Novelistan Urdu Novels
Novels by Novelistan
8 Urdu Novels Available
Miyan e Qahr o Mehr Novel21025
اٹھارہ سال پہلے قائم ہونے والے ایک رشتے کو عنائزہ نے اپنی پوری زندگی کا انتظار بنا لیا تھا، مگر سہراب شاہ کے لیے وہی نکاح ایک ایسا بندھن تھا جسے وہ واپس آتے ہی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے عنائزہ کو دیکھے بغیر فیصلہ کر لیا تھا کہ گاؤں میں رہنے والی ایک انجان لڑکی اس کی شریکِ حیات نہیں بن سکتی۔ مگر قسمت نے اسے اسی حویلی میں ایک ایسی معصوم لڑکی کے سامنے لا کھڑا کیا جس کی شہد رنگ آنکھیں اور سادہ چہرہ پہلی ہی ملاقات میں اس کے دل کی دھڑکنیں بدل گئے۔ سہراب نہیں جانتا تھا کہ جس اجنبی کی شناخت اب اس کے لیے ایک سوال بن گئی ہے، اس کا جواب اس کے اپنے اٹھارہ سال پرانے نکاح میں چھپا ہے۔
Mehkoom e Ishq Novel21024
جس جرم کا مہرال نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا، اسی جرم کی سزا اس کی پوری زندگی بدلنے والی تھی۔ شاہ حویلی کی ہونے والی دلہن کے اچانک چلے جانے کا الزام ایک معمولی ملازم کی معصوم بیٹی پر آیا تو اس کی بےگناہی کی ہر دہائی بےاثر ثابت ہوئی۔ پھر حیدر شاہ نے سب کے سامنے ایک ایسا فیصلہ سنا دیا جس نے حویلی میں موجود ہر شخص کو ساکت کر دیا۔ مہرال کو سزا ملنی تھی، مگر قید یا حویلی سے نکالے جانے کی صورت میں نہیں بلکہ حیدر شاہ کے نکاح میں آ کر۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا مہرال کبھی اپنی بےگناہی ثابت کر پائے گی، اور اس حویلی کی دیواروں کے پیچھے چھپی حقیقت آخر کیا تھی؟
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Meri Zindagi Novel21022
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟
Nisbat e IShq Novel21018
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟
Hamain Mar Gai Teri Berukhi By Hamda Novel21009
محبت میں ملنے والی بے وفائی اور دل توڑ دینے والا صدمہ، اولاد کی خواہش میں رشتوں کی قربانی، ایک عورت کی عزت اور خودداری کی جنگ، شوہر کی دوسری شادی اور سسرال کے دباؤ کی تلخ حقیقت، تنہائی میں ماں بننے والی سونیا کی درد بھری زندگی، محبت کے نام پر کیے گئے وعدوں کا ٹوٹ جانا، جدائی کے بعد اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی جدوجہد، اور ایسے فیصلے جو رشتوں کی پوری دنیا بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
Mohabbat Lazawal Novel20991
مہوش کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر ارہم کے چہرے پر سختی بدستور قائم تھی۔
"سر، میں بھیک نہیں مانگ رہی... میں کام کر کے آپ کا ایک ایک روپیہ واپس کر دوں گی، بس میرے بھائی کی جان بچا لیجیے۔"
مگر ارہم نے بے رحمی سے منہ پھیر لیا۔
مہوش نے کانپتے ہاتھوں سے استعفیٰ لکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے کیبن سے باہر نکل گئی۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس ایک فیصلے کے بعد اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔
Junoon E Ghairat By PC Novel20980
"اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔"
"میں آپ کے سارے کام کر دوں گی، بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔"
"چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔"
"مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں۔"
"وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی… اور اس کی عزت کی حفاظت اب ارقم کی غیرت بن چکی تھی۔"
"میرم کو یقین تھا کہ وہ خرید لی گئی ہے، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ارقم اسے خریدنے نہیں، بچانے آیا تھا۔۔