مالا ناول از نمرہ احمد – قسط نمبر 8

Mala Urdu Novel – Episode 8

ہمارے خواب ہمیں لے جاتے ہیں

مزید نئے خوابوں کی طرف

اور اس سراب کا کوئی اختتام نہیں ہوتا۔

زندگی ایک ریل گاڑی بدلتے مزاج کی

جیسے ہو موتیوں کی ایک مالا

اور جیسے جیسے ہم ہر ایک موتی سے گزرتے ہیں

ہم دیکھتے ہیں کہ سارے موتی

در اصل مختلف رنگوں کے عدسے ہیں

وہ دنیا کو اپنے رنگ میں دکھاتے ہیں

اور ہرعدسہ وہی دکھاتا ہے

جو اس کی نظر کے سامنے ہوتا ہے۔

پہاڑ سے ہم صرف پہاڑ دیکھ سکتے ہیں۔

ہم اس کی تصویر بناتے ہیں جس کی بنا سکتے ہیں

اور ہم وہی دیکھتے ہیں جسے ہم نے خود بنایا ہوتا ہے

فطرت اور کتابوں کو کیسے پڑھنا ہے

یہ مرضی ہے دیکھنے والی آنکھ کی۔

انسان کیا دیکھے گا آسمان پہ؟

ڈوبتا سورج ؟

یا کوئی نظم؟

یہ منحصر ہے اس کی فطرت پہ ۔

ڈوبتے سورج ہر روز ہوتے ہیں

اور نظموں کو لکھنے کی عقل بھی

ہمیشہ ساتھ ہوتی ہے۔

لیکن ان دونوں کو دیکھنے کے لیے

بس چند گھڑیاں ہی ہوتی ہیں۔

اور پھر یہ ڈوب جاتے ہیں۔

انسان کی فطرت وہ لوہے کی تار ہے

جس پر موتیوں کی یہ مالا پروئی ہوتی  ہے

کیا فائدہ صلاحیت یا خوش قسمتی کا

اگر فطرت ہی سرداور مسخ شدہ ہو؟

کیا فائدہ عقل کا

اگر اس کا عدسہ اتنا موٹا ہو

که انسان اپنی زندگی کا آسمان نہ دیکھ سکے؟

کیا فائدہ نئے وعدے کرنے کا

اگر نبھانے والا ہی قانون شکن ہو ؟

ہم دیکھتے ہیں نو جوانوں کو

جو ہم سے ایک نئی دنیا کا وعدہ کرتے ہیں

وہ اس کا سراب دکھاتے ہیں

اسے بہت شاندار بنا کے

لیکن وہ اس قرض کو کبھی ادا نہیں کر پاتے

وہ جلد مر جاتے ہیں

اور حساب سے بچ جاتے ہیں۔

یا اگر وہ رہیں زندہ تو

وہ دنیا کی بھیڑ میں کھو جاتے ہیں۔

(ریلف ویلڈو ایمرسن کے مضمون ” تجر بے“ سے ماخوذ )

بیربل بے اور گرل فرینڈ کا ریستوران میں ملاقات کا منظر:

ریستوران کی چھت سے کرسٹل بالز کی شکل کے بلب لٹک رہے تھے۔ سارے کو ہلکے نیلے اور سفید رنگ سے سجایاگیا تھا۔ میزوں پر اجلے سفید رومال بچھے تھے۔ مرکزی دیوار کے ساتھ ایک بے نیاز آرٹسٹ بیٹھا وائلن بجا رہاتھا۔ اس کی آواز میں ویٹرز کی چاپ،  کٹلری کی چھنک،  مدھم سرگوشیوں اور ہلکے  قہقہوں کی آمیزش بھی سنائی دیتی تھی۔

ایسی ہی ایک میز پہ بیر بل فرید برا جمان اس کے گھنگھریال بال جیسے جیل سےجمےتھے۔ بناٹائی کے سیاہ سوٹ پہنے، وہ ٹیک لگا کے بیٹھا انگلیوں میں کرسٹل کی سجاوٹی گیند کو گھماتے ہوئے اداسی سے کہہ رہا تھا۔

”اور پھر میرے فادر کی ڈیتھ ہوگئی۔ چونکہ میں اکلوتا بیٹا تھا اس لیے وہ ساری ذمہ داری  میرے کندھوں پہ ڈال کے چلے گئے۔“ کہتے ہوئے اس نے پلکیں جھکا لیں۔

”چچ۔“  سامنے بیٹھی لڑکی نے فکر مندی سے پہلو بدلا۔ اس کے بال جوڑے میں بندھے تھے اور دولٹیں سامنےگرتی تھیں ۔ لمبی گردن میں نیکلیس تھا اور خوبصورت آنکھوں میں بے پناہ ہمدردی۔

”تم کتنے اکیلے ہو گے۔“ اس نے انگوٹھیوں والا مرمریں ہاتھ بڑھا کے اس کے ہاتھ پہ رکھا۔

بیربل نے پلکیں اٹھائیں۔ دونوں کی نگا ہیں ملیں۔ پھر وہ افسوس سے کندھے اچکا کے رہ گیا۔

”اکیلا کہاں ہوں؟ اتنا بڑا کاروبار اور اس کے مسئلے میرے ساتھ ہیں ۔“ گہری ٹھنڈی سانس کھینچی ۔ ” صبح اپنی آرکیٹیکچرل فرم دیکھتا ہوں۔ شام میں بیکری۔ پھر لندن کے کاروبار کے مسئلے۔ اُف ۔“ جھر جھری لی۔

”کیا کرتے تھے تمہارے فادر؟“ لڑکی نے اپنا ہاتھ نامحسوس انداز میں واپس کھینچا اور سفید اور نیلی پلیٹ قریب کھسکائی جس میں ڈیزرٹ رکھا تھا۔

”ہماری انویسٹمنٹ مینیجمنٹ فرم ہے۔ انہوں نے اسے لندن اور قطر میں شروع کیا تھا اور ..“ گردن قدرے اکڑائی ”میں اسے یہاں استنبول لایا ہوں۔“

”واؤ۔“ لڑکی نے سلور کے چمچ سے ڈیزرٹ ذرا سا اٹھایا اور منہ میں رکھا۔ نظریں اسی پہ جمی تھیں ۔

”اور کیا ہابیز ہیں تمہاری ؟“ بیر بل عاجزانہ انداز میں مسکرایا۔

”ان سب جھمیلوں میں اپنے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ ایک سگار کا شوق تھا۔ لیکن میرے والد کو پسند نہیں تھا۔ ان کے لیے وہ بھی چھوڑ دیا۔“

”تمہارے والد کو تم پہ فخر ہو گا۔“  وہ بہت اپنائیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ” اور کس چیز کا شوق ہے؟“اوپر سےلٹکتی کرسٹل ہالز میں ان کی میز کا عکس الٹا ہو کے دکھائی دے رہا تھا۔

mala novel in urdu epi 8

”بائیکس کا شوق تھا مجھے۔ لیکن پھر (ٹھنڈی سانس ) ایک ایکسیڈنٹ میں میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔“

”چچ۔ “ اس نے فکرمندی سے  چمچ نیچے رکھا۔ رائٹ یا لیفٹ ؟“

”کیا ؟“

”رائٹ ٹانگ ٹوٹی یا لیفٹ ؟“

”را… رائٹ ۔“  وہ سنبھل کے مسکرایا۔ ”بس اس کے بعد  سے بائیکس کو ہاتھ نہیں لگایا۔ حالانکہ وہ آج بھی میرے گیراج میں کھڑی ہیں۔ “

سفید میز پوش پہ رکھا اس کا فون ایک دم زوں زوں کرنے لگا۔ ماحول کا سارافسوں ٹوٹ گیا۔ بیر بل نے نظرجھکا کے دیکھا۔ فیضی خانم کالنگ۔ اس نے پاور بٹن کو دو دفعہ دبایا۔ کال کٹ گئی اور فون خاموش ہو گیا۔

”ویک اینڈ پہ بھی میری سیکرٹری چین نہیں لینے دیتی۔“  وہ پھر سے مسکرا کے اس کی طرف متوجہ ہوا۔ لڑکی نےمسکرا کے سر جھٹکا۔

”تمہارے جیسے آدمی کے یہی مسئلے ہوتے ہیں۔“

”تم اپنے بارے میں بتاؤ تم یہاں …“

فون پھر سے وائبریٹ کرنے لگا۔ اس نے ضبط سے پہلو بدلا۔

”ایکسکیوز می۔ “ پھر موبائل کان سے لگاتے ساتھ ہی بولا۔

”فیضی حانم … میری آج کی ساری میٹنگز کینسل کر دیں۔ میں ایک بہت اہم ڈنر پہ ہوں۔ (مسکرا کے اسےدیکھا۔ وہ بھی پلکیں جھپکا کے مسکرائی ۔) اور اب آپ مجھے تنگ نہیں …“

الفاظ اس کے لبوں میں رہ گئے۔ دوسری طرف سے کچھ کہا جار ہا تھا۔

”واٹ؟ کیا ہوا ما ہر کو؟“ اس کی رنگت فق ہوئی۔ وہ دبا دبا سا چلایا۔

”کہاں ہے وہ ؟‘رک کے سنا۔ ہاں ہاں میں پہنچ رہا ہوں۔“

تیزی سے فون رکھا اور جلدی جلدی والٹ کھولنے لگا۔ لڑکی نے تشویش سے اسے دیکھا۔

”ماہر کون؟“

”میرا بڑا بھائی ۔“ اس نے چند نوٹ نکال کے میز پر رکھے۔اس کے ہاتھ کپکپارہے تھے۔

”بھائی ؟“ سارا سحر چھن سے ٹوٹا۔

” تم نے کہا تم اکلوتے ہو ۔“اس کے ماتھے پر بل پڑے۔

بیر بل  نوٹ رکھتے ہوئے اٹھا اور کچھ کہے سنے بغیر تیزی سے باہر کی طرف لپکا۔

”بیربل ۔۔۔ تم مجھے یوں چھوڑ کے نہیں جا سکتے۔ بیربل۔“ وہ اپنی جگہ پر کھڑی دبی آواز میں غرائی تھی لیکن وہ دوڑتے قدموں سے باہر جارہا تھا۔ اردگرد کے لوگ مڑ مڑ کے دیکھنے لگے تھے۔

وہ بگڑے تاثرات کے ساتھ واپس بیٹھی۔

سفید اور نیلی پلیٹ میں بچا ہوا ڈیزرٹ اس کو دیکھ کے مسکرارہا تھا۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شبنم کے اپارٹمنٹ کا منظر:

یہ ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ کا ٹیرس تھا۔

یہاں سے ہمسایہ اپارٹمنٹ بلڈنگز کی چھتیں صاف دکھائی دیتی تھیں۔ ٹیرس پہ ایک سادہ سا جھولا رکھا تھا جس کی لکڑی پہ فیری لائٹس لگی تھیں ۔ جھولے پہ آرام دہ کشن رکھے تھے اور سامنے میز پہ لیپ ٹاپ اسکرین پہ نیٹ فلکس کا سرخ این رکا ہوا نظر آرہا تھا۔ ساتھ ہی کیریمل پاپ کارن کا بھرا ہوا پیالہ دھرا تھا جس سے خوشبو اٹھ رہی تھی۔

ٹیرس پر بنا یہ چھوٹا مگر آرام دہ سا سیٹ اپ و یک اینڈ کا اعلان کر رہا تھا۔

دفعتاً اندرونی دروازے سے شبنم آتی دکھائی دی۔ پیروں میں کپڑے کے چپل پہنے بالوں کو تو لیے کی پگڑی میں لپیٹے وہ نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔ ایک فخریہ نظر اس نے اپنے جگمگاتے ہوئے جھولے پہ ڈالی اور پھر سر اٹھا کے سیاہ آسمان کو دیکھا جہاں چند تارے دکھائی دے رہے تھے۔

”سارا ہفتہ مجھے اس رات کا انتظار رہتا ہے۔ بالآخر آج مجھے ماہر بے نامی بلا تنگ نہیں کرے گی۔“

وہ لاہور جارہا تھا اور ویسے بھی وہ ویک اینڈ پر اس کو کم ہی تنگ کرتا تھا۔ وہ مسکرا کے جھولے یہ یوں بیٹھی کہ کشن میں دھنس سی گئی اور پیرمیز پر رکھ لیے۔ پھر لیپ ٹاپ گود میں رکھا اور ائیر فونز کانوں میں گھسائے۔

”ڈھائی گھنٹے کی قسط دیکھنے کے لیے پاپ کارن بناتی ہوں اور وہ ڈھائی منٹ میں ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن خیر ۔“اس نے سر جھٹکا اور خوب سیٹ ہو کے بیٹھنے کے بعد اسکرین آن کی۔

جہاں سے سلسلہ پچھلے ویک اینڈ پہ ٹوٹا تھا، وہاں سے جوڑا۔

ٹرٹرن … فون ایک دم سے چیخا تو ہاتھ سے پاپ کارن کے ٹکڑے دور جا گرے۔ شبنم نے بدمزہ ہو کے موبائل اٹھایا۔

بیر بل کالنگ۔

اس وقت؟ میں نہیں اٹھا رہی۔ جتنی مرضی کال کرلے۔

موبائل سائیلنٹ کرکے  اس نے واپس اسکرین کو دیکھا لیکن ارتکاز ٹوٹ چکا تھا۔

کال پھر سے آنے لگی تو شبنم نے ”اف اللہ میاں“ کہتے ہوئے فون جھپٹ کے اٹھایا۔

”نے بیربل ؟ نے ؟ “ وہ زور سے غرائی۔ ( کیا بیرل؟ کیا ؟ )

دوسری طرف کے الفاظ سن کے شبنم کے چہرے کی بے زاری عنقا ہوئی اور دھیرے دھیرے اس کی رنگت بدلنے لگی۔  آنکھیں پھیل گئیں اور لب کھلے کے کھلے رہ گئے۔

اگلے ہی لمحے اس نے تیزی سے ٹانگیں نیچے اتاریں، لیپ ٹاپ میز پر رکھا، جلدی سےپیرسلیپرز میں گھسیڑےاور اٹھ کے اندر بھاگی۔

فیری لائٹس سے سجا جھولا، کیریمل سے سجے پاپ کارن اور ساکن ہوئی اسکرین مایوسی سے اسے دور جاتے دیکھ رہے تھے۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

چنگیز کے سریار پولیس اسٹیشن کا منظر:

سر یار پولیس اسٹیشن کے باہر جلتی بجھتی بتیوں والی کارز آتی جاتی دکھائی دے رہی تھیں۔ پولیس اسٹیشن کئی منزلہ تھااور اس کا ہر فلور مختلف جرائم کے لیے مختص تھا۔ ہومی سائیڈ فلور پر ایک بڑا سا ہال بنا تھا جس میں جگہ جگہ ڈیسک لگےتھے۔ کچھ لوگ فائل لیے ادھر ادھر جارہے تھے۔ کچھ کمپیوٹرز کے سامنے جھکے تھے۔

ایسے میں کونے میں ایک آفس تھا جس کے سلائڈنگ ڈور کھلے تھے۔ باہر ” باش کومسر‘‘ ( چیف انسپکٹر) کی تختی لگی تھی۔ اندر ایک بڑی میز کے پیچھے براجمان چنگیز فون کا ریسیور کان سے لگائے یوں بیٹھا تھا کہ بوٹ میز پر رکھےتھے۔ گریبان کے دو بٹن کھلے تھے اور ہاتھ میں سگریٹ تھا۔ وہ بگڑے تاثرات کے ساتھ کسی سے فون پر بات کر رہاتھا۔

کال ختم ہوئی تو اس نے ریسیور رکھا اور سگریٹ کی راکھ کو ایش ٹرے میں جھٹکا۔ پھر کھلے دروازوں کے پار ہال کمرے کو دیکھا جس کی ایک دیوار پر اونچا گھڑیال نصب تھا۔

وقت کی سوئیاں دیکھ کے چنگیز نے بے زاری سے منہ پہ ہاتھ رکھ کے جمائی رو کی۔ پھر ایک اسسٹنٹ فائل لیے اندر آتا دکھائی دیا تو اس نے بوٹ نیچے اتارے۔

”باش کومسر بے،  ایک بات پوچھوں؟“ اسٹنٹ نے فائل اس کے سامنے رکھ کے کھولی اور ساتھ  ہی  دانت نکال کے مخاطب کیا تو چنگیز سستی سے سیدھا ہوا  اور قلم نکالا۔

”پوچھو“

”لوگ مرنے کے لیے ویک اینڈ کا انتخاب کیوں کرتے ہیںَ“

چنگیز نے اسی بے زاری سے سر جھٹکا۔

”کیونکہ استنبول والوں کے پاس سارا ہفتہ مرنے کے لے وقت نہیں ہوتا۔ ویک اینڈ پہ وہ اپنی بورنگ زندگی سے فرار کے لیے یہ خوب الکحل پیتے ہیں۔ پھر کسی بار میں آپس میں لڑ پڑتے ہیں یا سڑکوں پہ نکل جاتے ہیں۔ کوئی کسی گاڑی کے نیچے آ جاتا ہے اور کوئی غصے میں دوسرے کو مار دیتا ہے۔“

سائن کر کے فائل پرے دھکیلی تو میز پر رکھامو بائل بجنے لگا۔

”ابھی دیکھنارات دو بجے کے بعد ایسے ایسے ایکسیڈنٹ کیسز آنے لگیں گے جیسے بارش کے بعد کیڑے نکل آتے ہیں۔“ اکتاہٹ سے کہتے ہوئے اس نے موبائل اٹھایا۔ نام پڑھ کے تیوریاں مزید چڑھ گئیں۔ فون کان سے لگاتے ہی وہ شروع ہو گیا۔

”بیربل میں تمہیں آخری دفعہ بتارہا ہوں۔ میں تمہارے لیے کسی لڑکی کا بیک گراؤنڈ چیک نہیں کروارہا۔ ہر ہفتےتم نئی لڑکی کا نام دے دیتے ہو۔ میں …“

اگلے الفاظ سن کے اس کی بولتی زبان رک گئی۔ وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔

”کون سا ہسپتال ؟ میں آرہا ہوں۔“ چابی اور جیکٹ اٹھائے وہ تیزی سے میز کے پیچھے سے نکالا۔ سگریٹ نیچےگر گئی۔ اگلے ہی لمحے اس کا بوٹ سگریٹ کے ٹکڑے کو روند کے آگے بڑھ گیا۔

”کیا ہوا کو مسار ہے؟“ اسسٹنٹ نے پیچھے سے پکارا۔

”میرے دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ میں و ہیں جارہا ہوں۔ تم لوگ پیچھے سے سنبھال لینا ۔“ آواز لگاتا وہ دوڑتے قدموں سے لفٹ کی طرف جارہا تھا۔

ڈیسک پہ کام کرتے ایک آفیسر نے مڑ کے اسے جاتے دیکھا۔ پھر افسوس سے سر دائیں بائیں ہلایا۔

”ویک اینڈ نائٹ ۔“

ساتھ بیٹھی لڑکی نے بھی چچ کی آواز کے ساتھ شانے اچکائے۔ مڑے سر واپس گھوم گئے اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔

                                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بیوٹی سیلون کا منظر:

سیلون کے اس فیشل روم کی چھت تیز سفید بتیوں  سے روشن تھی۔ سفید  بیڈ پہ زارینہ لمبی لیٹی تھی۔ اس نے سیلون کا گاؤن پہنا ہوا تھا اور ماتھے پہ مخملیں بینڈ چڑھا کے بالوں کو چہرے پہ آنے سے روک رکھا تھا۔ دونوں دائیں بائیں پھیلا رکھے تھے اور دو لڑکیاں بہت مہارت سے ان کا مساج کررہی تھیں۔

خود وہ گردن پیچھے کو پھینکے آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔ سر کے پیچھے کھڑی ایک سفید کوٹ والی لڑکی اس کے چہرے پہ سنہری پیسٹ لگا رہی تھی۔

”ہوں..“ ٹھنڈا پیسٹ چہرے پہ لگا تو زارینہ نے نزاکت سے سسکاری بھری ۔” یہ ٹھنڈا ہے۔“

ہمار۲۴ ۱ کیرٹ گولڈ فیشل آپ کو اتنا پسند آئے گا کہ آپ بار بار آئیں گی۔“

”دیکھتے ہیں۔ “ زارینہ نے بند آنکھوں سے شانے اچکائے۔

دروازے پہ دستک ہوئی تو سفید کوٹ والی لڑکی نے چونک کے اس طرف دیکھا۔

دروازہ کھلا۔ پھر ایک گردن نے اندر جھانکا۔

زار ینہ حانم کے لیے ریسیپشن پر کال آئی ہے۔“

زار ینہ کی آنکھیں بندر ہیں لیکن پیشانی شکن آلود ہوگئی۔

”اپنے اسٹاف کو سمجھاؤ ملیسا۔ کلائنٹ اپنا فون اس لیے آف کرتا ہے تا کہ سروسز کے دوران اس کو ڈسٹرب نہ کیاجائے۔“

سفید کوٹ والی لڑکی نے چوکھٹ والے لڑکے کو آنکھیں دکھائیں اور جانے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ ڈھٹائی سے جما  رہا۔

”کسی شبنم کی کال ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ ماہر بے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔“

اس نے تیزی سے آنکھیں کھولیں اور سیدھی ہو کے بیٹھی ۔ دونوں ہاتھ لڑکیوں کی گرفت سے کھینچ کےچھڑائے۔ لب شاک کے عالم میں کھلے کے کھلے رہ گئے تھے اور آنکھوں میں ایک دم بہت سے جذبات ابھر کےآئے۔

پھر سامنے آئینے پہ نگاہ پڑی تو چونکی۔ دائیں گال پر سنہرا پیسٹ لگا تھا۔ بہت سا پیسٹ ابھی پیچھے کھڑی لڑکی کےپیالے میں تھا۔

”صاف کرو اس کو ۔ جلدی۔ جلدی۔“ وہ چلائی۔ بنا فیشل کے بھی اس کی رنگت گلابی پڑ رہی تھی۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دوہا کے ہوٹل میں عبدالمالک کی میٹنگ:

یہ دوہا کے ایک بلند و بالا ہوٹل کی لابی تھی۔ رات کا وقت تھا اور زرد بتیوں نے ماحول کو خوابناک بنا رکھا تھا۔

ہوٹل کے داخلی دروازوں سے چار افرا داندر آتے دکھائی دے رہے ان میں سب سے آگے عبدالمالک فرید تھے۔ گرے سوٹ پہنے، سفید براق بال جیل  سے پیچھے کی طرف جمائے ، ہمیشہ کی طرح بے تاثر چہرہ لیے۔

وہ ان تین افراد کے ہمراہ چلتے ہوئے لابی میں رکھے صوفوں کی طرف آئے۔ نظر اٹھا کے دیوار پہ نصب گھڑیال کودیکھا۔

بڑی سوئی گیارہ سے ذرا پیچھے تھی۔ وہ وقت کی جمع تفریق کرتے ہوئے بڑے صوفے پہ بیٹھے اور ٹانگ پر ٹانگ جمالی ۔ چمکتے بوٹس میں فانوس کا عکس دکھائی دیتا تھا۔

”سر …“ میٹنگ میں بس پانچ منٹ رہ گئے ہیں۔ ساتھ کھڑا سوٹ والا نوجوان جھک کے پوچھنے لگا۔ آپ ڈنر ہال میں انتظار کرنا چاہیں گے؟“

”میں اسی وقت پہ ہال میں جاؤں گا جو طے ہوا تھا۔“  وہ آرام سے بیٹھے رہے۔انگلیاں صوفے کے ہتھ پہ عادتاً چل رہی تھیں جیسے نادیدہ پیانو بجارہی ہوں۔ ان کے ایک ہاتھ میں چاندی

کی انگوٹھی تھی جس میں سفید پتھر جڑا تھا۔

Download Mala Novel in Urdu PDF – Episode 8

Read More

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close