Top 5 Sad Urdu Ghazals for Broken Hearts

Sad Urdu Ghazals

 کیا حسن تعاقب ہے کہ جب تو نکل آئے

تارے سے کرن پھول سے خوشبو نکل آئے

کس طرح تری آنکھ کو تمثیل میں لاؤں

اس سوچ میں بیٹھا تھا کہ آہو نکل آئے

ہے پھولوں کا موسم کہ تری جنبشِ لب ہے

افشاں ہے سرِ زلف کہ جگنو نکل آئے

کچھ گردشِ دوراں کی حقیقت تو سمجھ لوں

ممکن ہے تری آنکھ کا جادو نکل آئے

جب غور کیا میں نے تری سطحِ جبیں

مضموں میں مرے، چاند کے پہلو نکل آئے

ہو سکتا ہے پھر خیمے جلیں، تیر بھی برسیں

پھر دشت سے ہم چل کے لبِ جو نکل آئے

کس کرب مسلسل کا وفاؔ ہے یہ تاثر

جب ہنسنے لگا، آنکھ سے آنسو نکل آئے

 ہم  پہ وہ کب نگاہ کرتے تھے

اک ہمی اُن کی چاہ کرتے تھے

اُن کی زلفوں کی یاد میں شب کو

دل جلا کر سیاہ کرتے تھے

سوچتا ہوں یہی کہ اُس دل میں

غیر کس طرح راہ کرتے تھے

چغلیاں کھا کے میری اُن سے رقیب

اپنا نامہ سیاہ کرتے تھے

داورِ حشر سے یہ کہہ دیں گے

ہم جہاں میں گناہ کرتے تھے

شعر کہتے تھے اپنے میراجیؔ

لوگ سنتے تھے، آہ کرتے تھے

 سبھی کو برسر پیکار مت کر

یہ میرا شہر ہے، مسمار مت کر

مجھے زنجیر کر خوشبو کی صورت

مرے چاروں طرف دیوار مت کر

کناره کھینچ لے گا اپنی جانب

کہا تو ہے کہ دریا پار مت کر

محبت تیرا میرا مسئلہ ہے

زمانے کو شریک کار مت کر

کئی حصوں میں بٹ جائے گا آنگن

ابھی سے درمیاں دیوار مت کر

دروازه جب بند کیا تھا

ہر اک ناطہ توڑ دیا تھا

سر کو جھکائے شرمندہ سا

کل وہ میرے پاس کھڑا تھا

ہجر تمہاری قسمت میں ہے

اس نے اک دن مجھ سے کہا تھا

برسوں بعد گیا تو دیکھا

اک در اب بھی کھلا ہوا تھا

دکھ سکھ میں ہم ساتھ رہیں گے

یاد ہے تم نے عہد کیا تھا

میں بھی ظہورؔ  نہ شب بھر سویا

مجھ سے بھی اک شخص خفا تھا

مر تو میں اس ہی دن گیا تھا

جب اس کا خیال چھن گیا تھا

جانا ہے سبھی کو مانتا ہوں

دکھ یہ ہے وہ میرے بن گیا تھا

عاجز میں شمارِ  یک نفس سے

وہ آخری سانس گن گیا تھا

ہستی کی ہوس نہ تھی کہ وہ شخص

بیگانہ سال و سن گیا تھا

ہم ساتھ نہ جس کے جا سکے تھے

کیسا پل کیسا چھن گیا تھا

رکنے میں بھی زندگی کہاں تھی

گرچہ تھا سفر، کٹھن گیا تھا

ملنا کسی اور دن تھا اس سے

اور میں کسی اور دن گیا تھا

سنو، تم لوٹ آؤ نا

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close