Dasht e Wehshat (دشتِ وحشت) Urdu Novel by Mehwish Ali

Dasht e Wehshat Urdu Novel (دشتِ وحشت)

ناول  ”دشتِ وحشت “ معروف ناول نگار محترمہ مہوش علی کی ایک مایہ ناز تحریر ہے ۔ ناول کےذریعہ سے مدبرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے مصنفہ نے قارئین کو رشتوں کی اہمیت کا احساس دلایا ہے اور اُن غلطیوں کے ادراک کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے جو کہ باہمی ناچاقیوں کا سبب بنتی ہیں۔   عمومی طور پر ناول عشقیہ رجحان اور سوزو گداز کامجموعہ ہے جو کہ یقیناً قاری کی سوچ پر نمایاں  نقوش چھوڑے گا۔

Dasht e Wehshat Novel Urdu

”ہاں ارمان صاحب بس نکل رہے ہیں ”۔۔۔۔۔ فائل بند کرتے اس نے مسکرا کر کہا جس پر سامنے والے میں ذراسا حوصلہ پیدا ہوا۔

”سر ایک بیڈ نیوز ہے۔“ انسپکٹر ارمان خان نے موبائل جیب میں ڈال کر اندر داخل ہوئے اور ایس پی برہان علوی سے بولا۔

”کونسی۔“ الجھن سے دیکھتے برہان نے آئی برو اچکائے۔۔۔

”سر ہمیں جلد وقار ہاؤس پہنچنا ہو گا وقار نے ہم سے جھوٹ بولا کہ اسکے گھر میں مین ڈور اور بیک ڈور کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باہر جانے کا نہیں، پر اصل میں ۔۔“

”کیا اصل میں ۔“  برہان پریشان سا اٹھ کر چیخ پڑا انسپکٹر ارمان نے لبوں پر زبان پھیری۔

”سر وہ اصل میں وقار بلوچ کے اپنے بیڈ روم میں ہی ڈریسنگ مرر کے پیچھے باہر جانے کا تیسر اراستہ تھا جسکا اس نے ہمیں نہیں بتایا اور ۔۔۔۔۔۔۔ “ وہ ایس پی کے بگڑتے تیور دیکھ کر پھر سے چپ ہو گیا۔

”کیا قسطوں پر بات کر رہے ہو پوری بات بتاؤ کیا ہوا ہے تم لوگوں کو پہلے کیوں معلوم نہیں ہوا اور اب کیسے معلوم ہو گیا۔“

”بکو سب۔ “ برہان کو سمجھ نہیں آرہا تھاوہ کیا کرے۔۔

”اور سراب وہ اپنے روم میں نہیں ہے ، اور جو تیسر اراستہ تھا وہ اسکے روم سے جاتا ساتھ والے خالی گھر سے نکلتا ہے جس کا اس نے ایسے ہی کہہ کر بات گول کر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔“  انسپکٹر ارمان کہہ کر برہان کا چہرہ دیکھنے لگا جو سرخ پڑنے لگا تھا۔

”مزید اسکی بیوی کا بیان ہے کہ اچانک روم میں لائٹ آف ہو گئی اور وہ کچھ سمجھتی اس سے پہلے کمرار وشن ہو گیا پر وقارروم میں نہیں تھا البتہ ڈریسنگ مرردروازے کے پٹ کی طرح دیوار سے الگ تھا، مطلب وہاں سے جانے کا۔۔راستہ۔۔۔“

” سراس میں ہماری تو غلطی نہیں اس و قار بلوچ کو ہی ہم پر یقین نہیں تھا، اگروہ بتادیتا تو ایسا ہوتا۔۔؟“

ارمان خان کی صفائی پر برہان نے اسکے چہرے کو دیکھا۔

”کیوں اسے ہم پر یقین نہ ہوا نو نسینس۔۔۔!! ہماری ہی غلطی ہے جو اسکے گھر کے اندر ہو کر بھی نہ جان سکے اور وہ باہر ہو کر بھی کامیاب ہو گیا ۔“  ٹیبل پر ہاتھ مار کر وہ دھاڑا۔

”اب یہاں میرا منہ کیوں تک رہے ہو گیٹ لاسٹ ۔“

”سر آپ چلیں گے نہیں وہاں۔“ کچھ ڈرتے ارمان نے چند لفظ ادا کئے۔

برہان کا بس نہیں چل رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر دے۔

”کیا اب وہاں مچھر مارنے چلیں ایک انسان کی زندگی تو بچا نہیں پائے کیا اسکی بیوی کو حوصلہ دینے چلیں سٹوپڈ ۔“

سرخ آنکھوں سے وہ غرایا۔

”لگتا ہے پاگل ہو گیا ہے۔“  انسپکٹر اسکی جنونی حالت کو دیکھ کر منہ میں بڑ بڑا تا سلیوٹ کرتا باہر نکل گیا۔

”افف افف سعیر ۔۔۔۔۔۔!! ابھی وقت تیرا ہے کر لے کمال “۔۔۔۔۔۔ چیئر پر گر کر چھت کو دیکھتا خود کلامی کرنے لگا کہ اس کا موبائل بج اٹھا ایک گہرا سانس بھر کر سیدھا ہوا اور داد کا نام دیکھ کر موبائل کان سے لگایا۔

”بول داد "۔۔۔۔۔۔۔داد برہان علوی کا چھوٹا بھائی تھا۔

”بھائی آپ کو کچھ یاد بھی ہے گیارہ بج گئے ہیں بارہ میں صرف ایک گھنٹہ باقی ہے۔“

”اوہ یار دماغ خراب ہو گیا ہے میرا ۔“ بالوں میں انگلیاں پھنسائے آنکھیں میچیں۔

”اوہ تو پھر ہر بار کی طرح ۔ “ داد کو ہنسی آگئی۔

”جی ہاں ہر بار کی طرح۔۔۔۔! اور ویسے یہ تو پوچھ رہا ہے یا مذاق اڑا رہا ہے ۔“

”ہاہاہا۔۔۔ بھائی میں کیوں مزاق بناؤں گا۔۔ یہ تو بس ایسے ہی پوچھا ہے۔“

”اچھا بتاکو موسم کیسا ہے وہاں کا۔۔۔؟ “مسکراتے لہجے میں کسی کی من موہنی صورت کو یاد کرتے کھو یاسا بولا۔

”جی موسم تو ویسا ہے ہر سال کی طرح ۔۔۔۔۔۔“  صوفے کی بیک پر سر لٹکائے وہ بولا تو لب بھینچ کر برہان چیئر سے اٹھ کھڑا ہوا۔

”اچھا تم نورالعین کو جگانے کی کوشش کرو میں تب تک کچھ اسپیشل خریداری کر کے آتا ہوں ۔“

”ارے یار بھائی پھر اتناٹائم ویسٹ ہو گا اس بونی پر۔ اس کاکل کر لیں گے کچھ۔“ سر کو کھجاتے اس نے ٹالنا چاہ پر۔

آگے بھی اسکا بڑا بھائی تھا۔

”داد۔“ آفس سے نکلتے روب دار آواز میں تنبیہہ کی۔

”جارہا ہوں بلکہ روم کے دروازے پر ہوں، پکارنے کی ضرورت نہیں ۔“ منہ بنا کر کہتا وہ آہستہ ساروم سے باہر نکلا۔۔

” شاباش میراشیر۔“  ہنس کر کہتے موبائل آف کیا گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کو شاپنگ مال کی طرف جانے کا کہا۔

مال کے باہر گاڑی میں شاپنگ بیگز رکھتے ایک بار پھر اس کا موبائل بجنے لگا اور اب وہ جانتا تھا کس کی کال ہے۔

توقع کے مطابق اسکرین پر ڈی آئی جی فرقان ملک جگمگار ہا تھا۔

”سنیں ذرا آپ جا کر آگے دیکھیں کوئی فلاورزشاپ اوپن ہے گو فاسٹ ۔“

”او کے سر ۔“  ڈرائیور کہتا آگے نکل گیا اور اس نے کال او کے کرتے موبائل کان سے لگائی۔

”السلام علیکم سر ۔“

”ایس پی برہان علوی!  مجھے وقار بلوچ زندہ چاہیے مطلب سمجھے کہ ایک بھی خراش نہ آئے اسے، کسی بھی صورت حال میں۔ تمہارے پاس دس گھنٹوں کا وقت ہے۔“ ایک ابھرتے سیاستدان کو کوئی پولیس کی سخت سیکورٹی میں بھی کڈنیپ کر گیا شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔  ڈی آئی جی کی باتیں سنتے برہان کا دل کیا موبائل دیوار پر دے مارے۔

”سرپر و قار بلوچ نے ۔۔۔۔۔“

”نو ایکسکیوز! ایس پی برہان علوی ہمیں بھی جواب دینا پڑتا ہے ابھی میڈیا کو نہیں معلوم، کل کو معلوم ہوا پولیس کی یونیفارم پر دھبالگ جائے گا چٹ پٹی باتوں سے۔“  غصے  سےکہتے موبائل تو بند ہو گئی پر برہان کا پارہ ہائی ہو گیا۔

”سوری سرپر یہاں کوئی فلاورزشاپ نہیں ہے۔۔۔۔ ایک ہے وہ بھی آٹھ کے بعد بند ہو جاتا ہے۔“  ڈرائیور مؤدب ہو کر کہنا لگا۔

”میرے ساتھ چلو کہاں ہے وہ شاپ ۔ “ آدھا گھنٹہ تو یہاں ہی بیت گیا تھا اسے داد کی تین مس کالز آچکی تھیں۔

”جی سر آئیے۔“

*****

تئیس سالہ داد اپنے ماں باپ کے روم پر نظر رکھتے آہستہ سے آگے بڑھا۔

”اللہ کیا بلا ہم معصوموں کے گھر نازل کی ہے ۔“  ٹھٹک ٹھٹک کر پاؤں نور العین کے روم کی طرف اٹھاتے  ہوئے ساتھ میں ورد بھی جاری تھا۔

اب سب سے بڑی مصیبت روم لاک نہ ہو۔ اگر ناک کر تا تو تیس جوتے کھاتا اپنے باپ کے اگر نہ کر تا تو بڑے بھائی کے۔۔۔ چھوٹا تھا تو سب کیلئے تحفہ تھا جو جیسے آئے استعمال کرے۔

”بب۔۔۔ بونی۔“ دیوار میں منہ چھپا کر آہستہ سے پکارا کہ کوئی سن نہ لے کے چکر میں خود ہی سن ناسکا۔

”بونی ۔“  ایک بار پھر یہاں وہاں دیکھتے بڑبڑایا۔

”افف ایسے کیسے چلے گاداد علوی۔“  تھوک نگل کر گردن اکڑائی۔

”اللہ پناہ ان لڑکیوں سے سلیپنگ کوئین ہونے کے چکر میں ہم معصوم لڑکوں کو ز و مبیز بنادیں گی۔“

دروازے کو تکتے دیوار پر آہستہ سے سرمار نے لگا۔

”تمہیں میں نے نور العین کو جگانے کا کہا تھا بے وقوف کی طرح دیوار سے باتیں کرنے کو نہیں ۔“

”آہہ ۔۔۔۔۔۔۔“  اچانک پیچھے سے آتی بھاری آواز اور کندھے پر رکھے ہاتھ کو محسوس کرتے داد کی چیخ نکلتے نکلتے ر کی ۔ کیونکہ برہان نے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا تھا۔

”کیا لڑکیوں کی طرح چیخیں مار رہے ہو۔“ منہ سے ہاتھ ہٹا کر ڈپٹا۔

 ”بب۔۔۔ بھائی وہ نہیں اٹھ رہی کب سے چیخ رہا ہوں اب تو گلا خشک ہو گیا ہے ۔“  سانس بحال کرتے اس نے  بمشکل کہا۔

”اتنی انرجی اگر دروازہ کھولنے پر لگائی ہوتی تو گلا خشک نہیں ہوتا۔ “ آہستہ سے دروازہ وا کرتے اس نے ملامت  کرتی نظروں سے دیکھا داد صرف سر کھجا کر رہ گیا۔

”ٹرائے کر تو رہا تھا ۔“

”میں جار ہا ہوں چینج  کرنے تب تک تیسری جنگ جیت نے کی کوشش کرو۔“  کندھے سے پکڑ کر اسے  دروازے کے سامنے کرتے خود اپنے روم کی طرف چل پڑا۔

***

”تھو تھو ایسی زندگی پر داد علوی ایک لڑکی کے روم کا دروازہ نہیں کھول سکتے ۔“

پنک کلر کے سنگل بیڈ پر پنک چادر میں لیٹے وجود کو دیکھ کر دانت پیسے۔

”ویسے اس میں میری ہمت کا قصور نہیں۔ مینرز نام کی بھی کوئی چیز ہے ایسے ہی کسی کے روم میں نہیں گھس جاتے۔“

”بے قوف لوگ۔“

”اے بونی اٹھ منحوس جینا حرام کر دیا ہے میرا ۔“  خود کو حوصلہ دلاتے تکیے پر کالی چوٹی کو دیکھ کر آنکھیں پھیلائیں۔

”کہیں چڑیل تو نہیں ۔۔۔۔ یا اللہ اپنی پنہا میں رکھ۔۔۔“

”نور اٹھو۔“ چادر کا کونہ پکڑ کے جھنجھوڑنے لگا پر جواب ندارد۔۔۔۔۔۔

”بونی آخری بار پکار رہا ہوں پھر صبح مجھے الزام مت دینا ۔“  یہاں وہاں کونے دروازے کو دیکھتے چوٹی کو کھینچا۔

” کیا ہے، سونے دو ناداد ۔“ بالوں پر کھینچاکو پر وہ کسمسائی۔

”بونی برہان بھائی بھی آگیا۔ اگر پاپا مما اٹھ گئی تو سوتی رہنا ۔۔ اور اگر اٹھ رہی ہو تو صرف پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس آجاؤ ۔۔۔۔۔۔اور ہمارے پاس ٹوٹل پندرہ منٹس ہیں بارہ بجنے میں ۔“ کلائی میں بندھی گھڑی کو دیکھتے آہستہ سے کہا اور مسکراتا کمرے سے نکلا گیا۔۔۔ مگر جاتے ہوئے سوئے وجود کو دیکھنا نہیں بھولا جس پر اسکے چہرے پر چلبلی مسکراہٹ آگئی۔

”تم کیا سمجھتے ہو بے وقوف ہوں میں مسٹر داد ” ۔۔۔۔۔ منہ سے چادر ہٹا کر اپنی گلابی گال پر لہراتی کالی لٹ کو انگلی سے پیچھے کیا۔

”نیند بھی پوری ہوئی اور سب کچھ ریڈی شاباش نور علوی "۔۔۔۔۔۔ سلیپر زمیں پائوں پھنسا کر اپنا پریس کیا ہوا ریڈ فراک اٹھانے کیلئے ٹیبل کی جانب بڑھی پر وہاں موجود فراک کے جگہ خالی ٹیبل اسکا منہ چڑھارہی تھی ۔

”نور آرہی ہو یا سوتی ہی رہنا ہے۔“ہمیشہ کی طرح ہر چیز میں لیٹ تم سے تو داد ٹھیک ہے کم از کم وقت پر تیار تو  ہوتا ہے۔ “ اسے بت بناد یکھ کر برہان نے دبی ہوئی آواز میں غصے سے کہا جس پر اسکی نظریں تو جھک گئی پر ان میں سمندر لہریں مارنے لگا۔

”کھڑی رہو یہاں۔۔۔ مجھے سخت نفرت ہے ایسے ست انسانوں سے ۔“ دروازے کے پٹ بند کرتے وہ تو چلا  گیا پر اندر کھڑے وجود کے دل پر اداسی سی چھا گئی۔

”آپ کو پسند ہی کیا مجھے میں برہان ۔۔ ہر چیز تو آپکے لیے حور العین سے شروع اور اس پر ختم نظر آتی ہے۔“  اپنے بھرے بھرے گلابی گالوں سے چپکتے موتی ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے بڑ بڑائی۔

”ارے ہماری بونی رور ہی ہے کیا ۔“  دروازے سے منہ نکال کر داد نے اسے روتے دیکھ کر معصومیت سے پوچھا۔

نور نے آواز پر جھٹ سے نظریں اٹھائی تو سامنے ہی دو کالی شرارتی آنکھیں اس پر ٹکی تھیں ۔

”شکل دفع کر و کمینے سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔“ پاؤں سے سلیپر اتار کر دروازے پر نشانہ لگایا۔

کتنا کچھ سوچا تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکی موجودگی میں وہاں جائے گی اور کم وقت میں ریڈی ہو کر کچھ تو بہتر بنے اسکی نظروں میں پر۔۔۔۔۔۔۔

”ہی ہی ہی یار میں نے کیا کیا۔۔۔؟ بھلائی کا تو کوئی زمانہ نہیں۔“  ایک ہاتھ سے سلیپر پکڑا اور دوسرے سے منہ  میں ببل ڈال کر اسکے بھیگی گالوں کو دیکھا۔

”پگلی  اتنی بات پر کوئی روتا ہے یہ لو پکڑو اپنا سلیپر اور بیڈ کے نیچے پڑا ہے تمہار افراک جلد آجاؤ۔ “ سلیپرز کو واپس پھینکتے پچکارا۔

”اور یہ لو فریش اپ کھا کو فریش ہو کر آؤ شاباش میری بونی۔“  جاتے ہوئے منہ میں پڑا بل گم اسکی طرف  پھینکتے مزید کسی کاروائی کا موقعہ دئیے بغیر دروازہ بند کر دیا۔

”اللہ تجھے دیکھے داد پتا نہیں کہاں سے ہم لوگوں کے پیچ بزدل ٹپک پڑا ہے ۔“ وہ اسے کوس تو رہی تھی پر دکھ اسے داد کے مذاق پر نہیں ہو رہا تھا، دکھ تو اسے اپنے آپ پر تھا کہ کہاں دل نے دغا دیا ہے۔

”کیا ہوا بونی تم تیار نہیں ہوئی، تم نے تو بہت کچھ یونی میں کہا تھا اپنی برتھ دے پر یہ کروں گی وہ کروں گی ؟“ سمپل سے وائٹ سوٹ اور گرین دوپٹے میں اداس نور العین کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے داد نے مدہم آواز اور ہمدردی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔

”جن کے گھر میں تم جیسا بزدل کمینہ کزن ہو وہاں ایسا ہی سوگ ہوتا ہے ۔“ داد کی توقع کے مطابق وہ چیخ پڑی۔ جس پر اسکے منہ سے مسکراہٹ کو چھپانا مشکل ترین کام بن گیا۔ اور اس نے داد کے مزے لیتے تاثرات کو دیکھتے جھجھک کر سر کو گھمایا۔

”مجھے سمجھ نہیں آتانور تم خود سے بڑے اپنے کزن سے کسی لینگویج میں بات کر رہی ہو اور ذراسی تمیز نہیں بات کرتے وقت تم میں۔“

”کچھ اچھا نہیں تو برا بولنے سے بھی گریز کروانڈر سٹینڈ ۔۔۔۔۔۔ “ اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتے برہان ناگواری سے بولا۔

”سوری۔“ اور نور العین اس کی تو یہ حالت تھی کہ نہ رو سکتی تھی اور نہ چیخ۔

”رہنے دیں بھائی بچی ہے ابھی۔“  داد نے مصالحہ ڈالناضروری سمجھا۔

”تم دونوں چلو میں اسے لیکر آتا ہوں ۔“  برہان کے کہنے پر داد اور نور العین دونوں لاؤنج میں آگئیں۔۔۔۔ پر جاتے ہوئے پلٹ کر برہان کے ہاتھ میں شاپر دیکھنا نہیں بھولی۔

لاؤنج میں کمال علوی اور آسیہ بیگم کی موجودگی کو دیکھ کر دونوں وہیں رک گئے۔

”ابو امی آپ ۔۔۔۔۔۔“  داد کی پکار پر دونوں مسکرا پڑے۔

”ہم نے سوچا کہ اس حسین محفل کا حصہ بن جائیں اور تم لوگوں کو سرپرائز دیں کیوں جی ۔“  آسیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

پر یہاں تو ہم خود سرپرائز ہو گئے ہیں "۔۔۔۔۔۔ اور مزید نورالعین کو دیکھ کر خوشی سے بولی۔۔۔۔”

”تائی ماں۔“  نور العین آگے بڑھ کر آسیہ بیگم کے ساتھ لگ گئی۔

”ارے کیا ہوا اس خوشی کے موقع پر ہماری گڑیا کی آنکھوں میں آنسو کیوں ؟“ اسکاسر سہلاتے پوچھا۔

”تائی ماں آپکو کو کیوں لگتا ہے یہ خوشی کا موقع ہے؟“

”کیوں ان لوگوں کی خوشی منائی جاتی ہے جو خوشی کو سمجھ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ “ نور کے لفظوں پر داد کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی اور کمال صاحب آسیہ بیگم بھی خاموش رہ گئے۔

”جو ہماری خوشیوں کو ہڑپ جاتے ہیں ہم لوگ پھر انہیں ہی کیوں خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تایا ابو۔“  وہ سینے سے لگی سسک رہی تھی۔

”بس کر دو نور ، اگر خوشی میں شریک ہوئی ہو تو خوش نہیں کر سکتی بدمزگی بھی مت پھیلاؤ۔“ داد کی بات پر نور العین نے غصے سے اسے دیکھا۔

”میں یہاں خوش میں شریک ہونے نہیں یہ دیکھنے آئی ہوں کہ دوسروں کی خوشیوں کو نگل کر خود کتنا خوش رہ سکتے ہیں۔“

Dasht e Wehsat Urdu Novel Complete PDF Download

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close