مالا اردو ناول از نمرہ احمد – قسط نمبر 6

Mala Urdu Novel – Episode 6

جرمن شاعر اور ناول نگار ہرمن ہیسے کی کتاب سے اقتباس

"میرے لیے درخت ہمیشہ سے بہترین استاد رہے ہیں۔

میں ان کی عزت کرتا ہوں جب وہ رہتے ہیں جنگلوں میں

اپنے قبیلوں اور خاندانوں کے ساتھ۔

لیکن میرے دل میں ان کی عزت بڑھ جاتی ہے

جب میں دیکھتا ہوںکسی تنہا کھڑے درخت کو ۔

وہ ہوتے ہیں اکیلے لوگوں کی طرح۔

عظیم، تنہا لوگ۔

ان کی بلند ترین شاخوں سے

دنیا سرسراتی ہوئی گزرتی ہے۔

اور ان کی جڑیں لامکاں میں پیوست ہوتی ہیں۔

لیکن وہ خود کو ان سب میں کھو نہیں دیتے۔

وہ اپنی ساری زندگی کوشش کرتے ہیں

اپنے قوانین کے تحت چلنے کی

خود کو اپنے اصل قدم تک پہنچانے کی۔

کیا زیادہ مثالی اور مقدس ہو گا

ایک خوبصورت مضبوط کھڑے درخت سے؟

اور جب ایسے درخت کو کاٹا جاتا ہے

تو اس کے گول تنے میں تم اس کی تاریخ پڑھ سکتے ہو۔

اس کے سالانہ دائرے اس کے زخم

ساری تکلیف جواس نے دیکھی،

اس کی بیماریاں اور خوشیاں …

سب و ہاں رقم ہوتا ہے۔

تنگدست سال کے دائرے

اور خوشحال برس کے دائرے …

وہ حملے جو  اس نے برداشت کیے

وہ طوفان جواس  نے جھیلے۔۔۔

اور ہر کسان کو معلوم ہوتا ہے کہ

سب سے سخت اور نفیس لکڑی

ہوتی ہے اس درخت کی

جس کے دائرے سب سے تنگ ہوتے ہیں۔

اور سب سے مضبوط اور نہ تباہ ہو سکنے والے درخت

اُگتے ہیں بلند پہاڑوں اور پر خطر چوٹیوں پر۔

درخت خانقا ہیں ہیں۔

جس کو ان کی زبان سننی آتی ہے

وہ جان سکتا ہے ان کاسچ۔

وہ علم یا تصورات نہیں پڑھاتے ۔

بلکہ وہ سمجھاتے ہیں زندگی کا قدیم ترین قانون۔

ایک درخت کہتا ہے تم سے

کہ میری قوت ہے میرا ایمان۔

میں نہیں جانتا اپنے باپ دادا کو۔

یا ان اولا دوں کو جو ہر بہار

میرے بیج سے جنم لیں گی۔

میں صرف اس بیج کی زندگی جی رہا ہوں

جس سے میں خود نکلا ہوں۔

مجھے اس بیج کو اس کی بہترین بلندی پہ پہنچانا ہے

ایک مکمل درخت بن کے۔

مجھے اپنی جہد مقدس لگتی ہے۔

اور جب تم پریشان  ہوتے ہو

تو یہ درخت تمہیں کہتے ہیں

تم پریشان اس لیے ہو کہ تمہاری راہیں

تمہیں اپنی ماں اور اپنے گھر سے دور لے جارہی ہیں ۔

لیکن ہر وہ قدم جو تم اٹھاؤ گئے

وہ تمہیں در اصل ماں کے قریب لے جا رہا ہے۔

گھر نہ یہاں ہے، نہ وہاں ہے۔

انسان کا گھر اس کے من میں ہے۔

یا وہ کہیں نہیں ہے۔

ہر قدم گھر کی طرف ہی جاتا ہے۔

ہر قدم نیا جنم ہوتا ہے۔

اور ہرقدم موت ہوتا ہے۔

ہرقبر ماں ہوتی ہے۔

درخت ہم سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں۔

جیسے ان کی زندگیاں ہم سے لمبی ہوتی ہیں۔

جس نے بھی درختوں کی زبان کو سننا سیکھ لیا

وہ کبھی بھی درخت نہیں بننا چاہتا۔

وہ کچھ بھی نہیں بننا چاہتا

سوائے اس کے

جووہ خوداصل میں ہے۔

یہی ہے تمہارا گھر ۔

اور یہی ہے تمہاری خوشی ۔“

بیربل اور زارینہ کی بیکری میں  دلچسپ تکرار:

نشانتاشی (استنبول) کی ایک خوبصورت اسٹریٹ کے کارنر پہ  ایک بوتیک بیکری تھی جو گلابی پھولوں سے سجی تھی۔ اندر کا سارا ڈیکور بھی پیسٹل کلرز میں کیا گیا تھا۔

بیکری کے کچن میں بیر بل شیف یونیفارم پہنے کھڑا تھا۔ بال جالی دار ٹوپی میں مقید تھے۔ اس کے سامنے اسٹینڈپہ کیک رکھا تھا جس کے اوپر وہ جھک کے احتیاط سے ڈیکور کر رہا تھا۔ دفعتاً سر اُٹھا کے گردن دائیں بائیں گھمائی تو نظر دیوار پہ آویزاں ٹی وی اسکرین پہ پڑی۔ وہاں سی سی ٹی وی کیمراز  کی فوٹیج نظر آرہی تھی۔ وہ چونکا۔ بیکری کے دروازے کو کھول کے زارینہ اندر آتی دکھائی دے رہی تھی۔

بیر بل کے چہرے پہ مسکراہٹ در آئی۔

”ہش …“ ہونٹوں سے آواز نکال کے ساتھ کام کرتے انٹرن شیف کو پکارا۔وہ جو دونوں ہاتھوں سے ڈوہ گوندھ رہا تھا، فوراً قریب کھسکا۔ ”حاضر شیف!“

”کل میں نے تمہیں ڈوہ بنانا سکھائی تھی۔ آج میں تمہیں سکھاؤں گا کہ شیطان کی انگلی لگا کے تماشہ کیسے دیکھتے ہیں۔“

دروازہ دھاڑ سے کھلا تو وہ دونوں تیزی سے دور دور ہوئے۔ زار ینہ کی ناک پہ غصہ دھرا تھا اور وہ لا نگ بوٹس سے ٹھک ٹھک چلتی تیزی سے ان کی طرف آرہی تھی۔ اس نے سفید مڈی ڈریس پہن رکھا تھا اور بل دار بال کندھوں پہ پھیلے تھے۔

 ”یہ تم کیا با تیں پھیلا رہے ہو؟“

وہ اس کے سر پہ پہنچی اور ہتھیلی ورک ٹیبل پر رکھ کے آگے جھکی ۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹ رہے تھے۔

”وعلیکم السلام زارا۔ میں خیریت سے ہوں۔ پوچھنے کے لیے شکریہ۔“

بظاہر کیک پہ جھکے بیر بل نے سراٹھا کے اسے دیکھا اور مسکرایا۔

”بیربل مجھے غصہ نہ دلاؤ ۔“  وہ اس کی طرف جھک کے غرائی۔ ”سچ سچ بتاؤ۔ ماہر کس کے ساتھ انوالوڈ ہے؟“

بیربل نے گہری سانس لی اور سیدھا ہوا ۔ اب ان دونوں کے درمیان صرف ایک کیک تھا۔

”کبھی سوچا مجھے کتنا برا لگتا ہوگا جب تم ہر بات میں صرف ماہر کے لیے فکرمند ہوتی ہو۔ بیر بل سے تو کوئی پیار نہیں کرتا۔“

زارا کی برداشت اب ختم ہو چکی تھی۔ اس نے ساتھ رکھی چھری اٹھائی اور کیک کے اوپر جارحانہ انداز میں لے گئی گویا اس کے اندر گاڑنے لگی ہو۔

”اچھا اچھا بتاتا ہوں۔۔۔۔“ بیربل نے جلدی سے دونوں ہاتھ کھڑے کیے۔ ” پوچھو۔۔۔کیا پو چھنا چا ہتی ہو؟“

”ماہر کیا کرتا رہا ہے اتنے مہینے ۔“

”تم اس کی بیسٹ فرینڈ ہونا۔ خود پوچھ لو۔“

وہ ایک نظر زارا کے چھری والے ہاتھ کو دیکھتا اور دوسری کیک پر ڈالتا ۔ البتہ اُ س کے ہاتھ تیار تھے۔ ادھر وہ حملہ کرے۔ ادھر وہ کیک نیچے سے کھینچ لے۔

”وہ بدل گیا ہے ۔“ وہ غصے سے بولی لیکن آواز میں بے بسی تھی ۔” کچھ ہوا ہے اس کو۔ وہ پہلے ہربات مجھ سے شیئر کرتا تھا۔ اب جیسے اپنے خول میں چلا گیا ہے۔“

”تم جیلس ہو کیا؟“

بیر بل کی نظریں اس کے ہاتھ میں پکڑی چھری پہ تھیں ۔

”میں کیوں جیلیس ہوں گی ؟“ وہ سنبھل کے مسکرائی ۔” میں بطور ایک دوست اس کے لیے فکرمند ہوں ۔“

”واؤسوئیٹ ۔ “ بیر بل نے معنی خیز انداز میں پلکیں جھپکائیں۔

”پھر ؟“ زارا نے سوالیہ انداز میں ابر و اٹھایا۔ ”کون ہے وہ لڑکی ؟“

”پہلے چھری ۔ پھر لڑ کی ۔“ اس نے ہاتھ بڑھایا۔ زارا چند لمحے اسے گھورتی رہی، پھر زور سے چھری اسے تھائی۔

”میں نے اسے صرف ایک دفعہ دیکھا تھا۔ “ وہ ریلیکس انداز میں چھری دور رکھتے ہوئے بتانے لگا۔ ” مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ ماہر آفندی کولڑ کی پسند ہے اور لڑکی کو پودے۔ اور یہ عشق کا غم ایسا ہے کہ وہ بہت جلد اس سے نکل نہیں سکے گا۔“

زار ینہ کچھ دیرے کے لیے کچھ بول نہ سکی۔ بدقت الفاظ جمع کیے۔

”لیکن … ان دونوں کے درمیان جو بھی تھا وہ ختم ہو گیا نا؟ وہ جیسے خود کوامید دلا رہی تھی ۔ ” ماہرا اسے چھوڑ کےآ گیا ہے اور وہ نارمل طریقے سے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے بھلا دے گا۔“

بیر بل دھیرے سے ہنسا۔

ر میں ماہر کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ اسے پہلی دفعہ محبت ہوئی ہے۔ اور وہ اسے اگلے کئی سال نہیں بھلا سکے گا۔ یہ جو اتنے دن سے وہ کیف میں روبوٹ کی طرح کام کرتا دکھائی دے رہا ہے نا، یہ سب اداکاری ہے ، زارا۔ وہ لڑکی ایک دفعہ اس کے سامنے آجائے، اُ س کاخول فوراً ٹوٹ  جائے گا۔ ماہر اپنے محبو ب لوگوں  سے دستبردار نہیں ہواکرتا ۔ “

بیکری کچن میں چند لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ صرف بیکرز کے دائیں بائیں چلنے کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔

”کیسی ہے وہ ؟“ وہ ایک دم بالکل سنجید گی سے بولی۔

”خوبصورت۔ ٹیلنٹڈ – groomed۔“

mala novel urdu epi 6

”ماہر کو کیا پسند ہے اس میں؟“

بیربل رک گیا۔ اس نے سوچنے کی کوشش کی۔” معلوم نہیں ۔ کہتی ہوتو پوچھ کے بتادوں؟ ویسے بھی وہ غمِ عشق کا شکار ہے۔ شاید اس کی یاد میں کوئی غزل ہی کہہ دے۔“

”بابا نے اسے کیسے راضی کیا لندن جانے کے لیے؟“ زارا نے نظر انداز کر کے اگلا سوال داغا۔

” مجھے کیا معلوم۔ جیسے تمہارا باپ مشین۔ ویسے ہی میرا بھائی مشین۔اب دومشینوں کی آپس کی ڈیلز وہی جانیں۔ویسے … “ بیر بل نے یاد کرنے کی ادار کاری کی ۔ ” تمہارے والد صاحب جانتے ہیں اس لڑکی کو۔ساری تفصیل ہے ان کے پاس۔ انہوں نے بھی تمہیں نہیں بتایا ؟ چچ۔ “ زار ینہ چونک اٹھی۔ پہلے چہرے پہ بے یقینی ابھری اور پھر زخمی پن۔

”بابا جانتے ہیں؟“

”ہاں۔ بے شک پوچھ لو ان سے۔“

زار ینہ متذبذب سی اسے گھورے گئی ۔

”مجھے تمہارا یقین نہیں ہے۔ تمہارے منہ سے اکثر جھوٹ ہی نکلتے ہیں۔“

”میرا منہ جھوٹا سہی، کم از کم میرا اپنا ہے۔“  آگے جھک کے اس کے قریب سر گوشی کی۔ ” کیونکہ اس کو کسی بوٹوکس نے نہیں چھوا۔“

زارا تیزی سے پیچھے ہوئی اس کی رنگت بدلی۔

”بد تمیز ۔“  غصے سے پیر زمین پہ مارا اور مڑگئی۔ وہ مسکرا کے اسے جاتے دیکھتا رہا۔

”ایسے لگاتے ہیں شیطان کی انگلی۔ اب ہوگا باپ بیٹی میں جھگڑا۔“

فخر سے ساتھ کھڑے انٹرن کو بتایا جو بہت عقیدت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”لیکن بیربل بے۔۔۔ اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟“

”دیکھو دوست…“ اس نے انٹرن  کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور سمجھانے والے انداز میں بولا۔ ” ہر بات فائدے یا نقصان کے لیے نہیں کی جاتی۔ کچھ چیزیں  میں اپنے اندر کے شیطان کے ہاتھوں مجبور ہو کے کرتا ہوں۔ جتنا عذاب میرا بھائی اور چچا مجھے دیتے ہیں، یہ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سیکھو مجھ سے ۔“

”وائی ہے۔ آپ بہت ذہین ہیں شیف۔“ وہ دانت نکوس کے بولا۔ بیربل نے مسکرا کے اسے دیکھا اور پھر اسے خیال آیا۔

”سچ سچ بتاؤ تم لوگوں نے بھی میرے نام تو نہیں رکھے ہوئے ؟“

”اللہ اللہ ۔ آپ کوئی ماہر بے جیسے باس تھوڑی ہیں جو ہم آپ سے تنگ ہوں۔ ہم تو آپ کو صرف شیف یا patron پیترون (باس) کہہ کے پکارتے ہیں۔“ مسکرا کے بتایا تو بیر بل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس کی بیکری کا ماحول اتنا دوستانہ اور ہنسی مذاق والا تھا کہ اسے یقین تھا یہاں کوئی اس کا نام نہیں رکھ سکتا۔ ماہر کو بس ہرایک پہ شک کرنے کی عادت تھی۔ ہونہہ۔ وہ سر جھٹک کے دستانے اتارنے لگا۔

Pinnochio ( پی نوکیو)

”میں ذرا ایک دوست سے ملنے جا رہا ہوں۔ پیچھے کام دیکھ لینا ۔“انٹرن شیف کا کندھا تھپکا اور باہر نکل گیا۔

شیف نے اسے جاتے دیکھا اور جب وہ چلا گیا تو اس نے مسکرا کے فون نکالا اور واٹس ایپ پر بیکری کے ورکرز کاگروپ کھولا جس میں بیربل نہیں تھا۔ اس کی انگلیاں میسج ٹائپ کرنے لگیں ۔

”Pinnochio ( پی نوکیو) بیکری سے چلا گیا ہے۔ رات تک نہیں آئے گا۔ آج کام کے بعد پارٹی کریں گے۔“

مسکرا کے فون رکھا اور کام میں مصروف ہو گیا۔

پی نوکیو ایک فیری ٹیل کردار ہے جو جھوٹ بولنے اور مسئلے کھڑے کرنے کے لیے مشہور ہے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مبین منزل پہ شام کا منظر

مبین منزل پہ شام اترتے ہی کچن سے کھانے کی مہک اٹھنے لگی۔ جب تک ماںکھانا بناتی تھیں، ایسی برکت ہوتی کہ کم نہیں پڑتا تھا، مگر جب سے کچن کا چارج بخت بی کے ہاتھ میں آیا تھا اکثر دو پہر کا سالن شام تک نہیں بچتا تھا۔ ماں بسم اللہ پڑھے بغیر شروع نہیں کرتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کھانے کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے بسم اللہ  پڑھ لی جائے  تو اس کھانے میں نہ بے برکتی ہوتی ہے  اور نہ ہی اس میں  ملا ہوا زہر یا جادو  اثر کرتا ہے۔ لیکن بخت بی  ایسی باتوں پہ کم دھیان دیتی تھی۔ اسی لیے آج پھر سر شام  پلاؤ بنانے  شروع ہو گئی تھی۔

مالا اس وقت ماں کے ساتھ کمرے میں بیٹھی تھی۔ اس کا ذہن زیاد کے رشتے والے معاملے میں الجھا ہوا تھا۔ دفعتاً ماں نے اسے آواز دی کہ انہیں باتھ روم لے جائے۔ معید لاؤنج  میں بیٹھا کانوں پہ ہینڈز فری چڑھائے یوٹیوب پر کوئی ویڈیو دیکھ رہا تھا اور بخت بی کچن میں لگی تھی۔ تبھی انہوں  نے مالا کو پکارا تھا ورنہ  وہ اب کوشش کرتی تھیں کہ اپنا بو جھ بخت بی پہ ڈالیں۔

مالا ان کے پکارتے ہی فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ جتنا ماں اس کو کم سے کم کام کہنے کی کوشش کرتی تھی، اتنا وہ انکے کاموں کے لیے سب سے پہلے کھڑی ہوتی تھی۔ بات صرف فرمانبرداری کی نہیں تھی۔ وہ ماں کو کسی دوسرے پرنہیں چھوڑ سکتی تھی۔ جس دن سے ماں بیمار ہوئی تھیں، مالا کے لاشعور میں ایک خوف سا بیٹھا تھا کہ کسی دن وہ اچانک سے کمرے میں داخل ہوگی اور ماں گری ہوئی ملیں گی۔ ان کے سر سے خون بہہ رہا ہوگا۔ یہ خوف اسے رات میں ایک دم سے جگا دیا کرتا تھا۔ وہ اٹھ کے چیک کرتی۔ ماں گر تو نہیں گئیں ؟ حالا نکہ ماں آرام سے سورہی ہوتیں۔

انہیں باتھ روم میں چھوڑ کے وہ با ہر آئی تو موبائل بج رہا تھا۔ زیا د کالنگ ۔

اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے ائیر پوڈز کانوں میں لگائے اور کمرے سے باہرنکل آئی۔ ماں کو ابھی ہاتھ روم میں کچھ وقت لگنا تھا۔ اور اسے اوپر اسٹوڈیو سے کچھ سامان بھی اٹھا نا تھا۔

Download Mala Urdu Novel Episode 6 PDF

Read Online

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے