Usri Yusra Novel by Husna Hussain

Usri Yusra Novel in Urdu

معروف ناول نگار”حسنہ حسین“  ایک قادر الکلام مصنفہ ہیں اپنے سادہ فنِ تحریر اور مخصوص لفاظی  کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مصنفہ کی تحریروں میں ربط ، روانی، خوبصورت الفاظ کا چناؤ، وضاحتی اندازِ بیان، سنجیدگی، تسلسل اور اختصار بدرجہ اتم  موجود ہیں۔ ”حسنہ حسین“ کے ہماری نظر میں سب سے متاثر کن خوبی رومانس کو بیان کرنے میں شوخ بیانی سے کام لینے کی بجائے اخلاق کے دائرے میں رہتے  ہوئے چیزوں کو سمیٹنا ہے، جو کہ اُن کو دورِ جدید  کی باقی مصنفات سے ممتاز کرتی ہے۔

ناول عسر یسرا:

اول عسر یسرا، محترمہ حسنہ حسین کی  ایک نہایت خوبصورت تحریر ہے۔ ناول کی باریک بینی سے بے حد نفیس انداز میں ایک کہانی کا احاطہ کیا ہے جس کا  بنیادی  مقصد قارئین میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ کس طرح ہر منزل کو پہنچنے والا راستہ خاردار ضرور ہے مگر اس کی منزل فرش ِگُل ہے۔

حالات کے تناظر میں انسان کو ہمت باندھنے ، ہمہ وقت مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرکے اپنے لیے دشوار راستوں کو تسخیر کرنے اور منزل کے نشان کو پا لینے کی جستجو، ناول کا روشن باب ہیں۔

عسرِ یسرا ناول میں دراصل قرآنِ کریم کی رو سے  ایک آیت ”ہرمشکل کے بعد آسانی ہے ۔ (ترجمہ)“  کی  ترجمانی کی گئی ہے جس میں انسانی زندگی کے مختلف بابوں میں سے سب سے اہم باب کو ناول کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ انسانی زندگی جہاں ایک آزمائش ہے وہیں اِس جہاں میں آزمائشوں کے کئی درجے ہیں۔ ہر انسان جو ان درجوں میں سے ہر ایک کو پار کرنے کے بعد اپنے اعصاب کو مظبوط سے مظبوط تر کرتا جائے وہی اس آزمائش میں کامیاب ہے۔

ایک مفصل باب کی صورت میں، مصنفہ نے ایک بے کس  مجبور، خاندان اور خونی رشتوں سے قطع تعلق لڑکی  کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔ ”جنت“ کی زندگی گویا طوفان زدہ سمندر میں ہچکولے کھاتی کشتی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ جہاں انسان کو مشکل وقت میں خونی رشتے، مدد اور حالات کے مقابلہ کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں ، وہیں ایک ایسا انسان جو ان سب سے محروم ہو، اُس کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ جنت کی حالتِ زار بھی کچھ ایسی ہے۔ لیکن مشہور مقولے ”اُمید پر دنیا قائم ہے“ کی رو سے کامیابی، جہدِ مسلسل کا تقاضا کرتی ہے۔ جو اس  میں کامیاب ہوا ، منزل اُس کا انعام ہے۔

ناول نے جہاں جنت کی زندگی کے حالات وواقعات پر روشنی ڈالی ہے وہیں ایک اور مرکزی کردار ”فارس“ کی سوانح حیات بھی قابلِ ذکر ہے۔ فارس وجدان شیرازی کی کیفیت بھی جنت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ فارس کی مثال ایک ایسے خزاں رسیدہ درخت کی سی ہے جس پر بہت سے وار اپنے ہی خونی رشتوں کی جانب سے ہوئے ہیں۔ جن میں اول الذکر اُ س کے اپنے والد ہیں جنہوں نے ستم ظریفی کی انتہا کرتے ہوئے اُسے معاشرے کے سامنے اپنے  کسی نوکر کابیٹا ظاہر کیا، جو کہ پسِ پردہ کسی  ناجائز اولاد کا تاثر دیتا ہے۔ حالات کے اِس چکر نے فارس  کو ایک خود پسند،  خلوص و محبت  کے جذبات سے عاری، رشتوں سے قدرے محتاط کردار بنا کر پیش   کیا ہے۔

 ناول میں مصنفہ نے معاشرتی بگاڑ کے ایک بہت بڑے سبب ”طلاق“ اور اُس کے بعد کی زندگی پر  قرآن پاک کی سورۃ الطلاق  کی آیات کی مدد سے تفصیلاً قلم فرسائی کی ہے۔ گو کہ طلاق اللہ کے نزدیک حلال اعمال میں سب سے ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس سے قطع تعلق ، قرآن کریم میں اس موضوع کے ساتھ ایک باقاعدہ سورۃ، سورۃ الطلاق موجود ہے جس میں  طلاق  اور اس سے منسلک شرعی  احکامات کو   بیان کیا گیا ہے۔

بہت سے انسان جن کی زندگیوں میں یہ مرحلہ آیا ۔ جن میں سے شاید چند ایک ہوں جنہوں نے اسے اپنا اوڑھنا بچھونا نہ بنایا ہو بلکہ اسے ایک اندھیری رات سمجھ  کر گزارنے کے بعد روشن صبح کی جانب پیش قدمی کی ہو۔ در حقیقت یہی اصول دنیا ہے جیسے دنیا میں کسی بھی چیز کو ثبات حاصل نہیں ، ہر رونما ہونے والا واقعہ عارضی ہے ، عقل  مند انسان وہ ہے جو ان حادثات و واقعات کو زندگی کے  ایک باب کے طور پر سمجھے ، انہیں گزار دے تاکہ آگے آنے والی زندگی ایک نئی سوچ اور مقصد کے ساتھ دوبارہ ایک نئے خوبصورت آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

Usri Yusra Novel

مرکزی کردار:

فارس وجدان شیرازی:

شیرازی انٹرپرائزز کا  چیف ایگزیکٹو آفیسر۔۔۔ دراز قامت ، چوڑے شانے اور  ورزشی جسامت کا مالک ایک خوبصورت نوجوان

جنت کمال:

پراعتماد شخصیت اور پر کشش نقوش، شہد رنگ  آنکھیں، روشن اور کومل چہرہ۔

اہم کردار:

مسز  شیرازی ۔۔۔ جمیلہ داؤد۔۔۔فارس وجدان کی سوتیلی  ماں۔۔۔ شفیق، مہربان، نرم مزاج اور اخلاق حسنہ کی مالک

سائرہ خالہ۔۔۔جنت کی خالہ۔۔۔ شیرازی خاندان کے ساتھ جنت کا رشتہ ان  ہی کے توسط سے ہوا

سدرہ۔۔۔ سائرہ  خالہ کی بیٹی

عمار۔۔۔۔ سائرہ خالہ کا بیٹا۔۔۔۔ جنت کا دیوانہ

آئمہ ظہیر۔۔۔۔  فارس وجدان  کے بزنس پارٹنر کی بیٹی۔۔۔ فارس کی منہ بھولی بہن

آمنہ۔۔۔ آئمہ کی بھابھی۔۔۔ خوش اخلاق اور ملنسار

عذیر۔۔۔ آئمہ کا بھائی

عدینہ زبیر۔۔۔ فارس شیرازی کی پہلی بیوی۔۔۔ منفی کردار

آرزو جہانگیر: فارس وجدان کی حقیقی ماں

زمان صفدر۔۔۔ جنت کمال کا تایا زاد۔۔۔ منفی کردار

ڈاکٹر مصطفٰی۔۔۔  شیرازی خاندان کا فیملی ڈاکٹر۔۔۔ جنت کمال کا نانا۔۔۔ ایک ملنسار شخصیت

اقصٰی۔۔۔ وجدان ہاؤس میں جنت کمال کی دوست کم ملازمہ

سلیم۔۔۔ ڈاکٹر مصطفٰی کے گھر کا م کاج والا

صابرہ خاتون۔۔۔ سلیم کی والدہ

ہماری منتخب کردہ سطور:

  • بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ (قرآنی آیت مبارک)
  • قرآن کی ہر آیت ایک ”جواب“ ہے اُس” سوال“  کا ،  جو انسان کے اندر اُٹھتا ہے۔ ۔۔  جواب اُ س وقت تک سمجھ  میں نہیں آ سکتا جب تک سوال سمجھ میں نہ  آئے۔
  • زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ نئے ماحول ، نئے رشتوں میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ وہ وقت تحمل مزاجی کی طلب رکھتا ہے، صبر چاہتا ہے۔
  • دنیا کا سب سے حسین اور شفاف جذبہ محبت کا ہے۔ اس جذبے میں صلاحیت ہے نفرت کی ہر چٹان کو پاش پاش کردینے کی۔
  • یہ احساس کتنا اذیت ناک ہوتا ہے کہ آپ موجود ہوں اور کوئی آپ کو  "عدم” کردے۔ آپ ماورائی ہو جائیں۔۔۔۔ نظر ہی نہ آئیں۔
  • جن سے متعلق  ہم یہ گمان کر لیتے ہیں  کہ ان کے بغیر نہیں رہ پائیں گے تو وقت اپنے طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ ان کے بنا بھی رہا جا سکتا ہے۔
  • وقت بہترین استا د ہے۔ ”محرومیوں“ کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔
  • کچھ دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔۔۔ کچھ چیزیں نہیں ملتیں، کچھ لوگ نہیں ملتے، کچھ خواب ادھورے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور کچھ نقصان پور ے نہیں ہوتے۔
  • دعائیں رد نہیں ہوتیں۔۔۔! محفوظ کر لی جاتی ہیں۔ جو آپ مانگ رہےہوں وہ نہ ملے تب بھی آپ کے ہاتھ خالی نہیں لوٹائے جاتے۔ اللہ ہمیشہ بڑھ کر عطا کرتا ہے، وہ آپ کو حیران کردیتا ہے۔
  • دعا مانگتے رہنا چاہیئے، قبول ہو جائے تب بھی، نہ قبول ہو  تب بھی، کہ دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ جواب ضرور آتا ہے۔ جھولی خالی نہیں رہتی۔  اس میں کچھ نہ کچھ ضرور گرتا ہے۔
  • انبیاء کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ وہ دعائیں ترک نہیں کرتے تھے، صبر کرتے تھے اور مانگتے رہتے تھے۔
  • ٹوٹا ہوا انسان یا تو سانس کی طرح ساکن ہوجاتا ہے یا پھر سمندری لہروں کی طرح سرکش۔۔۔۔
  • ایک محرومی کے ساتھ ڈھیر ساری عطائیں بھی تو ہوتی ہیں۔
  • سکون، شکر سےآتا ہے، شکر، صبر سے آتا ہے، صبر اللہ کی رضا میں  راضی ہونے کا نام ہے اور رضا اللہ کی حکمت  پر بھروسہ کرنے سے  آتی ہے۔ بھروسہ ایمان ، اور  ایمان  یقین سے ہوتا ہے۔
  • جب میں ”عطا“ پر غور کرتی ہوں تو  میرے اندر ”شکر“  کا جذبہ سر اُٹھا تا ہے۔ یہی جذبہ  مجھے میری محرومیوں  پر صبر سکھادیتا ہے۔ صبر اللہ کی رضا  سے جڑا ہے۔ رضا اللہ کی حکمت  پر، اس کی رحمت پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے اور میں سوچنے لگتی ہوں  کہ یقیناً اس میں میرے لیے بھلائی ہوگی۔ یقیناً اللہ نے مجھے کسی بڑی مصیبت سے بچانے کے لیے آزمائش  میں ڈالا ہوگا۔ یا مجھے وہ  ان حالات سے اس لیے گزار رہا ہوگا تاکہ وہ بدلے میں مجھے کچھ اور بہترین عطا کرسکے۔
  • اللہ کی زمین بہت بڑی ہے جو اس کا ہوجائے ، اس کے لیے کم نہیں پڑتی۔ وہ اسے پھر بے گھر نہیں ہونے دیتا۔
  • سجدوں میں گرنے والوں کو اللہ کبھی گرنے نہیں دیتا۔
  • زندگی کتنی ہی مشکل ادور سے کیوں نہ گزر رہی ہو، دعا کسی بھی صورت، کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑنی چاہیئے۔
  • دعا کی قبولیت میں اگر تاخیر بھی ہو تو خیر لاتی ہے کیونکہ  جو تاخیر  ”رب“ کی طرف سے ہو وہ ہمیشہ ”خیر“ لاتی ہے۔انتظار بھی ہمیشہ  اُن ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنہیں  کچھ عظیم عطا کرنا مقصود ہو۔
  • کچھ محرومیاں عطا کا ایک روپ ہوتی ہیں۔ اللہ کے  ”کن“ کی منتظر۔۔۔ اپنا روپ بدلنے کو ہر لمحہ مستعد، اصل امتحان تو اس مدت کا ہے  جو اس محرومی میں گزاری جاتی ہے۔اس دوران ہمارے صبر کو جانچا جاتا ہے۔ ہمارے شکر کو پرکھا جاتا ہے۔ پھر ایمان کا درجہ متعین ہوتا ہے۔
  • مانگتے رہو اور دیکھتے جاؤ، اللہ کی مرضی سے  تمہاری جھولی میں کیا گرتا ہے۔ جو گرے اُسے بخوشی اپنا لو، خواہ وہ  نقطے جتنی خوشی یا ذرے جتنی برکت ہی کیوں نہ ہو۔
  • روشنی میں یہ گمان رکھنا کہ راستہ مل  جائے گا، قدرے آسان ہے۔ اصل کمال تو اس کا ہوا جو آزمائش کی تاریکی  میں اس سوچ پر قائم رہا۔ اس وقت جب کوئی راستہ نہ تھا، نہ روشنی باقی رہی تھی۔
  • خود کشی بذات خود ایک مسئلہ ہے،کسی مسئلے کا حل ہرگز نہیں۔ سانسوں کی ڈور خود سے ٹوٹے تو ٹوٹے، تم توڑنے کی کوشش مت کرنا۔
  • جس وقت منفی سوچ جڑ پکڑے اور مایوسی انتہا کی گہری ہوجائے تو سمجھ جاؤ، یہ شیطان کا آخری وار ہے۔ ٹھیک اُس وقت پڑرہا ہے جب وہ تمہارے ”انعام“ سے واقف  ہوچکا ہے۔  ہر صابر کے حصے میں بشارت آتی ہے اور اس بشارت سے ذرا پہلے ۔۔۔ شیطان اندھیرے کو مزید گہرا کرتا ہے۔ یہ کام وہ ہر اُس مومن کے ساتھ کرتا ہے  جو اپنی آزمائش میں صامد (ڈٹا) رہا ہو۔ طلوع آفتا ب سے پہلے رات بہت تاریک ہوتی ہے ۔۔۔ بہت زیادہ تاریک ۔
  • بلاشبہ انبیاء علیہ السلام کے لیے معجزات ہوئے کرتے ہیں مگر وہ معجزے ان کے لیے بھی  بغیر صبر ، دعا اور عاجزی کے نہیں  ہوئے
  • ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں  صرف باہر کی دنیا سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہ ایک جنگ ہے اور قدرے آسان ہے۔ لیکن باہر کی دنیا کے ساتھ ساتھ جو جنگ اپنے اندر،  اپنے آپ سے لڑنی پڑتی ہے، یقین کریں وہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ آپ بار بار مرتے ہیں اور  باربار زندہ کر دیے جاتے ہیں  اسی ایک ہی اذیت سے بار بار  گزرنے کے لیے۔۔۔۔ جہنم بھی اسی لیے جہنم ہے  کہ سب بار بار ہوتا رہے گا۔
  • محبت بھی رزق کی طرح ہوتی ہے، جس کی جو جگہ جس دل میں لکھی ہو، مل کر رہتی ہے۔
  • صبر حالات پر کیا جاتا ہے ظلم پر نہیں ۔ ظلم انسان تب برداشت کرے جب اُس کے  پاس بچاؤ کا کوئی راستہ نہ ہو۔
  • اندر ہی اندر جب ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں تو سب سے پہلا خیال ہمیں اللہ کا ہی آتا ہے مگرہمیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا کہ اب خود کو سمیٹ کر جوڑنا کیسے ہے اور زندگی کا سفر نئے سرے سے شروع کیسے کرنا ہے۔ اس صورت میں قرآن کی آیات ہمیں زندگی سے جڑنا اور سنبھلنا سکھاتی ہیں۔ یہ ہمارے اندر مثبت سوچ پیدا کرتی ہیں۔ کسی مایوسی کی چوٹ پر ، امید کا کون سامرہم رکھنا ہے اور کیسے رکھنا ہے، یہ قرآن ہمیں بتاتا ہے۔
  • ہم سب انسان ہیں۔ ہم سب ٹوٹتے ہیں، ہم سب بکھرتے ہیں، مگر ہم میں سے کامیاب وہ ہے جس نے خود کو سمیٹ کر سنبھالا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ کامل عزم اور یقین کے ساتھ ۔
  • لوگ یہ بات نہیں سمجھتے یا شاید سمجھنا نہیں چاہتے۔ لیکن ایک ہماری پلاننگ ہوتی ہے اور ایک اللہ کی ہوتی ہے۔ ایک راستہ ہم اپنے لیے چاہتے ہیں، اور ایک راستہ اللہ ہمارے لیے چنتا ہے۔ ہمارے لیے کہاں کتنی خیر، اور کتنا شر ہے، اللہ یہ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے تا کہ وہ ہمیں بڑی تکلیف سے بچاسکے۔ اور ہمیں ہمارے صبر کے بدلے کچھ بہترین عطا کر سکے۔
  • جب آپ کو اپنی زندگی اندھیر لگ رہی ہو، سب ختم ہو چکا ہو، دروازے بند ہوں، نہ امید نظر آئے اور نہ آسانی کا کوئی سبب باقی رہا ہو تو اس وقت اللہ آپ کے لیے، آپ کی زندگی میں کچھ نیا کرسکتا ہے۔ اک لمحے میں سب بدل سکتا ہے۔ غم خوشیوں میں، محرومیاں عطا میں ، صبرا جر میں اور خواب حقیقت میں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کے اندر تقوی ہو ۔ اب یہ تقویٰ کن معاملات میں ہوتا ہے؟ ایک خالق کے معاملات میں، دوسرا اس کی مخلوق کےمعاملات میں۔ رشتہ چاہے اللہ کے ساتھ ہو یا اس کی مخلوق کے ساتھ ۔ اسے نبھانے کے لیے آپ کی سوچ ، آپ کی نیت، آپ کے اعمال بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان ہی سے اللہ کی عدالت میں اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ آپ ظالم ٹھہرے ہیں یا پھر مظلوم ؟ آپ حد میں رہے ہیں یا پھر سرکش ہوئے ہیں؟ آپ نے اپنے فرائض بھی سرانجام دیے ہیں یا پھر اپنے حقوق کا ہی مطالبہ کرتے رہے ہیں؟
  • قرآن کے پیغام مرہم کی طرح۔ سینے کی ٹھنڈک اور دل کا سکون۔
  • ”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نجات کی صورت نکال دیتا ہے۔“ (سورۃ الطلاق، آیت نمبر 2)
  • ”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے۔ “ (سورۃ الطلاق، آیت نمبر 4)
  • "جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دیتا ہے اور اسے بڑا اجر بھی دیتا ہے۔“ (سورۃ الطلاق، آیت نمبر 5)
  • شادی ، محبت، خوشی، سکون، عزت، اولاد۔۔۔۔ یہ رزق ہے۔ اور یہ رزق اپنے صاحب تک اللہ  کی مرضی سے ہر حال میں پہنچتا ہے۔ اور وہاں سے پہنچتا ہے جہاں سے گمان بھی نہ ہو ۔ بات صرف اللہ پر توکل کی ہے، امید کی ہے، یقین کی ہے۔ آپ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر اللہ کی ہی مرضی سے قدم اٹھا ئیں گے تو اللہ اپنا حکم ضرور پورا کرے گا۔ جہاں آسانیوں کا وعدہ ہے، وہاں آسانیاں ضرور ملیں گی ۔  ”عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا ۔“  (سورۃ الطلاق، آیت نمبر  7)
  • لوگوں کے ہاتھوں میں آپ کا نصیب نہیں ہوتا ! وہ آپ کے مالک نہیں ہیں۔ وہ آپ کے رازق نہیں ہیں۔ انہوں نے آپ کو تخلیق نہیں کیا ہے۔ سو انہیں اس بات کی اجازت ہی کیوں دی جائے کہ وہ آپ کے اندر مایوی کا زہر بھر دیں؟ آپ سے آپ کے خواب چھین لیں؟ آپ کو آپ کی اپنی نظروں میں بے وقعت کر دیں؟  مگر آپ نے صرف اللہ پر ہی بھروسا رکھنا ہے جس نے آپ سے خود آسانیوں کا وعدہ کیا ہے۔
  • طلاق اس بات کی علامت ہے آپ کا ایک تعلق، ایک رشتہ، آپ کی اپنی بہتری کے لیے ختم ہو چکا، اس بات کی نہیں کہ آپ ختم ہو چکے ۔ ہر اختتام ایک نئے آغاز سے جڑ جاتا ہے۔ یہ ہم ہیں جو اپنا اینڈ خود کر لیتے ہیں؟ ان لوگوں کی وجہ سے جن کا ہماری زندگی پر کوئی اختیار نہیں۔
  • جو آپ کا ہے وہ آپ ہی کا ہے۔ پوری دنیا مل کر بھی آپ کو اس نعمت سے محروم نہیں کرسکتی  جو اللہ تبارک وتعالٰی نے آپ کے لیے لکھ دی ہے۔

ناول سے منتخب اشعار:

دل میں ہے وفا کی طلب،  لب پہ سوال  بھی نہیں

ہم ہیں حصارِدرد میں، اُس کو خیال بھی نہیں

اتنا ہے اُس سے رابطہ، چھاؤں سے جتنا دھوپ کا

گر یہ نہیں ہے ہجر،  تو پھر یہ وصال بھی نہیں

وہ جو انا پرست ہے،  میں بھی وفا پرست ہوں

اِس کی بھی مثال نہیں، میری مثال بھی نہیں

تم کو زبان دے چکے ، دل کا جہاں دے چکے

عہدِوفا کو توڑ دیں ، اپنی مجال بھی نہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مجھے سنو

جیسے کوئی بارش کو سنتا ہے

نہ توجہ سے اور نہ بے خیالی سے

دھیمے قدموں کی خاموش آہٹ میں

ابر برساتی اس رم جھم کے درمیاں

اور ہوا میں گرتے اس پانی کے جیسے

ہوا لہرائے ایسے کہ وقت گزرتا ہو جیسے

یہ دن ہے کہ اب گزرا چاہتا ہے

وہ رات ہے کہ آیا چاہتی ہے

اس موڑ پر موجود دھند لکے کی رنگینی میں

اس موڑ پہ موجود وقت کی بے چینی میں

مجھے سنو

جیسے کوئی بارش کو سنتا ہے

مجھے سنے بغیر

سنو میں کیا کہتا ہوں

کھلی آنکھوں کے ساتھ جیتے جاگتے

پانچوں حسوں

کو تمام، بیدار رکھتے ہوئے

ابر برس رہا ہے، دھیمے قدموں جیسے

الفاظ کی دھیمی سرسراہٹ کے جیسے

ہوا، پانی اور لفظ بنا کوئی آواز کیے

یہ جو ہم ہیں اور یہ ماہ و سال و لمحے

اور

نارسا وقت کی گراں بار اداسی لیے

مجھے سنو

جیسے کوئی بارش کو سنتا ہے

(اکتایو پاز)

محاصل:

گو کہ ناول ہر لحاظ سے اپنے آپ میں مکمل ہے ، ناول   کے ہر پہلو کو سمجھنے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناول نے ہماری زندگی کو ایک جہدِ مسلسل سے تشبیہہ دے کر ہمارا یقین اِس بات پر مزید پختہ کردیا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جو ان حالات سے نہ صرف سبق حاصل کرے بلکہ ان کا مقابلہ کرکے اپنی زندگی کو مزید بہتربنائے۔

Download Usri Yusra Novel PDF in Urdu

[epcl_button label=”Download” url=”https://drive.google.com/file/d/14fZDwNyKEfGPMC3EysfET_4V_qxNKGtt/view?usp=drive_link” type=”primary-style” color=”primary-color” size=”regular” target=”_self” rel=”dofollow”][/epcl_button]

متعلقہ ناولز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھ لیں
Close