Shiddat Urdu Novel by Meerab Hayat (Complete All Episodes)

Shiddat Urdu Novel

ناول ”شدت“  میرب حیات کی بہترین تحریروں میں سے ایک ہے۔ عام  فہم زبان میں مصنفہ نے ناول کے ذریعے سے ہماری توجہ اُن  معاشرتی عوامل کی طرف مرکوز کرائی ہے جوکہ  غور طلب ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں کہیں ذات پات کی تقسیم کا سانپ پھن  پھیلائے ہوئے تو کہیں وڈیرا شاہی نے انسانیت کو اپنے بے رحم پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ کہیں مذہبی لبادے  میں چھپی رعونیت، چند عناصر کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے تو کہیں پسماندگی اور عدم توجہی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔   کہیں محبت کے روپ چھپی ہوس کو  محبت کا  پاکیزہ نام دے کر اس کو انا کی  گندگی سے آلودہ کیا جا رہا ہے تو کہیں من گھڑت بھونڈے  اصولوں کی   منظر کشائی کی گئی ہے۔ ناول کا ہر باب جہاں اپنی جامعیت سے ان معاشرتی  روشناس کرتا ہے وہیں مصنفہ کی فنی مہارت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ یقیناً مصنفہ نے ان مصیبت زدہ معاشرتی زخموں کے لیے مرہم کا کام کیا ہے۔ یہ ناول معاشرے کی سوچ کو نئی سمت دینے میں بلاشبہ  اپنا بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔

shiddat urdu novel by meerab

شدت ناول  ملاحظہ فرمائیں:

”وحشی۔۔۔ جانور۔۔۔ حیوان ہیں آپ۔۔!“ اپنی کلائی اسکی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ بھرائی ہوئی آواز میں چلائی تھی۔۔

اسکی مترنم آواز سن کر پسینے میں شرابور اس شخص کی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔۔ اطراف میں پھیلا ہجوم جو تھوڑی دیر پہلے ” عالم۔۔عالم ۔۔ عالم۔۔ “ کی گردان کر رہا تھا، اس پل عالم کو اسکے پنچز کی زدمیں دیکھ کر خاموش ہو چکا تھا۔۔ پھٹی پھٹی بے یقین نگاہوں سے وہ اس باکسنگ کلب کے بے تاج بادشاہ کو زود کوب ہوتا دیکھ رہےتھے۔ اپنے اندر کا لاوا ٹھنڈا کرنے کو اس نے لڑ کھڑاتے عالم کےچہرے پر ایک اور پنچ مارا تھا جسکی ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔۔ رِنگ میں کھڑا ریفری اس صورتحال پر حق دق تھا۔۔

”خود کو انسان کہتے ہیں آپ۔ ؟؟ ہاں۔۔۔ ؟؟؟؟“ نفرت سے اس کی جانب دیکھتی وہ اسے رنگ میں ہر جانب چیختی نظر آرہی تھی۔۔ عالم کی حالت خراب کرتے ہوئے وہ خود بھی ڈگمگا رہا تھا۔۔اسکی سرد آنکھوں کی جلن بڑھتی جارہی تھی۔

”ارے آپ تو اس گدھ سے بھی بدتر ہیں جو مردہ جسموں کو نوچتا ہے۔۔۔ ہاں آپ بدترہو۔۔۔ بدترین ہیں۔۔۔“ وہ سسک اٹھی تھی۔

 اسکے وجود میں پھیلتی گرمی لاوا بنتی اسکا فشار خون بڑھانے لگی۔۔ پےدر پے وہ پنچنگ گلوز میں مقید اپنے ہاتھوں سے عالم پر وار کرتا ساتھ ساتھ  اس کے  کمزور حملوں  سے اپنا دفاع بھی کر رہا تھا۔

”ارے اسے کوئی روکو یہ عالم کو مار ڈالے گا۔۔۔!“ رنگ کے اطراف میں کھڑے تماشائیوں میں سے کوئی چیخا تھا۔

”گدھ تو مردار کھاتا ہے سردار صاحب۔۔۔ آپ تو زندہ دلوں کو چیر دیتے ہیں۔ روحوں کو نگل جاتے ہیں۔۔۔۔ جسموں کو اد ھیٹر کر اپنی وحشتوں کو آرام دیتے ہیں۔۔ “ اسکی روتی ہوئی آواز میں بین تھے۔

جو گر ز میں مقید پیروں کو ماہرانہ انداز میں آگے پیچھے حرکت دیتا وہ پلکیں جھپکا تا عالم کو ادھ موا کر چکا تھا۔

نائن۔۔۔

ایٹتھ —

کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکی تھی اور ساتھ ہی عالم کی ہار بھی واضح ہو چکی تھی لیکن اسکے ہاتھ رکنے کو تیار نہیں تھے ۔۔

”سٹاپ۔۔ سٹاپ اٹ۔۔۔!“ ریفری کو درمیان میں مداخلت کرنی پڑی لیکن عالم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔۔ اس نے بنار کے پھر سے عالم کے چہرے پر مکا مارا تو وہ لڑکھڑا کر اوندھے منہ وہیں گر گیا۔۔ پھر پلٹا اور سیدھا ہوتے مسکرایا۔

”ہِٹ می۔۔۔ ہِٹ می۔۔۔۔ ” ہونٹوں سے خون صاف کرتا عالم ہنستے ہوئے چیخا۔۔ اسکی ہنسی اسے مزید آگ لگا گئی تھی۔ وہ اپنی پوری قوت سے اس پر جھکا۔

”یہ کیا ہو رہا ہے یہاں اسے روکو۔۔ کوئی تو رو کو۔۔۔ ” تماشائی پھر سےچلائے تھے۔۔

”مارنے دو۔۔۔ مارنے دو۔۔۔ “ کہتے ہوئے بے جان ہوتا عالم ہنوز ہنس رہا تھا۔۔ اس کا غصہ حد سے سوا ہونے لگا۔۔

تھری۔۔

ٹو–

اینڈون۔۔۔

گنتی ختم ہوتے ہی ریفری نے آگے بڑھ کر اسے عالم سے دور کرنے کی کوشش جو یقینا کافی مشکل کام تھا۔۔ وہ گیم کے رولز توڑتا عالم سے گتھم گتھا تھا۔

”جیت میری  ہے ۔۔۔صرف میری۔۔۔“ اس کے جسم پر موجود بنیان اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں میں جکڑے وہ اسکے کان میں غرایا تھا۔۔ عالم کے لیے آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا لیکن وہ مسکرا رہا تھا۔

” تم ہار چکے ہو۔۔۔ تمہیں نظر نہیں آتا۔۔؟؟“ اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے عالم نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ بدلے

میں اس نے ایک بار پھر اسے مارا۔۔ اطراف سے ہٹ کر کچھ آدمی رِنگ میں داخل ہو کر ریفری کے ساتھ مل کر عالم پر جھکے شیبی کو اس سے دور کرنے لگے۔

”مجھے ہر انا تمہارا ایک ایسا خواب ہے جو تم فقط نیند میں ہی پورا کر سکتےہو۔۔۔!“ وہ ٹھہر ٹھہر کر اپنے سرد ترین لہجے میں بولتا اسے جھٹکتا پیچھے ہٹا تھا۔۔ سیدھا ہوتے ہوئے اس نے  خود کو سنبھالتے ان چند مردوں کےہاتھ جھٹکے جو اسے عالم سے دور کرنا چاہ رہے تھے ۔۔ اپنے کندھوں کودائیں بائیں حرکت دے کر نارمل ہونے کی کوشش کرتا وہ رِنگ سےباہر نکلنے لگا۔

”جب تم یہاں آئے تھے تت ۔ ۔ ۔ تو تم نے کک۔۔۔ کہا تھا تھا وہ تم سے محبت کرتی ہے۔۔!“ اپنی ہتھیلیاں رِنگ کی گد از سطح پر جما کر اٹھنے کی کوشش کر تا عالم چلایا تھا۔۔ اسکی بات پر شیبی کے چلتے قدم رکےتھے۔۔ قدم کیار کے تھے۔ پل بھر کو سینے میں دھڑکتے سفاک دل کی گداز دھڑکنیں بھی بے ترتیب ہوئی تھیں۔

”جبکہ تمہاری یہ جیت کہہ رہی ہے کہ "تم ” اس سے محبت کرتےہو۔۔۔! تمسخرانہ لب ولہجے میں کہہ کر وہ ایک بار پھر ہنسا تھا۔۔ خود پر ضبط کرتے شیبی کے لیے وہاں سے آگے بڑھنا محال ہو گیا ۔ اس نے پلٹ  کر خونخوار نظروں سے عالم کی جانب دیکھا۔

”ڈیل پوری ہو چکی ہے۔۔ اس رنگ میں تم آج ہار چکے ہو لڑکے۔۔اب کل کی جیت میری ہے۔۔!“ سردترین نظرو ں سے اسکی جانبطدیکھتے ہوئے شیبی نے بے تاثر لہجے میں کہا۔

اپنی ہار پر عالم ہنستارہ گیا۔۔ البتہ اس بار پر اس کی سرخ آنکھوں میں آنسوتھے ۔۔ وہ ایک بار پھر ہار گیا تھا۔۔ شاید وہ اس شخص سے کبھی جیت ہی نہیں سکتا تھا۔۔ یا شاید ۔۔۔؟؟؟؟ وہ خود ہی ہارا تھا۔۔ کون جانے کیا ہوا تھا لیکن اتنا طے تھا کہ اب وہ زندگی بھر رِنگ میں باکسنگ نہیں کرنے والا تھا۔

وسیع آسمان پر ٹمٹماتے ستارے رات کی سیاہی میں چمک بھر رہے تھے۔۔۔ چاند کے چہرے پر لہراتے اکا دکا بادل کبھی اسے ڈھانپ دیتے تو کبھی اسکے چہرے سے لہراتی زلفوں کی طرح ہٹتے اسکے گردپھیلی چاندنی کو کھکھلانے پر مجبور کر رہے تھے۔۔ اس چاندنی رات کی خوبصورتی کو شدتوں سے محسوس کرتی اس بیالیس سالہ عورت نےاپنے پھیلے ہوئے لبوں پر سرخ لپ سٹک لگا کر انہیں مزید دو آتشہ کر لیا۔۔ اپنا شعلہ جوالہ بناروپ آئینے میں ایک بار دیکھ کر وہ مسکرائی پھر کندھے سے ڈھلکتا ساڑھی کا پلو درست کرتی اپنے کمرے سے نکل آئی۔ محتاط انداز میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ مخصوص راستےپر چلتی ایک دوسرے کمرے کے دروازے تک آئی تھی۔۔ کمرے کا  دروازہ کھولنے سے پہلے اس نے ایک بار گردن گھما کر اطراف میں دیکھاتھا لیکن رات کے تیسرے پہر چہار سوسناٹا پھیلا ہوا تھا۔۔ اس کے لب آپ ہی آپ مسکرائے۔۔ بازی اس کے ہاتھ میں تھی۔۔ اپنے اقدام پرسر شار ہوتی وہ کمرے کے اندر آگئی۔۔ اندر آتے ہی اسکی نگاہ رائٹنگ ٹیبل پر سر رکھے چیئر پر بیٹھے اس سولہ سالہ لڑکے کی پشت پر گئی۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ پڑھائی کی دھن میں کتابی کیڑا بنے ساری ساری رات جاگا کرتا ہے۔۔ خاموشی سے دروازہ بند کر کے وہ اسکی طرف گھومی جودروازہ بند ہونے کی آواز پر اپنا سر اٹھا چکا تھا۔۔ یوں جیسے کچی نیند سےجاگا تھا۔۔ اس نے پلٹ کر نیند کے خمار سے گلابی ہوتی اپنی سحر انگیز معصوم آنکھوں سے اس عورت کی جانب دیکھا۔۔

”آپ ۔۔۔ ؟؟“ اپنی پیشانی پر بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ پوچھتےہوئے کھڑا ہوا تھا۔۔ گو وہ صحت میں پتلا د بلا سا تھا لیکن اسکا لمبا قدکھڑے ہو جانے سے واضح ہوا تھا۔۔ آنکھوں میں واضح الجھن تھی۔

”ہاں میں۔۔۔!“ دلفریب انداز میں کہتی وہ قدم قدم اسکی جانب بڑھی ۔۔ اس عورت کی آنکھوں سے پھوٹتی عجب چمک کی شعائیں اس لڑکے کو کراہیت آمیز احساسات سے دو چار کر رہی تھیں۔

”آپ یہاں کیوں آئی ہیں؟؟“ اس عورت کو اپنے مقابل رکتے دیکھ اس نے کچھ گڑ بڑا کر پوچھا۔

"تمہیں نہیں پتہ۔۔۔ ؟؟” اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس عورت نے حظ اٹھانے والے انداز میں پوچھا۔۔ وہ ہنوز نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔

”میاں بیوی ایک ساتھ ہی رہتے ہیں ۔ اسی  لیے یہاں آئی ہوں۔۔۔“ اس کے مزید قریب ہوتی وہ سرگوشیانہ بولی تو مقابل کے  گلے میں گلٹی  ابھر کر معدوم ہوئی۔

”لیکن  آپ تو۔۔۔  بھ۔۔ بھائی۔۔۔۔!  وہ  کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس عورت  کے وجود سے پھوٹتی  مسحور کن خوشبو اس کے حواسوں  پر طاری  ہوتی اسے ہوش  گنوانے پر مجبور کر رہی تھی۔

”لیکن  ویکن کچھ نہیں۔ جو گزر چکا اس کے بارے میں مت سوچو۔ مجھے دیکھو۔۔۔ مجھے محسوس کرو۔ اب میں صرف تمہاری  بیوی ہوں۔“ وہ اس کے قریب سے قریب تر ہوتی اس کے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھی۔ مقابل کو اپنا حلق  خشک  سے خشک تر ہوتا محسوس  ہو رہا تھا۔ اس کے ماہر ہاتھ بڑی طراری سے اس نو عمر  لڑکے کے نقوش کو چھوتے اسے حواس باختہ کررہے تھے۔ اس  قربت سے اس کا جی متلانے لگا لیکن وہ اپنی تمام تر حدود پھلانگتی ا س کے قریب تر ہوچکی تھی۔

”یہاں ۔۔۔ سے چل۔۔۔ چلی جائیں پلیز۔۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔! لڑکے کی گھٹی گھٹی سی آواز نکلی تھی لیکن وہ اپنے نفس کی دلدل میں اتری ہر حقیقت  سے بے بہرہ ہو چکی تھی۔ گہری رات دھیرے دھیرے  سرکنے لگی۔ گھڑی کی سوئیاں ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتی وقت کو بھگا لے گئیں۔۔ اور ایک معصوم ذہن شیطانیت کی پراگندگی سے آشنا ہوتا اذیتوں کا شکار ہوگیا۔۔

”ہو۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔۔ و۔۔۔۔ ووووو۔۔۔۔“ تالیوں کے بھر پور شور سمیت سٹیج سے نیچے کرسیوں کے بھرا ہال روم اس وقت سٹوڈنٹس کی پر جوش آوازوں سے گونج رہاتھا۔ آنکھوں میں خوشنما رنگ اور ہاتھوں کو خوشی سے پیٹتے وہ سٹٰیج پر ٹرانسلیٹرز کو بولتے اور کرداروں کو حرکت کرتا دیکھ پچھلے دس منٹ سے خاموش تھے لیکن اب سین ہی ایسا تھا کہ ہر لب  شوخ فقرے اور ہر آنکھ میں شرارت تھی۔

”سپیک رومیو۔۔۔ سپیک۔۔۔۔“ ہاتھ کا مکا بنا کر نعرہ  لگانے  والے انداز میں کچھ منچلے لڑکوں نے سٹیج پر کھڑے اس لڑکے کو اکسایا تھا جو آنکھوں میں رومیو کے جذبات لیے اپنی جولیٹ  کو تک رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اس کی جولیٹ اس پل ہولے ہولے ڈانس کے سٹیپس لے رہی تھی۔

”ڈو اٹ مین۔۔۔۔ !“ سٹوڈنٹس پھر سے چیخے تھے۔۔ لڑکیوں کی کھلکھلاہٹیں عروج پر تھیں۔ سٹیج پر رومیو اور جولیٹ کے دائیں بائیں کھڑے ٹرانسلیٹرز جن میں  رومیو کے رول کو ٹرانسلیٹ کرنے کے لیے لڑکی موجود تھی۔ ان دونوں کے لبوں پر بھی دبی دبی سے ہنسی تھی۔ گو موجودہ رومینٹک سین کو ان دونوں ہی  کو محض  ”پریٹینڈ“ (دکھاوا) کرنا تھا لیکن اس پل رومیو کی  آنکھیں جولیٹ کے نقوش کو تکتی بہک رہی تھیں۔ اپنے  ہاتھوں پر اس کے  مظبوط ہاتھوں کی گرفت محسوس کرتی وہ پہلی  بار اس شخص کی  محبت کی شدت سے کانپ رہی تھی۔ ان دونوں کی کیفیات سے بے بہرہ ٹرانسلیٹرز نے ایک ساتھ اگلے الفاظ ادا کیے تھے۔

”ایز ایٹ دی بال ( بال ایک عیسائی مجلس جس میں امیر غریب طبقہ شرکت کر کے رقص کرتا ہے اور شادیاں طے کی جاتی ہیں) رو میوازاٹریکٹڈ بائے اے گرل نیمڈ ‘جولیٹ’۔۔ اینڈ دے سیل دئیر لووداے کِس۔۔!“ (جیسا کہ بال میں رومیو ایک جولیٹ نامی لڑکی کے لیےکشش محسوس کرتا ہے اور دونوں اپنی محبت کو ایک بوسے سے امرکرتے ہیں)

اگلے لمحات کا سوچتے ہوئے جہاں رومیو اور جولیٹ کے دھڑکتے دلوں کی دھڑکنیں بے ہنگم ہوئی تھیں وہیں سٹیج کے قریب ترین صوفوں پربیٹھی شخصیات میں سے ایک کی آنکھیں عجیب احساس سے جل اٹھیں تھیں۔۔

”ہے ای رو میو ڈواٹ یار ۔۔۔!“ ہال میں شور بڑھنے لگا۔۔ سٹیج کی جانب یک تک تکتی دو بھوری آنکھوں میں برف سی جمتی ان کی رنگت غیر کرنے لگی۔۔

”ڈونٹ ڈودِز۔۔۔!“ رومیو کی آنکھوں میں دیکھتی جولیٹ کے لب بہت آہستگی سے پھڑ پھڑائے تھے ۔۔ بے حد دھیمی آواز جسے رومیو ہی سن پایا تھا لیکن اس پل اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ صرف اپنے دل کی شور مچاتی دھڑکنوں کو ہی سن پارہا تھا۔۔ بے خود ہوتا وہ اس کے حسین چہرے پر جھکتا چلا گیا۔۔ رومیو کے اس ایکٹ پر ہال روم میں شور بڑھتاچلا گیا۔۔ جبکہ اپنے چہرے پر اسکی سانسیں محسوس کرتی جولیٹ ہوش میں آتی اپنے کردار کے بالکل الٹ اپنا چہرہ پیچھے کر گئی۔۔ اسکے ساتھ ہی فضا کو چیرتی ایک گرم ترین سلاخ رومیو کی پیشانی کو چیرتی دوسری جانب سے نکلتی چلی گئی جس کے نتیجے میں اسکے سر کو پیچھے کی جانب ایک زور دار جھٹکا لگا تھا اور وہ لڑ کھڑ ا کر سیدھا ہوا۔۔ گھنے بال جواسکی پیشانی پر ہمیشہ جچتے تھے اس پل بکھر گئے۔۔ پل بھر میں سرخ خون کے چھینٹے جولیٹ کے چہرے پر پڑے تھے۔۔ اس نے پھٹی پھٹی بے یقین نگاہوں سے رومیو کی بے نور ہوتی آنکھوں  کو دیکھا۔۔

چہرے کی سفید رنگت پل میں زرد ہوئی تھی۔۔ سرخ لب درد کی شدت سے پھڑ پھڑائے تھے۔

”با۔۔۔ با۔۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے۔۔۔ کچھ ۔۔۔ نظ ۔۔۔۔۔۔۔ نن۔۔۔نہیں آرہا۔۔۔۔!“ پیج پر گھٹنوں کے بل گرتے ہوئے اسکے حلق سےبا مشکل آواز نکلی تھی۔۔ پورے بال میں پل بھر کو سناٹا چھا گیا۔۔ وہاں موجود نفوس کے لیے سمجھنا مشکل تھا کہ جولیٹ نے پہلے چہرہ پیچھے کیا

تھا یارو میو کو بلٹ پہلے لگی تھی۔۔ منظر بدل چکا تھا، تھوڑی دیر پہلے اس کی جانب پر شوق نگاہوں سے تکنے والا رو میوموت کی آغوش میں جارہا تھا۔۔ لیکن۔۔۔؟؟؟؟ سوال کیا تھا۔۔؟؟؟ ایکٹ کے مطابق اسے ابھی نہیں مرنا تھا۔۔ ہاں اسے ابھی نہیں مرنا تھا۔۔ ابھی تو جولیٹ اور اسکی محبت کو پروان چڑھنا تھا۔۔۔؟؟؟؟ اسے مرنا تھالیکن۔۔ ۱سے تو فرضی طور پر مرنا تھا۔۔۔ ؟؟؟ ایسے ہی کئی سوالیہ نشان اس کے سامنے آکھڑے ہوتے اسکے حواس جھنجھوڑنےلگے۔۔ سٹیج طلبا اور اساتذہ سے بھرنے لگا۔۔ رومیو کو سنبھالنے کی کوشش میں غلطاں وہ اس صورتحال پر حیران پریشان تھے ۔۔ لیکن وہ وقت سے پہلے۔۔۔ جاچکا تھا۔۔ فرضی طور پر نہیں، شاید حقیقی طورپر ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جولیٹ بے دم ہوتی وہیں بیٹھتی چلی گئی ۔۔ وہاں موجود تمام نفوس نے گردن موڑ کر گولی چلانے والے کی جانب دیکھا جو چہرے پر پتھر یلے تاثرات سجائے نفرت سے سٹیج پر گرتے رومیو کودیکھ رہا تھا۔۔ اسکی پشت پر کھڑے آٹھ گارڈز کی گنز کا رخ ہال روم میں براجمان ان تمام سٹوڈنٹس کی جانب ہی تھا جس کا ایک ہی مطلب تھا کہ اس کے اس اقدام پر اس کے سامنے اُف بھی نہ کی جائے۔۔۔ وہ شانِ بے نیازی سے چلتا سٹیج تک آیا تھا اور بے جان ہوتی جولیٹ کا بازو گھسیٹ کر اسے کھڑا کیا۔۔ اس نے خالی خالی نظروں سے مقابل کودیکھا۔۔ دھندلی ہوتی آنکھوں میں رومیو کا خون آلود چہرہ گھوم گیا۔۔۔ وہاں شور اور آوازیں حد سے بڑھ چکی تھیں جن سے اس کے گارڈز نمٹ رہے تھے ۔۔ اس سفاک انسان کی جانب دیکھتی وہ اپنے ہوش و حواس گنواتی چلی گئی۔۔ وہ بنا پرواہ کیے اسے بانہوں میں بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ جبکہ اس کے پیچھے ۔۔ کچھ دیر پہلے  تک رومیو اور  جولیٹ کو دیکھ کر سلگتی شہد رنگ آنکھیں۔۔۔ رومیو کے بے جان وجود کو ہاتھوں میں لیے بھیگتی چلی جارہی تھیں۔

سر سبز و شاداب در ختوں سے سے مزین یہ آغا علی یونیورسٹی کے مین کیمپس کا منظر تھا جہاں ہر اوڑ ھ افرا تفری کا عالم تھا۔۔ سیمسٹر کا آغاز تھا جس کے باعث نیو کمر ز بوکھلائے بوکھلائے نظر آرہے تھے اور وجہ یقینا بے وقوف بنائے جانے کا خوف تھا۔۔ ایسے میں ہولے ہولے چلتی نرم ہوا کے میٹھے جھونکوں سے لطف اندوز ہوتے سینئر زنئےآنے والوں کی حالت سے حظ اٹھاتے خوب مزے لوٹ رہے تھے۔ وہاں آنے والے ہر نیو کمر کی طرح اسے بھی کلاس تک پہنچنے میں کسی مشکل کے پیش آنے کی توقع تھی۔ کندھے پر بیگ ڈالے ، کندھوں سے پھسلتا دوپٹہ واپس سر پر لیتے ہوئے  وہ یونیورسٹی  کے گیٹ کے قریب ہی کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔ یقینی طور پر وہ آگے بڑھنے سے گریزاں تھی۔ اس کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں چیخ چیخ کر اعلان کر رہی  تھیں  کہ آج اس کا یونیورسٹی میں پہلا دن ہے۔ وہ دس پندرہ منٹ یونہی کھڑی رہی لیکن آگے تو بڑھنا ہی تھا۔  ابھی  وہ وہاں سے ہلنے کا سوچ  ہی رہی تھی کہ اچانک ایک لڑکا اس کے سامنے آگیا۔ وہ حقیقتاً بوکھلائی ہوئی تھی۔ ”مجھے آپ کی کوئی مدد نہیں چاہیئے۔“  شہادت کی انگلی اٹھا کر اس کے بولنے سے پہلے ہی وہ تنبیہی انداز میں بول اٹھی۔ آنکھوں میں خوف اور چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے ۔ اس کے  انداز پر مقابل کے پریشان چہرے پر پل بھر کو مسکراہٹ نمودار ہو کر غائب ہوگئی۔  ”لیکن مجھے تو آپ کی ہیلپ چاہیئے ناں۔“

ایک نظر تھوڑے فاصلے پر لڑکیوں اور لڑکوں کے گروپ پر ڈال کر وہ سادگی سے بولا۔ ایک غیر متوقع صور تحال پر وہ چونکی۔۔ ”کیا مطلب۔۔؟“ پلکیں جھپکا کر پوچھتی وہ ہر اساں لگ رہی تھی۔۔

”مطلب یہ کہ آپکی طرح آج میرا بھی یہاں فرسٹ ڈے ہے اورمجھے اس گروپ نے ڈئیر دیا ہے کہ گروپ کی لیڈر کے لیے آپ سےیہ بلیک واچ لے کر آؤں۔۔۔ اگر میں نے یہ ڈئیر پورانہ کیا تو وہ لوگ میر الیپ ٹاپ مجھے واپس نہیں کریں گے۔۔!“ لبوں پر زبان پھیرتےہوئے وہ اسکی کلائی میں چمکتی بلیک واچ کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا، بے چارگی سے بولا۔۔ ”پلیز ہیلپ می۔۔۔!“ اسے اپنی جانب مشکوک نگاہوں سے تکتا پا کر وہ پھر سے بولا تھا۔۔ ”اور آپ کو کیوں لگتاہے کہ میں آپ کی ہیلپ کروں گی۔۔ ؟؟“ مقابل کومشکل میں دیکھ کر وہ کچھ سنبھل کر بولی۔۔ اس کا کمزور اعتماد قدرے بحال ہوا تھا۔

”کیونکہ پھر میں بھی آپ کی ہیلپ کروں گاناں۔۔!“ وہ مسکر اکر بولا۔

”لیکن میں نے کہا تو ہے کہ مجھے آپکی کوئی ہیلپ نہیں چاہئیے۔۔!“ اس نے تیزی سے کہا۔

”ارے ایسے کیسے نہیں چاہئیے۔۔۔ کیا آپکو بنا وقت ضائع کیے اپنے ڈیپارٹمنٹ تک نہیں جانا۔۔؟؟؟ جانا ہے ناں۔۔؟؟“ قدرے دھیمےلیجے میں وہ فرفر بول رہا تھا۔

”ہاں جانا تو ہے لیکن۔“  وہ گڑ بڑائی۔ اسے سمجھ نہ آئی کہ کرے توکرے کیا۔۔

”تو بس پھر ۔۔ میں اس یونیورسٹی کا چپہ چپہ چھان چکا ہوں۔۔ آپ مجھے بتا دیں کہ آپکو کس ڈیپارٹمنٹ تک جانا ہے میں یہاں پچھلے راستے سے آپ کو لے جاتا ہوں بس بدلے میں آپ مجھے یہ گھڑی دےدیں۔۔!“ سنجیدہ سی شکل بناتے ہوئے وہ قدرے معاون انداز اپنائےگویا ہوا تھا۔ اس بار وہ حقیقتا سوچ میں پڑ گئی۔

”سوچ کیا رہی ہیں پلیز جلدی کریں ۔ میں نے بھی اپنی  کلاس لینی ہے۔۔!“

” میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر آج آپ کا بھی فرسٹ ڈے ہے تو آپ یونیورسٹی کے چپے چپے سے کیسے آگاہ ہیں۔۔!“ بھنویں اچکاتی وہ کھوج لگانے والے انداز میں بولی۔۔ مقابل کو ماننا پڑا کہ وہ صرف دکھنے کی حد تک ہی معصوم ہے۔۔

”تو بہ کتنی شکی ہیں آپ۔۔۔ محترمہ میرے دونوں بڑے بھائی اس یونی کے ٹاپرزہیں اور میں آج سے پہلے لا تعداد مرتبہ یہاں آچکا ہوں۔۔ بس اسی لیے۔۔ اب چلیں۔۔۔؟؟؟“ دانت پیس کر اسے صفائی دیتا وہ جھنجھلا گیا۔۔ اس تفصیل پر اسے کافی حد تک یقین آگیا۔۔

”یا اللہ کہاں پھنس گیا میں۔۔ “ آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا۔ وہ اسکی بڑبڑاہٹ نظر انداز کرتی اسے ڈیپارٹمنٹ بتانے لگی۔

”یہاں سے آئیے۔۔!“ اسے ساتھ لیے وہ پارکنگ ایریا کی سائیڈ سےگزرنے لگا۔۔ وہ بھی دل ہی دل میں خیریت سے ڈیپارٹمنٹ پہنچنے کی

دعائیں کرتی اسکے پیچھے چلنے لگی۔

”ہم دونوں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں ہمیں کم از کم ایک دوسرے کا نام تو پتہ ہونا چاہیے۔۔!“ اسکی طرف پلٹتے ہوئے وہ خوشاخلاقی سے گویا ہوا۔

”میں اسکی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔۔!“ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ سر جھکائے چلتی بے دلی سے بولی۔

”ہو سکتا ہے کہ فیوچر میں آپ سب سے زیادہ اسی کی ضرورت محسوس کریں اس لیے میں بتا دیتا ہوں۔۔ میر انام سبحانی ہے۔۔ اور۔۔ میں

سکھر سے انٹر میڈیٹ کے بعد سیدھا یہاں آیا ہوں۔۔!” دانت نکوستے ہوئے وہ بڑی بے تکلفی سے گویا ہوا۔۔ وہ لب بھینچے اسکی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتی چلتی جارہی تھی۔

”ویسے تو میں بہت انٹیلیجنٹ اور ہینڈ سم ہوں لیکن میرے دونوں بھائی مجھ سے بہت آگے ہیں۔۔ ان دونوں نے بھی اپنی یونی لائف بڑی شرافت سے گزاری ہے اور کبھی کسی لڑکی کو یوں تنگ نہیں کیا جیسے یہ سینئر ز کرتے ہیں۔۔!“ وہ لڑکیوں کی طرح کبھی منہ بسورتا توکبھی ہاتھ بالوں میں چلاتا پٹر پٹر بولتا چلا جارہا تھا۔

Shiddat Urdu Novel PDF Download (Episode 1 to 16)

Shidat Novel by Meerab Hayat (Episode 1 to 25)

Shiddat Novel in Urdu (26, 27, 28, 29last)

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close