Mango And Worthy Child – Children’s Story

یہ بات ان دنوں کی ہے جب میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ گاؤں میں پرائمری اسکول تھا۔ جہاں سے پانچویں جماعت میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد برابر کے قصبے میں جو ہمارے گاؤں سے اڑھائی یا تین میل کے فاصلے پر تھا داخل کرا دیا گیا۔ موسم گرما اور سردی کے دنوں میں ہم پگڈنڈی سے ہو کر یہ فاصلہ ہنستے، کھیلتے ہوئے طے کر لیا کرتے تھے۔ جب کہ بارش کے دنوں میں ہمیں پکی سڑک سے سفر کرنا ہوتا اور یہ راستہ ہمارے لیے ایک میل تک مزید طویل ہو جاتا مگر کر بھی کیا سکتے تھے۔ آج سے بیس پچیس سال پہلے نہ تو ٹریفک کی اتنی چہل پہل شروع ہوئی تھی نہ سڑکوں پر لوگوں کا اتنا ہجوم ہوتا تھا۔  بچوں کو پیدل راستہ طے کر کے اسکول جانے میں ساتھیوں کے ساتھ ہلہ گلہ اور دھما چوکڑی مچاتے ہوئے راستہ طے کرنااچھا لگتا تھا۔ دوسرا یہ کہ بس کا کرایہ بچا کر ہم  ضرورت کی کوئی چیز آسانی سے لے سکتے تھے۔ یوں بھی میرے ابا جی بہت غریب تھے۔  پڑھےلکھے تھے مگر میرے دادا کے ساتھ کھیتی باڑی کرنے لگے تھے۔ انہیں تعلیم دلوانے کی بڑی خواہش تھی اور   وہ مجھے ہر حال میں مجھے ایک اچھا اور تعلیم یافتہ انسان دیکھنا چاہتے تھے جو اپنا اچھا برا سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

 اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ مجھے بڑی توجہ دیتے اور سخت نظر رکھتے ، میری ضروریات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خاص خیال رکھتے ۔  جب تک میں پڑھتا تو دن بھر کے تھکے ہارےہونے کے باوجود میرے پاس بیٹھے رہتے۔ مجھے پڑھتے اور ہوم ورک کرتے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ، اپنی دعاؤں سے نوازتے ، صبح سویرے فجر کی اذان ہوتے ہی بیدار کر دیتے۔ لالٹین جلا کر بیچ کمرے میں لٹکا دیتے۔ میں وضو کر کے نماز پڑھتا اور اسکول میں پڑھائے جانے والے نئے اسباق کی تیاری کرتا۔ اماں وہیں مجھے ناشتہ کرا دیتی پھر وقت ہونے پر میں بستہ سنبھال کر اسکول کے لیے گھر سے نکل پڑتا۔ ابا مجھے پیار کرتے اور کھیتوں کی طرف چلے جاتے۔

اباجی کی اس توجہ، محبت اور دعاؤں سے مجھے بھی احساس ہو گیا کہ وہ مجھے ایک اچھے تعلیم یافتہ شخص کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی خواب کی زندہ تعبیر کے لیے ساری محنت مشقت، ہنستے مسکراتے برداشت کر رہے تھے۔ میرے دل و دماغ میں اس بات نے جگہ بنالی تھی کہ میں نے ان کی امیدوں اور تمناؤں پر پورا اتر کر دکھانا ہے۔ ہر سال ہر جماعت میں اچھے نمبروں سے پاس ہو رہا تھا۔ پانچویں جماعت میں تو مجھے سرکاری طور پر اچھے نمبروں کی وجہ سے تعلیمی وظیفہ بھی ملا تھا۔

پھر ایک دن انہونی ہو گئی دوسرے لوگوں کے لیے تو یہ صرف بچپن کی ایک شرارت تھی لیکن ابا جی کی نظروں میں وہ بہت بڑی غلطی تھی۔ ہوا یوں کہ ہم جس راستے سے اسکول جاتے اسی راستے میں ایک آم کا باغ پڑتا تھا۔ آم کے باغ میں آم کے پیڑوں کے ساتھ ساتھ جامن کے بھی درخت تھے۔ باغ تھا تو قصبے کی حدود میں مگر ہمارے گاؤں سے بالکل ملا ہوا تھا۔ اسکول میں گرمی کی چھٹیوں کا اعلان ہونے والا تھا اور یہ آخری دن تھا جب ہم لوگ گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے تو کچھ ساتھی باغ میں پہنچ گئے اور آم اور جامن کے درختوں پر پتھر مار مار کر پھل گرانے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ لڑکے پہلے بھی یہ حرکتیں کئی مرتبہ کر چکے تھے مگر میں ہمیشہ ان سے الگ ہی رہا کرتا ۔ مجھے ابا جی کی ہدایت کا خیال رہتا۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی تھی کہ سید ھے اسکول جاؤ اور واپس سیدھے گھر آؤ۔ کوئی بھی چیز راستے میں پڑی دکھائی دے تو اس پر نیت خراب نہ کرو کیونکہ یہ امانت میں خیانت ہوگی اور اللہ تعالیٰ امانت میں خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ مگر شیطان نے اس دن نہ جانے کیسے مجھے ان کی یہ ساری باتیں بھلا دیں۔ شیطان مجھ پر حاوی ہو گیا۔ ایک دوست نے مجھے بھی زمین پر سے ایک آم اٹھا کر دے دیا۔ میں نے انکار کیا مگر میرے انکار کے باوجود اس نے مجھے وہ آم کھا لینے پر مجبور کر دیا پھر تو مجھے مزہ ہی آ گیا۔ واقعی وہ آم بہت لذیذ تھا اور میں بھی ان شریر لڑکوں کے ساتھ پتھر مار کر آم توڑنے لگا۔

Aam aur Bachay

ہماری پتھربازی کا یہ مشغلہ تقریباً دس پندرہ منٹ جاری رہا اور اس مدت میں جتنے بھی آم اور جامن شاخوں سے ٹوٹ کر نیچے زمین پرگرے وہ سب کے سب کچے تھے۔ ان شریر لڑکوں کا دل ابھی تک نہ بھرا تھا جب کہ ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ بہت بری بات اور کھلی بددیانتی ہے۔ ابھی ہم لوگ آموں اور جامنوں کا مزہ لے ہی رہے تھے کہ دور سے باغ کے مالک پر نظر پڑی جو باغ کی طرف ہی آ رہا تھا۔ ہمارے تو ہوش ہی جاتے رہے۔ ایک خوف سا دلوں پر چھا گیا اور بے تحاشا آگے پیچھے سب اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگ گئے ۔ قسمت اچھی تھی کہ باغ کے مالک نے ہمیں نہیں دیکھا تھا۔ یہ خوف بھی تھا کہ کہیں ابا جی سے شکایت نہ کر دیں لیکن شام ہو گئی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔

میں پڑھنے کے لیے بیٹھا تو ابا جی بھی معمول کے مطابق وہیں آکر بیٹھ گئے ، ان کے چہرے پر گہری سنجیدگی نے مجھے خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں ان کا بہت احترام کرتا تھا آخر میں نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ ابا جی کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت تو خدانخواستہ کچھ خراب تو نہیں۔ میری بات سنتے ہی ان کے دل کا درد آنسو بن کر آنکھوں میں تیرنے لگا، وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولے۔

”بیٹے تم نے میری امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ میرے منع کرنے کے باوجود شریر بچوں کے ساتھ مل کر چوہدری احمد کے باغ میں پتھر بازی کی۔ اپنی خوشی کے لیے درختوں اور پھلوں کو نقصان پہنچایا۔ “ یہ کہتے کہتے ان کی آواز مزید بھر آ گئی ، انہوں نے گہری سانس لی جیسے اپنے جذبات پر بند باندھ رہے ہوں ۔” بیٹا! تم نے وہ پتھر درختوں پر نہیں میرے دل پر مارے ہیں۔ میں نے درختوں پر پتھر مارتے تمہیں خود دیکھا ہے۔ کسی اور نے کہا ہوتا تو شاید میں اسے جھوٹ ہی سمجھتا۔ میں اپنے کھیت سے کام نپٹا کرآ رہا تھا جب تم لوگ پتھر مار رہے تھے۔“ یہ کہہ کر وہ رونے لگے۔

میری آنکھیں بھی بھر آئیں ، آنسو پلکوں سے لڑھک کر گالوں پر آ گئے ۔ انہوں نے کہا۔ ”اب کیوں روتے ہو۔ میرا جی چاہا کہ فوراً ان کے پیروں میں گر کر معافی مانگ لوں لیکن انہوں نے کہا۔ ”جب تمہیں وہ راستہ پسند ہے تو ٹھیک ہے میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔“ اور پھر خاموش ہو گئے ، ان کی باتوں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ۔ شرم سے میری حالت ایسی ہو گئی کہ زمین پھٹ جائے اورمیں اس میں سما جاؤں۔ میں اپنی حرکت پر بری طرح نادم تھا جب شیطان نے میرے دل و دماغ پر قبضہ کر لیا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ابا جی نے میرے آنسو دیکھے اور کہا۔

”تمہیں اپنی حرکت پر شرمندگی ہے تو اس صورت میں تمہیں معاف کر سکتا ہوں کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے جس سے میرے دل کو تکلیف ہو یا جس سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ نے روکا ہو جس سے انسانیت کی تو ہین ہوتی ہو اور شیطان کو خوشی ملتی ہو۔“  میرے منہ سے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں نکلا البتہ آنسو اور تیزی سے بہنے لگے اور میں نے دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ اب کبھی بھی ابا جی کو ایسی صورتِ حال سے دوچارنہیں کروں گا۔ اس عہد نے مجھے اچھا انسان بنا دیا پھر اس کے بعد میں نے ابا جی کو ہی نہیں بلکہ کسی کو بھی کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ ابا جی بھی اب مجھ سے بہت خوش ہیں اور میرے دل میں بھی سکون ہی سکون ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے