مالا اردو ناول از نمرہ احمد – قسط نمبر 3

Mala Urdu Novel by Nimra Ahmed – Episode 3

جب ہم چھوٹے تھے

ہمیں کہانیوں میں جادو

اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔

پھر ہم  بڑے ہوئے

اور ہم ڈرنے لگے۔

محبت سے

نہ جانے کس مقام پہ

ہم نے بھلا دیا اس بات کو

کہ جادو اور محبت۔۔۔

ایک ہی شے ہے۔

(جے آر روگ)

تاریخ تھی پانچ اپریل ۔ شہر تھا اسلام آباد کا ۔ اور وقت تھا اس ملاقات کےختم ہونے کا۔

ہوٹل سوئیٹ میں وہ دونوں گھڑی کی چھ اور بارہ کی سوئیوں کی طرح آمنے سامنے کھڑے تھے۔

”تم نے کبھی سنا ہے ایسے شخص کے بارے میں جوکسی دن اچانک سے غائب ہو جاتا ہے؟ وہ اپنے اپارٹمنٹ سے نکلتا ہے اور پھر واپس نہیں آتا۔“ ماہر فرید سرد لہجے میں کہہ رہا تھا۔ ”تم کیف جمال اس جاب کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتے،  یہ جاب تب ختم ہوگی جب میں کہوں گا۔ اورجب تک میں نہیں کہوں گا،  تمہارے اپارٹمنٹ سے بدبو  بھی نہیں اُ ٹھے گی۔ اب یہ پیکٹ اُٹھاؤ اور جا کے نئے جوتے خریدو۔“

کیف کا چند منٹ پہلے بحال ہوا اعتما وایسے بکھر گیا جیسے ہوا سے سوکھے پتے بکھر جاتے ہیں۔ اس نے میکانکی انداز میں سر ہلا دیا۔  پیسے مینٹور شپ،  اپنے بزنس کا کامیاب ہو جانا، یہ سب اس کی ضروریات تھیں لیکن اس لمحےایسے احساس ہوا کہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس نے خود کو ایک غلط آدمی کے ساتھ سودے میں پھنسا دیا ہے۔

”مزید کچھ پوچھنا ہے تو ابھی پوچھ لو۔ “ ماہر فرید نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی ۔” میری لندن کی فلائٹ ہے۔  مجھے واپس جانا ہے۔  زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس۔“

کیف جمال نے کچھ کہنے کے لیے لب کھو لے- اسی وقت روم کا دروازہ کھٹکا۔  ایسے نہیں جیسے بیل بجاتے ہیں۔

بلکہ ایسے جیسے کوئی جوتے سے دو تین دفعہ ٹھوکر مارتا ہے۔ ماہر فرید نے کیف سے نظر ہٹائی اور مالک کو دیکھ کے ابروسے دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔

مگر مالک نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض کندھے اچکا دیے۔

”اس کے پاس کی کارڈ ہے۔ خود کھول لے گا ۔“

چند لمحے بعد کار ڈسوائپ ہونے کی بپ بجی۔ پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

”ایک دروازہ کھولنے میں کتنی محنت لگتی ہے یار۔ تم لوگ میرے ساتھ یہ جان بوجھ کے کرتے ہو۔“ اندر داخل ہونے والا شخص جھنجھلا کے کہتے ہوئے رک گیا۔ کیف ابھی تک ماہر کو دیکھ رہا تھا لیکن اسے کھڑکی کے شیشے میں مدھم ساعکس دکھائی دیا ۔ وہ ایک نوجوان تھا جس کے ہاتھ میں پکڑی پیپر ٹرے میں ڈسپوزیبل کپ نظر آر ہے تھے۔

کیف جمال کو دیکھ کے نووارد نے نظریں جھکا ئیں ۔ کمپ گنے۔ ایک دو تین ۔

پھر چہره او پر اٹھا کے کمرے میں موجود افراد کی گنتی کی۔ اب کے وہ بولا تو آواز میں معذرت تھی۔

”مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہاں ہم چار لوگ ہوں گے ۔“

کیف کو خود نہیں معلوم تھا کہ اس روز ہوٹل سوئیٹ میں وہ تین نہیں چار ہوں گے۔ اس نے ماہر فرید سے نظریں ہٹائیں اور گردن موڑ کے اس شخص کی طرف دیکھا ۔

نودار د عمر میں چھپیں ستائیس برس کا نوجوان لگتا تھا۔ بال سیاہ گھنگریالے تھے۔ ماتھے پہ ایک طرف سے آگے کوگرتے تھے۔ کانوں کے اوپر سے استراپھر ا تھا۔ اس کا لباس بھی اس کے بالوں کی طرح casual سا تھا۔ گول گلے کی ٹی شرٹ پہ ہلکا نیلا کوٹ جس کے آستین crouched تھے۔ ( کہنی کے آس پاس سلوٹیں ڈال کے اکٹھےسلے تھے تا کہ آستین او پر چڑھانے کا تاثر ملے۔)  وہ کلین شیو مسکراتے چہرے والا نو جوان پیروں میں بنا جرابوں کے اوور سائز ڈ جوگرز پہنے ہوئے تھا۔

اس نے ٹرے میز پہ رکھی۔ اپنا کپ اٹھایا اور اسٹرا ہونٹوں میں ڈالتا ایک سنگل صوفے پہ جا بیٹھا۔ ٹانگ پر ٹانگ جمائی اور جوگر والا پیر جھلاتے ہوئے دلچسپی سے کیف کو دیکھا۔

”کوئی مجھے بتائے گایہ کون ہے؟“ اس کا لہجہ کافی حد تک accented تھا۔

”یہ کیف جمال ہے۔ باڈی گارڈ کی نوکری کےلیے اسے بلایا ہے۔“

”کیف؟ یہ کیف ہے؟“ نو وارد ہلکا ساہنس دیا۔” اینی ویز … میں سب کا چائے قہوہ لے آیا ہوں۔ ہوٹل کچن سے خود بنوا کے ۔سوری کیف مجھے تمہاری آمد کا علم نہیں تھا۔“ معذرت کر کے اسٹرالبوں سے لگالیا۔

کیف ابھی تک اچھنبے سے اس نوجوان کو دیکھ رہا تھا جو اس سارے منظر نامے میں مس فٹ تھا۔ کیف کواپنی طرف دیکھتا پا کے اس نے اسٹرا ہونٹوں سے ہٹایا اور دلکشی سے مسکرایا۔

”میں بیربل ہوں۔ تم مجھے بیرکہہ سکتے ہو۔ یا جیسے ماہرکہتا ہے۔۔۔صرف بی۔“

اس کے کولڈ کافی کپ کے اوپر مارکر سے لکھا Birbal اسے اب نظر آیا تھا۔ بس ایک نظر اس نام کو پڑھا اور جواب دیے بنا ماہر فرید کی طرف مڑ گیا۔ اسے ان لوگوں کے ساتھ نہ مسکرانے کی ضرورت تھی نہ زیادہ گھلنے ملنے کی۔

”مزیدکوئی سوال ؟“ ماہر نے ابر و اٹھا کے پوچھا۔

”ایک ہی دفعہ سب سوال پوچھ لو۔“  مالک اپنا کپ اٹھاتے ہوئے اب کوفت زدہ لگ رہا تھا۔ جیسے ہو جلد از جلد کیف جمال کو  وہاں سے بھیجنا چاہتا ہو۔

”اگلے دو ماہ مجھ سے رابطے میں کون رہے گا ؟“

”صرف مالک۔ کیونکہ میرے پاس ان چیزوں کے لیے وقت نہیں ہے۔“

ماہر نے اپنے کپ کو ابھی تک ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ وہ دونوں اسی طرح آمنے سامنے کھڑے تھے۔

”ٹھیک ہے۔ میں دو ماہ تک اس جاب کو کروں گا۔“ کیف سوچ سوچ کے بول رہا تھا۔ اسے تمام پہلوؤں پر غور کرنا تھا۔ وہ بار بار پیسے  اٹھا کے واپس اس سوئیٹ میں نہیں آ سکتا تھا۔ اسے اس سائیکو پیتھ سے جو منوانا تھا، ابھی منوانا تھا۔

”لیکن اگر مجھے اس لڑکی کی نوکری اچھی لگی اور دو ماہ بعد  کے بھی میں اس  نوکری کو  کرنا چاہوں ۔۔ تو؟“ رُک کے وضاحت کی ۔ ”وہ ایک کامیاب ریستوران چلاتی ہے۔ میں اس کے پاس رہ کے بہت کچھ سیکھ سکتا ہوں۔“

اس بات پہ ہوٹل سوئیٹ میں سناٹا چھا گیا۔ مالک اور ماہر نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور اسٹرا سے گھونٹ بھرتا بیربل ہنس دیا۔ پھر کپ  نیچے کرکے محفوظ انداز میں بولا۔

”ماہر۔۔۔ تم نے اس کو اصل بات نہیں بتائی؟“

”کیا؟“ کیف نے چونک کے باری باری ان کو دیکھا۔ ان تینوں نے نگاہوں میں تبادلے کیے تھے۔

”کیف جمال۔۔۔“ ماہر فرید کھنکھارا۔ آواز میں قدرے نرمی تھی۔ ”تم دو ماہ سے زیادہ اس جاب کو نہیں کر سکتے۔ میرا اور تمہارا معاہدہ دو ماہ بعد ختم ہوجائے گا۔“ قدرے توقف سے بات جاری رکھی۔

”جب تم اس جاب سے انکار کر رہے تھے تو میں نے تمہیں دو باتیں کہی تھیں۔ کیا وہ تمہیں یاد ہیں؟“

بیربل مسکراتے ہوئے انہیں دیکھتا، اسٹرا سے کافی حلق  میں کھینچ رہا تھا۔

”مجھے یاد ہے“

”یاد ہے تو میرے دو فقرے  دہراؤ۔“

”بہت بہتر۔ آپ نے کہا تھا کہ۔۔۔۔“ وہ ماہر فرید کے الفاظ دہرانے لگا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیلے رنگ کی بس تیز رفتاری سے سرمئی سڑک پر رواں دواں تھی۔ چلی و یک کے پہاڑوں کا سلسلہ دور پیچھے رہ گیاتھا۔ اور دین کو در ( Vancouver) کی اونچی عمارتوں کی اسکائی لائن نظر آنے لگی تھی۔

”دین کوور“ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کا سب سے معروف شہر تھا۔ یہ دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں سے ہے۔ دنیا بھر کے امراء اور رؤسا میں اس شہر میں گھر خریدنا ایک ٹرینڈ بن چکا ہے۔ اس گھر کو لے کر وہ چھوڑ دیتے ہیں اور وہاں صرف چھٹیوں کے چند ہفتے گزارنے آتے ہیں۔

ماہی کے شہر چلی دیک سے یہ شہر ”وین کوور“ گھنٹے بھر کی ڈرائیو پر تھا۔ وہ امراء کی طرح یہاں سیر و تفریح کے لیے نہیں جارہی تھی۔ وہ اپنے جواب ڈھونڈ نے اس سفر پہ نکلی تھی۔

آخری سیٹ پر بیٹھی، کھڑکی سے ماتھا لگائے گم صم سی ماہی باہر بھاگتے درخت دیکھ رہی تھی۔ آج سیاہ بادل کافی نیچے تک اتر تے محسوس ہور ہے تھے۔ بارش کسی بھی لمحے شروع ہونے کو تھی۔

بس کے شیشے پہ اس کے سانس سے دھند سی بن گئی تھی۔ ماہی نے انگلی سے اس پہ لکیرکھینچی۔ ایک۔ دو۔ تین۔ چار ۔ وہ ایم لکھ رہی تھی۔

بچپن میں جب بھی وہ سردیوں میں لمبے روٹ پر سفر کرتے، کار کے شیشوں پر دھند جم جاتی تھی کہ کار کا ہیٹر نہیں کام کرتا تھا۔ وہ تینوں بچے اپنے اپنے شیشوں پر ایسے ہی اپنے نام لکھا کرتے تھے۔ ماں کہتی تھیں پرے فضول حرکتیں نہ کیا کرو ۔ رمضان کے دن ہوتے اور راستے میں روزہ کھل جاتا تو وہ کسی ریڑھی سے پکوڑے خرید لیتے۔ ماں پکوڑوں کا گرم اخبار والا لفافہ اپنی گود میں رکھتیں۔ اور باری باری ہر بچے کو دیتیں۔ وہ چٹنی کے پیکٹ کے کونے  میں دانت سے ایک سوراخ کرتی۔ ایک پکوڑا منہ میں۔ ایک گھونٹ چٹنی کا۔

اب ہیٹر والی کار ز بھی تھیں۔  اب وہ بہن بھائی جہازوں میں سفر کرتے تھے۔ اعلٰی ریستورانوں میں کھانا کھاتےتھے۔ عباد اور ماہی تو بہت ٹریول کرتے تھے۔ لیکن ساری دنیا میں ان پکوڑوں جیسا کچھ نہ تھا۔

دھند چھٹنے لگی۔ اس کا بنایا ایم مدھم پڑنے لگا۔

دھندلے شیشے کے اس پار بس اسٹاپ نظر آرہا تھا۔ اس نے بیل بجائی۔ بس کی رفتار آہستہ ہوئی۔

وہ اسٹاپ پہ اتری تو کمر پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔ دوسرے ہاتھ میں بیک پیک تھا۔ اسٹاپ پہ نصب بنچ پہ بیٹھ کے ماہی نے چند گہرے سانس لے کر خود کو کمپوز کیا۔ یہ سفر کرنا اس کے لیے مناسب نہ تھا لیکن اسے یہ رسک لینا تھا۔

چند لمحے وہ وہیں بیٹھی رہی۔ پھر گردن اٹھا کے سیاہ آسمان کو دیکھا۔ بارش جلد شروع ہونے والی تھی۔ تبھی اسےخیال آیا۔ بالوںپہ ہاتھ پھیرا۔ چھوٹے کٹے بالوں پہ ہیئر بینڈ لگا تھا۔ اس نے گردن میں بندھا سلک تکونا اسکارف اتارا اور سر پر لپیٹ کے گردن تلے گرہ باندھی ۔ بیک پیک کندھوں پر پہنا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔سفید جوگرز سے چلتےہوئے وہ سائیڈ واک پہ آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کا رخ ایک دو منزلہ عمارت کی جانب تھا جو اس اسٹریٹ کے دہانے پہ بنی تھی۔

بیل بجا کے وہ انتظار کرنے لگی ۔ عمارت کے داخلی دروازے میں شیشہ لگا تھا۔اس پر بھی دھند جمی تھی ۔ وہ عادتاًاس پر انگلی پھیر کے کچھ لکھنے لگی۔ تبھی دروازہ اندر کی طرف کھلتا گیا۔ وہ سنبھل کے سیدھی ہوئی ۔

”السلام علیکم ماہ بینہ۔“ بھوری داڑھی والےڈاکٹر رائد سامنے نظر آئے۔ انہوں نے مسکرا کے اس کے لیے راستہ چھوڑا۔ وہ بلیک پینٹ پہ ڈریس شرٹ پہنے ہوئے تھے اور پیروں میں جرابیں تھیں۔

”عباد نہیں آیا؟“

”نہیں۔ مجھے اکیلے میں کچھ بات کرنی تھی، ڈاکٹر رائد۔“ وہ تیزی سے اندر آئی۔ جھک کے جوتے اتارے اور جرابوں سے  چلتی ہوئی ان کے پیچھے چلی آئی۔

کاریڈور سے گزر کے ایک ہال نما کمرہ تھا جہاں نماز کے قالین بچھے تھے۔ کونوںمیں  چند بک ریکس تھے جن میں  اسلامی کتب سجی تھیں۔ دو چار افراد کہیں نہ کہیں بیٹھے  کسی کتاب یا تسبیح میں مصروف دکھائی دیتے تھے۔ غالباً ابھی ابھی وہ لوگ ظہر کی جماعت سے فارغ ہوئے تھے۔

”میں نیچے نہیں بیٹھ سکتی،  ہم کہیں اوپر بیٹھ سکتے ہیں؟“

اس کی بات پہ ڈاکٹر رائد نے سر ہلا دیا اور ایک کونے میں چلے آئے۔ وہاں ایک میز کے گرد دو کرسیاں رکھی تھیں ۔ ساتھ کھڑکی تھی۔ اس کے شیشے پہ بھی ہلکی سے دھند جمی تھی لیکن باہر کی طرف۔ وہ اس پہ لکیریں نہیں کھینچ سکتی تھی۔

”بتائیے۔ کیا چیز آپ کو آج مسجد کھینچ لائی۔“

وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے تو ماہی نے بیک پیک سے اسکیچ بک نکالی۔ مگر اسے کھولا نہیں ۔ اس نے ڈاکٹر رائد کو دیکھتے ہوئے بے بسی سے پوچھا۔

”ایک بچہ ہے۔ میں اس کا گلا دباکے اسے مارنا چاہتی ہوں۔ دو دفعہ کوشش کی ہے۔ لیکن وہ نہیں مرتا۔ میں آپ سے پوچھنے آئی ہوں کہ میں اسے کیسے ماروں؟ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس منظر کو یہیں روک کے ہم اپنی کہانی میں واپس جاتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مبین منزل پہ رمضان کی رونق اس سال  گزشتہ برسوں جیسی نہیں تھی۔ وہ جو اسلام آباد سے یہاں ایک شادی اٹینڈ کرنے آئی تھی، اس کی زندگی یہیں رک کے رہ گئی تھی۔ جیسے پینٹ کی ٹیوب کا ڈھکن بند بھول جاؤ اور سارا پینٹ وہیں سوکھ جائے، رنگ رہ جاتا ہے مگر وہ رنگ نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر وو ہرا کی اپائنٹمنٹ کے بعد مالا اور معید نے طے کیا تھا کہ وہ ماں کو ان کی بیماری کا علم نہیں ہونے دیں گے۔ ماں ویسے بھی مزید تھکی ہوئی اور غنودہ غنودہ دکھائی دیتی تھیں ۔ فی الحال ان کو ایپی وال دی گئی تھی تا کہ ان کوفٹس ( دورے) نہ پڑیں اور دماغ میں ٹیومر کی سوجن کو کم کیا جا سکے۔ ماں لاؤنج میں ڈرامہ دیکھتے ہوئے سوگئی تھیں اور وہ کبیرہ تائی کے فون کے بعد بے چین سی تھی۔ ماہی کو جیسے ہی کال ملائی اس نے جھٹ فون اٹھالیا۔

Download Mala Urdu Novel – Episode 3

Mala PDF Download

Mala Read Online

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے