Sneak
"مجھے سمجھ نہیں آتا تم سب مجھے ہی کیوں ہر بار ارمان لالہ کے کمرے میں بھیجتے ہو۔۔۔ باقی سب کا تو پردہ ہے۔" وجیہہ کمر پر ہاتھ رکھے سب کزنز اور گھر والوں کے ساتھ بحث میں لگی ہوئی تھی اور وہ سب اس بیوقوف کے اصل بات سے انجان ہونے پر ہنس رہے تھے۔ حویلی میں سخت پردہ تھا تو سب احترام کرتے ایک دوسرے کا فری ہونا، لڑکوں سے بات چیت سخت ناپسند تھی لیکن وجیہہ سب سے چھوٹی ہونے کے ساتھ شرارتی ضدی تھی۔ لیکن اسکی جان ارمان خانزادہ سے ضرور جاتی تھی لیکن وہی شیر کے منہ میں اسے بھیج دیتے تھے۔ اور ابھی اسکا بلاوا آیا تھا کیونکہ آج میڈم نے ڈرائیور کے ساتھ جا کر ریسٹورنٹ میں کالج فرینڈ کے ساتھ پارٹی کی اور اسکے گروپ میں لڑکے بھی تھے۔ "ل۔ لالہ آپ نے بلایا۔۔۔ اندر آؤ پھر بتاتا ہوں کیوں بلایا ہے۔" اس کے سرد تاثرات دیکھتی وہ ڈرتی آئی۔ "آ۔ آج مارنا ضروری ہے کیا ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔" اسے لگا وہ آج ماری جائے گی اسکے غصے سے۔ "کس نے کہا تم شادی شدہ نہیں ہو؟" اسے سو وولٹ کا جھٹکا لگا جب ارمان خانزادہ نے۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**ارمانِ عشق** ایک چائلڈہڈ نکاح، روڈ ہیرو اور پوزیسیو ہیرو پر مبنی رومانوی اردو ناول ہے، جس کی کہانی ارمان خانزادہ اور وجیہہ کے گرد گھومتی ہے۔ حویلی کے سخت خاندانی اصول، وجیہہ کی معصوم شرارتیں، ارمان کا رعب اور ایک غیرمتوقع انکشاف اس کہانی کو دلچسپ بناتے ہیں۔
وجیہہ حویلی کی سب سے چھوٹی، شرارتی اور ضدی لڑکی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بحث کرنے سے نہیں گھبراتی، لیکن ایک شخصیت ایسی ہے جس کے سامنے اس کی ساری شرارتیں اور ضد دم توڑ دیتی ہیں۔ وہ شخصیت ارمان خانزادہ ہے۔
ارمان خانزادہ کا مزاج سخت ہے اور اس کی موجودگی ہی وجیہہ کو خوف زدہ کر دیتی ہے۔ حویلی میں پردے کے اصولوں کی پابندی کی جاتی ہے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان بے تکلفی یا غیرضروری بات چیت پسند نہیں کی جاتی، اس لیے گھر کے تمام افراد ان روایات کا احترام کرتے ہیں۔
مگر وجیہہ کو ایک شکایت ہمیشہ رہتی ہے۔ جب بھی ارمان خانزادہ کو کوئی کام ہوتا ہے تو گھر والے اسے ہی اس کے کمرے میں بھیج دیتے ہیں۔ وجیہہ کو سمجھ نہیں آتا کہ جب باقی سب کے لیے پردے کے اصول موجود ہیں تو ہر بار اسی کو ارمان کے سامنے کیوں بھیجا جاتا ہے۔
ایک دن وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر تمام کزنز اور گھر والوں سے اسی بات پر بحث کرنے لگتی ہے۔ وہ ناراض ہو کر پوچھتی ہے کہ سب اسے ہی ارمان لالہ کے کمرے میں کیوں بھیجتے ہیں۔ گھر والے اس کی باتیں سن کر ہنسنے لگتے ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسی حقیقت سے بے خبر ہے جس کا علم بظاہر باقی سب کو ہے۔
وجیہہ کی شرارتیں صرف حویلی تک محدود نہیں۔ وہ کالج میں بھی اپنی دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی ہے۔ ایک دن وہ ڈرائیور کے ساتھ ریسٹورنٹ جاتی ہے، جہاں اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ پارٹی میں شریک ہوتی ہے۔
اس پارٹی میں لڑکے بھی موجود ہوتے ہیں۔
حویلی کے سخت اصولوں کے پیش نظر یہ بات معمولی نہیں تھی۔ جب ارمان خانزادہ کو اس کے ریسٹورنٹ جانے اور لڑکوں کے ساتھ پارٹی میں موجود ہونے کا علم ہوتا ہے تو وہ وجیہہ کو اپنے کمرے میں طلب کر لیتا ہے۔
ارمان کا بلاوا سنتے ہی وجیہہ کی گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس کا سامنا ایک سخت مزاج شخص سے ہونے والا ہے۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوتی ہے تو ارمان کے سرد تاثرات دیکھ کر مزید خوف زدہ ہو جاتی ہے۔
وہ ہکلاتے ہوئے پوچھتی ہے کہ کیا ارمان نے اسے بلایا ہے۔
ارمان اسے اندر آنے کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ پھر بتائے گا کیوں بلایا ہے۔ اس کے لہجے سے وجیہہ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ناراض ہے۔
وجیہہ گھبرا کر کہتی ہے کہ کیا آج اسے مارنا ضروری ہے، ابھی تو اس کی شادی بھی نہیں ہوئی۔
مگر اس کے جواب میں ارمان خانزادہ ایک ایسا سوال کرتا ہے جو وجیہہ کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے کہ کس نے کہا تم شادی شدہ نہیں ہو؟
ارمان کے اس غیرمتوقع سوال سے وجیہہ کو شدید جھٹکا لگتا ہے۔ جس حقیقت سے وہ اب تک بے خبر تھی، اس کا اشارہ اچانک اس کے سامنے آ جاتا ہے۔
**ارمانِ عشق** کے اس ابتدائی منظر میں وجیہہ کی شرارتیں، ارمان کی سختی، حویلی کی روایات اور ایک پوشیدہ ازدواجی تعلق کا اشارہ کہانی کو ایک اہم موڑ پر لے آتا ہے۔
کیا وجیہہ واقعی پہلے سے نکاح کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسے اس حقیقت سے بے خبر کیوں رکھا گیا؟ اور ارمان خانزادہ اس کے سامنے مزید کیا انکشاف کرنے والا ہے؟
ان سوالات کے جواب اس Sneak میں ظاہر نہیں کیے گئے، لیکن ارمان کا آخری سوال کہانی کے اگلے حصے کے لیے تجسس پیدا کرتا ہے۔
Summary — Urdu
**ارمانِ عشق** ایک چائلڈہڈ نکاح اور حویلی پر مبنی رومانوی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار ارمان خانزادہ اور وجیہہ ہیں۔
وجیہہ حویلی کی سب سے چھوٹی، شرارتی اور ضدی لڑکی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بے تکلفی سے بحث کرتی ہے، مگر ارمان خانزادہ سے بہت ڈرتی ہے۔
حویلی میں پردے اور خاندانی روایات کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔ لڑکوں سے غیرضروری بات چیت پسند نہیں کی جاتی، لیکن جب بھی ارمان کو کوئی کام ہوتا ہے تو گھر والے وجیہہ کو ہی اس کے کمرے میں بھیج دیتے ہیں۔
وجیہہ کو اس بات پر ہمیشہ اعتراض ہوتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ باقی سب کے لیے پردے کے اصول ہونے کے باوجود اسے ارمان کے سامنے کیوں بھیجا جاتا ہے۔ اس کی شکایت سن کر گھر والے ہنسنے لگتے ہیں، کیونکہ وہ ایک اہم حقیقت سے بے خبر ہے۔
ایک دن وجیہہ ڈرائیور کے ساتھ ریسٹورنٹ جا کر اپنے کالج کے دوستوں کی پارٹی میں شریک ہوتی ہے۔ اس گروپ میں لڑکے بھی شامل ہوتے ہیں۔
جب ارمان خانزادہ کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو وہ وجیہہ کو اپنے کمرے میں طلب کر لیتا ہے۔
وجیہہ اس کے سرد تاثرات اور غصے سے خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ گھبراہٹ میں وہ کہتی ہے کہ ابھی تو اس کی شادی بھی نہیں ہوئی، مگر ارمان کا جواب اسے حیران کر دیتا ہے۔
ارمان اس سے پوچھتا ہے کہ کس نے کہا تم شادی شدہ نہیں ہو؟
اس ایک سوال سے وجیہہ کے سامنے ایک نئی الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ کیا اس کا نکاح پہلے ہی ہو چکا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو اسے اس حقیقت کا علم کیوں نہیں؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





