Funny Jokes in Urdu For Friends (Part 3)

Urdu Funny Jokes

رائے:

پاگل خانے کا دورہ کرنے والی ایک سماجی کارکن کوراستے میں ایک ادھیڑ عمر پاگل کھڑا نظر آیا تو وہ اس سےانٹرویو کرنے لگی۔

” آپ یہاں کتنے عرصے سے ہیں؟“

”بارہ سال سے۔“ ادھیڑ عمر آدمی نے جواب دیا۔

”یہاں آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں؟“  خاتون نےجاننا چاہا۔

”نہیں۔“ اس شخص نے جواب دیا۔

خاتون اس شخص سے مزید کچھ باتیں کرنے کے بعدآگے بڑھیں تو رہنمائی کی غرض سے ان کے ساتھ چلنےوالے صاحب کو ایکدم کچھ یاد آیا تو خاتون سے پوچھنے لگے۔

”آپ ان صاحب کو کہیں پاگل تو نہیں سمجھ رہی تھیں؟“

”ہاں، میں تو پاگل سمجھ کر ہی ان کا انٹرویو کر رہی تھی“۔ خاتون نے اعتراف کیا۔

ارے میڈم وہ پاگل نہیں۔ وہ تو ہمارے میڈیکل سپر نٹنڈنٹ ہیں۔“ انہوں نے بتایا۔

”اوہ !“ خاتون متاسف ہوئیں پھر پلٹ کرسپرنٹنڈنٹ صاحب کے پاس پہنچیں۔

”معاف کیجئے گا۔ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ آئندہ میں محض شکل دیکھ کر کسی کے بارے میں کوئی رائے نہیں رکھوں گی۔“

تجربہ:

آج کے مغربی سائنسدان بھی چوہوں میں انسانی جراثیم داخل کرنے کے تجربات کر رہے ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو چوہوں کے درمیان گفتگو اس طرح ہوگی۔

”ہیلو! کیا حال ہے ۔ کافی دنوں سےتم نظر نہیں آئے کسی چوہیا کے چکر میں تو نہیں پڑ گئے؟“

”ارے نہیں یار! تمہیں تو پتا ہے کہ میں ایک شریف چوہا ہوں۔ دراصل میں ذرا کام سے مصروف تھا۔ خیر چھوڑو پھر بتاؤں گا۔ تم سناؤ! تم کیسے ہو ؟“

”اپنا آج کل برا حال ہے۔ پتا نہیں مجھے کیا ہو گیاہے ۔ کل میں زبر دستی چو ہیا کے بل میں گھس گیا اور چوہیا کو اغوا کر کے لے گیا۔ ٹیلیفون پر نا معلوم چو ہیا کو بہت تنگ کیا۔ آج کل کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا۔ جی چاہتا ہے ہر پل میں آگ لگا دوں ۔ فلموں میں کام کروں۔ میرے ہاتھ میں ٹوکا ہو اور دوسرے ہاتھ میں گنڈا سا ہو اور جو بھی سامنے آئے اُس سےسے پوچھوں ۔ نواں آیاں ایں سوہنیا۔ “

رحم دل:

بیٹا باپ سے:-

”ابو امی جب گاتی ہیں اپنی آنکھیں بند کیوں کر لیتی ہیں؟“

”بیٹا تمہاری امی بہت رحم دل ہیں۔“

بیٹا:-

”وہ کیسے ؟“

باپ:-

”ان کی آواز سننے سے دوسروں کو جو صدمہ ہوتا ہے، وہ یہ دیکھ نہیں سکتی۔“

بے بسی:

ایک صاحب اپنے دوست سے اپنے بیٹے کی شکایت کر رہے تھے۔

”برخوردار نے جب سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے  پڑھائی کی  طرف دھیان  دینے کی بجائے لڑکیوں  کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ لان میں لڑکیوں کے ساتھ، لائبریری  میں لڑکیوں کے ساتھ، کینٹین میں لڑکیوں کے ساتھ، حتٰی کے یونیورسٹی  سے باہر بھی لڑکیوں کے ساتھ گھومتا رہتا ہے۔ اگر مجھے پتا ہوتا کہ یونیورسٹی میں یہی کچھ ہوتا ہے تو اُسے دکان پر بٹھا دیتا اور خود یونیورسٹی  میں داخلہ لے لیتا۔“

بے خبری:

بیوی اپنے شوہر سے:-

”تم تو کہتے تھے کہ شادی کے بعد بھی مجھے بہت پیار کرو گے۔“

شوہر :-

”تو مجھے کیا پتا تھاکہ تمہاری شادی مجھ سےہی ہو جائے گی ۔“

حفاظت:

بیوی شوہر سے:-

” کیا میں بھی تمہارے خواب میں آئی ہوں؟“

شوہر :-

”کبھی نہیں ۔“

بیوی:۔

”کیوں؟“

شوہر :-

” کیونکہ میں آیتہ الکرسی پڑھ کر سوتا  ہوں۔ “

شامت اعمال:

ڈاکٹر:-

”آپ کے تین دانت کیسے ٹوٹ گئے ؟“

مریض:-

 ”جی وہ میری بیوی نے کڑک روٹی بنائی تھی۔“

ڈاکٹر:-

”تو کھانے سے انکار کر دیتے۔“

مریض:-

”جی وہ ہی تو کیا تھا۔“

سچائی :

جج:-

”کیا ثبوت ہے کہ تم گاڑی اسپیڈ میں نہیں چلا رہے تھے؟“

مجرم:-

”سر میں اپنی بیوی کو لینے سسرال جا رہا تھا۔“

جج:-

That’s all case dismissed

آزادی:

کسی نے ایک شادی شدہ شخص سے پوچھا۔

”آپ شادی سے پہلے کیا کرتے تھے؟“

اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، اور وہ بولا۔

”جو میرا دل کرتا تھا۔“

اگر لڑکیاں نہ ہوتیں:

Funny jokes friend urdu image

ایک لڑکا اور لڑ کی انٹرنیٹ پر چیٹنگ کر رہے تھے

لڑکی:-

”ایک بات پوچھوں؟“

لڑکا:-

”ہاں ضرور پوچھو۔“

لڑکی:-

”اگر ہم لڑکیاں نہ ہوتیں تو تم لڑکے کہاں جاتے؟“

لڑکا:-

”اللہ دی قسمیں ، ڈائریکٹ جنت وچ ۔“

حقیقت:

لڑکی اپنے نابینا عاشق سے۔

”کاش تمہاری آنکھیں ہوتیں تو تم میرےحسن کو دیکھتے۔:

لڑکا:-

”اگر تم خوب صورت ہو تیں تو کیا آنکھوں والے تمہیں میرے لئے چھوڑتے ، اندھا ہوں، پاگل نہیں ہوں۔“

جواب:

ڈاکٹر نے مریض کی بیوی کو تھوڑا الگ کر کےکہا۔

”آپ کے شوہر ٹھیک ہو سکتے ، بشرطیکہ کہ آپ انہیں کوئی ٹینشن نہ دیں، ان کا خیال رکھیں اور ان کی دل و جان سے خدمت کریں۔“

بیوی واپس آئی تو مریض شوہر نے پوچھا۔

”ڈاکٹر نے کیا کہا ہے؟“

بیوی نے بے زاری سے کہا۔

”ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے۔“

کام نہ کرنے والے:

میر تقی میر کو بھی ان کے باوا ہدایت کر گئے تھے کہ بیٹا زندگی بھر عشق کرنا یعنی کام وغیرہ نہ کرنا ۔ بیٹے نے یہی کیا اور یہی  ہمارے نزدیک ان کی عظمت کا راز ہے ۔ اب غیر شاعروں کی مثال لیجیے۔

اگر نیوٹن کام کرنے والا آدمی ہوتا توکشش ثقل آج تک دریافت نہ ہوتی ۔  کوئی اور کسی باغ میں بنچ پر بیٹھا ہوتا کہ درخت سے سیب گرتا تو اسے جیب میں ڈال لیا ہوتا۔کھانے کے بعد کھاتا اور کسی ڈاکٹرکو بھگاتا یا چٹنی مرتبے کا کوئی کارخانہ قائم کرنے کی سوچتا اور عمر عزیز اسی میں ضائع کر دیتا۔

نیوٹن بس بیٹھا دیکھتا رہا اور سوچتا رہا اور کشت چقل ایجاد ہو گئی۔ ایک اور شخص تھا۔

جیمز واٹ نامی کیتلی کے پاس بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ بھاپ سے ڈھکن جو ہلنے لگا۔ تو سوچ سوچ کر اس نے بھاپ کی قوت دریافت کرلی۔

اس کے بجائے کوئی مستعد یعنی کام کا آدمی ہوتا تو کوئی بوجھ رکھ کر ڈھکن دبا دیتا  اور پھر کام کرنے لگتا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ریل ویل ، انجمن ونجن وغیرہ کچھ نہ ہوتے۔ گویا ثابت ہوا کہ شاعری کریں تو کام نہ کرنے والے ۔

ایجاد کریں تو کام نہ کرنے والے۔

ارے کسی کام کرنے والے نے آج تک کچھ کیا بھی ہے۔ (ابن انشاء)

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close