Sneak
نادر مغل اپنے گاؤں کے بہت بڑے جاگیردار تھے پر انکا مزاج کبھی جاگیردارانہ نہی رہا تھا کیوں کہ جاگیردار ہو کر بھی ایک نرم مزاج اور سلجھے ہوئے انسان تھے انکی بیوی سلیمہ بیگم بھی ان کی طرح نرم مزاج اور سلجھی ہوئی خاتون تھی خدا نے انکو دو بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا تھا ماجد مغل،، ساجد مغل انکی بیٹی میں چونکہ نادر مغل کی جان تھی تو انہوں نے اپنے نام سے اپنی بیٹی کا نام نادرا رکھا اور یہ اولاد انکو اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی اور اس بات کا شکر وہ دونوں ہر دم کرتے اور ہر مہینے اپنے بچوں کی سلامتی کے لیئے گاؤں کے سب سے بڑے میدان میں بہت بڑا لنگر لگتا جہاں سارا دن گاؤں کا ہر غریب مسکین کھانا کھاتا اور اسی کے ساتھ غریبوں میں ان کی ضرورت کے حساب سے وافر مقدار میں سامان تقسیم کیا جاتا ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا گاؤں کے لوگ خوش تھے کہ نادر مغل جیسا انسان انکے گاؤں اور آس پاس کے چونتیس گاؤں کا سرپنچ ہے کوئی مسئلہ ہو سب سے پہلے نادر مغل کو یاد کیا جاتا تھا انکے انصاف کا ڈنکا ہر جگہ بچتا تھا سچ ، انصاف پسندی دیانت داری، انکی شخصیت کا حصہ تھی اور سب سے زیادہ وہ اصول پسند تھے اور یہی تربیت انہوں نے اپنی اولاد میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی ایک بہت بڑے جاگیردار خاندان میں کی اور اپنے بیٹوں کی شادی بھی ان کی پسند سے کی کیوں کہ ان کے لئے اپنی اولاد کی خوشی سے زیادہ معنی کُچھ نہی رکھتا تھا نایاب بیگم خرم کے بعد کسی بچے کی جنم نہ دے سکی جسکا دکھ انکو ہمیشہ رہا وہ سوچتی کہ کاش انکو اللہ ایک بیٹی دے دیتا اور ان کی فیملی مکمل ہی جاتی ساجد مغل کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی پر ساجد مغل نے اللہ سے امید نہی چھوڑی تھی انکی بیوی نے ان سے یہاں تک کہ دیا تھا کہ وہ دوسری شادی کر لیں پر ساجد مغل نے انکو یہ بات دوبارہ سوچنے سے بھی منع کے دیا تھا انکا یقین تھا کہ اگر انکے نصیب میں اولاد کی نعمت ہے تو وہ زہرا بیگم سے انکو مل جائے گی ورنہ وہ کبھی انکے سر پر سوتن کا بوجھ ڈال کر اپنے رشتے کو کمزور نہی کریں گے پانچ سال کا خرم پوری حویلی کی جان تھا جو اپنی ماں کے پاس کم اور چاچی کے پاس زیادہ رہتا تھا نایاب بیگم بہت اچھے سے زہرا بیگم کا درد سمجھتی تھی تو انہوں نے کبھی زہرا بیگم کو خرم کے قریب جانے سے نے روکا تھا اور اسی سال زہرا بیگم کی دعائیں اور صبر رنگ لے آیا جب ڈاکٹرز نے انکو امید سے ہونے کی خبر سنائی حویلی کا ہر چہرہ آج پر مسرّت تھا ساجد مغل کی خوشی کا آج کوئی ٹھکانہ نہی تھا حویلی میں بہت بڑی خیرات تھی اور آخر کار زہرا نے ایک پُھول سی بیٹی کو جنم دیا جسے سب سے پہلے نایاب بیگم نے اٹھا کر سینے سی لگایا اس سے پہلے کے وہ اس معصوم کو دوبارہ اپنی ماں کے پہلو میں ڈالتی چھ سالہ خرم بھاگتا ہوا آیا کہاں ہے کہاں ہے گڑیا مما یہ آپکے ہاتھ میں گڑیا ہے ہاں بیٹا یہ گڑیا ہے پر تم کو کس نے بتایا مما وہ دادا جی بول رہے تھے ہمارے گھر میں گڑیا آئی ہے مما وہ ہمارے گھر کی گڑیا ہے تو اسکے ساتھ صرف میں کھیلوں گا بھاگنے سے اسکی سانس پُھول گئی تھی پر وہ پھر بھی بولے جا رہا تھا نایاب بیگم نے مسکرا کر اپنے بیٹے کے خوشی سے تمتناتے چہرے کو دیکھا اور کُچھ بولنے کے لیئے لب وا۔ کیئے ھی تھی کہ خرم پھر سے بول اٹھا مما لاؤ اسے مجھے دے دو میں اسکو لے جاتا ہوں اپنے ساتھ کھلاؤں گا نہی بیٹا گڑیا ابھی بہت چھوٹی ہے دیکھو کتنی سی ہے بول نہی سکتی چل نہی سکتی یہ تمہارے ساتھ کیسے کھیلے گی بتاؤ مجھے نایاب بیگم نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا جو ننھی سے ردا کو ھی دیکھ رہا تھا جو ساری دنیا سے بیگانہ ہو کر سونے کا شغل فرما رہے تھے مما اسے مجھے دو میں جگاتا ہوں اسکو کہتے ھی اپنی ماں کے ہاتھ سے ننھی ردا کو لیا اور اس کو آدھی ٹیڑھی سیدھی حالات میں کس کے پکڑا وہ معصوم جو اس افتاد کے لئے بلکل تیّار نہی تھی فوراً گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا اس کے اسطرح رونے پر خرم نے گھبرا کر ماں کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا جنہوں نے مصنوئی غصے سے بیٹے کی طرف دیکھا بیٹا ایسے نہی اٹھاتے مما یہ روتی ہے ہاں بلکل بیٹا میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا یہ ابھی چھوٹی ہے خرم نے منہ بسور کر ناراض نظروں سے اس چھوٹی آفت کو دیکھا جس کی وجہ سے اسکی ماں نے اس سے غصے میں بات کی اچھا بیٹا آپ ابھی اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ کھیلو جاؤ شاباش نایاب بیگم نے اپنے بیٹے کو پچکارتے ہوئے کہا کیوں کہ انکو خرم کے چہرے پر ہلکا غصّہ صاف دیکھ رہا تھا حویلی کی خوشیاں دوگنی ہو گئی تھی خرم اور ردا کی معصوم دشمنی میں سارا گھر الجھا رہتا وہ اس کی گڑیا پٹولے چھپا دیتا جس سے وہ سارا دن اسکے پیچھے گھومتی جو وہ سٹا پو کھیلتی تو وہ آ کر ساری لائنیں مٹا دیتا رسّہ کودنے جاتی تو خود بیچ میں کود پڑتا پکڑ پکڑائی کھیلتی تو خرم خود اسکو پکڑ کے کھڑا ہوتا اور سب کو بولتا آؤ اس کی پکڑ لو وہ معصوم روز روتے حویلی آتی اور ایک ایک کو پکڑ کر خرم کی شکایت لگاتی جس سے سب ایک ایک کر کے خرم کو ڈانٹتے اور وہ روز اس ارادے سے رات کو سوتا کہ صبح اٹھ کر اسکو اور پریشان کروں گا آج تو میں نے بہت کم پریشان کیا ہے Muhabbat Or Junoon, SI Writes Urdu Novel, Childhood Based Urdu Novel, Khurram Mughal Novel, Rida Urdu Novel, Haveli Based Urdu Novel, Cousin Based Urdu Novel, Family Drama Urdu Novel, Zameendar Family Novel, Emotional Urdu Novel #MuhabbatOrJunoon #SIWrites #ChildhoodBasedNovel #KhurramMughal #Rida #HaveliBasedNovel #CousinBasedNovel #FamilyDrama #UrduNovels #Novelistan
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**محبت اور جنون از ایس آئی رائٹس** ایک خاندانی، حویلی اور بچپن کے رشتوں پر مبنی اردو ناول ہے، جس کی ابتدا ایک خوش حال زمیندار خاندان سے ہوتی ہے۔ کہانی میں خاندانی محبت، اولاد کی خواہش، رشتوں کی اہمیت اور دو بچوں خرم اور ردا کی معصوم شرارتوں کو خوب صورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
نادر مغل اپنے گاؤں کے ایک بڑے جاگیردار تھے، لیکن ان کی شخصیت میں روایتی جاگیردارانہ سختی موجود نہیں تھی۔ وہ نرم مزاج، انصاف پسند اور اصولوں کے پابند انسان تھے۔ ان کی اہلیہ سلیمہ بیگم بھی ان کی طرح سلجھی ہوئی اور مہربان خاتون تھیں۔ اللہ نے انہیں دو بیٹوں، ماجد مغل اور ساجد مغل، جبکہ ایک بیٹی نادرا سے نوازا تھا۔ نادر مغل اپنی اولاد سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کی خوشیوں کو ہمیشہ اہمیت دیتے تھے۔
نادر مغل اپنے علاقے سمیت چونتیس گاؤں کے سرپنچ تھے۔ لوگ ان کے انصاف اور دیانت داری پر بھروسہ کرتے تھے۔ ہر مہینے بچوں کی سلامتی کے لیے بڑے پیمانے پر لنگر کا اہتمام کیا جاتا، جہاں غریبوں کو کھانا کھلانے کے ساتھ ان کی ضروریات کے مطابق سامان بھی تقسیم کیا جاتا تھا۔
نادر مغل نے اپنے بچوں کی شادی ان کی پسند کے مطابق کی۔ ماجد مغل کی اہلیہ نایاب بیگم تھیں، جن کا ایک بیٹا خرم تھا۔ دوسری طرف ساجد مغل اور ان کی اہلیہ زہرا بیگم کئی سال سے اولاد کی نعمت کے منتظر تھے۔ زہرا بیگم نے اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دینے کی بات بھی کی، مگر ساجد نے انکار کر دیا۔ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ اگر ان کے نصیب میں اولاد ہوئی تو اللہ انہیں زہرا ہی سے یہ خوشی عطا کرے گا۔
پانچ سالہ خرم پوری حویلی کی جان تھا۔ وہ اپنی والدہ نایاب بیگم سے زیادہ وقت اپنی چچی زہرا بیگم کے پاس گزارتا تھا۔ نایاب بیگم اپنی دیورانی کی محرومی اور دکھ سمجھتی تھیں، اسی لیے انہوں نے کبھی خرم کو زہرا بیگم کے قریب جانے سے نہیں روکا۔
پھر ایک دن زہرا بیگم کی دعائیں قبول ہو گئیں۔ ڈاکٹر نے انہیں امید سے ہونے کی خوش خبری سنائی تو پوری حویلی میں خوشیوں کا ماحول پیدا ہو گیا۔ ساجد مغل کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور گھر میں خیرات کا اہتمام کیا گیا۔ آخرکار زہرا بیگم نے ایک خوب صورت بیٹی کو جنم دیا، جس کا نام ردا رکھا گیا۔
نایاب بیگم نے سب سے پہلے ننھی ردا کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ اسی وقت چھ سالہ خرم بھاگتا ہوا آیا اور اپنی والدہ سے پوچھنے لگا کہ گھر میں آنے والی گڑیا کہاں ہے۔ اسے اپنے دادا سے معلوم ہوا تھا کہ حویلی میں ایک گڑیا آئی ہے، اس لیے وہ اسے اپنے ساتھ لے جا کر کھیلنا چاہتا تھا۔
نایاب بیگم نے اسے سمجھایا کہ ردا ابھی بہت چھوٹی ہے اور نہ چل سکتی ہے، نہ بول سکتی ہے۔ مگر خرم اپنی ضد پر قائم رہا۔ اس نے ننھی ردا کو اٹھایا تو وہ بے آرام ہو کر رونے لگی۔ خرم گھبرا گیا اور اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگا۔ نایاب بیگم نے اسے سمجھایا کہ اتنے چھوٹے بچے کو احتیاط سے اٹھانا چاہیے۔
وقت گزرنے کے ساتھ خرم اور ردا کی معصوم نوک جھونک پوری حویلی کی دلچسپی بن گئی۔ خرم کبھی ردا کے کھلونے چھپا دیتا، کبھی اس کے کھیل کی لکیریں مٹا دیتا اور کبھی رسہ کودتے ہوئے درمیان میں آ جاتا۔ جب ردا دوسرے بچوں کے ساتھ پکڑن پکڑائی کھیلتی تو خرم اسے پکڑ کر کھڑا کر دیتا تاکہ باقی بچے اسے آسانی سے پکڑ سکیں۔
ردا روز روتی ہوئی گھر والوں کے پاس آتی اور خرم کی شکایتیں لگاتی۔ سب اسے ڈانٹتے، مگر خرم رات کو سوتے وقت اگلے دن ردا کو مزید تنگ کرنے کے منصوبے بناتا رہتا۔
**محبت اور جنون** کی اس ابتدائی کہانی میں ایک محبت کرنے والے خاندان، خرم کی شرارتوں اور ردا کی معصوم شکایتوں کے ذریعے بچپن کے یادگار لمحات سامنے آتے ہیں۔ آگے چل کر ان کرداروں کی زندگی کس سمت جائے گی، یہ ابھی کہانی میں ظاہر نہیں ہوا۔
Summary — Urdu
**محبت اور جنون** از ایس آئی رائٹس ایک حویلی اور خاندانی رشتوں پر مبنی اردو ناول ہے، جس کی ابتدا نادر مغل کے خاندان سے ہوتی ہے۔ نادر مغل ایک بااثر مگر نرم مزاج جاگیردار اور چونتیس گاؤں کے سرپنچ ہیں۔ وہ انصاف پسندی، دیانت داری اور غریبوں کی مدد کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
ان کے دو بیٹے ماجد مغل اور ساجد مغل جبکہ ایک بیٹی نادرا ہے۔ ماجد کی اہلیہ نایاب بیگم کا بیٹا خرم پوری حویلی کا لاڈلا ہے۔ دوسری طرف ساجد اور ان کی اہلیہ زہرا بیگم کئی سال سے اولاد کے منتظر ہیں۔ زہرا اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دینے کی بات کرتی ہیں، لیکن ساجد اس تجویز کو مسترد کر دیتے ہیں اور اپنی بیوی کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
بالآخر زہرا بیگم امید سے ہوتی ہیں اور ایک خوب صورت بیٹی ردا کو جنم دیتی ہیں۔ پوری حویلی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔ چھ سالہ خرم اپنی ننھی کزن کو گڑیا سمجھ کر اس کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے، مگر اسے سمجھ نہیں آتا کہ اتنے چھوٹے بچے کو کس طرح سنبھالا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ خرم اور ردا کے درمیان معصوم شرارتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ خرم کبھی اس کے کھلونے چھپا دیتا ہے، کبھی کھیل خراب کرتا ہے اور کبھی اسے دوسرے بچوں سے پکڑوا دیتا ہے۔ ردا روز اس کی شکایت لے کر گھر والوں کے پاس پہنچتی ہے۔
گھر والے خرم کو ڈانٹتے ہیں، مگر وہ اگلے دن اسے مزید تنگ کرنے کی شرارتیں سوچتا رہتا ہے۔ ان دونوں کی نوک جھونک پوری حویلی کی زندگی کا دل چسپ حصہ بن جاتی ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





