Sabulate Agar Imran Series by Mazhar Kaleem

(Sabulate Agar Imran Series)سابولیٹ آگر عمران سیریز

اس ناول میں عمران کامقابلہ ایک بہت ہی خونخوار، شاطر اور منظم  ہسپانوی تنظیم   ” سابولیٹ آگر “ سے ہوتا ہے۔  ہسپانوی زبان میں ”سابولیٹ“ گھونگھے  کو کہتے ہیں ۔ ایک تو اس مجرم تنظیم کا سربراہ ہسپانوی تھا ، دوسرا ان  مجرموں کا یورپ میں  ہیڈ کوارٹر ، گھونگھے شکل کی آبدوز ہوتا تھا جس کی مناسبت سے  انہوں نے  اپنی تنظیم کا  نام سابولیٹ آگر رکھا تھا۔

اس تنظیم کا عمران کے ملک  میں آنے  کا مقصد بہت خطرناک تھا۔  پاکیشیا اپنے ایک دوست ملک  کی مدد سے ہائیڈروجن بم تیار کر رہا تھا جو کہ تکمیل کے آخر مراحل میں تھا۔ اس منصوبے کی  تمام تفصیلات اور  اس دوست ملک کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے کی اصل کاپی ایک فائل موجود تھی۔  دشمن ملک نہیں چاہتا تھا کہ پاکیشیا،  دوست ملک کی مدد سے اس ہائیڈروجن بم کو  بنا کر  اپنی طاقت میں مزید اضافہ کرے اس لیے دشمن ملک نے اس تنظیم کو ہائر کیا تھا جس کے ذمے  اُس فائل کو چرا کے  منصوبہ کی تمام تفصیلات حاصل کرکے اُ س  فیکٹری کو  اُڑانا تھا جس میں ہائیڈروجن بم تیار ہو رہا تھا۔  دوسرا اس معاہدے  کے تفصیلات اس ملک کو بھیج دی جائیں جس نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

دوست ملک بین الاقوامی پابندیوں کےڈر سے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا اور اگر اس معاہدے کی تفصیلات شائع  ہو جاتیں تو اُ س نے مدد سے انکار کر کے اپنے آپ کو اس پروگرام سے الگ کر لینا تھا۔  نیز ان تفصیلات کے  شائع ہوجانے سے  کئی بین الاقوامی پیچیدگیاں بڑھ جاتیں  جو کہ  پاکیشیا  کی خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی خطرناک ہوتیں۔

سابولیٹ آگر تنظیم نے کمال ہوشیاری سے  سب کا دھیان اور طرف لگا کر چپکے سے فائل تو حاصل کر  لی لیکن اُن سے غلطی یہ ہوئی کہ بجائے  فیکٹری تباہ کرنے  کے ، اُنہوں نے اپنا سارا زور ایکسٹو اور اُ س کی ٹیم کو مارنے میں  لگا دیا جس کی وجہ سے وہ پھنس کر رہ گئے اور بعد ازاں یہی فیصلہ اُن کی تنظیم کے خاتمہ کابھی سبب بنا۔

اس کیس کو حل کرنے  میں  ایکسٹو اور اُس کی ٹیم کو بے پناہ کام کرنا پڑا۔ اس سلسلے  میں عمران، جوزف اور کیپٹن شکیل کو گولیاں لگیں جبکہ تنویر  تو مرتے مرتے بچا۔ مزید  جاننے کےلیے ناول ملاحظہ فرمائیں!

Imran Series Sabulate Agar Novel

(Sabulate Agar Novel Imran Series) سابولیٹ آگر ناول:

 بلیک زیر و آج کل بے حد مصروف تھا کیونکہ عمران آج کل دار لحکومت سے باہر تھا اور دارلحکومت میں افرا تفری مچی ہوئی تھی۔ وزارت خارجہ کی ایک اہم ترین فائل چوری ہو چکی تھی۔ اور مجر موں کا ابھی تک کوئی پتا نہیں تھا۔ اعلٰی سرکاری حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ سر سلطان اور سر رحمان سے لے کر پریذیڈنٹ تک بے چین تھے۔ تمام محکموں کی امیدیں ایکسٹو پر لگی ہوئیں تھیں۔ ایکسٹو نے وعدہ بھی کیا ہوا تھا۔  عمران ایک ممکنہ سراغ پر کوشش کر رہا تھا جو ہو سکتا ہے غلط بھی ثابت ہو۔ بلیک زیرو نے اپنے ماتحت شہر میں پھیلا دیے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کی رپورٹیں اس تک پہنچ رہیں تھیں، ابھی تک کوئی قابل ذکر رپورٹ اس تک نہیں آئی تھی جسے وہ بنیاد بنا کر لائن آف ایکشن بناتا۔

اس وقت بھی وہ ٹیلی فون کے پاس بیٹھا انتہائی بے چینی سے صفدر کی کال کا انتظار کر رہا تھا۔ صفدر کو اس نے وزارت خارجہ کے دفتر میں سر سلطان سے کہہ کر بھرتی کروایا تھا۔ کیونکہ اس کے خیال میں فائل کی حفاظت کا بندوبست انتہائی زبردست سائینٹفک طریقے سے کیا گیا تھا لیکن مجرم ہر انتظام کا توڑ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔

وہ ان کی بد قسمتی تھی کہ وہ جلد بازی میں آخری لمحے میں مار کھا گئے کسی کو پتا بھی نہ چلتا اور مجرم فائل لے کر چلتے بنتے۔ اس کا مطلب تھا کہ اس فائل کے انتظامات کا راز دفتر خارجہ سے ہی افشاء ہوا تھا اس کی دوصور تیں ممکن ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ دفتر کا کوئی ملازم مجرموں کا ساتھی ہے یا مجرموں کو دفتر کے کسی ملازم کا ساتھ حاصل ہے ، اس چیز کا پتا چلانے کے اس نے سر سلطان سے کہہ کر صفدر کو وزارت خارجہ میں سیکنڈ کلاس آفیسر بھرتی کروایا تھا۔صفدر کی ذہانت سے اسے امید تھی کہ وہ بہت یہ معلوم کر لے گا کہ کیا صورت حال ہے۔

ایکسٹو اور صفدر کی فون پر بات چیت:

اچانک فون کی گھنٹی زور سے بجی اور بلیک زیرو نے چند لمحے رک کر رسیور اٹھالیا۔

”ایکسٹو۔“ بلیک زیرو کی مخصوص آواز فضا میں گونجی۔

”میں صفدر بول رہا ہوں جناب۔“ صفدر کی آواز آئی۔

”کیا بات ہے؟“

”جناب جہاں تک میں نے غور کیاہے مجھے دفتر کا ایک آدمی مشکوک نظر آتا ہے۔“

”کون؟“

”سر ریکارڈروم آفیسر مسٹر مظفر محمود۔ “

تمہیں کیا بات مشکوک معلوم ہوتی ہے؟

سر آج لنچ ٹائم کے دوران ایک غیر ملکی اس سے ملنے آیا میں نے نوٹ کیا کہ اس کی آمد سے مسٹر مظفر محمود کچھ بے چین سے ہو گئے۔ انھوں نے فورا چاروں طرف اس انداز سے دیکھا جیسے معلوم کر رہے ہوں کہ ان کی طرف کوئی متوجہ تو نہیں۔ میں کھٹک گیا چنانچہ میں ان کی طرف پوری طرح متوجہ ہو گیا۔ مسٹر مظفر محمود ا سے لے کر گیسٹ ہاؤس کے ایک کونے میں چلے گئے پھر دونوں نے آہستہ آہستہ باتیں کرنا شروع کر دیں۔ میں اٹھ کر باہر برآمدے میں آگیا تا کہ جب وہ غیر ملکی گزرے تو میں اس غیر ملکی کا چہرہ بغور دیکھ سکوں۔ تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ غیر ملکی گیسٹ ہال سے باہر نکلا۔ وہ جب میرے پاس سے گزرا تو میں نے نوٹ کیا جیسے وہ میک اپ میں ہے۔

یہ ٹھیک ہے اس کا میک اپ بہترین تھا لیکن میری نگاہوں سے وہ چھپانہ سکا۔ وہ ڈاکٹر اڈگر تھاوہ گیٹ سے باہر چلا گیا، چونکہ میں ڈیوٹی پر تھا اسی لیے بغیر اجازت دفتر سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ ورنہ میں کم از کم اس کی کار کے نمبر ضرور نوٹ کر لیتا باقی ٹائم میں مسٹر مظفر محمود کو چیک کرتارہا۔ میں نے نوٹ کیا وہ کچھ بے چین سے ہیں وہ اپنی بے چینی اور پریشانی کو دبانے کے لیے بہت کوشش کر رہے تھے لیکن ایسا کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔

آفس ٹائم ختم ہوتے ہی وہ دفتر سے باہر چل دیے میں نے ان کا تعاقب کیا پہلے تو وہ سید ھے اپنی کوٹھی واقع 22 کرسینٹ روڈ پر گئے۔ آدھا گھنٹہ وہاں گزارنے کے بعد ان کی کار باہر نکلی، پھر وہ وہاں سے سیدھے ہوٹل خیام میں پہنچے۔ اس وقت وہ ہال میں موجود ہیں اور میں ہوٹل سے باہر ایک پبلک بوتھ سے آپ کو رپورٹ دے رہا ہوں۔

ویری گڈ۔ صفدر تم میری امیدوں پر پورے اترے۔

تمہاری رپورٹ بہت اہم ہے تم نے آفس میک اپ میں اٹینڈ کیا تھا۔

جی ہاں۔ جناب صفدر نے جواب دیا۔

تو ایسا کرو میک اپ اتار کے ہال میں جاؤ اور مظفر محمود کی نگرانی کرو۔

میراخیال ہے مسٹر مظفر محمود وہاں ڈاکٹر اڈگر کے انتظار میں گئے ہیں۔ میں تنویر کو بھی وہاں بھیج دیتا ہوں جو تم سے الگ ہو کر اس غیر ملکی کا تعاقب کرے گا۔ اب تم رپورٹ واچ ٹرانسمیٹر پر مجھے دینا۔ اوور اینڈ آل۔ بلیک زیرو نے یہ کہہ کر رسیور رکھ دیا۔

صفدر نے واقعی اہم رپورٹ دی تھی کم از کم کوئی لائن آف دی ایکشن بنے کی صورت تو نظر آئی۔ چند لمحے ٹھہر کر اس نے جولیا کے نمبر ڈائل کیے۔ دوسری طرف سے جولیا نے فورار سیور اٹھالیا۔

”اٹ از جولیا سر۔“  جولیا کی آواز آئی

”ایکسٹو۔“  بلیک زیرو نے کہا۔

”یس سر۔“

جولیا تنویر کی ڈیوٹی فور اہوٹل خیام میں لگاؤ وہاں صفدر موجود ہے وہ ایک شخص کا تعاقب کرتا ہو اوہاں گیا ہے۔  اس شخص سے وہاں ایک غیر ملکی ملنے کے لیے آئے گا۔ تنویر کو اس کی نگرانی کرنی ہو گی اور ڈاکٹر آڈگر کی رپورٹ مجھے ٹرانسمیٹر پر دینی ہو گی۔ وہ صفدر سے وہاں آشنائی ظاہر نہیں کرے گا۔ صفدر اسے اشارے سے مطلوبہ غیر ملکی بتادے گا۔

”او کے سر۔“

”اوور اینڈ آل۔“  بلیک زیرو نے رسیور رکھ دیا۔

اس کا پرو گرام تھا کہ وہ خود ہوٹل خیام پہنچے اور صور تحال کا اندازہ کرے۔ اس لیے اس نے رپورٹ واچ ٹرانسمیٹر پر دینے کا حکم دیا تھا۔وہ سر پر ہیٹ رکھ کر دانش منزل سے باہر آگیا اور تھوڑی دیر بعد اس کی کار ہوٹل خیام کی طرف بھاگنے لگی۔

عمران کیپٹن شکیل اور جوزف کی روپا سے ملاقات:

عمران کیپٹن شکیل اور جوزف روپا کے ساتھ اٹھ کر کمرے سے باہر آگئے اور پھر وہ چاروں چلتے ہوئے ایک اورچھوٹے سے کمرے میں چلے گئے۔ روپانے وہاں جا کر ایک کونے میں تین بار مخصوص طرز سے دیوار کھٹکھٹائی تو کمرے کا فرش ایک کونے سے ہٹ گیا۔ عمران نے آنکھیں جھپکائی اسے خفیہ میکنزم کا یہ طریقہ پسند آیا تھا۔

آؤمیرے ساتھ۔ روپانے نیچے بنی ہوئی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے گا۔اور وہ تینوں اس کے پیچھے چل پڑے۔ دس بارہ سیڑھیاں گزرنے کے بعد وہ ایک کمرے میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک بہت بڑی میز پڑی ہوئی تھی اس کے گرد کافی ساری کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کوئی میٹنگ روم معلوم ہوتا تھا۔ وہ چاروں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے