Mala Urdu Novel by Nimra Ahmed – Episode 5

Mala Urdu Novel Episode 5

”یک طرفہ عشق کبھی نہیں مرتا۔

بس یہ شکست کھا کے چلا جاتا ہے

دل کے ایک خفیہ خانے میں

جہاں یہ چھپ کے بیٹھارہتا ہے

سمٹ کے،   زخمی وجود کی مانند

 کچھ بدقسمت لوگوں کے لیے

یہ تلخ اور کم ظرف بن جاتا ہے۔

اور جو بعد میں آتے ہیں

وہ ادا کرتے ہیں قیمت

اس زخم کی

جو دیا تھا پہلے آنے والے نے۔

لیکن مجھے اعتراف کرنے دو

کہ یک طرفہ عشق بہتر ہے

ایک اصلی، دو طرفہ عشق سے۔

بلکہ یک طرفہ عشق ہی ہے

بہترین عشق

 کیونکہ

جو کبھی شروع ہی نہیں ہوا۔

اس کے ختم ہونے کا

ڈر نہیں ہوتا ۔“

(ایلی نیو مارک۔ سارہ ڈیسن)

وہ تینوں اس وقت بوسفورس کے کنارے بنے ایک ریستوران میں موجود تھے۔ اطراف میں استنبول کی جامنی شام پھیلی تھی۔ عبدالمالک اور زارینہ ساتھ ساتھ بیٹھے تھے جبکہ بیربل ان کے مقابل براجمان تھا۔ بائیں جانب ریستوران کی گہما گہمی تھی اور دائیں جانب بوسفورس کا اندھیرا ہوتا پانی دکھائی دیتا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کی آوازوں کے ساتھ چھری کانٹے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں ۔

ماہر پہنچ  چکا ہوگا۔ “ چھری کانٹے سے کباب کا ٹکڑا توڑتی  زارینہ بولی تو لہجے میں خوشی تھی ۔ وہ بڑی سیاہ آنکھوں اور کندھوں تک آتے بل دار بالوں والی خوبصورت لڑکی تھی۔ کانوں میں بڑے ائیر رنگز اور گر دن میں سنہرے رنگ کی تین چار مختلف سائز  کی زنجیریں تھیں ۔

”کیا وہ ہمیں جوائن کرے گا؟“ مالک نے پلیٹ سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا۔ وہ ہمیشہ  کی طرح تھری  پیس سوٹ میں ملبوس سفید بالوں کو جیل سے برابر کیے ہوئے تھا۔ چہرے کی پتھر یلی سنجیدگی برقرار تھی۔

جی بابا۔ میں نے اسے لوکیشن بھیج دی تھی۔ وہ ساتھ ساتھ واٹس ایپ بھی چیک کر رہی تھی ۔ چہرہ خوشی سےتمتما رہا تھا۔

”وہ نہیں آئے گا۔ “ بیر بل نے لقمہ لیتے ہوئے کہا تو دونوں نے ہاتھ روک کے اسے دیکھا۔ ان کو اپنی طرف دیکھتے پاکے بیر بل نے مسکرا کے شانے اچکائے۔

”کیونکہ وہ آتے ساتھ ہی تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہے گا۔ “اس کا مخاطب ما لک تھا جس نے بس ایک نظربیر بل کو دیکھا اور سر جھٹک کے کھانا کھانے لگا۔ زار بینہ نے ایک تا دیبی نظر بیر بل پر ڈالی لیکن اسے پرواہ نہ تھی۔ گھنگھریالے بالوں والا بیر بل ایک کان میں بالی پہنے جینز اور جوگرز میں ملبوس تھا۔ کلائی میں دو تین بریسلیٹ بھی تھے۔ کالے، سلور ۔

”زارا۔۔۔“ اگر ماہر نے تمہارے بابا سے کیا  وعدہ پورا کیا  اور ان کے ساتھ واپس چلا گیا تو کیف کون سنبھالے گا؟“ وہ خلا میں دیکھتے ہوئے انگلیوں پہ گنتا جمع تفریق کر رہا تھا۔ ”ظاہر ہے تم۔ یعنی تم دونوں ایک ملک میں نہیں رہو گے۔“

زارینہ کی رنگت بدلی۔ آنکھوں میں برہمی در آئی۔ وہ آگے کو جھکی  اور حتمی انداز میں بولی۔

”جہاں ماہر ہوگا، وہیں زارا ہوگی۔“

بیربل  مسکرا کے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔ وہ زارا کا موڈ خراب کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

”اس نے  دو ماہ  آنے کا وعدہ کیا تھا۔ ” مالک نے ناخوشی سے کہتے ہوئے پلیٹ پرے کھسکھائی اور نیپکن اٹھایا۔ ”اور اب تین ماہ ہونے کو آئے ہیں، میں اسلیے خاموش رہا تاکہ وہ اپنا ڈیزائن مکمل کرلے گا۔“ پھر اس سنجیدگی سے زارا کو دیکھا۔ ”کیا اس کا ڈیزائن اپروو ہو جائے گا؟“

”ماہر صرف آرکیٹیکٹ نہیں ہے، بابا۔ وہ آرٹسٹ ہے۔ اس کے ڈیزائن یونیک ہوتے ہیں۔ پھر کیف کے نو آرکیٹیکٹس اس کے ساتھ بلڈنگ پہ  کام کر تے رہے ہیں۔“

”یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے، زارا۔ میں نے پوچھا، کیا اس کا ڈیزائن اپروو ہوجائے گا۔“

زارینہ  قدرے بچھ سی گئی۔ کندھے اچکا کے کھانے پہ سر جھکا لیا۔

”میں کیف کے معاملات ڈنر ٹیبل پر شیئر نہیں کر سکتی۔“

”یعنی تمہیں اس کے ڈیزائن پہ تحفظات ہیں،  ہوں۔“ مالک نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے سرد لہجے میں  کہہ رہا تھا۔

بیربل نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔

”مالک۔۔۔۔ تم تھکتے نہیں ہو، ایک روبوٹ کی طرح زندگی گزارتے ہوئے؟“

مالک نے سفید ابرو اٹھا کے اپنے بھتیجے کو دیکھا جو ہمیشہ اسے مایوس کرتا تھا۔

”تم تھکتے نہیں ہو اپنے باپ کا پیسہ اڑاتے ہوئے؟“

بیربل نے ہنس کے شانے اچکا دیے۔ ”تم اور ماہر کبھی مجھ سے خوش نہیں ہوگے۔ اس لیے میں اپنی زندگی دو  روبوٹس کو خوش کرنے میں نہیں گزار سکتا۔“

”بیر“۔ زارا نے تادیبی نظروں سے اسے دیکھا لیکن وہ ٹیک لگائے ایک بازو  کرسی کی پشت پہ پھیلائے محفوظ سا کہہ رہا تھا۔

”میرا باپ … میرا بھائی …. اور میرے چچا …“ مالک کی طرف اشارہ کیا… ” تم سب روبوٹس ہو۔ پیسہ کماتے ہو پیسہ گنتے ہو۔ تمہاری کوئی زندگی نہیں ہے۔“ پھر سینے پہ انگلی سے دستک دی۔ ”میری ہے۔“

”ماہر ہمارے خاندان کا وارث ہے۔“ مالک سپاٹ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔” وہ تمہاری طرح پیسہ اور وقت ضائع نہیں کرتا۔“

(استنبول ائیر پورٹ کی ایگزٹ پر ایک سیاہ کار موجود تھی۔ فربہہ سا ڈرائیور اردل پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولےکھڑا تھا۔ پی کیپ پہنے جوگرز سے چلتا ہوا ماہر کار کے قریب آیا، لیکن بیٹھا نہیں۔ وہ قدم قدم چلتا ڈرائیونگ ڈور تک گیا اور پنجوں کے بل زمین پہ بیٹھ کے اس حصے کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔۔)

”وہ اپنے باپ کا بیٹا ہے، کاروبار سے محبت اس کے خون میں ہے۔“

(وہ سیدھا کھڑا ہوا اور دروازہ کھولے کھڑے اردل کے مقابل آرکا۔ گھور کے اسے دیکھا۔)

(”میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ کار کہیں  لگی ہے۔ میں یہ پوچھوں گا  کہ کار کس سے لگی ہے؟“

اردل نے جلدی سے نظریں جھکا دیں۔

”مجھ سے لگی ہے، ماہر بے۔ آپ میری  تنخواہ سے سارا نقصان پورا کر لیجیئے  گا۔“

ماہر نے سمجھ کے سر ہلایا۔ یعنی بیر بل سے لگی ہے۔ بیٹھو۔)

” ہماری انویسٹمنٹ ہولڈ نگ کو اس نے اپنے باپ کی طرح سنبھال رکھا تھا۔ لوگ ماہر فرید کواپنا پیسہ دیتے تھےتا کہ وہ اس کو انویسٹ کرے۔“

(کار سرخ پل کے اوپر سے گزر رہی تھی اور وہ کھڑکی سےباہر دیکھ رہا تھا۔ پی کیپ اب ساتھ والی سیٹ پر رکھی تھی اور اس کے بال ماتھے پہ بکھرے تھے۔ استنبول اداس لگتا تھا۔ اپنے اندر کی طرح۔)

”وہ دوسرے انسا نوں کا پیسہ بھی انویسٹ کرتا ہے۔ بہترین جگہ پہ اثاثے خریدتا ہے۔ اور پھر وہ انہیں درست وقت پہ بیچتا ہے۔ ماہر کے اندروہ Killer instinct ہے جو کاروبار کرنے کے لیے چاہیے ہوتی ہے۔“

(اپنے اپارٹمنٹ کی بیل پر اس نے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ دروازہ کھل گیا۔ اسکارف اور اسکرٹ میں ملبوس ادھیڑ عمر ہاؤس کیپر (فیضی ) نے مسکرا کے اس کا استقبال کیا۔ ماہر نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور پھر مڑ کے فربہ ڈرائیور کو دیکھا جس کا کوٹ پھنسا ہوا لگ رہا تھا۔

 ”ماشاء اللہ تم دونوں کی صحت بتا رہی ہے کہ بیر بل کی بیکری کے کیکس میرے گھر آتے رہے ہیں۔ “مسکرا کےکہتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا اور شور یک پہ جوتے اتارے۔ اردل اور فیضی نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اب کیاکریں؟)

”اور اس کا بخت بلند ہے۔ وہ جس چیز میں ہاتھ ڈالتا ہے اسے سونا بنا دیتا ہے۔ پیسہ بخت سے آتا ہے بیر بل۔ وہ تمہاری طرح ایک فلاپ بیکری میں پیسہ ڈبو کے قلاش نہیں ہو جاتا۔ اور نہ ہی ۔۔“  طنز سےکہا  ”۔۔۔۔اور نہ ہی ایسا ہے کہ بیکری اس کے خرچے اٹھانے کے لیے نا کافی ہو جائے اور اس کا اصل خرچہ اپنے باپ کے کاروبار سےآنے والے ماہانہ الا ونس پہ ہو۔“

بیر بل نے نیپکن سے ہاتھ صاف کر تے ہوئے مسکرا کے اسے دیکھا۔

” کہہ لو۔ جو کہنا ہے کہہ لو۔ مجھے کون سا فرق پڑتا ہے۔“

مالک نے نا پسندیدگی سے اسے دیکھا۔ زارا کھنکھاری اور باپ کی طرف چہرہ کیا۔

”با با… اگر آپ کو ماہر کے بخت پہ اتنا بھروسہ ہے تو اسے کیف کو آگے بڑھانے دیں۔ میں مانتی ہوں کیف ایک ڈوبتی ہوئی فرم ہے۔ اور وہ کامیاب نہیں ہوا۔ وہ ایک اسٹرگل کرتا ہوا انٹریپرونیئر ہے۔ لیکن ابھی دو سال ہوئے ہیں۔ اس کو وقت دیں۔“

”اس ملک میں ۔۔۔ “ مالک نے ناپسندیدگی سے ادھر ادھر دیکھا۔مختلف میزوں پر ترک اور ٹورسٹ بیٹھے کھانا کھارہے تھے۔ اور آواز دھیمی کی ۔” اس غریب اور قلاش ملک میں کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ ڈالرز کی ہوس میں مبتلا لوگوں کا ملک ہے۔ یہ صرف تمہارے کزن کو لوٹ رہے ہیں۔ کیف ایک فیلیئر ہے اور رہے گا۔ اس لیے اسےچاہیے کہ واپس آجائے۔“

زارا اب نزاکت سے ٹشو سے انگلیاں صاف کر رہی تھی۔

”میں حیران ہوں کہ ماہر نے واپس آنے کی بات کیسے مان لی۔ آپ نے اسے کیسے راضی کیا بابا ؟ وہ تولا ہوراس لیے گیا تھا تا کہ اپنے ڈیزائن پر سکون سے کام کرے۔“

بیربل کی آنکھیں چمکیں اور لب اوہ میں سکڑے۔۔ اس نے مسکرا کے پہلے مالک کو دیکھا اور پھر زاراکو۔ مالک نے اپنی بیٹی کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ انٹر سٹنگ۔

”یہ میرا اور ماہر کا معاملہ ہے۔ تم درمیان میں نہ بولو۔“ وہ سرد لہجے میں ٹوک گیا تو زارا خاموش ہوگئی۔ بیربل مسکرا کے اٹھ گیا اور موبائل اٹھا کے جیب میں ڈالا ۔

”چونکہ میں ایک نا کام بیکر ہوں اس لیے میں بل نہیں دوں گا۔“  مالک کو دیکھتے ہوئے ایک آنکھ دبائی۔ ”اب چلتا ہوں۔ ماہر پہنچ گیا ہو گا ۔“ اور زارا کو ہاتھ ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ مالک نے ناراضی سے اسے جاتےدیکھا۔

”_Disappointment “ وہ بڑبڑایا۔

زار ینہ نے مسکرا کے اسے الوداعی ہاتھ ہلایا اور پھر سوچتی نظروں سے باپ کو دیکھا۔

مالک کا چہرہ ہمیشہ کی طرح ٹھنڈا کے درمیان کیا معاملہ طے پایا تھا ؟ وہ فیصلہ نہیں کرسکی۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

استنبول کو جولائی کی گرمی لاہور کی طرح بھسم نہیں کرتی تھی۔ بلکہ دھوپ اور ٹھنڈی ہوا ساتھ ساتھ رہتیں۔سورج ڈھلتا تو دھوپ ڈوب جاتی اور سارے میں بہارجیسی ٹھنڈ پھیل جاتی۔ بوسفورس کے پانیوں سے بگلے اڑاڑ کےاستنبول کی اونچی اپارٹمنٹ بلڈنگز کے اوپر چکر کاٹتے۔

استنبول کے ضلع سر یار میں سفارت خانے  تھے اور وہاں غیر ملکیوں کی کثرت رہتی تھی۔ سریار میں ترابیہ نام کا ایک بے انتہا سرسبز علاقہ تھا جو بوسفورس کےکنارے واقع تھا۔

استنبول اپارٹمنٹس کا شہر تھا۔ یہاں بوسفورس کنارے بنے اونچے محل نما ”یالی“ (یلی) بہت کم تھے۔ وہ  عموماً پرانے ترک امراء یا غیر ملکی شاہی خاندانوں کے زیر استعمال ہوتے تھے۔ یا ان میں سے کچھ کرائے پر حاصل کر کے ترکش ڈرامے شوٹ کیے جاتے تھے ۔ شہر کے باقی امراء ان کو افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔اس لیے اگر انہیں بوسفورس کنارے رہنا ہوتا تو وہ لگژری اپارٹمنٹس کو ترجیح دیتے۔

ہم اس وقت اپنی کہانی کو ترابیہ (استنبول) کی ایک لگژری اپارٹمنٹ بلڈنگ تک لے کر جار ہے ہیں۔ سڑک کنارے ایک سیاہ جالی دار گیٹ تھا جس کے اندر جاؤ تو ایک باغیچے میں گھری کئی منزلہ اونچی عمارت کھڑی تھی۔ عمارت کی بالائی ترین منزل پر ڈپلیکس پینٹ ہاؤسز بنے تھے۔ یعنی دو منزلہ  پارٹمنٹ۔

باہر سے اپارٹمنٹ اور اندر سے جیسے دومنزلہ گھر ہو۔

ایک پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ کے باہر ” ٖفرید لار“ کی تختی لگی تھی۔

فریدز۔

بیربل گھر میں داخل ہوا تو ہمیشہ کی طرح سامنے ایک سفید راہداری نظر آئی جو لونگ روم تک جاتی تھی۔ اس نےرک کے جوتوں کے اسٹینڈ پہ جوگرزا تارے۔ اور چابیاں ہاتھ میں گھماتا ننگے پیروں سے آگے آیا۔

سامنے ایک وسیع لونگ روم تھا۔ ایک طرف دو منزلہ اونچی گلاس وال تھی جس کے پر دے سیاہ اور سفید تھے۔ اس وقت وہ ہٹے ہوئے تھے اور ان کے پار بوسفورس کا سیاہ پانی اور کنارے پر کھڑی کشتیاں نظر آتی تھیں ۔

لونگ روم میں ہر چیز سفید اور سیاہ رنگ میں مزین کی گئی تھی۔ وہاں کوئی تیسر ارنگ نہ تھا۔

ایک طرف لکڑی کا سیاہ سفید زمین او پر جا تا تھا جہاں ایک منی لا ؤنج بناتھا اور وہاں پیر بل کا کمرہ بھی تھا۔ لیکن ابھی وہ اس کمرے میں نہیں جا سکتا تھا۔ اسے تفتیش کے ایک کڑے مرحلے سے گزرنا تھا۔

لونگ روم میں ایل کی شکل میں سیاہ رنگ کے طویل صوفے رکھے تھے۔ سامنے ایک آتش دان تھا جس کے آگے دوسیاہ ونگ چیئر ز رکھی تھیں ۔

بیر بل نے لونگ روم میں قدم رکھا تو سامنے ماہر فرید بیٹھا نظر آیا۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے، ننگے پیروں سے وہاں بیٹھا تھا۔ پی کیپ میز پر رکھی تھی۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔

”خوش آمدید ، برو۔“ بیربل مسکرا کے قریب آیا لیکن ماہر نے وہیں ہاتھ اٹھا کے اسے روک دیا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا۔

وہ درمیان میں رک گیا۔ بظاہر نا سمجھی سے اسے دیکھا۔

”میری کار پر ایک ڈینٹ ہے … جیسے یہ کہیں لگی ہو اور بعد میں مرمت کر کے اسے مٹانے کی کوشش کی گئی ہو ۔ “

” چچ چچ … اردل بالکل دھیان نہیں رکھتا تمہاری کار کا۔ “ وہ سینے پہ بازو لیٹے افسوس سے بولا ۔ ماہر نے ابرواٹھائی۔

”اردل۔ ہوں۔ اور یہاں۔۔۔“ اس نے آتش دان کی طرف اشارہ کیا۔’ ایک سفید سوان رکھی تھی جو مجھے کسی نے تحفے میں دی تھی۔ وہ غائب ہے۔“

پھر اس نے سامنے بنے سفید اوپن کچن کی طرف اشارہ کیا۔

”وہاں سامنے کاؤنٹر پر میرے مگز سجے تھے جن میں سے تین غائب ہیں۔“

لونگ روم کے پردوں کی طرف اشارہ کیا۔” ادھر ایک کارنر لیمپ تھا جواب موجود نہیں ہے۔“

Download Mala Urdu Novel PDF File – Episode 5

Read OnlineDownload Now

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے