کیوں ہواجبکہ رضا کو خود میرے نزدیک آنا چاہئے تھا۔“

یہ سن کر گنگا بولی ۔ ”صبا بالکل بھی گھبرا نہیں بلکہ ایک دو روز میں تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی اور رضاپکے آم کی طرح تیری جھولی میں خود آن گرے گا۔“ خیر تیسرے دن رضا آفس آیا اور کوئی بات کئے بغیر صبا کے آفس میں آکر صبا کے سامنے بیٹھ گیا تو  صبانے فورا یخ ٹھنڈ دو گلاس کولڈ ڈرنک منگوائی ایک گلاس اپنےلئے اور ایک گلاس رضا کے لئے۔  ویسے رضا بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا۔

صبا کے کہنے پر وہ گھونٹ گھونٹ کولڈ ڈرنک پیتا رہا،  وہ بہت زیادہ گہری سوچ میں تھا۔ جب کولڈ ڈرنک ختم ہوئی تو اس نے صبا کے چہرے کو بغور دیکھا اور فورا بولا۔

”صبا میری بات سنو! کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ کیونکہ تم میری بیٹی عینی کے لئے مناسب لگی ہو، ویسے بھی تم دل میں نرم گوشہ رکھنے والی ہو، اور مجھے اندازہ ہے کہ تم ماں بن کر عینی کو لازوال محبت دے سکو گی ۔“

رضا کی بات سن کر صبا دلی طور پر بہت خوش ہوئی، اس کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے، کیونکہ وہ تو چاہتی تھی کہ ایسا ہو جائے یعنی رضا خود اپنی زبان سے شادی کے لئے صباسے کہے۔ صبا نے جادو گرنی گنگا سے جو عمل کرایا تھا تو یقیناً ایسا ہی ہونا تھا۔اور اس طرح چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا، یعنی دلہن بن کر رضا کے گھر آگئی اور رضا کو خوش کرنے کے لئے اپنی  محبت رضا کی بیٹی عینی پر نچھاور کرنے لگی ۔ اور ویسے بھی صبا امیر کبیر باپ کی اکلوتی اولاد تھی، دھن دولت کی کوئی کمی نہ تھی، باپ کی ساری دولت و جائیداد کی مالک و مختار تھی۔

وقت دن دوگنی رات چوگنی خوشیوں سے گزرنے لگا۔ ابھی صبا کی شادی کو آٹھ ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک رات اس کے پاپادل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے۔

اس کے بعد صبا آفس اور گھر میں مصروف رہنے لگی۔ رضا بھی بڑھ چڑھ کر محنت کرنے لگا۔ ویسے بھی عینی سے صبا کی چاہت دیدنی تھی۔

ایک سال گزر گیا مگر ابھی تک صبا کی گود ہری نہ ہوئی تھی۔ مگر وہ پھر بھی خوش تھی کیونکہ عینی نے بچے کی کمی پوری کر دی تھی۔

ایک دن اچانک صبا کی طبیعت خراب ہوگئی تو رضا اسے لے کر ڈاکٹرنی کے پاس بھاگا۔ تو ڈاکٹرنی نے خوشخبری سنائی کہ ”صبا ماں بننے والی ہے۔“

اب تو رضا کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور صبا بھی بہت خوش تھی۔

وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور صبا ایک بہت ہی خوب صورت بیٹے کی ماں بن گئی۔ اب تو جیسے خوشیاں ان کے آنگن میں برسنے لگیں۔ دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے، رضا نے فیکٹری کا سارا کام سنبھال لیا تھا۔

اور پھر اچانک ایک روز وقت گہنا گیا، ہوا یہ کہ رضا اور صبادونوں گاڑی میں ایک جگہ جارہے تھے کہ ان کی گاڑی کا زبردست ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ایکسیڈنٹ بہت خطرناک تھا، زیادہ تر چوٹیں صبا کو آئی تھیں، اس کی جان کو خطرہ تھا۔

رضا کی دعا ئیں کام آئیں صبا کی جان تو بچ گئی مگر وہ اپنی دونوں ٹانگیں گھٹنوں تک سے محروم ہوگئی۔ وہیل چیئر سے اس کا ساتھ ہو گیا تھا۔

ایک رات رضا ایک ضروری کام سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ صبا اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی کہ ایک کھٹکے سے اس کی آنکھ کھل گئی تو اس کی نظر سامنے پڑی تو اس نے دیکھا کہ رضا کی پہلی بیوی نسرین سفید لباس میں کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے لب ہلے اور اس کی آواز سنائی دی۔

”صبا اب تو تم خوش ہوناں! ۔ مجھے راستے سے ہٹانےکے لئے تم نے جادو گرنی  گنگا کا سہارا لیا۔ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی ، رضا کو تم نے حاصل کر لیا ۔ مگر تم نے ایک اچھا کام کیا کہ تم نے میری بیٹی عینی کو ماں کا پیار دیا۔ اور عینی کے غم سے مجھے نجات مل گئی کہ چلو عینی کو دلی پیار تو مل رہا ہے اور تمہیں تمہارا بیٹا مبارک ہو۔“

مگر صبابرے کام کا برا انجام ہی ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی کرنی کا بھوگ بھگتنا پڑتا ہے اور اب تم رہتی زندگی تک اپنے برے اعمال کا انجام بھگتو گی۔ تم معذور ہو چکی ہو۔تمہارا ایکسیڈنٹ کرایا گیا تا کہ تمہیں اپنے درد کا کچوکا محسوس ہوتا رہے، کسی کی زندگی سے کھیلنا آسان نہیں، قدرت کے کام میں مداخلت انسان کو زندہ درگور کر دیتی ہے۔ جیسا کہ تمہارے ساتھ ہوا. اب زندگی بھر تمہاری آنکھوں سے آنسو خشک نہ ہوں گے۔ پل پل اور لمحہ لمحہ اس درد کو تم نےسہنا ہے۔ اور پھر نسرین کی روح اپنی جگہ سے غائب ہوگئی۔اور صبا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close