Mala Urdu Novel By Nimra Ahmed (All Episodes)

Mala Urdu Novel by Nimra Ahmed

ماہوار اقساط کی صورت میں موجود ناول ”مالا“   نمرہ احمد کی ایسی کاوش ہے جس نے ناول میں موجود کرداروں کو آئینے کی صورت میں قارئین کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس میں نظر آنے والے عکس سے فائدہ اُٹھا کر انسان اپنی ظاہری اور باطنی خامیوں کا سدِباب کر سکتا ہے ۔

آپسی  مفادات کی مدبھید، حق و باطل میں تمیز، کچھ پانے اور کچھ کھونے کا جنون، ایمان کی قدرو قیمت ، جذبات و خواہشات کی آمیزش  نے ناول کی صورت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

ناول ”مالا“نے مختصراً مگر جامع انداز میں کرداروں کے ایک بڑے مجموعے کی نمائندگی کی ہے جن میں سے ہر ایک کا تعلق علیحدہ صنف اور طبقے سے ہے۔ مختلف کرداروں کو ان دیکھی ڈور کے نتیجے میں لڑی میں پرونا بھی ناول کی خاص خوبی ہے ۔ ناول نے  جہاں انسانی زندگی کے بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے وہیں مصنفہ نے تحریر کے ذریعے قارئین کو تجدید عہد کا سامان بھی مہیا کیا ہے۔

حضرت انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کی تقدیر لکھ دی گئی ہے جو کہ ہر ایک کے لیے  مختلف ہے   جو کہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جو کہ دعا کے علاوہ تغیر و تبدل سے پاک ہے۔ ناول کی رو سے مشاہدہ کیا جائے تو انسانی زندگی کے دو مختلف پہلو ہیں۔ جن میں سے ایک مثبت اور دوسرا منفی پہلو ہے اور انسان کا ان ہی طرف رحجان ہی اس کے ایمان کی عکاسی کرتا ہے۔

ناول چونکہ ابھی  بھی جاری ہے اس لیے کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچے بغیر بھی اس حقیقت کو فی الواقع تسلیم کیا جا سکتا ہے  کہ ناول معاشرتی اقدار  اور اُن کی طرف ہمارے رحجان کی وضاحت ہے۔

انسانی زندگی کی بے ثباتی ، کسی نیم صحرا میں موجود  ”سراب“ سے تشبیہہ ہے جو کہ حقیقتاً ایک دھوکہ ہے اور اُس میں موجود تمام ظاہری آسائشوں کو حاصل کرنے کی خواہش بھی ایک سراب ہے۔ عام تاثر ہے کہ انسان نفسانی خواہشات کا غلام ہے جس نے اسے مادہ پرستی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

انسانی زندگی کا حاصل وہ ہے جو لمحہ موجود میں اُ س کی دسترس میں ہے۔ اس سے آگے یا مزید کی سوچ سے ہی اُ س کا زندگی کی بے ثباتی پر یقین ڈگمگا جاتا ہے جوکہ گناہ اور ناجائزفعل کی مرکزی وجہ ہے۔

Mala Novel Urdu by Nimra

سحر (کالا علم):

کالا علم بلاشبہ ایک حقیقت ہے جو کہ  رحمان کو ناراض کرنے اور شیطان کو خوش کرنے کی ایک بھونڈی تدبیر ہے لیکن ضروری امر اس میں ہماری خواہش کی اتباء سے متاثر ہمارے ایمان کا امتحان ہے۔

دنیا میں کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے دو ہی راستے ہیں جن میں سے ایک سیدھا اور دوسرا غلط راستہ ہے۔ ان میں سے کسی بھی راستے کو اختیار کرنا خالصتاً ہماری اپنی مرضی پر منحصر ہے۔

انسانی زندگی  روزِ اول ہی سے ”زن، زر اور زمین“کے گرد گھوم رہی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے حصول  کا راستہ ہمارے  ایمان کی آزمائش ہے۔ اِن میں سے کسی بھی چیز کو بغیر مشقت اور تگ و دو کے حاصل کرنے کی تمنا ہی ہمیں غلط راستے کی طرف لے جاتی ہے۔ منزل کی طرف جانے والا صحیح راستہ دشوار گزار ضرور ہے لیکن اس میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات سے جوانمردی سے نمٹنا ہی خالصتاً خدا کی رضا مندی کے حصول کا ذریعہ ہے اور اتباع الٰہی کی پہچان ہے۔

منزل تک پہنچنے کےلیے اللہ تعالٰی کی طرف سے قائم کی گئی حدود کا تعین جلد یا بدیر ہمیں ، ہماری منزل تک پہنچا دے گا اور اس سفر میں صبر اور تحمل ہمارے بے لوث ساتھی کا کردار ادا کریں گے۔

معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں  جو کہ سرے سےکالا علم  کو  تسلیم  ہی نہیں کرتے   جو کہ سراسر  اُن کی خام خیالی ہے جبکہ یہ حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے بھی ثابت ہے کہ ایک بار یہ عمل اُن پر بھی کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اور ایک طبقہ وہ ہے جو اس شیطانی عمل کو ہتھیار بنا کر نفسانی خواہشات کے لیے استعمال کرتے ہیں جوکہ انتہائی  غلط فعل ہے۔ تقدیر کے فیصلے اٹل ہیں جن میں کسی قسم کا کوئی بھی ردوعمل ممکن نہیں  اور اس حقیقت کو جس قدر جلدی تسلیم کر لیا جائے۔

اہم بات:

کالا جادو کی مثال ایسی ہے کہ اگر کوئی کسی شخص کسی کو تکلیف پہنچانے کے لیے اس پر کالا علم کرتا یا کرواتا ہے تو وہ تکلیف اُس دوسرے شخص کی تقدیر میں پہلے سے لکھی ہوتی ہے وہ بس اپنے آپ کو اس شامل کرکے اپنے گناہوں میں کرتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کو کینسر کی بیماری  ہے اور وہ قریب المرگ ہے اور دوسرا شخص اسے گولی مار کر قتل کر دے۔ موت کا وقت تو اُس کا مقرر تھا لیکن دوسرے شخص نے محض گناہ میں اپنا حصہ ملایا۔

سحر کی  چنددرج ذیل اقسام ہیں:

  • سحر الاسود
  • سحر الامراض
  • سحر عشق

موضوع:

کالا جادو اور انسانی زندگی پر اُ س کے اثرات

خاکہ:

ناول بنیادی طور پر دو مرکزی کرداروں ماہر فرید اور کشمالہ مبین کی زندگیوں کے گرد گھومتا ہے جن کو  دنیاوی مصائب و مسائل کے علاوہ کالا علم سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔

ابواب:

باب اول ۔۔۔ لاہور

باب دوم۔۔۔۔ مکہ

باب سوم۔۔۔۔ وین کوور

کردار:

کشمالہ مبین عرف مالا۔۔۔۔۔مرکزی کردار۔۔۔۔۔ کاروباری خاتون۔۔۔۔احساسِ کمتری کا شکار

ماہر فرید۔۔۔۔ مرکزی کردار۔۔۔۔۔کیف کمپنی کا مالک۔۔ فرید ہولڈنگ کا سی ای او۔۔۔ نامکمل شخصیت۔۔۔معمار

قاسم علی امتیاز فرید ۔۔۔ ماہر فرید کا باپ۔۔ فرید ہولڈنگ کمپنی کا چیئر مین

بیربل فرید۔۔۔ ماہر فرید کا چھوٹا بھائی۔۔۔ دل پھینگ اور ہنس مکھ نوجوان۔۔۔۔ بیکری کا مالک

مالک فرید۔۔۔۔ماہر فرید کا چچا۔۔۔ فرید ہولڈنگ کا مینیجر

کیف  جمال۔۔۔۔۔ناکام انٹرپرینئر

ہلال۔۔۔ ماہر فرید کی سوتیلی مگر چہیتی بہن

شبنم۔۔۔ ماہر فرید کی سیکرٹری

ڈاکٹر رائد۔۔۔ اسلامک ریسرچر

 بخت بی۔۔ ۔کشمالہ کے گھر کی نوکرانی

سلیم۔ بخت بی کا بیٹا۔ چوکیدار

کیف ادارہ۔۔  تعمیراتی ادارہ

زیاد سلطان۔۔۔ نگینہ  کا بیٹا

نگینہ۔۔۔ زیاد سلطان کی ماں

معیدمبین۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ کشمالہ کا بھائی

رابیل۔۔۔ ماہر فرید اور بیربل کی  والدہ

شمس۔۔ رابیل کا دوسرا شوہر

کبیرہ تائی ۔۔ کالا علم کروانے والی

حورِ جہاں۔۔۔ کشمالہ کی امی

زارینہ۔۔ مالک فرید کی بیٹی

ماہ بینہ۔۔۔ کشمالہ کی بہن۔۔ماہی

عباد۔۔ ماہ بینہ کا شوہر

نوٹ: ناول کے سسپنس کو برقرار رکھنے کے لیے  ہم نے کرداروں کی زیادہ تفصیل میں جانے سے گریز کیاہے تاکہ ناول کا حسن برقرار اور قارئین کی دلچسپی میں اضافہ رہے۔

مالا ناول کے دلوں کو چھو لینے والے  الفاظ

  • یونیورسٹی، کالج، کتابیں۔۔۔ سب یہ سکھاتے ہیں کہ کامیاب کیسے ہونا ہے۔ کوئی یہ کیوں نہیں سکھاتا کہ ناکام کیسے ہونا ہے؟ دل ٹوٹے گا تو کیا کرو گے؟ مستقبل تاریک نظر آئے گا تو کیسے آگے بڑھو گے؟
  • رنگوں کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ ہر رنگ بات کرتا ہے  جیسا کہ سرخ کہتا ہے مجھے یاد رکھو۔ یہ رنگ توجہ کھینچتا ہے۔ یہ تاریخ میں لکھا جاتا ہے۔  سرخ خون کا رنگ ہے اور آگ کا بھی۔
  • قسمت اور بخت سب سے زیادہ چلتا ہے اور پھر بات محنت اور قابلیت کی آتی ہے۔
  • ڈرانے والوں کی غذا آپ کا ڈر ہوتا ہے، جس دن آپ اُس کی غذا روک دیں گے وہ کمزور پڑجائےگا۔
  • حقیقت ایسا زہر ہے جس کو پینے سے انسان مرتا نہیں ہے، بس وہ اس کے اندر کی ساری امید چوس جاتا ہے۔
  • جنت ماں کے پیروں تلے ہوتی ہے۔مگر وہ صرف ماں کے پیر دبانے سے نہیں ملتی۔ ماں کے پیروں کے نیچے کی زمین بننا پڑتا ہے۔ وہ زمین جو بوجھ اٹھاتی ہے۔ جو ماں کو اُس کے قدموں پہ کھڑا رکھتی ہے۔
  • وہ بیماری، وہ سفر، وہ سب جس میں جادوگر اپنے ٹارگٹ انسان کو مبتلا کرتا ہے وہ پہلے سے اس کے لیے اللہ تعالٰی نے متعین کر رکھا ہوتا ہے، اگر جادوگر عمل نہ بھی کرتا ، تب بھی وہ سب ویسے ہی ہونا تھا۔
  • جو انسان کسی عامل  کی چوکھٹ ایک دفعہ دیکھ لیتا ہے اور اسے اپنا کام کروانے کا چسکاپڑجاتا ہے  ، وہ کبھی اس چوکھٹ سے آزاد نہیں ہوتا۔ یوں جنات کے ساتھ ساتھ انسان بھی اس کی قید میں ہوتے ہیں۔
  • کوئی بھی عمارت بنانے کےلیے سب سے اہم معمار ہوتا ہے۔ لیکن لوگ معماروں کو بھو ل جاتے ہیں اور بنوانے والے کو یاد رکھتےہیں۔
  • انتقام کے سفر پہ نکلنے والے کو چاہیے کہ وہ دو قبریں کھود لے۔ ایک دشمن کی اور ایک خود اپنی۔
  • موت سے بڑا کوئی غم نہیں ہے۔
  • ایک لمحہ ہوتا ہے جو انسان کی قسمت بدلتا ہے۔ایک لمحے میں کوئی تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ اورایک لمحے کی بے دھیانی ایکسیڈنٹ کروا دیتی ہے۔ ایک لمحہ کسی کو کسی کی محبت میں مبتلا کردیتا ہے۔ وہ ایک لمحہ اگر انسان پکڑ لے تو وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔
  • محبت ایسے لوگوں کو نہیں ملا کرتی جن کو  اکیلے رہ جانے کا خوف ہوتا ہے ایسے لوگوں کو صرف ٹاکسک پارٹنر ملتے ہیں  کیونکہ ان کی یہ بیتابی ایسے ہی لوگوں کو اُ ن کی طرف کھینچ لاتی ہے جو اُ ن ہی کی طرح بے تاب ہوتے ہیں۔ان سیکیور، کسی مقصد کو چھپائے ہوئے، پھر چاہے وہ سحر عشق کریں یا دولت کے لالچی ہوں۔
  • اعلٰی میعار کے شخص کو پانے کے لیے ہر دستک پر دروازہ نہیں کھولا جاتا بلکہ اپنا معیار بلند کیا جاتا ہے ۔ جو محبت کے پیچھے بھاگتے ہیں، محبت اُن سے دور بھاگتی ہے۔ یہ صرف اُ ن کے نصیب میں آتی ہے جو ٹھہر جاتے ہیں، خود پہ محنت کرتے ہیں ، اپنی ذات کو قابلِ محبت بناتے ہیں ۔ جس کے دل میں ذرا سا بھی تنہائی کا خوف ہو وہ تنہا ہی رہ جاتا ہے۔
محاصل:

مصنفہ نے ناول  ”مالا“ میں اس کی جامعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے زندگی کے مختلف حالات و واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ ناول کی مرکزی تدریس کالا علم اور اس کے نتیجے میں انسانی  زندگی میں رونما ہونے عوامل اور اثرات ہیں۔

کالا علم ، غلاظت کی ایک ایسی دلدل ہے جس میں انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہو کر قدم تو رکھ دیتا ہے لیکن اس کا انجام تباہ کن ہے کیونکہ جو ایک شخص  اس دلدل میں ایک بار قدم رکھ دے تو وہ اس غلاظت میں مزید دھنستا جاتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ انسان اس کی لذت میں  اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر دیتا ہے جس کا کوئی نہیں ، اُس کا خدا ہے۔ اسی حقیقت کو جس قدر جلدی تسلیم کر لیا جائے  تو بہتر ہے۔ کسی پر علم کروانے والا اپنی ذات کو عامل کے پاس گروی رکھ دیتا ہے اور جس انسان کو اللہ کا ہونا چاہئے تھا وہ بس عامل کا ہو کر رہ جاتا ہے۔

Mala Urdu Novel All Episodes

Mala Novel Episode 1

Mala Novel Episode 2 

Mala Novel Episode 3

Mala Novel Episode 4

Mala Novel Episode 5

Mala Novel Episode 6

Mala Novel Episode 7

Mala Novel Episode 8

Mala Novel Episode 9

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے