مالا اردو ناول از نمرہ احمد – قسط نمبر 4

Mala Urdu Novel By Nimra Ahmed – Episode 4

لوگ سمجھتے ہیں کہ تم بیمار نہیں ہو

یہاں تک کہ وہ بیماری کو تمہارے چہرے پہ نہ دیکھ لیں

ایک ایسے نقشے کی مانند

جو در د کی ہر منزل تک جاتا ہو

میرا بیمار دل ایک قید خانہ ہے

کیا تم نے کوشش کی، جیسے سوالوں کا۔

کیا تم نے کوشش کی؟

خوراک بہتر کرنے کی؟

اداس نہ رہنے کی؟

بیمار نہ پڑنے کی ؟

ہاں میں نے کی ہے کوشش۔

مگر میں اب بھی بیمار ہوں۔

کیونکہ کبھی کبھی آسیب ان دیکھے ہوتے ہیں۔

اور شیاطین اندر سے حملہ آور ہوتے ہیں۔

صرف اس لیے کہ تم نہیں دیکھ سکتے

میرے شیاطین کے پنجے اور دانت

تم نہیں جان سکتے کہ

وہ مجھے اندر سے کاٹ کے لہولہان کر رہے ہیں۔

درد محسوس کرنے کے لیے

اس کا دکھائی دینا ضروری نہیں ہوتا۔

کوشش کرنے سے بیماریاں نہیں چلی جاتیں۔

شفا کے معجزے

ایسے ہی عمل میں نہیں آجاتے۔

ایم رائے ۔ دی فرسٹ اسٹیپ۔

تاریخ تھی چارا پریل۔

شہر تھا اسلام آبا د کا۔

اور یہ ان چاروں کی ہوٹل سوئیٹ میں ملاقات سے ایک رات پہلے کا وقت تھا۔

جیسے دنیا کی ہر کامیابی اور نا کامی ایک آئیڈیے سے شروع ہوتی ہے ویسے ہی اس فریب کے کھیل کا آغاز بھی ایک آئیڈیے سے ہوا تھا۔اور یہ آئیڈیا عبد المالک فرید نے پیش کیا تھا۔

’باڈی گارڈ ؟‘ ماہر نے لائٹر جیب سے نکالتے ہوئے چونک کے اسے دیکھا۔ ہوٹل سوئیٹ میں رات کی مناسبت سے زرد بتیاں جلی تھیں۔ مالک ایک صوفے پہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔ جیل سے جمے سفیدبال، بے شکن گرے سوٹ … مالک دن ختم ہونے کے باوجود صبح کی طرح فریش اور تیار لگ رہا تھا۔

”ہاں باڈی گارڈ ۔ اسے باڈی گارڈ کی ضرورت ہے اور تمہیں معلومات۔ باڈی گارڈ اپنے مالک کے سب سےقریب ہوتا ہے۔ صرف وہی اس کے دشمن کو تلاش کر سکتا ہے۔“

”انٹرسٹنگ ۔“  ماہر لائٹر لیے کھڑکی کے قریب آیا۔  اس کی سفید شرٹ کے کف بند تھے البتہ ٹائی ڈھیلی تھی ۔ کوٹ

ایک طرف اسٹینڈ پر لٹکا تھا۔ کھڑکی کے قریب کنسول ٹیبل پر گلاس جارز میں دو موم بتیاں رکھیں تھیں ۔ اس نے لائٹر

جلایا اور شعلہ ایک موم بتی کو دکھایا۔ وہ جل اٹھی ۔ رات کی مصنوعی روشنیوں میں ایک کا اضافہ ہوا۔

‘جس لڑکی کو تم تین ماہ سے تلاش کر رہے تھے میں نے اسے دو دن میں ڈھونڈ لیا ہے، ماہر۔“ مالک اسی سپاٹ لہجے میں بولا اور گھٹنے پر رکھے ٹیب کی اسکرین روشن کی۔” اس کا پورا نام کشمالہ مبین ہے۔اس کی ماں کا نام حورجہاں ہے۔“

”حور جہاں کی بیٹی کشمالہ “ اس نے بڑ بڑاتے ہوئے دوسری موم بتی روشن کی۔ وہ مالک کی طرف پشت کیےکھڑا تھا۔

وہ ایک ریستوران مینیجر ہے۔ ریستوران اس کے کلاس فیلو کا ہے جسے اس نے اس کے ساتھ بنایا ہے۔ وہ یہاں اکیلی رہتی ہے۔ کسی رشتے دار کے گھر ۔ اور ….“ اس نے توقف کیا۔ ” اس نے اپنی دوست کو کال کر کے کہاہے کہ اسے ایک باڈی گارڈ کی ضرورت ہے۔ وہ ہر چند ہفتے بعد ایک نیا گارڈ رکھتی ہے کیونکہ پرانا گارڈ جاب چھوڑجاتا ہے۔“

ماہر نے لائٹر بجھایا اور مالک کی طرف مڑا تو اس کی آنکھوں میں ناگواری تھی۔

”یعنی تم نے اس کی کالز ریکارڈ کی ہیں۔ کیا اب ہم ایسے کام کریں گے ما لک؟“

”میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ میں تمہیں بہت سی جگہوں سے نکال کے لایا ہوں، ماہر ۔ اس جنون سےبھی نکال لوں گا۔“

مالک نے ٹیب کی اسکرین پہ چہرہ جھکایا۔ اور بات جاری رکھی ۔” اس کی ایک بہن بھی ہے۔کینیڈا میں رہتی ہے۔ پڑھائی کے بعد اس نے جاب نہیں کی۔ پریگننٹ ہاؤس وائف ٹائپ ۔“

”وہ اہم نہیں ہے۔ اہم یہ لڑکی  ہے جس کی تصویر اس البم میں ہے۔“

موم بتیاں شعلوں کی حدت سے پگھلتی جارہی تھیں ۔ ان کی موم سے لیونڈر اور موتیے کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔

”ماہر … تمہیں یقین ہے یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔“مالک نے میز پر رکھے البم کی طرف اشارہ کیا۔”واقعی کچھ جانتی ہے؟“

” مجھے یقین ہے۔“ وہ کنسول ٹیبل سے ٹیک لگائے سینے پہ باز و باندھے کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ اور لہجہ اٹل تھا۔ ” حورجہاں کی بیٹی کشمالہ … وہ جانتی ہے۔“

”یہ سب کرنے کے بجائے …. “ آواز پہ ان دونوں نے چہرہ موڑ کے سامنے دیکھا جہاں ایک کاؤچ پہ بیربل ٹانگیں لمبی کیسے موبائل ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا۔ ” just ask her nicely“ اس نے مسکرا کے سادگی سے حل بتا دیا۔

”تم یہاں کیوں ہو؟“اب کے ماہر بولا تو آواز میں ناگواری تھی۔

”کیونکہ میں تم دونوں کو اس غلط کام سے باز رکھنا چاہتا ہوں۔ “ وہ عینک لگائےموبائل پہ ساتھ ساتھ کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔ ”اس کی زندگی میں کسی کو داخل کرنے کی بجائے اس سے ڈائیریکٹ پوچھ لو۔ بات ختم۔“

مالک نے بس افسوس سے اسے دیکھا اور ماہر … اس کے چہرے پہ سایہ سا گزرا۔

”وہ میرا یقین نہیں کرے گی، بی۔ “ وہ دھیرے سے بولا اور کھڑکی کی طرف مڑ گیا ۔ نظریں باہر پھیلی شہر کی

روشنیوں پر جمی تھیں ۔” ماہر فرید کا کوئی یقین نہیں کرتا۔“

”ماہر درست کہہ رہا ہے۔ میں نے اس کی کالز سنی ہیں نہیں ۔ وہ ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتی ۔ بالفرض ماہر یہ البم لے کر اس لڑکی کے پاس جائے تو وہ کیا کرے گی ؟“ مالک سمجھانے سے زیادہ ٹوکنے کے انداز میں کہہ رہا تھا۔” وہ  ما ہر فرید کو گوگل کرے گی۔ گوگل کبھی کچھ نہیں بھولتا۔ اور گوگل پر لکھا ہے کہ ماہر فرید ایک سائیکو پیتھ ہے۔“

”تم دونوں ہی سائیکو پیتھ ہو ۔“ بیربل بڑ بڑاتے ہوئے ٹائپ کر رہا تھا۔

”ایک سائیکو پیتھ آپ کی تصویر لے کر آپ کے پاس آئے اور پوچھے کہ آپ کا دشمن کون ہے یاآپ … “ اس کی آواز دھیمی ہوئی۔”کچھ جانتی ہیں۔۔۔ کسی۔۔۔ کسی کے بارے میں۔۔۔۔“

مالک نے تھوک نگلا۔ ماہر نے آنکھیں بند کرلیں۔ ایک دم کمرے میں کرب سا پھیل گیا۔ بیربل کی ٹائپ کرتی انگلیاں تھم گئیں۔

”تو کیا وہ اعتبار کرے گی؟ یا وہ ماہر فرید کو ایک تعاقب کار سمجھ کے خود سے دوررہنے کو کہے گی؟ اجنبیوں کو کوئی کچھ نہیں بتاتا ۔“

سوئیٹ میں سناٹا چھا گیا۔ موم بتیوں سے اٹھتی خوشبو نے سارے ماحول کو معطرکردیا تھا۔ بیر بل نے گہری سانس کھینچ کے یہ خوشبو اندرا تاری۔ اور پھر اپنے خیالات باہر نکالے۔

”تم لوگ اس فریب کو جسٹفائی نہیں کر سکتے ۔ یہ غلط ہے۔ اور یہ ہر لیول پر غلط ہے۔“

” میرا مقصد اس کو نقصان پہنچانا نہیں ہے بیر۔“ وہ باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں کہہ رہا تھا۔ ”باڈی گارڈ اس کی حفاظت کرے گا۔ تا کہ اس کے ساتھ وہ نہ ہو جو البم میں موجود دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ خود بھی اپنے

دشمن کو نہیں جانتی۔ باڈی گارڈ اس کا دشمن ڈھونڈے گا۔ اور پھر اس کی زندگی سے چلا جائے گا۔ اسےکبھی معلوم نہیں ہو گا کہ ہمارا اس میں کوئی ہاتھ ہے۔“

”پھر بھی یہ غلط ہے۔“ بیربل نے احتجاج کیا۔

ماہر نے باہر پھیلی رات میں جھلملاتی روشنیوں کو دیکھا۔

”مجھے ایک چانس لیتا ہے۔ پھر چاہے مجھے ساری عمر اس گلٹ کے ساتھ کیوں نہ رہنا پڑے۔“

”میں تمہیں ایک نصیحت کروں ماہر؟“ بیر بل نے موبائل جیب میں ڈالا اور پیرز مین پر اتارے۔جب ہم کسی کو دھوکہ دیتے ہیں تو ہم اسے  مسخ کر دیتے ہیں۔ اگلے ملنے والے شخص کے لیے ۔ کبھی نہ کبھی اس لڑکی کومعلوم ہو جائے گا کہ اس کے ساتھ دھو کہ کیا گیا ہے۔ اور وہ ساری عمر اپنے مسخ ہونے کو ماہر فرید کے نام کے ساتھ جوڑے رکھے گی۔“

ماہر نے پلٹ کے اسے دیکھا اور زخمی سا مسکرایا۔

”دیکھو مجھے کون نصیحت کر رہا ہے۔ وہ آدمی جو کیک بناتا ہے۔“

بیربل فرید کا چہرہ  غصے سے سرخ ہوا۔

”ماہر بے …. کیکس خاندانوں کو جوڑتے ہیں، ان کے گرد ساری فیملی اکٹھی ہوتی ہے، برتھ ڈے  ہو، شادی ہو یا جنازہ۔“

”جنازوں پر کیک نہیں ہوتے، بیربل۔“

”پانچ دس سال میں ہوں گے۔ دنیا بدل رہی۔سب کچھ نارملائز ہو رہا ہے۔“ وہ پیر پٹخ کے باہر نکل گیا۔ ماہر جانتا تھا کہ اسے باہر نکالنے کا یہی طریقہ تھا۔ البتہ اس کی باتوں نے مالک پر اثر کیا تھا۔ اس نے ٹیب کی اسکرین بجھا دی اور سنجیدگی سے کھڑ کی میں کھڑکی میں  ماہر کو دیکھا۔

”شاید بیر درست کہہ رہا ہے۔ تمہیں انتقام کے اس جنون سے نکل جانا چاہیے۔ تم ساری عمر اس گلٹ کے ساتھ نہیں رہ سکو گے کہ تم نے کسی لڑکی کا دل دکھایا ہے۔“

”لڑکیوں کے دل جڑ جاتے ہیں۔ اس کی فکرمت کرو تم بتاؤ۔۔۔ تمہیں بدلے میں مجھ سے کیا چاہیے۔“

بالآخر وہ مالک کی طرف گھوماتو اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

” مجھے ؟”

”ہاں تمہیں۔ کیونکہ تمہارا ہر کام میں ایک چھپا ہوا ایجنڈ اضرور ہوتا ہے۔“

صوفے پر بیٹھا مالک بالآخر مسکرایا۔ میں ایک بزنس مین ہوں ماہر ۔ میں اپنے فائدے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔ اور میرے بغیر تم اس لڑکی کی زندگی میں کسی گارڈ کو داخل نہیں کر سکتے ۔“

ماہر فرید کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ وہ بس سنجیدگی سے مالک کو دیکھ رہا تھا۔

”تم جو کہو گے، ویسا ہی ہوگا۔ لیکن تمہیں میرے ساتھ ایک ڈیل کرنا ہوگی، ماہر۔“

مالک اپنی جگہ سے اٹھا اور قدم قدم چلتا ماہر کے سامنے آکھڑا ہوا، ان دونوں کے قد ایک برابر تھے۔ اور چہرے کے نقوش بھی ملتے تھے۔ البتہ مالک کے چہرے پہ نرمی تھی اور ماہر کے چہرے پہ شک اور بے اعتباری۔

”یعنی تمہیں میر ا یقین نہیں ہے ؟ تم صرف اپنی بات منوانے کے لیے میری مدد کررہے ہو۔“

”ہاں ماہر۔ مجھے تمہارا یقین نہیں ہے۔ لیکن میں پھر بھی تمہاری مدد کروں گا۔“ اس نے ماہر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا جسے ماہر نے کندھا پیچھے کر کے جھٹک دیا۔ مالک کے چہرے پہ ایک زخمی سا تاثر ابھرا لیکن وہ اسے دبا گیا۔

”ہم یہ سب دو ماہ تک کریں گے۔ اگر اس کے بعد بھی ہمیں کچھ نہ ملا تو۔۔۔۔“ اس نے وقفہ دیا۔۔ ”تو تم گھر واپس آجاؤ گے۔“

ماہر کی آنکھوں میں شک کے ساتھ ساتھ تکلیف بھی ابھری ۔

”اگر یہ کھیل ناکام ہوگیا تو تم اپنی کمپنی بند کرکے ہولڈنگ میں واپس آجاؤ گے اور اپنی سیٹ سنبھال لو گے۔“

”اگر میں ایسا نہ کروں ؟“

”ٹھیک ہے، پھر جاؤ اور جیسا کہ بیر نے کہا۔ اس سے بات کرو۔ لیکن ایک حقیقت ہم دونوں جانتے ہیں کہ ماہر فرید پہ کوئی یقین نہیں کیا کرتا۔“

ماہر کچھ نہیں کہہ سکا۔ بس لب بھینچے اسے دیکھے گیا۔ پھر اس نے سر کو اثبات میں جنبش دی۔

”اگر مجھے کچھ نہ ملا۔۔۔ تو میں واپس آجاؤں گا۔“

مالک مسکرا دیا۔ پھر اس نے ٹیب روشن کیا۔ اب کے وہ بولا تو آواز سپاٹ تھی۔

”چند لوگ ہیں جن کو ہم خرید کے یہ کام کروا سکتے ہیں۔ صفورا کا شوہر ایک پرائیویٹ گارڈز کی ایجنسی کے ساتھ کام کرتا ہے۔ یعنی کسی کو  گارڈ  چاہیے تو وہ مہیا کروا دیتی ہے۔ ہم اس ایجنسی کے مینیجر کو بھی خرید سکتے ہیں یا کسی گارڈ کو بھی۔ ایک نوجوان کے سفیان۔ مالی کسمپرسی کا شکار ہے۔ اچھا آپشن ہے۔“ وہ رکا  اور اگلا نام پڑھا۔

”ایک صفورا کا کزن ہے کیف جمال۔ ایک اس کے شوہر کا بھائی ہے خالد وزیر۔۔۔۔“

”کیف جمال“ وہ ایک دم بولا ” میں اس کو ہائر کروں گا۔“

مالک نے چونک کے سراٹھایا۔ ” مگر اس کی پروفائل میں کچھ بھی متاثر کن نہیں ہے۔” ٹیپیکل لوزر۔۔۔ بے روز گار ۔ “

”میں قدر پہ یقین رکھتا ہوں۔ قدر کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اس کو کال کرو اور ہاں … “ وہ پہلی دفعہ ہلکا سامسکرایا۔ ” اس سے کہنا تم میرے مینیجر ہو۔“

مالک کے کان سرخ ہوئے۔

”میں تمہارا مینجر نہیں ہوں، ماہر بے۔“

”کیوں؟ اگر میں ہولڈنگ میں واپس آیا تو ہر کوئی اپنی اصل پوزیشن پر آجائے گا۔ میں سی ای او ہوں گا اور تم میرے ماتحت ۔ یہ وہ جگہیں ہیں جو میرے باپ نے طے کی تھیں ۔“

وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا طنزیہ مسکراہٹ سے مالک کو دیکھ رہا تھا۔ مالک نے جیسے بہت ضبط کے ساتھ گہری سانس بھری۔

”ٹھیک ہے۔ جو تم کہو۔ میں صبح اس لڑکے کو کال کروں گا۔ لیکن ہم کسی اور بھی ہائر کر سکتے ہیں۔“

”ہم اسی کو ہائر کریں گے۔“

لیکن مالک کو وہ نو جوان پسند نہیں آیا تھا۔ اگلی صبح جب وہ ماہر سے ڈیل طے کر رہا تھا،  مالک صوفے پہ بیٹھا بےزاری سے پہلو بدل رہا تھا۔ کچھ نا قابل اعتبار سا تھا کیف جمال کے بارے میں۔ وہ انہیں دھوکہ دے گا، ما لک کویقین تھا۔

جب ماہر نے کیف جمال کے تمام سوالات کا جواب دے دیا اس کو یہ بھی بتا دیا کہ اس نے اسے کیوں ہائر کیاتھا اور کیف جمال خاموشی سے رقم کا پیکٹ اٹھا کے وہاں سے نکل گیا تو بیربل اپنی جگہ سے اٹھا اور میز پہ رکھا آخری ان چھوا کافی کپ اٹھا کے ماہر کے پاس آیا۔

وہ دونوں اب کھڑکی کے سامنے کھڑے تھے۔ ایک طرف سوئیٹ تھا اور دوسری طرف شیشے سے نظر آتا روشن شہر۔

موم بتیاں ابھی تک جل رہی تھیں اور لیونڈر اور موتیے کی خوشبو ویسی ہی پھیلی تھی۔ گوکہ ان کی حس مشامہ اب سن ہو چکی تھی۔

Download Mala Urdu Novel – Episode 4

Read Online – Download PDF

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے