Umera Ahmed Biography – Everything You Want To Know

Umera Ahmed Biography

روز اول ہی سے وادی ادب میں جہاں انواع و اقسام کے ادیبوں نے اپنے نام کے چھوٹے چھوٹے پودے لگائے جو کہ اب تناور درخت بن چکے ہیں۔ اور اپنی چھاؤں میں کئی ادبی رنگ سمیٹے ہوئے ہیں  وہیں کچھ صاحبان ایسے بھی ہیں جنہوں نے جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرکے ادبی رئیت کے ساتھ بھر پور انصاف کیا ہے۔ دور جدید کے ناول نگاروں کی فہرست میں محترمہ عمیرہ احمد صاحبہ کا نام سرِفہرست رکھنا ہی اُن کی خدمات کو خراج تحسین ہے۔ عمیرہ احمد بلاشبہ ایک باکمال شخصیت، بہترین ناول نگار اور بلند مقام افسانہ نویس ہیں۔کامیا ب انسان  کی کامیابی کی بڑی وجوہات میں ایک لازمی جزو اُس کی وقت کی رفتار اور تقاضوں کے ساتھ اپنی ذات، فن اور دیگر عواملِ زندگی میں کی گئی تبدیلیاں ہیں۔عمیرہ احمد کی بے مثال کامیابی کا سہرا اُن کی انہی جدت پسندانہ سوچ کو جاتا ہے۔آپ کی شہرت میں  بڑا حصہ اُن کے کئی ادبی مجموعوں نے سکرین کی زینت بن کر ڈالا ہے۔

Umera-Ahmed-Real-Picture

 عمیرہ احمد سوانح حیات:

ممتاز ناول نگار اور افسانہ نویس محترمہ عمیرہ احمد،  10 دسمبر  1976 کو پاکستا ن کے صوبہ پنچاب کے ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں۔ شہرِاقبال میں پیدائش کو ہی اُن کے ادبی ذوق کی وجہ قرار دینا بے جا نہ ہوگا۔اُن کی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں مکمل ہوئی۔ مرے کالج سیالکوٹ سے انگلش لٹریچر میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ لڑکپن ہی سے تصنیف و تحریف کا شوق رہا۔ عمیرہ احمد ،آرمی پبلک سکول میں بھی بطور معلمہ  خدمات انجام دے کر مڈل ، اور میٹرک کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر چکی ہیں۔ مگر ادبی میلان اور شوقِ تصنیف اُن کی ملازمت کو ترک کرنے کا موجب بنا۔ اور محترمہ عمیرہ احمد کو محض قلم اور کاغذ تک محدود کردیا۔

 اُنہوں نے اپنے باقاعدہ تحریری سفر کا آغاز کا 1998 میں کیا اور محض 21 سال کی عمر میں  اُن کی پہلی کہانی  ”زندگی گلزار ہے“ کے نام سے ڈائجسٹ میگزین میں شائع ہوئی جس کی عوام الناس میں بھر پور پذیرائی نے انہیں 2012 میں مکمل ناول  کو اُسی نام سے ڈرامہ کی صورت میں نشر کرنے کا حوصلہ فراہم کیا۔  آپ عرصہ دراز سے نجی زندگی بسر کر رہی ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ایکٹو یوزر ہونا بھی اُن کے اور اُن کی نجی زندگی کے درمیان حائل نہ ہو سکا۔ اب تک کے تصنیفی سفر میں شائقین کو اُ ن کی پہلی جھلک صرف 2005 میں نظر آئی جب وہ ڈرامہ سیریل” وجودِلاریب “ کی مصنفہ کی حیثیت سے  انڈس  ویژن   ایوارڈز میں بہترین ڈرامہ سیریل رائٹر کا ایوارڈ وصول کرنے کے لیے اسٹیج پر بہرہ ور ہوئیں۔  دور جدید کے امیر ترین ناول نگاروں میں شامل ہیں۔

آپ نے سال   2007 ،   میں Erwin Foundation, England کے  Totlay Batin Centre  سے  سکرپٹ رائٹگ اور  کری ایٹو رائٹنگ میں ڈپلومہ کیا۔ 

سال 2014  میں آپ،  ارسم آفتاب سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور اُن کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں۔آپ کی کئی خوبیوں میں ایک نمایاں خوبی نجی  اور سماجی زندگی میں فرق رکھنا ہے ۔ اُنہوں نے بمشکل سال بھر میں  ایک سے دو ناول تحریر کئے۔  آپ خواتین میں ہمیشہ سے  خودداری، خود مختاری، اخلاقی اقدار کی حفاظت کے جذبے، تصنع سے پاک زندگی کے اصولوں کو پسند کرتی ہیٰں اور مردوں میں بلند شفاف کردار، بلند اخلاقی قامت، با عقیدہ اور باضمیر جیسی خوبیوں کو پسند کرتی ہیں جس کی جھلک اُن کے تحریروں کے مرکزی کرداروں میں واضح نظر  آتی ہے۔

ناول ”زندگی گلزار ہے“ کا پسِ منظر:

درج بالا جہاں عمیرہ احمد کی پہلی تصنیف ہے، وہیں اُن کی نجی زندگی کا ایک پہلو بھی اِس سے جُڑا ہے۔ اُن کے دعوٰی کے مطابق اُن کا یہ ناول اُن کی ذاتی زندگی سے مماثلت رکھتا ہے۔ آپ کی والدہ کو اولادِنرینہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے والد نے طلاق دے دی تھی۔ اس حادثے نے آپ کے دل و دماغ پر جو نمایاں نقوش چھوڑے اُن کی  عملی تصویرکےرنگ، اس  ناول کی صورت میں  اُنہوں نے صفحہ قرطاس پر بکھیرے جس کو بعد ازاں ڈرامہ کی صورت  میں بھی پیش کیا گیا۔ اُن کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ اس ڈرامہ میں موجود”کشف مرتضٰی“ کا کردار  چند کے علاوہ اُن کی  باقی تمام خوبیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ وہ ”کشف“ کی طرح ضدی اور مغرور تو نہیں مگر اصول پسند ضرور ہیں۔

تصنیفی خدمات:

 اُن کے ناولوں میں جدت پسندی، اختصار، شائستہ زبان، مذہبی و معاشرتی اقدار اور عام فہم الفاظ کا چناؤ اُن کے ادبی شوق کا مظہر ہیں۔ عمیرہ احمد کے ناولوں کو کئی ڈرامائی اشکال میں بھی ڈھالا گیا ہے۔ جس میں کئی نامور اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے اُن کے کام کو مزید زینت بخشی ہے۔ عمیرہ احمد کے تحریری صورت میں کم و بیش 35 مجموعے ادبی لائبریریز، خواتین ڈائجسٹ اور ٹیلی ویژن سکرینوں کی زینت ہیں۔

عمیرہ احمد نے فنی مہارت سے اپنی تصانیف کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے جس کی بدولت قارئین کےلیے مواد کا انتخاب  آسان ہو چکا ہے۔ یہ خوبی اُن کی وسیع سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ آپ کی کہانیاں اکثر مردوعورت کے باہمی تعلقات، معاشرتی بگاڑکے اسباب اور ان کے سدِباب، اور خواتین کی زندگی پر اثر انداز ہونے والے معاشرتی عوامل کا احاطہ کرتی ہیں۔ آپ کی تصانیف میں خواتین کا مرکزی کردارہوتا ہے۔ خواتین پر تشدد کےمتعلق لکھی گئی کہانیوں کے حوالے سے اُنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیاہے۔ ”یہ الفاظ خالصتاً میرے دل کی آواز ہوتےہیں چونکہ میں نے معاشرے کے زخم بہت قریب سے دیکھے ہیں اور اس چیز کا مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ کیسے تشدد اور ذہنی دباؤ کسی کی بھی زندگی کو برباد کرنے کا سامان ہے۔ “

تصنیفی میدان میں عمیرہ احمد کی جانب سے کیا گیا ایک اور بہترین اضافہ 2016 میں اُن کی جانب سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم “الف کتاب” کا آغاز ہے۔ یہ پلیٹ فارم جہاں دورِجدید کے مصنفین کو اپنی فنی مہارت کا پرچار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے وہیں مختلف پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ اُن کی بالواسطہ رابطہ کا ذریعہ ہے۔آپ کے مختلف تحریر کردہ مجموعوں کے مختلف زبانوں میں تراجم کیے جا چکے ہیں جن میں انگریزی، عربی  اور ہندی شامل ہے۔

تصنیفی مجموعات:

  • پیر ِکامل
  • میری ذات ذرہ بے نشان
  • امر بیل
  • شہرِذات
  • من و سلوٰی
  • آبِ حیات
  • حاصل
  • لاحاصل
  • زندگی گلزار ہے
  • الف
  • کنکر
  • ایمان، امید اور محبت
  • قیدِ تنہائی

سال  2004 میں باقاعدہ  شوبز کیریئر کا آغاز کیا۔ اب تک اُن کے 22 مجموعوں کو ڈراموں کی شکل  میں ڈھالا گیا ہے۔ سال 2014 میں اُن کے ایک شاہکار  ”میری ذات ذرہ بے نشان “ کو ایک انڈین ٹی  وی چینل  ”زندگی“ پر  ”کیسی یہ قیامت“ کے نام سے بھی نشر کیا گیا ۔

ڈرامے:

  • کنکر
  • دام
  • من و سلوٰی
  • دارڑ
  • دوریاں
  • جھوٹ
  • بے بی
  • باجی ارشاد
  • مات
  • عشق میں کافر
  • باغی
  • صنفِ آہن
  • تیرے حسن کے نام
  • ہم کہاں کے سچے تھے
  • سیریل کِلر
  • دُرِشہوار
  • جنت سے آگے
  • آبرو
  • امرت اور مایا
  • نو لکھا
  • کھوٹ
  • محبت صبح کا ستارہ
  • سانپ سیڑھی
  • زندگی گلزار ہے
  • میری ذات ذرہ بے نشان
  • امرت اور مایا
  • محبت صبح کا ستارہ ہے
  • الف
  • دو راہا
  • مراۃ العروس
  • عشق میں کافر
  • ڈائجسٹ رائٹر
  • دی گھوسٹ

اعزازات:

2013 ــــــــــ ہم ایوارڈز ــــــــــــــــ ڈرامہ سیریل  ”مات“

2014 ــــــــــ ہم ایوارڈز ــــــــــــــــ ڈرامہ سیریل  ”زندگی گلزار ہے“

2014 ــــــــــ پاکستان میڈیا  ایوارڈز ــــــــــــــــ ڈرامہ سیریل  ”زندگی گلزار ہے“

2010 ــــــــــ لکس  اسٹائل ایوارڈز ــــــــــــــــ ڈرامہ سیریل  ”میری ذات ذرہ بے نشان“

2020 ــــــــــ لکس ا سٹائل ایوارڈز ــــــــــــــــ ڈرامہ سیریل  ”الف“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے