Skip to navigation Skip to main content
Main Ne Dil Tere Naam Kiya novel mein Shazam Sultan aur Mia ka forced marriage scene
Rank#1660
Views2,88,072

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Main Ne Dil Tere Naam Kiya

No ratings yet 0 ratings

Rate this novel

CompleteRomantic Urdu NovelsSecond Marriage Based

Novel code: Novel20788

Read OnlineDownload PDF

ایک کروڑ روپے... ایک مجبور بیٹی... اور ایسی شادی جس میں محبت نہیں، صرف ایک معاہدہ تھا۔ "تمہاری ماں کے علاج کے لیے ایک کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں، اب بدلے میں تمہیں ساری عمر میرے بیٹے کی غلامی کرنی ہوگی۔" یہ الفاظ سن کر میا کی دنیا ایک لمحے میں بدل گئی۔ اپنی ماں کی جان بچانے کے لیے اسے وہ فیصلہ قبول کرنا پڑا جس نے اس کی اپنی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ شادی کے بعد جب وہ پہلی بار شازم سلطان کے کمرے میں داخل ہوئی تو اسے لگا جیسے وہ گہری نیند میں ہے۔ وہ بے اختیار اس کے قریب جا کر اپنے دل کی بات کہنے لگی، مگر اگلے ہی لمحے ایک سرد، گونج دار آواز نے اس کے وجود میں سنسنی دوڑا دی۔ "تو پھر کیا تم مجھ سے محبت کر بیٹھتیں؟" میا خوف سے پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے دروازے کی طرف بھاگنے کی کوشش کی، مگر شازم سلطان اس کے راستے میں آ کھڑا ہوا۔ اس کی سرمئی آنکھوں میں چھپا غرور، ہاتھ میں گھومتا چاقو اور پراسرار مسکراہٹ میا کے دل میں خوف کی نئی لہر دوڑا رہے تھے۔ کیا یہ جبری شادی کبھی محبت میں بدل سکے گی، یا شازم سلطان کی سخت مزاجی میا کی زندگی کو مزید اذیت میں دھکیل دے گی؟

Read the Novel

 Forced Marriage base | Urdu Romantic Novel |  After Marriage Base |  Rude Hero | Romance | Novelistan

” تمہاری ماں کے علاج کیلئے ایک کروڑ جمع ہو چکا ہے۔ اب بدلے میں تمہیں ساری عمر میہ میرے بیٹے کی غلامی غلامی کرنی ہوگی ” مز ابراہیم کے تلخ الفاظ پر بیا بیا بھیگی میچ کھیں تھی۔ وہ بو چھیل داسند ہونی تھی۔ وہ بوجھل دل مرد پاسو گہری نیند سو تے شخص کے پاس آئی۔ “شازم
جام سلطان۔۔ وہ بڑ بڑائی اسی “شخص۔۔۔ یہی تا ۔۔ یہ بڑائی شخص کا۔ ” کاش تم ٹھیک ہوتے اور میں تم سے املات میں ہوتی ” وہ یاسیت سے لہجے میں میں بولی ” بے بولی۔
” تو پھر کیا تم مجھے مجھ سے محبت کر بیٹھتی؟ وہ سحر مرر مردانه آواز میا کو نگمز مردانہ بتا یا کو حواس باختہ ہونے پر مجبور کر کر وہ لرق رڑتی ٹانگوں سے دراازے گر تھی۔ درواز تھے کی قر جانب جانب بھال کر پیچ آتا یہا ایک دانتے جست ایک ایک تھی۔ شیخ محمد کر لرزتی ٹانگوں سے دروازت ہے کا راستہ۔ دروازے کی جانب بھاگی مگر وہ ایک جست لگا کر بیچ میں آتا اسکا راستہ بند کر گیا تھا۔ کر گیا تھا۔ “ششش آواز
” وہ چاقو گھماتا اپنی سرمئی آنکھیں تیار پر منش ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما پر گاڑے اسکی جان نکال گیا۔

 

Main Ne Dil Tere Naam Kiya novel mein Shazam Sultan aur Mia ka forced marriage scene

Main Ne Dil Tere Naam Kiya ke is excerpt mein Shazam Sultan aur Mia ki zabardasti shaadi aur suspense se bharpoor pehli mulaqat.

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Main Ne Dil Tere Naam Kiya, Shazam Sultan, Mia, Forced Marriage, After Marriage, Romantic Urdu Novel, Rude Hero, Love Story, Urdu Fiction, Novelistan, Novelistan.pk

 

Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *