Mala Urdu Novel by Nimra Ahmed – Episode 9

Mala Novel in Urdu by Nimra Ahmed – Chapter 2 (Makkah)

ہر سانس کے ساتھ

کھو جاتا ہے، گزرا ہوالمحہ۔

اور شروع ہوتا ہے ایک نیا لمحہ۔

ہم سانس اندر کھینچتے ہیں۔

اور اسے باہر خارج کر کے

ماضی کے لمحے کو چھوڑ دیتے ہیں۔

اب وہ ہمارے لیے فنا ہو چکا ہے۔

اور یہ کرتے ہوئے

ہم فنا کر دیتے ہیں

اس انسان کو

جو ہم ایک لمحہ پہلے تھے۔

ہم سانس اندر کھینچ کے

نئے لمحے میں سانس لے کر

اس شخص کا استقبال کرتے ہیں

جو ہم بننے جار ہے ہیں۔

اور یوں ہم

 اسی عمل کو دہراتے رہتے ہیں۔

یہی مراقبہ ہے۔

یہی تجدید ہے۔

اور یہی زندگی ہے۔ 

(لا ماسور یا داس)

مالا، ماہی اور معید کی تکرار:

مبین منزل میں بنے بیڈرومز میں واحد ماہی کا کمرہ تھا جس کی کھڑ کی عقبی صحن میں کچن گارڈن کی طرف کھلتی تھی۔ چند روز قبل وداع ہوئی فاختہ کی قبر بھی وہیں تھی۔ اس کی مٹی کا رنگ اطراف جیسا ہوگیا تھا اور اس پہ ننھی ننھی سی گھاس اگ رہی تھی۔ مالا کھڑکی سے نظر آتی اس قبر کو دیکھ رہی تھی جب معید کھنکھارا۔

”تم نے فیصلہ کر لیا ہے؟“

اس نے چہرہ موڑ کے اپنے بھائی کو دیکھا۔ وہ اس کے سامنے بیٹھا سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ ساتھ برا جمان ماہی، گود میں رکھی چاولوں کی پلیٹ میں سے کھاتے ہوئے ان کی طرف متوجہ تھی ۔ وہ تینوں اس وقت ماہی کے کمرے میں تھے  جس میں جگہ جگہ بے بی فیڈرز۔ فارمولا  ملک کے ٹن اور ایسی دیگر اشیاء بکھری تھیں ۔

زیاد اور میں  نے مل کے فیصلہ کیا ہے۔ ہم دونوں کو اپنی آیندہ زندگی  کے لیے یہ بہترین لگا ہے۔“ وہ پر اعتمادتھی۔ معید نے ایک اطمینان بھری سانس خارج کی اور دھیرے سے مسکرا دیا۔

”مجھے زیاد ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔ ویل مینر ڈ۔ اچھی جاب کرتا ہے۔ ڈیسنٹ ہے۔“

”ڈیسنٹ ہے لیکن۔۔۔“  ماہی نے ساتھ پر چاولوں کا چمچ منہ میں رکھا۔ وہ دونوں اس کے لیکن پہ چونک کےاسے دیکھنے لگے۔ وہ گڑ بڑا گئی اور جلدی جلدی چاولوں کو حلق سے نیچے اتارا۔ پھر پانی کا گھونٹ بھرا اور کھنکھاری۔

”لیکن تمہیں زیاد سے بہتر بھی کوئی مل سکتا ہے۔“

”تمہیں زیاد میں کیا برائی نظر آتی ہے ؟“ وہ چونکی۔ ماتھے پہ لکیریں ابھریں۔ اسے ماہی کا انداز پسند نہیں آیا تھا۔

”زیاد ذرا …“ ماہی الجھ کے رک گئی۔ جیسے کچھ حلق میں اٹک جاتا تھا۔ جیسے کوئی سوچ جکڑ لیتی تھی۔ ” مجھے نہیں معلوم۔ بس سوچ لو۔“

”تم بھی سوچ لوماہی۔سفید چاول کھائے جارہی ہو۔ جانتی ہو یہ صحت کے لیے کتنے نقصان دہ ہوتے ہیں؟“ معید نے اس کی پلیٹ کو افسوس سے دیکھا۔ ماہی کے ماتھے پر بل پڑے۔ زور سے چمچ پلیٹ میں رکھا۔

” سب میرے کھانے کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟“ وہ مزید کچھ کہتی لیکن فون بجنے لگا۔ ایک خفا نظر دونوں پر ڈال کے پلیٹ اور فون اٹھائے وہ وہاں سے اٹھ آئی۔

”خالہ کی کال ہے۔ میں سن کے آتی ہوں ۔“  جاتے جاتے بھی معید کو شدید بری طرح گھورا تھا۔

”کون سی خالہ ؟“ معید نے غائب دماغی سے پوچھا۔ مالا نے خفگی سے اسے دیکھا۔

”ہماری کتنی خالائیں ہیں، معید ؟ ایک ہی تو ہیں۔ ماں اور نور جہاں خالہ کی سب سے بڑی بہن۔ ثمر جہاں۔“

”ایسے کہو ثمر خالہ۔ ماہی کی ساس- تم لوگ بھی ہر پڑوسن کو خالہ بنالیتی ہو۔ مجھے کیا پتہ “ وہ ہنس دیا اور مالاافسوس سے اسے دیکھ کے رہ گئی۔

”خالہ کا طرز تخاطب ہم صرف ثمر خالہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تمہیں سگی خالہ اور پڑوسنوں میں فرق معلوم ہونا چاہیے۔ رشتے داریاں یا درکھنا صرف لڑکیوں کا فرض نہیں ہوتا۔“

وہ دونوں اب آپس میں الجھ رہے تھے۔

اور کچن میں کھڑی ماہی موبائل کان لے لگائے سادگی سے اپنی ساس کو بریفنگ دے رہی تھی۔

”ابھی نگینہ آنٹی نے صرف فون پر معید اور مجھ سے بات کی ہے۔ اگلے ہفتے وہ انکل کے ساتھ پاکستان آئیں گی تو ہم بات پکی کریں گے۔“

”نگینہ کے گھر رشتہ کیوں کر رہے ہو تم لوگ ؟“  خالہ جھنجھلا ئیں۔ ماہی چونکی۔

”کیوں؟ کیا ہوا؟“

”وہ لوگ مالا کے قابل نہیں ہیں۔ اتنی جلدی مت کرو۔“

”مگر خالہ … زیاد میں کیا برائی ہے؟“ ماہی الجھ ہی گئی۔

”مالا کو اس سے بہتر برمل سکتا تھا۔ وہ افسوس سے بولیں۔ ماہی نے بے اختیار لاؤنج کے پارا اپنے کمرے کےبند دروازے کو دیکھا۔ ابھی یہی تو اس نے بھی کہا تھا۔

”آپ مالا سے بات کر کے دیکھیں ۔“

”میں خود آ کے اس سے بات کروں گی۔“

”مگر آپ نے دو ماہ بعد آنا ہے۔ فون پر بات کرلیں۔“ وہ بے چین ہوئی۔

”یہ باتیں فون پہ نہیں ہوتیں۔ اور تم لوگ فوراً جواب نہ دو۔ تھوڑا وقت مانگو۔ دو تین ماہ تو لڑکی والوں کی چوکھٹ پر لوگ جوتے گھساتے ہی ہیں۔“  وہ آرام سے بولیں۔ ماہی نے بے اختیار ماتھے کو چھوا۔

وہ واپس آئی تو قدرے غائب دماغ سی لگ رہی تھی۔

”خالہ کیا کہ رہی تھیں ؟“ مالا نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ سوچ میں گم دھپ سے صوفے پہ بیٹھی۔

”خالہ چاہتی ہیں کہ ہم ان کے آنے کا انتظار کریں اور رشتہ ان کی موجودگی میں طے ہو۔ ہماری طرف سے کسی بڑے کا ہونا بھی ضروری ہے ۔“ اس نے الفاظ جوڑے۔

”میں ہوں نا ۔ معید کو کچھ برا لگا۔ اور ماموں بھی آجائیں گے۔ مسئلہ کیا ہے؟“

”خالہ ابھی لمبا سفر نہیں کر سکتیں۔ ان کے گھٹنے کی سرجری ہوئی ہے نا۔ ماں کی ڈیتھ پہ بھی اسی لیے نہیں آسکیں۔ ہم ان کا انتظار کر سکتے ہیں۔ جنوری کے آخر تک وہ آجائیں گی اور میں تو مارچ تک یہیں ہوں۔“  بظاہر اس نے بے پرواہی سے شانے اچکائے البتہ کمرے میں پھیلا تناؤ سب محسوس کر سکتے تھے۔

”نگینہ آنٹی کینسر پیشنٹ ہیں۔ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ وہ دو ماہ میں شادی کی بات کر رہی تھیں ۔ اورتم کہہ رہی ہو ہم رشتہ تک طے نہ کریں۔ “ معید خفا ہوا۔ ماہی نے شانے اچکا دیے۔

”ٹھیک ہے۔ جیسے تم لوگ کہو۔“ کمرے میں چند لمحے کےلیے تناؤ بھری خاموشی چھا گئی۔ پھر ماہی کو جیسے کچھ یاد آیا۔

”ویسے نگینہ آنٹی چند دن پہلے پاکستان تھیں نا ۔ جب انہوں نے حور کو گھٹی دی تھی۔پھرواپس کیوں چلی گئیں ؟“

”وہ ہر مہینے صرف پانچ دن کے لیے پاکستان آتی ہیں۔ یہ ان کی پرانی روٹین ہے۔“

”تھکتی نہیں ہیں اتنے ٹریول سے؟ بیمار بھی ہیں۔“

”میں نے بھی زیاد سے یہی پوچھا تھا۔ لیکن وہ کہ رہا تھا کہ تین گھنٹے کی تو فلائٹ ہے۔ اور نگینہ آنٹی کو اپنالاہور والا گھر بہت عزیز ہے۔ یہاں آکے وہ بہتر محسوس کرتی ہیں۔“ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور نرمی سے ماہی کو دیکھا۔

"خالہ جب بھی آئیں، موسٹ و یلکم۔ لیکن میں اپنی زندگی کے فیصلے اپنے رشتے داروں کے فلائٹ شیڈیول کے مطابق نہیں کر سکتی ،ماہی۔ میں فیصلہ کر چکی ہوں۔ “اس کا انداز نرم مگر دوٹوک تھا۔ ماہی کا سرا ثبات میں ہل گیا۔ جب مالا فیصلہ کرلے تو کوئی چیز اس کو اس فیصلے سے نہیں ہٹا سکتی تھی۔

Mala episode 9 image

صفورا اور مالا کی ریستوران میں  گپ شپ:

 ”کیا میں نے درست فیصلہ کیا ہے؟“

اس دو پہر صفورا اور وہ ایک ریستوران میں آمنے سامنے بیٹھی تھیں ۔ ان کے او پر شیشے کی چھت بنی تھی جس پر جگہ جگہ بوگن ویلیا کے گلابی پھول نظر آرہے تھے۔ دیوار میں بھی شیشے کی تھیں جو کہیں سے اونچے پودوں سے ڈھکی تھیں ۔ اور کہیں سے سرما کی نرم دھوپ کو اندر آنے کا راستہ دے رہی تھیں ۔

اس نے صفورا سے یہ سوال اپنے لنچ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا جو اس کے سامنے اَن چھوا رکھا تھا۔

صفورا اپنے لنچ کی تصویر کھینچ رہی تھی کیونکہ وہ اپنا کھانا انٹا گرام کے اجنبیوں کو دکھانا فرض سمجھتی تھی ۔ اس سوال پہ چونک کے چہرہ اٹھا کے اسے دیکھا۔ مالا کی آنکھیں پلیٹ پہ جھکی تھیں۔ سیاہ بال چہرے کے دونوں اطراف میں گررہے تھے۔ سبز کارڈیگن کے اندر جھانکتے سفید کرتے کے گریبان پر سیاہ فاختہ والا لا کٹ جگمگار ہا تھا۔ کچھ تھا کشمالہ کے چہرے پہ جوا داس کر دینے والا تھا۔

”بہترین فیصلہ ہے۔ زیاد کے بارے میں جتنا میں نے تم سے سنا ہے وہ ایک شاندار انتخاب ۔ اپنے فیصلے پر شک کیوں کر رہی ہو؟“ صفورا نے چھری کانٹا پلیٹ میں چلانا شروع کر دیا۔

”کہیں میں جلد بازی سے کام تو نہیں لے رہی ؟ یعنی دو ماہ میں شادی ۔“اس نے نگاہ اٹھا کے صفورا کود یکھا۔ وہ کانٹے کو چکن فلے میں گاڑے چھری سے ایک ٹکڑا کاٹ رہی تھی۔

”انتظار کس کا کرنا ہے؟ امی رہیں نہیں۔ یہاں رہ کے کیا کرو گی۔ دبئی جاؤ اور نئی زندگی شروع کرو۔ “ پھر اس کا  چہرہ دیکھ کے صفورا نے ہاتھ روکا اور ایک گہری سانس لی۔

”تم بتاؤ مالا۔ تم جلد بازی کیوں کر رہی ہو؟“

اور وہ جیسے ایک دم سے بولنے لگی۔

”کیونکہ میں لا ہور میں مزید نہیں رہنا چاہتی۔ یہاں ہر طرف ماں کی یادیں ہیں۔ ڈپریشن ہے۔ ایک طویل عرصے سے کوئی میرا تعاقب کرتا آیا ہے۔ میں اس سب سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہوں۔“

”اب تو وہ تعاقب نہیں کر رہانا ؟“ صفورا نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔

”نہیں۔ کیونکہ میں نے اس کا تعاقب چھوڑ دیا ہے۔“

ذہن کے پردے پہ باتھ روم کے نل والا واقعہ لہرایا۔ اور اسٹوڈیو میں پڑا کارٹن جس میں اس نے عامل کے متعلق جمع کی گئی معلومات کو سیل بند کر دیا تھا۔ وہ باب ختم ہو چکا تھا۔

”میں نے دبئی میں کچھ جگہوں پہ جاب کے لیے اپلائی بھی کیا ہے ۔ اس نے بالآخر چھری کانٹا اٹھایا۔

”پھر مسئلہ کیا ہے؟“

”کچھ ہے میرے اندر جو مجھے کہتا ہے کہ زیاد میرے لیے بہترین چوائس نہیں ہے۔“  وہ الجھی ہوئی لگ رہی تھی۔

” کیا تمہیں زیاد سے محبت ہے؟“

”کیا مجھے زیا د سے محبت ہے؟“ اس نے الٹا سوال کیا۔

“نہیں ہے؟“ صفورا نے بغور اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

”پتہ نہیں ۔“ اس نے بال کان کے پیچھے اڑ سے۔ سبز آنکھوں میں اداسی سی تھی۔

” مجھے اس کے لیے ایک بے چین کر دینے والی کشش محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کچھ کھینچتا ہو اس کی طرف۔ وہ سامنے ہو تو سب سے اہم وہی لگتا ہے۔ اسے دیکھتے ہی خواہش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد میں کوئی فیصلہ کروں ورنہ میں اسے کھو دوں گی۔“

”شروع شروع میں محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔“ اس نے بے پرواہی سے اسٹیک کا ٹکڑا منہ میں رکھا۔

”واقعی ؟“ وہ دھیرے سے ہنسی ۔” میں سمجھی محبت مختلف محسوس ہوگی۔“

مالا نے ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھا اور نظریں اٹھا کے چھت سے لٹکتی  بوگن ویلیا کو دیکھا۔

”میں سمجھتی تھی کہ محبت بے چین اور جلد بازی کروانے والی نہیں ہو گی۔“

”پھر کیسی ہو گی ؟“

”بے چینی، سکون کا الٹ ہے۔ کھو دینے کا ڈر، تحفظ کا الٹ ہے۔ میں سمجھتی تھی محبت میں کھو دینے کا ڈر نہیں ہوگا۔ سکون ہو گا۔ تحفظ ہوگا۔“

(وہ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اور کیف خاموشی سے ڈرائیو کررہا تھا۔کھڑکی کے باہرکنال کے ساتھ لگے درخت بھاگتے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی۔)

”میں سمجھتی تھی محبت کمفرٹیبل کر دینے والی ہو گی ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جیسے۔ تحفظ کا احساس۔“

(وہ کار کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ اور وہ دھوپ میں کھڑی تھی۔ قریب آئی تو دھوپ کا راستہ رک گیا۔ ہر طرف چھا یا تھی۔)

”میں سمجھتی تھی کہ میں اپنی محبت کے ساتھ جہاں بھی ہوں گی، خوش ہوں گی۔ مجھے خوشی کی تلاش میں ایک نئے شہرجا کے نئی زندگی نہیں بسانی پڑے گی۔“

( وہ دونوں عثمان کی بیٹھک میں موڑھوں پہ بیٹھے تھے۔ سامنے مٹی کے پیلاوں میں مہک اڑاتی چائے اور نان خطائیاں رکھی تھیں ۔ وہ چائے سے اٹھتے دھوئیں کو دیکھتے ہوئے کچھ کہ رہا تھا اور وہ مسکرا کے اسے سن رہی تھی۔)

”دیکھو میری ارینج میر یج ہوئی تھی۔ میرا تجربہ مختلف تھا۔“  صفورا کے چھری کانٹا چلانے کی آواز سے کوئی فسوں سا ٹوٹا۔ وہ چونک کے اس کی طرف متوجہ ہوئی۔

”یہ بے چینی وغیرہ شادی سے پہلے ہوتی ہے۔ شادی کے بعد زندگی میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ ایک ہی انسان سے روز لڑائی اور روز صلح ہوتی ہے۔ وہ ایک اچھا انسان ہے۔ تمہیں خوش رہے گا۔ ویسے بھی مرد کی شکل کون دیکھتا ہے۔“

”شکل؟“ وہ ایک دم چونکی۔ ” زیاد کی شکل کو کیا ہوا؟“

”نہیں دراصل۔۔۔۔“  صفور گڑ بڑا گئی۔ ”میرا مطلب تھا تمہارے مقابلے میں بہت پرنس چارمنگ نہیں ہے لیکن اچھا ہے۔ ڈیسنٹ ہے۔ اور شکلیں کہاں میٹر کرتی ہیں یار۔ اخلاق اچھا ہونا چاہیے۔“

”یعنی تمہیں وہ نارمل لگتا ہے؟“ وہ قدر ے خفا ہوئی اور اپنے کھانے پہ جھک گئی ۔ ”مجھے تو وہ بہت ہینڈ سم لگتا ہے۔“

”یہی تو محبت ہے۔ نارمل انسان بھی بہت اچھا لگتا ہے۔“ صفورا ہنس دی تو وہ بھی مسکرا دی۔

”زیاد تھوڑا تلخ ہے۔ اس کی منگیتر کی موت کا ٹراما ابھی تک تازہ ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ محبت سے اس کو فکس کرلوں گی۔“

اس بات یہ صفورا چونکی۔ پھر کھنکھاری۔ ”مالا … کوئی عورت کسی مرد کو جوڑ نہیں سکتی۔  نہ heal کر سکتی ہے۔ نہ فکس کر سکتی ہے۔ شادی کے بعد وہ بدلے گا نہیں۔ تھوڑا بہت تمہارے طریقے پہ ڈھل جائے گا۔“

ویٹر ڈرنکس کی ٹرے اٹھائے ان کے قریب آیا اور ادب سے ایک گلاس صفورا کے سامنے رکھا۔

”غلط ۔ محبت انسان کو بدل بھی سکتی ہے اور فکس بھی کر سکتی ہے۔ محبت ہی تو heal کرتی ہے۔ یہ سب سے بڑا مرہم ہوتی ہے۔“  وہ مسکرا کے اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوئی۔ صفورا کچھ کہنے لگی تھی لیکن اسی وقت ویٹر دوسرا گلاس رکھنے جھکا ہی تھا کہ گلاس ہاتھ سے سلپ ہوا۔ بہت سامنٹ مارگریٹا کشمالہ کے کندھے پر جا گرا۔

”اندھے ہو کیا؟ دیکھ نہیں رہے؟“ صفورا ایک دم غرائی۔

”صفورا … اٹس او کے۔“اس نے ہاتھ اٹھا کے اسے آنکھوں میں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر نیپکن اٹھایا اور پرسکون انداز میں اپنا کندھا صاف کیا۔

”سوری میم – رئیلی سوری ۔“  کمزور سادیٹر گھبرا کے جلدی جلدی معذرت کرنے لگا۔

”کوئی بات نہیں۔ دوسری ڈرنک لے آئیں۔ میں اسے واش کر لیتی ہوں۔“  وہ نرمی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

وہ ریسٹ روم سے واپس آئی تو دیکھا، صفورا کے پاس مینیجر اور ویٹر کھڑے معذرت کر رہے تھے۔ اور وہ خفگی سے ان کو ڈانٹ رہی تھی۔

”اٹس او کے صفورا۔ جانے دو ۔“  وہ واپس بیٹھی اور ان کو جانے کا اشارہ کر دیا۔ صاف نیپکن گود میں بچھایا۔ پھرمحسوس ہوا صفورا اسے ناراضی سے گھور رہی تھی ۔

”اسے سزاملنی چاہیے تھی مالا۔ ورنہ سیکھے گا کیسے؟“

”اس نے میرا کار ڈیگن خراب کیا اور تمہاری ڈانٹ نے اس کا پورا دن خراب کر دیا۔ حساب برابر ۔ اب اپنی انا کے پیچھے میں کسی غریب کو اس کی نوکری سے نہیں نکلواسکتی۔“

وہ پلیٹ اپنی طرف کھسکائے، کھانا وہیں سے شروع کر چکی تھی۔

”انا کہاں سے آگئی درمیان میں ؟“ صفورا خود بھی ریستوران  مینیجر تھی۔ اس کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی تھی۔

وہ جواباً دھیرے سے ہنس دی۔

”ہنسی کیوں؟“

”کچھ نہیں۔ کچھ یاد آ گیا تھا۔ “ وہ مسکراہٹ دبائے سر جھکا کر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اس کا دل اب ہلکا پھلکا تھا۔ وہ درست فیصلہ کر رہی تھی۔

                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ماہر، بیربل اور چنگیز کا سحر عشق پہ مکالمہ:

”ناممکن ۔ ایک دم نا ممکن ۔“

روم نمبر ۵۵۵ کی کھڑکی کا بلائنڈ اوپر اٹھا تھا جس کے باعث بظاہر تیز لیکن درحقیقت ٹھنڈی دھوپ اندر داخل ہونے کا راستہ بنا چکی تھی۔ سورج کسی ہمسایہ عمارت کی اوٹ میں تھا، اس لیے دھوپ کا رخ ترچھا تھا۔ وہ صرف کھڑکی کے ساتھ رکھے کاؤچ تک پہنچ پا رہی تھی جس پر پیر بل فرید چپ چاپ گہری سوچ میں ڈو با بیٹھا تھا۔

دیوار پر لگے کاغذ، میزوں پر بکھرے دستے، سب کچھ ایسے صفائی سے سمیٹا جا چکا تھا کہ جیسے کچھ پھیلایا ہی نہ ہو۔ ماہر بیڈ کی ٹیک سے کمر لگائے ٹانگیں لمبی کیے نیم دراز تھا۔ سر پیچھے تکیے پر تھا اور آنکھیں دائیں بائیں ٹہلتے چنگیزپہ جمی تھیں ۔

”ناممکن۔ کوئی کسی پہ محبت کا جادو کیسے کر سکتا ہے؟“ چنگیز جھنجھلا گیا تھا۔

”جیسے شمس نے میری ماں پہ کروایا تھا۔“

”ہوسکتا ہے تمہاری ماں کوشمس کی کوئی خوبی اچھی لگی ہو۔“

”شمس میں کوئی خوبی نہیں تھی۔“ وہ سپاٹ نظروں سے چنگیز کو دیکھ رہا تھا۔ ”سر کار اس جادو میں ماہر ہے۔ وہ کسی پہ بھی سحرعشق کروا سکتا ہے۔“

”سر کار کا کوئی ای میل ایڈریس نہیں مل سکتا؟ میرے تو سارے مسئلے حل ہو جائیں ۔ “سوچ میں ڈوبا بیربل کھنکھارا۔

لیکن کوئی اس کی طرف متوجہ نہ تھا۔

”تمہیں کیسے معلوم سرکار اس جادو میں ماہر ہے ؟“ چنگیز اب مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ماہر نے شانے اچکائے۔

”میں نے دو جمع دو چار کیا ہے۔ اس البم میں میری  ماں کی تصویر بھی تھی اور کشمالہ کی بھی۔ میں سجھتا تھا کہ البم  والی عورتوں کو سرکار نے مروا دیا ہے یا مروانا ہے۔ اس لیے میں کشمالہ کی حفاظت کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ اس  کے ساتھ وہ نہ جو میری ماں کے ساتھ ہوا تھا۔ لیکن میں غلط تھا۔“ اس نے چچ کی آواز نکالی۔ گویا خود پہ افسوس کیا۔

”یعنی البم والی عورتوں پہ دراصل سرکار نے جادو کیا تھا؟“

”با لکل ۔ اس نے مختلف کلائنٹس کے لیے مختلف عورتوں پہ سحر عشق کیا تھا۔ سر کار ایک ٹروفی کلیکٹر بھی ہے۔ اپنے ہر شکار کا حساب رکھتا ہے۔“

”میں نہیں مانتا۔ کوئی کسی کے دل میں اپنی محبت جادو کے ذریعے نہیں پیدا کر سکتا۔“  چنگیز نے ناک سے مکھی اڑائی۔

”درست ۔“ اس نے سر تائید میں ہلایا تو وہ دونوں چونک کے اسے دیکھنے لگے۔

”کیا مطلب؟“

“سحر عشق کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ کیونکہ کوئی انسان جادو کے ذریعے کسی کے دل میں اپنی محبت پیدا نہیں کر سکتا۔“  وہ ٹیک لگائے سنجیدگی سے ان سوالات کے جواب دے رہا تھا۔

”لیکن تم نے کہا سحر عشق اثر کرتا ہے۔“ سب سے زیادہ مایوسی بیربل فرید کو ہوئی تھی۔

”سحر عشق، عشق نہیں ہوتا ۔ سحر ہوتا ہے۔ ایک الوژن۔ محبت کا ایک سراب۔ ایک مصنوعی احساس جو ساحر محبوب کے دل میں جگاتا ہے۔ محبوب اس کو محبت سمجھتا ہے اور۔۔۔۔“  اس نے تھوک نگلا۔ “اور اپنے ساحر کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے۔ جیسے ہماری ماں نے کیا۔“

”ایک ہی بات ہے۔ محبت ہو یا اس کا احساس۔“

”ایک بات نہیں ہے بیربل ۔ محبت ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے۔ سحر الوژن ہے۔ دور سے لگتا ہے سڑک پہ پانی پڑاہے۔ لیکن قریب آؤ تو پانی نہیں ہوتا۔ صرف دھوپ کا الوژن ہوتا ہے۔“

”یعنی سحر عشق جلدی ٹوٹ جاتا ہے۔“

”میں نہیں مانتا۔ “ چنگیز نفی میں سر ہلاتے ہوئے کرسی پر بیٹھا۔ ” تم صرف زیاد سلطان سے جیلیس ہو۔ اور ہسپتال کے اس بند کمرے کی قید نے تمہارے ذہن پر برا اثر ڈالا ہے۔“

”ایسے مت کہو چنگیز۔“بیربل برا مان گیا۔  ”اس کے ذہن پہ اثر بہت پہلے سے ہے۔ ہسپتال کے کمرے کا کیا قصور؟“

ماہر نے جواباً بس ایک نظر اسے دیکھا اور کندھے اچکا دیے۔

”واللہ ماہر فرید کبھی غلط نہیں ہوتا۔“

”تم یہ ثابت کر سکتے ہو؟ چنگیز نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی اور سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ وہ کچھ کہنےلگا لیکن چنگیزنے ہاتھ اٹھاکےاسے روکا۔” اور یہ مت کہنا کہ وہ ہینڈ سم نہیں ہے۔ جب کسی لڑکی کو کسی آدمی سے محبت ہو جائے تو وہ اس کو ہینڈسم ہی لگتا ہے۔ میں نے اس کی تصویر دیکھی ہے۔ وہ بدصورت نہیں ہے۔“

” میں نے کب کہا بدصورت ہے۔ صرف ہینڈسم نہیں ہے۔ وہ خود کو بدصورت سمجھتا ہے اسی لیے اس نے جادو کاسہارا لیا ہے۔“

”کیا تم یہ ثابت کر سکتے ہو؟“ اس نے چبا چبا کے اپنی بات دہرائی ” کیونکہ اگر وہ واقعی جادو کروارہا ہے توتمہیں اس لڑکی کو بچانا ہو گا۔ کیا کہہ کے بچاؤ گے؟ کہ واللہ ماہر فرید کبھی غلط نہیں ہوتا ؟“

”میں ثابت کر سکتا ہوں ۔“ اس کا انداز اٹل تھا۔

Mala Novel in Urdu PDF Download – Episode 9

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close