Peer E Kamil (پیر کامل) Urdu Novel By Umera Ahmed

Peer e Kamil

پیر کامل کے لغوی معنی:

پیر کے لغوی معنی "بزرگ یا طویل العمر شخصیت ” کےہیں اور کامل لفظ مکمل سے ماخوذ ہے جس سے مراد ایک چیز کا  اپنے اندر   بہت سی چیزوں کو سمیٹے ہونا ہے۔ اصطلاح میں پیر کامل سے مراد ایک ایسی شخصیت جو کہ ہر لحاظ سےمکمل ہو جسی کی ہر زندگی کا ہر پہلو اپنے آپ ایک مشعل راہ ہو۔

پیر کامل کون ہوتا ہے؟

پیر کامل میں کاملیت ہوتی ہے۔ کاملیت ان تمام چیزوں کا مجموعہ ہوتی ہے جو آپ کہہ رہے تھے۔ پیر کامل وہ شخص ہوتا ہے جو دل سے اللہ کی عبادت کرتا ہے ، نیک اور پار سا ہوتاہے۔ اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ اس حد تک جس حد تک اللہ چاہے۔ اور اس کے الفاظ میں تاثیر بھی ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو ہدایت بھی دیتا ہے مگر اسے الہام نہیں ہوتا، اسے وجدان ہوتا ہے۔ وحی اترتی ہے اس پر اور وحی کسی عام انسان پر نہیں اترتی۔ صرف پیغمبر پر اترتی ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کامل تھا مگر پیر کامل وہ ہے جس پرنبوت کا سلسلہ ختم کر دیا جاتا ہے۔

ہر انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی پیر کامل کی ضرورت ضر ور پڑتی ہے۔ کبھی نہ کبھی انسانی زندگی اس موڑ پر آکر ضرور کھڑی ہو جاتی ہے جب یہ لگتا ہے کہ ہمارے لبوں اور دلوں سے نکلنے والی دعائیں بے اثر ہو گئی ہیں۔ ہمارے سجدے اور ہمارے پھیلے ہوئے ہاتھ رحمتوں اور نعمتوں کو اپنی طرف موڑ نہیں پار ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کوئی تعلق تھا جو ٹوٹ گیا ہے پھر آدمی کا دل چاہتا ہے اب اس کے لیے کوئی اور ہاتھ اٹھائے، کسی اور کے لب اس کی دعا اللہ تک پہنچائیں، کوئی اور اللہ کے سامنے اس کے لیے گڑ گڑائے، کوئی ایسا شخص جس کی دعائیں قبول ہوتی ہوں، جس کے لبوں سے نکلنے والی التجائیں اس کے اپنے لفظوں کی طرح واپس نہ موڑ دی جاتی ہوں پھر انسان پیر کامل کی تلاش شروع کرتا ہے ، بھاگتا پھرتا ہے ، دنیا میں کسی ایسے شخص کے لیے جو کاملیت کی کسی نہ کسی سیڑھی پر کھڑا ہو۔

پیر کامل کی یہ تلاش انسانی زندگی کے ارتقاء سے اب تک جاری ہے۔ یہ تلاش وہ خواہش ہے جو اللہ خود انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔ انسان کے دل میں یہ خواہش، یہ تلاش نہ اتاری جاتی تو وہ پیغمبروں پر کبھی یقین نہ لاتا۔ کبھی ان کی پیروی اور اطاعت کرنے کی کوشش نہ کرتا۔ پیر کامل کی یہ تلاش ہی انسان کو ہر زمانے میں اُتارے جانے والے پیغمبروں کی طرف لے جاتی رہی پھر پیغمبروں کی مبعوثیت کا یہ سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور پیر کامل کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔

کون ہے جسے اب یا آئندہ آنے والے زمانے میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی مقام دیا جائے ؟

کون ہے جسے آج یا آئندہ آنے والے زمانے میں کسی شخص کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کاملیت دے دی جائے ؟

اور کون ہے جو آج یا آئندہ آنے والے زمانے میں کسی شخص کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر شفاعت کا دعویٰ کر سکے ؟

جامد اور مستقل خاموشی کی صورت میں آنے والا نفی میں یہ جواب ہم سے صرف ایک سوال کرتا ہے۔

پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر ہم دنیا میں اور کس وجود کو کھوجنے نکل کھڑے ہوئے ہیں؟ پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیعت شدہ ہوتے ہوئے ہمیں دوسرے شخص کی بیعت کی ضرورت رہ گئی ہے ؟

 جو ہماری دعاؤں کو قبولیت بخشے ، جو ہم پر نعمتیں اور رحمتیں نازل کر سکے ؟

کوئی پیر کامل کا فرقہ بتا سکتا ہے ؟ نہیں بتا سکتا۔

 وہ صرف مسلمان تھے ، وہ مسلمان جو یہ یقین رکھتے تھے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر چلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے ، اس راستے سے ہٹیں گے تو اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں گے۔

اور صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے قرآن پاک میں بتاتا ہے۔ صاف ، دوٹوک اور واضح الفاظ میں۔ وہ کام کریں جس کا حکم اللہ اپنے رسول محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے دیتا ہے اور اُس کام سے رک جائیں جس سے منع کیا جاتا ہے۔

اللہ ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کسی بات میں کوئی ابہام نہیں رکھتے۔ قرآن کو کھولئے ،اگر اس میں کہیں دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں کسی دوسرے پیر کامل یا پیغمبر کا ذکر ملے تو اس کی تلاش کرتے رہئے اور اگر ایسا کچھ نظر نہیں آتا تو پھر صرف خوف کھائیے کہ آپ اپنے پیروں کو کس دلدل میں لئے جارہے ہیں۔ اپنی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کو کس طرح اپنی ابدی زندگی کی تباہی کے لئے استعمال کر رہے ہیں کس طرح خسارے کا سودا کر رہے ہیں۔ ہدایت کی تلاش ہے ، قرآن کھولئے۔ کیا ہے جو وہ آپ کو نہیں بتادیتا۔ وہ آپ کو معصوم ، انجان اور بے خبر نہیں رہنے دیتا۔ آپ کا اصل آپ کے منہ پر دے مارتا ہے۔

کیا اللہ انسان کو نہیں جانتا ہو گا؟ اس مخلوق کو ، جو اس کی اربوں کھربوں تخلیقات میں سے ایک ہے۔

دعا قبول نہیں ہوتی تو آسرے اور وسیلے تلاش کرنے کی بجائے صرف ہاتھ اٹھا لیجیے، اللہ سے خود مانگیں۔ دے دے تو شکر کریں، نہ دے تو صبر ۔۔۔۔۔ مگر ہاتھ آپ خود ہی اٹھائیں۔

زندگی کا قرینہ اور سلیقہ نہیں آرہا تو اسوہ ء حسنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جائیں، سب کچھ مل جائے گا آپ کو۔ احترام ہر ایک کا کریں۔ ہر ولی کا، ہر مومن کا، ہر بزرگ کا، ہر شہید کا، ہر صالح کا، ہر پارسا کا۔۔۔

مگر اپنی زندگیوں میں ہدایت اور رہنمائی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیں کیونکہ انہوں نے آپ تک اپنے ذاتی احکامات نہیں پہنچائے جو کچھ بتایاوہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔

ناول پیر کامل کا تعارف:

ناول پیر کامل ، عمیرہ احمد کے تصنیفی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کی دینی خدمت کا ایک ایسا افشاں ثبوت ہے جس کا اجر اُنہیں تاعمر ملتا رہے گا۔ مذکورہ ناول میں بے حد اختصار کے ساتھ ایک ایسے سفر کا موضوع باندھا گیا ہے۔ جو راہِ حق اور پیرِکامل کی تلاش پر جا کر ختم ہو رہا ہے۔ مصنفہ نے مختصر مگر جامع انداز میں ختمِ نبوت کی خوبصورتی سے لفاظی کی ہے اور اپنی کمال فہم و فراست سے قادیانیت کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیے ہیں۔  اپنی ایمان افروز سوچ کی روشنی میں قارئین کے ختمِ نبوت پر اعتقاد کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار کیا گیا ہے۔

پیر کامل 2004 میں  شائع ہوا اور بعد ازاں 2011 میں اس کا انگریزی کا ترجمہ کیا گیا۔ اس ناول کی عمیرہ احمد کے لیے خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ ناول اُن کی تمام تصنیفات میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

Peer e Kamil Novel in Urdu

 مرکزی کردار:

امامہ ہاشم :

 ایک احمدی لڑکی جس نے زندگی کی آسائشوں اور مال و متاع پر ختم ِ نبوت کو ترجیح دی اور اسی جستجو میں اسلام قبول کیا اور عشقِ محمدی کے انعام میں امامہ کے گرد ایک حفاظتی حصار کو قائم کیا گیا   جس نے ہر معاشرتی تکلیف سے اُ س کی حفاظت کی اور اُ س کے اردگرد نیک لوگوں کو تعینات کیا گیا۔

سالار سکندر:

ایک بگڑا امیر زادہ، جس کے سر پر موت کے تجربہ کی دھن سوار ہوئی جس  کی مد میں اُ س نے چار مرتبہ خودکشی کی کوشش کی۔ اور جب اُ س کی رسی کو کھینچا گیا تو اُ س کوموت سے خوف  محسوس ہوا کہ کیسے اتنے گناہ لے کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا۔

اہم کردار:

سکندر عثمان ـــــــــــــــــــــــسالار کا والد

طیبہ سکندر ـــــــــــــــــــــــ سالار کی والدہ

ہاشم مبین ـــــــــــــــــــــــ امامہ کا والد

وسیم مبین ـــــــــــــــــــــــ سالار کا دوست اور امامہ کا بھائی

اسجدـــــــــــــــــــــــ امامہ کا قادیانی منگیتر

سید سبط علی ـــــــــــــــــــــــ اسلامک سکالر

ڈاکٹرفرقان ـــــــــــــــــــــــ سالار کا دوست ـــــ ایک اچھا مسلمان

سعیدہ اماں ـــــــــــــــــــــــ سبط علی کی رشتہ دار اور امامہ ہاشم کی نگہبان

جلال انصر ـــــــــــــــــــــــ نام نہاد  مسلمان اوراپنی خوبصورت آوز میں نعت  خوانی کی  وجہ سے  امامہ کی  محبت

سعدظفر ـــــــــــــــــــــــ یورپ کی یونیورسٹی میں سالارکا دوست

پیر کامل کے دل پذیر فقرات:

  • انسان اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز سے گزرتا ہے۔ کبھی کمال کی بلندیوں کو جا چھوتا ہے، کبھی زوال کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے۔ ساری زندگی وہ ان ہی دونوں انتہاؤں کے درمیان سفر کرتارہتا ہے اور جس راستے پر وہ سفر کرتا ہے ، وہ شکر کا ہوتا ہے یا نا شکری کا۔ کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ زوال کی طرف جائیں یا کمال کی طرف جائیں ، وہ صرف شکر کے راستے پر ہی سفر کرتے ہیں۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف ناشکری کے راستے پر سفرکرتے ہیں ، چاہے وہ زوال حاصل کریں یا کمال اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ان دونوں پر سفر کرتے ہیں۔ کمال کی طرف جاتے ہوئے شکر کے اور زوال کی طرف جاتے ہوئے ناشکری کے۔
  • انسان اللہ کی ان گنت مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے۔ اشرف المخلوقات ہے مگرمخلوق ہی ہے۔ وہ اپنے خالق پر کوئی حق نہیں رکھتا، صرف فرض رکھتا ہے۔ وہ زمین پر ایسے ٹریک ریکارڈ کے ساتھ نہیں اتارا گیا کہ وہ اللہ سے کسی بھی چیز کو اپنا حق سمجھ کر مطالبہ کرسکے مگر اس کے باوجود  اس پر اللہ نے اپنی رحمت کا آغاز جنت سے کیا، اس پر نعمتوں کی بارش کر دی گئی اور اس سب کے بدلے اس سے صرف ایک چیز کا مطالبہ کیا گیا شکر کا۔ کیا محسوس کرتے ہیں آپ ! اگر آپ زندگی میں کسی پر کوئی احسان کریں اور وہ شخص اس احسان کو یاد رکھنے اور آپ کا احسان مند ہونے کی بجائے آپ کو ان مواقع کی یاد دلائے جب آپ نے اس پر احسان نہیں کیا تھا یا آپ کو یہ جتائے کہ آپ کا احسان اس کے لیے کافی نہیں تھا۔ اگر آپ اس کے لئے ” یہ ” کر دیتے یا وہ ” کر دیتے تو زیادہ خوش ہوتا۔ کیا کریں گے آپ ایسے شخص کے ساتھ ؟ دوبارہ احسان کرنا تو ایک طرف، آپ تو شاید اس سے تعلق رکھنا تک پسند نہ کریں۔ ہم اللہ کے ساتھ یہی  کرتے ہیں۔ اس کی نعمتوں اور رحمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے ہم ان چیزوں کے نہ ملنے پر کڑھتے رہتے ہیں، جنہیں ہم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اللہ پھر بھی رحیم ہے، وہ ہم پر اپنی نعمتیں نازل کرتا رہتا ہے۔ ان کی تعداد میں ہمارے اعمال کےمطابق کمی بیشی کرتارہتا ہے مگر ان کا سلسلہ کبھی بھی مکمل طور پر منقطع نہیں کرتا۔
  • شکر ادانہ کرنا بھی ایک بیماری ہوتی ہے، ایسی بیماری جو ہمارے دلوں کو روز بہ روز کشادگی سے تنگی کی طرف لے جاتی ہے جو ہماری زبان پر شکوہ کے علاوہ اور کچھ آنے ہی نہیں دیتی۔ اگر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت نہ ہو تو ہمیں انسانوں کا شکریہ ادا کرنے کی بھی عادت نہیں پڑتی۔ اگر ہمیں خالق کے احسانوں کو یادرکھنے کی عادت نہ ہو تو ہم کسی مخلوق کے احسان کو بھی یاد ر کھنے کی عادت نہیں سیکھ سکتے۔
  • زندگی میں بعض دفعہ ہمیں پتا نہیں چلتا کہ ہم تاریکی سے باہر آئے ہیں یا تاریکی میں داخل ہوئے ہیں۔ اندھیرے میں سمت کا پتا نہیں چلتا مگر آسمان اور زمین کا پتاضر ور چل جاتا ہے بلکہ ہر حال میں چلتا ہے۔ سر اٹھانے پر آسمان ہی ہوتا ہے ، سر جھکانے پر زمین ہی ہوتی ہے۔ دکھائی دے نہ دے مگر زندگی میں سفر کرنے کے لئے صرف چار سمتوں ہی کی ضرورت پڑتی ہے۔ دائیں، بائیں، آگے، پیچھے۔ پانچویں سمت پیروں کے نیچے ہوتی ہے۔ وہاں زمین نہ ہو تو پاتال آجاتا ہے۔ پاتال میں پہنچنے کے بعد کسی سمت کی ضرورت نہیں رہتی۔ چھٹی سمت سر سے اوپر ہوتی ہے۔ وہاں جایا ہی نہیں جاسکتا۔ وہاں اللہ ہوتا ہے۔ آنکھوں سے نظر نہ آنے والا مگر دل کی ہر دھڑکن، خون کی ہر گردش، ہر آنے جانے والے سانس، حلق سے اترنے والے ہر نوالے کے ساتھ محسوس ہونے والا۔
  • اسے اللہ سے خوف آرہا تھا بے پناہ خوف۔ وہ کس قدر طاقتور ہے کیا نہیں کر سکتا تھا۔ وہ کس قدر مہربان ہے۔ کیا نہیں کرتا ہے۔ انسان کو انسان رکھنا اسے آتا ہے۔ کبھی غضب سے ، کبھی احسان سے۔ وہ اسے اس کے دائرے میں ہی رکھتا ہے۔
  • ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر "زمانہ جاہلیت ” سے ضرور گزرتے ہیں، بعض گزر جاتے ہیں، بعض ساری زندگی اسی زمانے میں گزار دیتے ہیں۔ آپ اس میں سے گزر چکے ہیں۔ آپ کا پچھتاوا بتارہا ہے کہ آپ گزر چکے ہیں۔ میں آپ کو پچھتاوے سے رکوں گانہ تو بہ اور دعا سے ، آپ پر فرض ہے کہ آپ اپنی ساری زندگی یہ کریں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ شکر بھی ادا کریں کہ آپ نفس کی تمام بیماریوں سے چھٹکارا پا چکے ہیں۔
  • اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا اس میں کتنی  وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دلی کا دین نہیں ہے اور نہ ہی اس میں دونوں کی گنجائش ہے۔ یہ ”میں “ سے شروع ہو کر ”ہم“ پر ختم ہوجاتا ہے۔

صالح  کی تعریف:

اگرد نیا آپ کو اپنی طرف نہیں کھینچتی، اگر اللہ کے خوف سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، اگر دوزخ کا تصور آپ کو ڈراتا ہے ، اگر آپ اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح کرنی چاہئیے ، اگر نیکی آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے اور برائی سے آپ رک جاتے ہیں تو پھر آپ صالح ہیں۔ کچھ صالح ہوتے ہیں، کچھ صالح بنتے ہیں، صالح ہو ناخوش قسمتی کی بات ہے ، صالح بننا دو دھاری تلوار پر چلنے کے برابر ہے۔ اس میں زیادہ وقت لگتا ہے، اس میں زیادہ تکلیف سہنی پڑتی ہے۔

عمیرہ احمد کا پیر کامل کے متعلق پیش لفظ:

ناول پیر کامل میں نے آپ سب کے لیے لکھا ہے۔ آپ  سب کی  زندگی میں آنے والے اُس موڑ کےلیے ، جب روشنی اور تاریکی کا فیصلہ سراسر ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم چاہیں تو روشنی کی طرف چل نکلیں اور چاہیں تو تاریکی کی طرف قدم بڑھائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روشنی میں ہوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اگر ٹھوکر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں تو تاریکی میں آنکھیں کھلی رکھیں یا بند، فرق  نہیں پڑتا کیونکہ تاریکی ، ٹھوکروں کو مقدر بنا دیتی ہے۔

بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد، ٹھوکر لگنے سے پہلے انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے اور وہ واپس اُ س موڑ کی طرف آتا ہے جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔ تب ایک چیز اُ س کی مدد کرتی ہے کوئی آواز جو رہنمائی کا کام کرے اور انسان اُ س کی اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے ۔پیرِکامل وہی آواز ہے۔ جیسے تاریکی سے روشنی چاہنے والوں کو روشنی مل جاتی ہے ویسے ہی ہدایت اُن ہی کو ملتی ہے جو اُ س کی طلب رکھتےہیں۔ انسانی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ وہ ہے جب دل حق کی گواہی دے اور زبان خاموش رہے۔

حاصل مطالعہ:

بنی نوع انسان زندگی کے موڑ پر  مختلف  رہنماؤں کی خدمات حاصل کرتا ہے کسی کی ظاہری چال ڈھال اُسے متاثر کرتی ہے۔ کسی کی  طرزِسیاست اور طرزِگفتگو اُ س کو چھوتی ہے۔ کسی کا سلیقہ عبادت اور طرزِ مطالعہ اُ س کے دل میں گھر کرتے ہیں۔ مگر کیا ہی بہتر ہو کہ ہر تشنہ انسان ایک ہی کنویں کےپانی سے اپنی پیاس مٹائے۔ اُس پانی کی تاثیر ایسی ہو جو انسان کی ظاہری ، باطنی، دینی و دنیاوی  الغرض ہر قسم کی پیاس کو بجھا دے جو کہ انسان کے زنگ آلود دل کو آئینہ کی مانند صاف کردے جو ہمارے نفس کی بنجر زمین کو اپنے مٹھاس بھرے پانی سے تاعمر سیراب کردے۔ ایک ایسی کتاب کی صورت میں ہماری زندگی میں شامل ہوجائے جس کا ہر ورق اپنے آپ میں ایک مکمل موضوع ہو اور ہماری اجتماعی  سو چ کی تشکیل نو کردے۔  بلاشبہ ہمارے بیچ ایک ایسا رہبر و رہنما موجود ہے جس کی ذات اعلٰی  و ارفع ہے ۔ جس کی رہنمائی نے دشوار گزار راستوں کو تسخیر کرکے منزل کی جانب پہنچنے کے گر ہمیں سکھا دیے ہیں ۔

کوئی بھی انسان اپنی ذات میں مکمل نہیں ، ہر انسان میں اللہ  رب العزت نے اُس کی بھلائی کے لیے جسمانی یا روحانی کمی بیشی کر دی ہے لیکن ہم میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کی ذات مبارک تمام تر خوبیوں کا مجموعہ اور بحرِ بے کنار ہے۔نبی آخر الزماں حضرت محمد  مصطفٰی ﷺ کی ہمہ گیر شخصیت ہر اُس صفات کا مجموعہ ہے  جو کہ انسان کو مکمل  کرنے میں کردار ادا کرے۔ ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ عائلی زندگی میں ایک ایسے رہنما کی رہنمائی سے مستفید ہوں جس کا اخلاق ، خُلق عظیم ہو جس کی ہر بات حدیث ہو، جس کا ہر عمل قرآن کی تفسیر ہو۔

 راہِ حق کا ہر وہ  مسافر جو کہ منزل کی جانب جانے والے دشوار گزار رستوں اور کٹھنائیوں سے ہوتا ہوا بالآخر منزل مقصود تک پہنچ جائے، وہی کامل مومن ہے۔ ناول کی رو سے ایک سب سے اہم بات جو ہم پر اجاگر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ:

جیسے ہیرے کی قد کسی جوہری کی ہوتی ہے ویسے ہی ایمان کی قدروقیمت کا اندازہ وہ شخص کر سکتا ہے  جس نے اس کے حصول کے لیے اپنی آسائشوں کو قربان کیا  ہو، اپنے آرام و سکون کو پسِ پشت ڈالا ہو اور ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرکے ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوا ہو۔

ناول نے عام فہم زبان میں مصنفہ کے جذبات کی مکمل ترجمانی کی ہے اور ہمیں یہ باور کرایا ہے کہ ہر بھولا بھٹکا ، بارگاہِ  عطاء کا درماندہ کاسہ ہاتھ میں لیے ہوئے سوالی تمام  ایک بات پر متفق ہیں کہ در ایک ہے ، چوکھٹ ایک ہے، مقام ایک ہے  اور شخصیت ایک ہے جس کے فیض سے فیضیاب ہوا جا سکتا ہے۔ ایک ہی پیرِ کامل ہے جس کی ذات با برکات تاقیامت ہمارے لیے  بہترین نمونہ ہے جس کی اطاعت اور ختم نبوت پر کامل یقین ہمارے ایمان کی مظبوطی کی دلیل اور روز محشر ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔

میری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل  میں مکیں سہی

وہ نگاہِ شوق سے دور ہے، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح وہ کہیں سہی

ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی ، تو ہمیں سہی

غمِ زندگی سے فرار کیا، یہ سکون کیوں، یہ قرار کیا

غمِ زندگی بھی ہے زندگی، جو نہیں خوشی تو نہیں سہی

سرِ طور ہو ، سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے

وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی، وہ کہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے ، تیری آرزو کا بھرم رہے

تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن سے قریں سہی

تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا، تیری راہ گزر کی زمیں سہی

ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، وہ وہاں نہیں تو یہیں سہی

میری زندگی کا نقیب ہے ، نہیں دور مجھ سے قریب ہے

مجھے اس کا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

نہ ہو ان پہ جو میرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں

میں انہیں کا تھا میں انہیں کا  ہوں وہ میرے نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پر نہ اٹھائیے

جو کریں گے آپ ستم وہاں، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

انہیں دیکھنے کی جو لَو لگی  نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم

وہ ہزار آنکھ سے دور ہوں وہ  ہزار پردہ نشیں سہی

                      (    پیر نصیر الدین نصیرؔ)

Download Peer e Kamil Complete Urdu Novel PDF

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close