Eid Poetry in Urdu 2024

عید الفطر

عید الفطر- چھوٹی عید- میٹھی عید۔۔۔۔  مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے جو ہر سال یکم شوال کو منایا جاتا ہے۔ دراصل عید الفطر رمضان المبارک  (شوال سے ماہ قبل ایک مبارک مہینہ) کے روزوں کے عوض اللہ تعالٰی کی طرف سے مسلمانوں پر ایک انعام ہے۔ جو کہ ہر سال مسلمان، ملی جوش و خروش اور مسرت کے ساتھ مناتے ہیں۔ جیسا کہ عید الفطر خوشی سے تشبیہہ ہے اسی طرح خوشی کو منانے کے انداز ہر طبقے کے مسلمانوں میں مختلف ہیں۔ چھوٹی عید کا عام تاثر، آپسی  رنجشوں کو ختم کرنے، ہنسی خوشی ایک ہو جانے اور باہمی میل جول سے خوشی کو دوبالا کرنے سے مستعار ہے۔ اسی سلسلہ میں لوگ ایک دوسرے کو محبت بھرے پیغامات کا سلسہ روا رکھتے ہیں۔ عید الفطر جہاں صدیوں سے چلی آرہی ہے وہیں پر  محبت بھرے پیغامات کا رنگا رنگ سلسلہ بھی  قدیم ہے جسے لوگوں نے وقت کے ساتھ ساتھ جدت کے سانچے میں ڈھال کر اسے مزید خوبصورت بنا دیا ہے۔

رنج ، مسرت ، اداسی، ہجر ، وصال، قرب، مسافت جیسے تاثرات کے اظہار کا بہترین ذریعہ شاعری ہے۔ شاعری ایک ایسا پیغام ہے جو لکھنے والے کے دل کی آواز بن کر دوسرے لوگوں تک خوبصورت الفاظ کی شکل میں پہنچتا ہے جسے لکھنے اور پڑھنے والا دونوں ہی اُ س کی گہرائی کو قریب سے محسوس کرتے ہیں اور اُ سے اپنے روحانی جذبات کی عملی تصویر کا درجہ دیتے ہیں۔  اسی طرح کے مخصوص  شاعرانہ پیغامات عید الفطر کا بھی زینہ ہیں جن کو لوگ مختلف طریقوں سے اپنوں تک پہنچاتےہیں اور اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص ایسے موقعوں پر ایک نئی سوچ سے اپنے آنے والے کل کا آغاز کرتا ہے اور گزشتہ کل کی رنجشوں اور ناچائقیوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے ۔ یہ سلسلے لوگوں کو آپس میں یکجا کرنے کے بے حد کام آتے ہیں۔ یہی دینِ اسلام کی تعلیم اور ایسے تہواروں کا بنیادی مقصد ہے۔

Eid urdu poetry 2k24

اپنے پاکیزہ جذبوں کو گواہ بنا کر

اب کی بار بھی عید کا چاند دیکھ کر

میں دعا مانگوں گی
اپنے اور تمہارے ساتھ کی
بس تم اتنا کرنا
کہ جب میری آنکھوں کا نمکین پانی
میری پھیلی ہتھیلی پر گرے
تو میری دعائے نیم شبی کو مکمل کرنا
میرے مقدّس لفظوں کی لاج رکھنا
صدقِ دل سے کہنا ! آمین !​

٭٭٭٭٭٭٭

عید اب کے بھی آنگن میں تیرے آئی ہو گی

اور ہنگام مسرت سے تو نے منائی ہو گی

سرخ چاہت سے نئی چوڑیاں پہنی میں نے

تو نے خوابوں میں میری مانگ سجائی ہوگی

منتظر جس کی تیری چشم تصور ہو گی

آخر اس چاند نے صورت بھی دکھائی ہوگی

کھل اٹھے ہونگے اسے دیکھ کے ترے دل کے کنول

دیر تک سانس بھی قابو میں نہ آئی ہو گی

اور تم دور بہت دور ہو ہم سے جاناں

جانتی تھی مری قسمت میں جدائی ہو گی

تیری تصویر کو ہاتھوں میں لئے چومتی ہوں

جانے کب لمس تلک تیرے رسائی ہو گی

بس یہی سوچ کے دل بیٹھ رہا ہے میرا

آج جو اپنی ہے سحر کل وہ پرائی ہو گی

٭٭٭٭٭٭٭

عید کا چاند

لبوں  پہ دعا مچل گئی جو دیکھا عید کا چاند

اب کے برس بنا  افسانہ عید کا چاند

ہر نگاہ میں رقصاں  ہیں خوشی کے چراغ

بچھڑے ہوؤں کے ملنے کی نوید بنا عید کا چاند

کہے بہار کے دامن کو، اور نکھاروں کلیاں

اُفق پہ لیے محبت کی ضیاء عید کا چاند

حسبِ روایت چاند رات کو آنگین سجا لیا

ہتھیلی سجی، کلائی بجی اور ماتھے پہ چمکا عید کا چاند

بہت مست رو ہے طاہرہؔ،  ملن کی رات آئی

اس دل میں خوشی کی لہر بسا گیا عید کا چاند

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عید کارڈ

ہمیشہ کی طرح اس برس بھی

 بھیجا ہے اس نے

خوبصورت لفظوں، دلکش رنگوں سے

سجا ہوا عید کارڈ مجھے

اور یہ تحفہ پا کر

میں تم سے

صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں

کہ

کوئی جذبہ بھی ہے شامل اس میں

یا صرف

ریت نبھا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

٭٭٭٭٭٭٭

اس کے یہاں نہ ہونے سے

خوشیوں کی پازیب پہنے

آنے والی  عید واپس  تو نہ لوٹ جائے گی

اس روزِسعید کی خبر دینے والا چاند بھی

ضرور نکلے گا

اور میں نے رنگ اوڑھے

خوشبو سمیٹے ہوئے اس دن کے واسطے

جو جوڑا بڑے ارمانوں سے سجایا ہے

جانتی ہوں کہ پہن ہی لوں گی

لیکن ہاتھوں میں خوشبو ئے حنا

اور بانہوں میں چوڑیوں کی چھنکار  لیے

اس چہرے پہ سجی

دو ستارہ آنکھوں کو  ڈھونڈتی پھروں گی

٭٭٭٭٭٭٭

عیدکس کے نام کروں

آج چاند رات ہے
اور میں اپنے ہاتھوں میں
دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں
کہ یہ عید کس کے نام کروں
اس کے نام۔۔۔
جو دل کی دھڑکنوں میں ہے
یا پھر اس کے نام
جو ہاتھوں کی لکیروں میں‌ ہے

٭٭٭٭٭٭٭

عید مبارک

عید آئی ہے تو پھر آج میرے سینے میں
اِک خواہش نے بہت زور سے انگڑائی لی
جی میں آیا تو ساتھ ہو تنہائی ہو
رات نشیلی ہو اور شام ہو گہری نیلی
اور ہم دونوں کسی مکان کی چھت پر
دور ہی دور کہیں فلک پر تکتے جائیں
چاند کو ڈھونڈتے ایک دوجے کو دیکھیں دم بھر
دل کے جذبات نگاہوں سے چھلکتے جائیں
اور آجائے نظر چاند کی جب ایک جھلک
اپنے چہرے پر مسرت سے نکھار آجائے
پھر میرے ذہن میں اشعار اُترتے آئیں
میں تصور میں سنواروں تیری الجھی زلفیں
اور ان زلفوں میں پھر شب کی سیاہی بھر دوں
تیرے چہرے کو کسی چاند سے تشبیہ دے کر
ایک عالم میں اجالا ہی اجالا کر دوں
تیرے ہونٹوں کو کسی پھول کی لالی دے دوں
اور اس لالی کو پھر خون سے پائندہ کردوں
تیرے ہاتھوں میں بسا کر میں حنا کی خوشبو
رنگ و خوشبو سے گلابوں کو بھی شرمندہ کردوں
تیرے ان نینوں کو میں جھیل سے گہرا کردوں
یا بنادوں انھیں سچ مُچ کسی ساون کی طرح
تیری بانہوں میں سجا دوں بہت سے گجرے
تو نگاہوں کو جھکائے نئی دلہن کی طرح
میں تیرا حسنِ جہاں سوز مکمل کرکے
چند لمحوں کے لئے پیار سے تجھ کو دیکھوں
ایک انگلی سے اُٹھاؤں تیری ٹھوڑی جاناں
اور دھیرے سے تجھے عید مبارک کہہ دوں
عید مبارک کہہ دوں

٭٭٭٭٭٭٭

عید کی چاند رات

پچھلی عید کی چاند رات

تمـــــــــــــــ

کتنی دیدہ دلیری سے میرا ہاتھ تھامے

آنکھوں میں خواہشوں کے ننھے ننھے چمکتے جگنو لیے

بے تکان بولے چلے جارہے تھے

کہ

دیکھنا آنے والے لمحوں کو

ہم اپنی

گرفت میں  لیں گے

اور۔۔۔ میرے نام کی چوڑیاں کسی خوش کُن لمحے میں

تمہاری کلائیوں میں بول اُٹھیں گی

مگر یہ کیا۔۔۔۔ کہ

لمحوں کو قید کرنا تو چراغ  تلے اندھیرے والی بات ہوئی

تم تومجھے بھی۔۔۔

اپنی قیدِحیات میں نہ باندھ سکے

٭٭٭٭٭٭٭

عید کے مختلف اشعار

میں نے چاہا تجھے عید پہ کچھ پیش کروں

جس میں تابندہ ستاروں کی چمک شامل ہو

جس میں گزرے ہوئے لمحات کی تصویریں ہوں

جس میں انجان جزیروں کی مہک شامل ہو

٭٭٭٭٭٭٭

صبا بھی آج تو کچھ نا اُمید آئی ہے

دلوں کے زخم کھلیں گے نوید لائی ہے

اکیلی تو بھی ہے میرا بھی دور ہے محبوب

گلے تو مل شب ہجراں کہ عید آئی ہے

٭٭٭٭٭٭٭

تمنا ہے کہ دیکھیں نئی سحر کی رنگینی

اے کاش نویدِ صبح لے کے آئے ہلال عید

٭٭٭٭٭٭٭

عید آئی ہے لوگ کہتے ہیں

تم جو آجاؤ تو یقین آجائے

٭٭٭٭٭٭٭

مسکراتی گنگناتی جھومتی آئے گی عید

تیرے دامن میں بہاروں کی مہک لائے گی عید

ہم  پہ کب موقوف ہے رونق تمہاری بزم کی

چاہے ہم نہ ہوں گے مگر آئے گی عید

٭٭٭٭٭٭٭

عید کا چاند آج دیکھا ہے

ہر کلی یوں سدا ہی مسکائے

 ہاتھ اٹھا کر دعا یہ کرتا ہوں

کاش ایسی عید بار بار آئے

٭٭٭٭٭٭٭

دے انہیں جنبش کبھی عہد وفا کے واسطے

تیرے ہونٹوں میں نہاں میرا ہلال عید ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭

 کب تیرے ملنے کی تقریب بنا عید کا دن

تیری یاد آئی تو دیکھا نہ گیا عید کا دن !

غم کے بادل تھے فضاؤں پر کچھ ایسے چھائے

دل کی دنیا میں منور نہ ہوا عید کا دن

٭٭٭٭٭٭٭

آج پھر عید دبے پاؤں لوٹ آئی ہے

آج پھر ہم خود کو سمجھانے بیٹھے

٭٭٭٭٭٭٭

اس مہربان کی نظر عنایت کا شکریہ

تحفہ دیا ہے عید پہ ہم کو فراق کا

٭٭٭٭٭٭٭

وفا کا سندیس لے کر اترے تمہارے آنگن میں

رفاقتوں کا محبتوں کا  گواہ  بن کرعید کا چاند

٭٭٭٭٭٭٭

ہم ہیں اپنے جذبہ ذوقِ طلب پر شرمسار

تم رہو رو ٹھے، ہماری بھی گزر جائے گی عید

کچھ ہمارے اشک ہوں گے باعثِ تسکینِ دل

کچھ خیال بزم جہاں سے گزر جائے گی عید

٭٭٭٭٭٭٭

معطر کر رہی ہے  گلشن کو ہوائے عید

آتا نہیں ہے کچھ بھی نظر ما سوائے عید

میری طرف سے  ہو آپ کو  عید مبارک

میرے پاس تو ہے بس  یہی تحفہ برائے عید

٭٭٭٭٭٭٭

راستوں میں بچھی رہیں نظریں

وہ آئے نہ انہیں آنا تھا

عید کا دن گزر گیا آخر

عید کا دن گزر ہی جانا تھا

٭٭٭٭٭٭٭

اس برس کوئی حسین خواب نہ تھا آنکھوں میں

اس برس ہم سے بھی دیکھا نہ گیا عید کا چاند

٭٭٭٭٭٭٭

نامہ عید ہی بھیج دینا سدا، خود نہ آنا کبھی

اف ترا ایک ہی امتحان میں مجھے ہر برس ڈالنا

٭٭٭٭٭٭٭

ان کی طرف گزر ہو تو کہ دینا اے بادصبا

کرتا ہے انتظار کوئی سوگوار عید !

٭٭٭٭٭٭٭

دیکھا جو چاند عید کا تم یاد آگئے

دل میں مسرتوں کے دیئے  جگمکا گئے

٭٭٭٭٭٭٭

فقط مسکراہٹ تیری میرے دل کے لیے کافی

خدایا آج میری عید کا کچھ تو بھرم رکھ لے

٭٭٭٭٭٭٭

زندگی کو یوں بھی رائیگاں ہونا ہی تھا

مل بھی جاتے تو تم کو اک دن کھونا ہی تھا

اور کب تک  ہم لہو روتے اے ماہتاب

ڈھل گئی شبِ عید تو ہمیں تھک  ہار کر سونا ہی تھا

٭٭٭٭٭٭٭

خوشیوں کے لمحات میں عالم جذبات میں

تم  ہمیں بھی یادرکھنا عید کے لمحات میں

٭٭٭٭٭٭٭

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے