Mala Novel in Urdu – Episode 7

Mala Novel in Urdu by Nimra Ahmed – Episode 7

Mala Novel in Urdu Episode 7

 

ایک دن ہمارے مورچے پہ

آئی ایک گولی اڑتی ہوئی

اور جان لے گئی میرے ایک سپاہی کی

اس کی موت کے غم نے

میرے دل کو ڈبو دیا جیسے۔

میں نے کھودا اس جگہ کو

جہاں گرا تھا وہ

اور ڈھونڈا اس ٹکڑے کو

جو نہ تھا میرے انگوٹھے سے بڑا

گرم دھات سے بنا گولی کا ایک خول۔

میں نے پگھلایا اس کو اور بنایا ایک سانچا

اور اس میں ڈالا ابلتے خول کو

 ڈھال دیا اس کو ایک انگوٹھی کی صورت میں۔

اور جب میری انگوٹھی ہو گئی ٹھنڈی اور ہموار

میں نے ایک الجیرین سپاہی سے

لکھوایا یہ لفظ اس پر عربی میں

 مکتوب۔“

یعنی … یہ لکھا جا چکا تھا۔

کیونکہ تقدیر کی کتاب میں

جس کے صفحے ہیں زمان

اور سر ورق ہے مکاں۔

اس کتاب میں سب پہلے سے درج شدہ ہے۔

جس دن تم اپنا وجود کھو دو گے

وہ گھڑی، وہ جگہ، وہ وجہ

سب اس کتاب میں نشان زدہ ہے۔

اور تمہیں نہ خیال سے نہ عقل سے

اس تقدیر کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

بس ڈرکو دل سے بھگانا سیکھ لو۔

اگر ایک دن مرنا ہی ہے

تو جان لواے انسان

کہ یہ حصہ ہے ایک بڑے مکتوب منصوبے کا

جس سے تم بچ نہیں سکتے۔

سو تم ایسے مرو کہ جیسے تمہارا جنازہ

تمہیں ان شاہانہ دروازوں کی طرف لے گیا ہے

جن کے اس پار منتظر ہیں

بہت سے عظیم لوگ۔

فرق بس اتنا ہے کہ وہ تمہارا استقبال کرتے ہیں

یا ملامت سے تمہیں خود سے الگ کر دیتے ہیں۔

ساری بات اتنی سی ہے کہ

تم آقا بن کے جاتے ہو اس دنیا میں

یا غلام بن کے۔

اس لیے جب جنگ میں حکم آتا ہے کہ حملہ کرو

اور دل کانپتا ہے یا دکرکے

زندگی کے پرلطف ماہ سال

تو اس جنگی شور اور افراتفری میں

کچھ سپا ہی دھیان بٹانے کو

صاف کرتے ہیں اپنی بندوقیں

کچھ گنگناتے ہیں جنگی نغمیں

اور کچھ اپنی سرنگیں میں کھودتے جاتے ہیں۔

ایسے میں

میں دیکھتا ہوں اپنی انگوٹھی کو

اور میرے تنے اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔

 موت کا فرشتہ خاموشی سے قریب آجاتا ہے

اور میں سوچتا ہوں اس دوسری دنیا کے بارے میں

ان شاہانہ دروازوں کے بارے میں

اور اس شور میں یہ خیال

کسی مرہم کی طرح راحت لے آتا ہے۔

میرے دل کی پھڑپھڑاہٹ

خاموش ہو جاتی ہے۔

اور ہر طرف چھا جاتا ہے

ہتھیار ڈالنے کا احساس۔

سکینت ۔

اور مشرق کی دانائی ۔

( ایلن سیگر کی نظم مکتوب سے اقتباس)

ماہی اور ماہر کی  سرکار  اور مالا  کے متعلق بات چیت:

”اس نے زیاد سے شادی سے انکار کر دیا ہے؟“ وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ نیم اندھیر اپارٹمنٹ میں کھڑکی کے ساتھ کرسی ڈالے بیٹھا تھا۔ اطراف کو خوشبو دار موم بتی کی خوشبو نے معطر کر رکھا تھا۔

آپ کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے؟ ماہی چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں گرائے بغور اسے دیکھے گئی۔

ماہر نے غائب دماغی سے سردائیں بائیں ہلایا۔ پھر اس کی نگاہوں کے احساس سے چونکا۔ سنبھل کے سر جھٹک دیا۔

”مجھے پرسوں استنبول واپس پہنچنا ہے۔“ لہجے کوسرسری بنالیا۔” کچھ دن تک تم سے ملنے آؤں گا۔“

”اتنی دور آ کے کیا کریں گے؟“ ”جو پوچھنا تھا ویڈیو چیٹ پہ پوچھ لیا۔ میں آپ کی بہن کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔“

ماہر نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے۔پھر ناخنوں سے بڑھی شیو مسلی۔ اس کے انداز میں اضطراب تھا۔

”تم سے ملے بغیر میری تسلی نہیں ہوگی۔“

ماہی نے ترحم سے اسے دیکھا۔ یہ ایک ایسے شخص کا چہرہ تھا جو اپنی بہن کے زندہ ہونے کی امید کھونا نہیں چاہتاتھا۔ یقیناً وہ مر چکی تھی اور وہ denial ( جھٹلانے کی نفسیاتی کیفیت) میں تھا۔

”کیا آپ نے کبھی اس سرکار کودیکھا ہے؟“ اسکا نام لینا بھی عجیب لگ رہا تھا۔

ماہر نے نفی میں گردن دائیں بائیں ہلائی۔

”مالا نے دیکھا ہے۔“

وہ جہاں تھا و ہیں رہ گیا۔ سانس تک رک گیا۔

”مالا نے کچھ روز قبل خواب میں ایک بوڑھا جادوگر دیکھا ہے جس کے سر پہ نارنجی رو مال بندھا تھا اور وہ مالا اور زیاد کی تصاویر پہ جادو کر رہا تھا۔ یقیناً وہ ان کا رشتہ ختم کروانا چاہتا ہے۔ اور دیکھیں ہو بھی گیا۔“

”کیا مالا نے اس کا چہرہ دیکھا تھا ؟“ ماہر اب سامنے جلتی موم بتی کے شعلے کو دیکھ رہا تھا۔ ذہن تیزی سے چل رہاتھا۔

”ہاں۔ وہ اس چہرے کو جانتی ہے۔ بس شناخت نہیں کر پارہی ۔“

”اپنی بہن سے کہوکہ اس آدمی کا سکیچ بنائے۔ پھر وہ اسکیچ مجھے دو ۔ ہم اس اسکیچ سے اس کو ڈھونڈیں گے۔ کیا معلوم میں اسے پہچان لوں۔ شاید ہمارے راستے کبھی ٹکرائے ہوں۔ شاید وہ میرے قریب ہو۔ یاد ہے مجھے کشمالہ کی تصویر سرکار کے البم سے ملی تھی ۔“

”آپ کو وہ البم کیسے ملا تھا ؟“ اسکرین پر نظر آتی ماہی آنکھیں چھوٹی کر کے اس کو دیکھ رہی تھی۔

ماہر کچھ کہنے لگا، پھر رک گیا۔

”بس اتناجان لو کہ وہ آدمی میرا دشمن ہے۔ اس کو میرے سوتیلے باپ نے میرے خلاف ہائر کیا تھا۔ میں اس تک کبھی پہنچ نہیں سکا البتہ میرے ہاتھ اس کی کچھ چیزیں لگی تھیں۔ ان میں یہ البم بھی تھا۔ وہ ایک لمبے عرصے سےکشمالہ کے پیچھے پڑا ہے۔ کیوں؟ میں نہیں جانتا۔“ اس نے شانے اچکائے۔

”شاید اس کی تمہارے خاندان سے کوئی ذاتی دشمنی ہو ۔ “

”ہم کون سا نیوکلیئر بم بنارہے ہیں جو ہمارے اتنے دشمن ہوں گے“۔ وہ برا مان گئی۔ ” ایک کبیرہ تائی ہی ہیں ہماری دشمن۔“  پھر ایک دم سے اسے خیال آیا۔ وہ سیدھی ہو بیٹھی۔

”آپ کے کہنے پہ پیٹر مسیح نے کبیرہ تائی کا مزید کام کرنے انکار کردیا تھا نا۔“

”ہاں۔ لیکن وہ کسی اور عامل کو ہائر کر چکی ہوں گی۔“

”ہوسکتا ہے وہ نیا عامل سرکار ہی ہو۔ وہی سرکار جو کسی وجہ سے برسوں سے مالا کے پیچھے لگا ہو۔ اتفاق سے اب اس کی نئی کلائنٹ کبیرہ بیگم بھی مالا اور ماں کی تصویر لے کر اس کے پاس آگئی ہوں ۔“  ماہی چمکتی آنکھوں سے تیز تیزکہہ رہی تھی۔

ماہر چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتارہا۔ پھر کھنکھارا۔

”تم جاب وغیرہ نہیں کرتیں ؟ سارا دن گھر بیٹھ کے یہی اسٹار پلس سوچتی رہتی ہو؟“

ماہی کے کندھے ڈھیلے پڑے۔ ابرو بھنچ گئے ۔

”ماہی کے اندازے کبھی غلط نہیں ہوتے۔ میں بتارہی ہوں کبیرہ تائی کا نیا عامل یہی سرکار ہو گا۔ وہی چاہتی ہیں کہ مالا اور زیاد کی شادی نہ ہوتاکہ ان کی بیٹی سے زیاد کی شادی ہو جائے۔“

ماہر نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی اور بولا تو آواز میں اکتاہٹ تھی۔

”کیا بچگانہ باتیں کرتی ہو تم ۔ ایسے اتفاق کہاں ہوتے ہیں۔ اور یہ عامل صرف اپنی طاقت بڑھانے کے لیےبھی کسی یہ جادو کرتے ہیں۔ ان کے جنات … “

”ایک منٹ ایک منٹ۔ جنات کی باتیں نہ کریں۔  مجھے رات کو لائٹ آن کر کے سونا پڑتا ہے۔“

ماہی نے ہاتھ اکٹھے کر کے اسے دکھائے۔ وہ ہلکا ساہنس دی ا۔ سارے دن میں وہ پہلی دفعہ ہنسا تھا۔

”تم ڈرتی ہو ان چیزوں سے؟“

”آپ بھی ڈرتے تھے جب ہم آخری دفعہ ملے تھے۔“ وہ برا مان کے بولی۔وہ اپنی اور ماہر فرید کی دوسری ملاقات کی بات کر رہی تھی ۔” اب آپ بدل گئے ہیں۔ تب آپ خوفزدہ تھے۔ “ پھر غور سے اس کا چہرہ اسکرین پردیکھا۔ آنکھوں تلے حلقے تھے۔ ”اور آپ کی گلابی اردو میں بہت گاڑھا انگریزی لہجہ تھا۔ ہاتھ میں سگار ہوتا تھا۔ آپ کوئی دوا بھی کھاتے تھے۔ مجھے یاد ہے۔ پھر یہ تبدیلی کیسے آئی؟ آپ نے اپنا لہجہ اپنے خوف اور اپنے سگارکہاں کھوئے ؟“

”بس کھو دیے ۔ “ وہ مدھم سا مسکرایا۔ ” یہ میرے حصے کی کہانی ہے۔ تم سے مل کے سناؤں گا۔ تم اس آدمی کا اسکیچ حاصل کر کے مجھے بھیجو۔“

”مگر۔۔۔“  وہ کچھ کہنے لگی تھی لیکن ماہر نے بٹن دبا کے کال کاٹ دی۔ وہ مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔

ماہر اور بیربل کی دلچسپ گفتگو:

فوراً سے فون بجنے لگا۔ بیر بل کا نام جگمگا رہا تھا۔ اب اس کی بک بک سنو ۔

”پیسے ختم ہو گئے ؟“ اس نے آڈیو کال کا اسپیکر آن کر دیا۔ اسے بیربل کی تقریر یاد تھی۔

” کیا میں اپنے بھائی کو پیسوں کے علاوہ فون نہیں کر سکتا ؟“

” نہیں۔“

بیربل آگے سے ہنس دیا۔” لگتا ہے باغبان لڑکی نے دروازہ دکھا دیا ہے۔“

”صرف مجھے نہیں۔ اس ٹال اور ڈارک کو بھی ۔ “ اس کی نظریں کینڈل کے شعلے پہ جمی تھیں ۔

”وائی بے۔ چلو وہ تو راستے سے ہٹا۔ بیربل کی آواز میں جوش در آیا۔ ” تم پیچھے مت ہٹنا۔ دوبارہ جاؤ اس کےپاس۔  پھر سے معافی مانگو۔“

” میں اس آدمی سے مشورے نہیں لیتا جو صرف کیکس بناتا ہے۔  اپنی بیکری پر دھیان دو ۔“

اس نے فون آف کر دیا۔ اب وہ تنہا تھا۔ نیم اندھیر اپارٹمنٹ تھا۔ اسٹرابری کی خوشبو تھی اور ایک ٹمٹما تا ہوا شعلہ۔

دوسری جانب فون کاٹ دینے پہ بیربل فرید نے براسامنہ بنا کے موبائل کو دیکھا۔ وہ آدمی جوصرف کیکس بناتا ہے۔ ہونہہ۔” مشین۔“ آواز بھاری کر کے نقل اتاری اور سر جھٹک دیا۔

وہ اس وقت اپنے گھر کے سیاہ سفید لونگ روم میں بڑے صوفے پر ٹانگیں لمبی کیے بیٹھا تھا۔ جوتے بے پرواہی سے کارپٹ پہ رکھے تھے۔

بیربل  کا شبنم سے ماہر کے بارے میں سوال:

”کیا کروں ؟“ وہ موبائل لبوں پر رکھے سوچنے لگا۔ دفعتاً آنکھیں چمکیں ۔

”شبنم !“  کال ملاتے ہی وہ چہکا۔

”بات مت کرو مجھ سے۔ اپنی بیکری پر نیا ڈیزرٹ لانچ کیا ہے اور مجھے نہیں کھلایا ؟“

”تمہارا معدہ صرف قبر کی مٹی سے بھرے گا۔“  وہ بھی جواباً خفا ہوا۔ پھر اونہوں کر کے سر جھٹکا۔ ” ماہر اپنےدوستوں میں سب سے زیادہ کس کے قریب ہے؟“

"زارا”

بیربل نے موبائل کان سے ہٹا کے اسے گھورا۔

”اللہ کا خوف کرو۔ کسی مرد کا بتاؤ۔“  (منہ بگاڑ کے نقل اتاری۔ زارا۔ ہونہہ)

”ماہر کے بہت سے دوست ہیں۔ یونیورسٹی کے،  بزنس کے، سفر کے۔“  وہ واقعی مصروف لگ رہی تھی ۔

”اورہر وقت انسان کے دوست ایک جیسے نہیں رہتے۔ کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کچھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ دوست وہی ہوتا ہے جو ہمارے موجودہ حال کو سمجھتا ہو۔ جس سے ہم آج کے دن بات کر سکیں۔“

”ہوں۔ ایک بات پوچھوں؟“

”پوچھو۔“

”ناشتے میں کوئی فلسفے کی کتاب تو نہیں کھائی تھی ؟“

”میں فون رکھ رہی ہوں بیربل ۔“  وہ غرائی۔

”اچھا اچھا ایک منٹ ۔“  جلدی سے لہجے کو خوش آمدی بنایا۔” ماہر کا ایسا کون سا دوست ہے جو اسے درست مشورہ دے سکے ؟“

”ڈاکٹر کنعان۔“

شبنم نے سوچنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں لیا۔ لیکن بیربل کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی

”جواسے درست مشورہ دے اور ماہر اس کی بات مان لے …“

”اچھا پھر آرکیٹیکٹ انیس۔ وہ اس کے مشورے مان لیتا ہے۔“

”جو اسے درست مشورہ دے ماہر اس کی بات مان لے … اور .. “ اس نے بال کھجائے ۔  ”اور اس کو ماہر کی ذاتی زندگی میں انوالوڈ کرنے پر وہ میرے کریڈٹ کارڈز کینسل نہ کر دے۔“

شبنم نے گہری سانس لی۔

”ایسا دوست تو صرف چنگیز ہے۔ پولیس کمشنر وہ اس سے مہینے میں ایک دفعہ ضرور ملتا ہے۔ وہ ہلال کےبارے میں بھی سب جانتا ہے۔“

”آف کورس۔“ بیربل نے ماتھے کو چھوا۔ ” مجھے پہلے کیوں خیال نہیں آیا۔“

”میرا ڈیزرٹ صبح مجھے آفس بھجوادینا اور ….“

”بائی بائی ۔ “ اس نے مسکرا کے سنے بغیر فون رکھ دیا۔

ونگ چیئر کا راز:

تھوڑی دیر بعد وہ لونگ روم میں ٹہل ٹہل کے فون پہ چنگیز سے بات کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور ان میں بہت سی شرارت چھپی تھی۔ بات مکمل کرکے وہ فون پہ میسیجز دیکھتے ہوئے آتش دان کے پاس رکھی ونگ چیئر تک گیا اور ایک پہ مزے سے ڈھیر ہو گیا۔ پیر او تو من اسٹول پہ رکھ لیے۔ وہ بہت آرام دہ تھی۔

کچن میں کام کرتی فیضی خانم نے پلٹ کے اسے گھورا۔

”بیربل بے۔“

لیکن وہ ڈھٹائی سے مسکرا تا رہا۔

”ماہر بے نہیں دیکھ رہے ۔“  پھر ونگ چیئر کے بازو تھپتھپائے۔ ”پتہ نہیں ماہر اتنی آرام دہ چیئر پہ بیٹھنے سے منع کیوں کرتا ہے۔“

”اس نے تمہیں نہیں بتایا ؟“ وہ پلٹ کے حیرت سے پوچھنے لگیں۔ بیربل نے چونک کے انہیں دیکھا۔ پھر گر دن دائیں بائیں ہلی۔

”وہ ہر دفعہ ٹال دیتا ہے۔ میں خود بھی نہیں پوچھتا۔ وہ تھوڑا ( کنپٹی پر انگلی سے اشارہ کیا ) سائیکو ہے نا ۔“

”دراصل جب ماہر نے استنبول میں یہ اپارٹمنٹ لیا تھا تو اس سے پہلے سے یہاں رہتے تھے۔“

”کون؟“

Download Mala Novel PDF – Episode 7

Read Online

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے