Funny Jokes for Husband & Wife – Part 1

گدگدی:

ایک صاحب دفتر پہنچے تو انکی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور منہ پر بارہ بج رہے تھے. صاف لگ رہا تھا کہ کہیں سے پٹ کر آ رہے

ہیں۔ دوستوں نے وجہ پوچھی تو مسکرا کر بولے ، اصل وجہ بس اتنی ہے کہ ہماری نوجوان ملازمہ کو گدگدی بہت ہوتی ہے۔۔۔

دوستوں نے پوچھا : لیکن تمہاری حالت کا اس سے کیا تعلق؟۔

اُن صاحب نے منہ بناتے ہوئے کہا: بس یار، میری بیوی نے ملازمہ کے ہنسنے کی آوازیں سن لی تھیں۔

مکھیاں:

بیوی: کیا کر رہے ہو؟۔

شوہر: مکھیاں مار رہا ہوں۔

بیوی: کتنی مکھیاں ماری ہیں؟

شوہر: ٹوٹل پانچ ماری ہیں ، جن میں سے 3 مکھیاں اور 2 مکھے ہیں۔

بیوی: تمہیں کیسے پتا کہ کون سی مکھی اورکون سا مکھا ہے؟

شوہر: 3 شیشے کے سامنے اور 2 گولڈ لیف کی سگریٹ پر بیٹھی تھیں۔

حاضر دماغی:

بیوی: آفس سے واپسی پر سبزی لیتے آنا۔ اور سارہ سلام کہ رہی ہے

شوہر: کون ساره؟

بیوی: کوئی نہیں، بس اسلئیے لکھاکہ تُم پڑھ لو میسج۔

شوہر:  وہی تو میں کہوں کہ سارہ تو میرے ساتھ ہے تو تُمہارے ساتھ کون ہے؟؟

بيوى: كون سارہ؟ کدھر ہو تم؟

شوہر: میں بازارمیں۔

بیوی: اُدھر ہی رُکو ذرا میں ابھی آتی ہوں۔

دس منٹ بعد بیوی : کدھر ہو؟ میں بازار میں ہوں۔

شوہر: آفس ہی ہوں ، اب آ گئی ہو تو سبزی لیتی جانا۔ وڈی آئی سارہ

بےوقوف:

بیگم پہلی مرتبہ موٹروے پر اکیلے ڈرایئونگ کرنے نکلیں تو اچانک خاوند کا فون آگیا۔

خاوند نے پریشان لہجے میں دریافت کیا: بیگم ! کہاں ہو تم اس وقت؟

بیگم: موٹر وے پر ڈرائیو کررہی ہوں۔

خاوند نے بدستور پریشان ہوتے ہوئے کہا:  بیگم ! ذرا دیکھ بھال کر گاڑی چلانا، ٹی وی پر خبر آ رہی ہےکہ کوئ بیوقوف یک طرفہ  موٹروے پر ٹریفک کی مخالف سمت میں گاڑی چلا رہا ہے۔

بیگم چلاتی ہوئ بولی: ارے کوئی ایک بیوقوف ۔۔؟ یہ کمبخت تو سینکڑوں کی تعداد میں آ رہے ہیں۔۔۔!

خوشی:

آدمی: سر میری بیوی کھو گئی ہے۔

ڈاکیا: بھائی یہ پوسٹ آفس ہے، پولیس سٹیشن نہیں۔

آدمی: خوشی کے مارے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں جاؤں؟۔

پاگل:

 ڈاکٹر پاگل سے: تم پاگل کیسے ہوئے؟

پاگل: میں نے ایک بیوہ سے شادی کی ، اُس کی جوان بیٹی سے میرے باپ نے شادی کی، میرا باپ میرا داماد بن گیا، میری وہی بیٹی

میری ماں بن گئی۔ ان کے گھر بیٹی پیدا ہوئی ، تو وہ میری بہن بن گئی مگر میں اس کی نانی کا شوہر تھا اس لیے وہ میری نواسی ہوئی، اور اس طرح میرا بیٹا اپنی دادی کا بھائی بن گیا ، اور میں اپنے بیٹے کا بھانجا۔۔

ڈاکٹر: چل اُٹھ جا ، کھوتے دیا پترا، منوں وی پاگل کرنا اے!!!۔

بلڈ پریشر:

ایک صاحب کی اپنی کزن سے شادی ہوئی، ایک مہینے کے بعد بیگم کا تعارف کراتے ہوئے بولے۔ یہ ہیں میری اہلیہ! پہلے ان سے میرا "بلڈ” کا رشتہ تھا ، اب "بلڈ پریشر” کا ہے!!!

چائے:

 شوہر: بیگم اپنی چالیس سالہ شادی شدہ زندگی میں آج پہلی بار تم نے اتنی بہترین چائے بنائی ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔

بیوی: آئے ہائے، میری تو عقل ہی ماری گئی،  میں نے غلطی سے اپنی پیالی آپ کو دے دی۔

بدلہ:

نکاح کے بعد دولہا نے مولوی صاحب سے پوچھا: آپ کی فیس؟

مولوی صاحب: بیوی کی خوبصورتی کے حساب سے دے دو۔

دولہا نے ایک سو روپے دے دیے، مولوی صاحب کو بڑا غصہ آیا لیکن چپ رہے۔

اچانک ہوا چلی اور دلہن کا گھونگھٹ اٹھ گیا۔

مولوی صاحب مسکرا کر بولے: ”یہ لو بقایا 80 روپے۔“

ملازمت:

مدت سے بیکار شوہر نے آ کر بیوی کوخوشخبری سنائی۔ بہت اچھی ملازمت مل گئ ہے۔ مناسب تنخواه ، مفت علاج، آفس جانے کو سواری اور باتنخواہ چھٹیاں۔”

”واقعی؟ یہ تو بہت اچھی ملازمت ہے۔“  بیوی نے خوشی سے کہا۔

”تو پھر تم تیار رہنا۔ کل کام پر جانا ہے۔“ شوہر نے کہا۔

دال:

بیوی: مہمان آ رہے ہیں اور گھر میں دال کےسوا کچھ نہیں ہے۔

شوہر: جب وہ آ جائیں تو ایک برتن گرانا ، میں پوچھوں گا کیا ہوا تو تم کہنا کہ قورمہ گر گیا ہے۔ پھر دوسرا برتن گرانا، اور کہنا بریانی گر

گئی ہے ، پھر میں کہوں گا چلو دال ہی لے آؤ۔

جب سچ میں مہمان آ چکے تو اچانک برتن گرنے کی آواز آئی۔

شوہر: کیا ہوا؟؟

بیوی: دال ہی گر گئی منحوس!!!!

شادی:

بیوی: کاش میری شادی آپ کی بجائے شیطان سے ہوجاتی تو اچھا تھا۔

شوہر : توبہ کرو توبہ ۔ بھائ بہن کی شادی نہیں ہو سکتی۔

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے