Sneak
کہاں جا رہی ہو ڈارلنگ! یہاں سوؤ آکر میرے برابر میں۔ وہ اس کے برابر آکر لیٹا کہ تب ہی وہ ایک جھٹکے سے اس کے برابر سے اٹھی۔ "تمہارا بیڈ ہے یہ میرا نہیں۔ تم ہی سوؤ یہاں۔" وہ ناک چڑھاتی بولی۔ "میری جان اب میں بھی تمہارا اور یہ بستر بھی تمہارا۔" وہ ایک ادا سے بولا۔ "کیا تم نشہ وشہ تو نہیں کر آئے۔ بھول گئے ہو کہ یہ نکاح زبردستی ہوا ہے۔" وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی شیرنی کی مانند غرائی۔ "میری جان! نشے کی کیا ضرورت ہے۔ جو نشہ مجھے تمہیں دیکھ کر چڑھتا ہے وہ نشہ اس دنیا کے ہر نشے کے آگے فیل ہے۔" اس کے اس طرح کہنے پر وہ بری طرح سرخ ہوئی تھی۔ "تم ایک نمبر کے گھٹیا ترین انسان ہو۔ جا رہی ہوں میں اپنے کمرے میں رہنا ہی نہیں مجھے تمہارے ساتھ۔" اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے جاتی وہ ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ دوبارہ سے تھام چکا تھا۔ "اگر چاہتی ہو کہ میں مزید گھٹیا پن کا مظاہرہ نہ کروں تو چپ چاپ یہاں لیٹو اور لیٹ کر سو جاؤ۔" "نہیں تو پھر تم کیا کرو گے؟" وہ جلاتے ہوئے بولی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی وہ ہاتھ بڑھاتا اس کو بستر پر کھینچ چکا تھا۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کیا کروں گا۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
مگر حالات اسے ایک ایسے شخص کی بیوی بنا دیتے ہیں جس کے ساتھ وہ اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنے کے لیے تیار نہیں۔
نکاح کے بعد جب دونوں ایک ہی کمرے میں موجود ہوتے ہیں تو شوہر نہایت بے تکلف انداز میں اسے اپنے برابر بستر پر سونے کے لیے کہتا ہے۔ اس کے لہجے میں شوخی اور اعتماد ہوتا ہے، جیسے وہ اس رشتے کو پوری طرح قبول کر چکا ہو۔
لیکن لڑکی اس کی بات سن کر فوراً بستر سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔
وہ ناراضی سے واضح کر دیتی ہے کہ یہ بستر اس کا نہیں بلکہ شوہر کا ہے اور وہ اس کے ساتھ وہاں نہیں سوئے گی۔
شوہر اس کے انکار سے پیچھے ہٹنے کے بجائے معنی خیز انداز میں کہتا ہے کہ اب وہ خود بھی اس کا ہے اور یہ بستر بھی اسی کا ہے۔
اس کی بے تکلفی لڑکی کو مزید غصہ دلا دیتی ہے۔ وہ حیرت اور ناراضی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے کہ کیا وہ بھول چکا ہے کہ ان دونوں کا نکاح زبردستی ہوا ہے۔
لڑکی کی سخت باتوں کے باوجود شوہر اپنے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔ وہ اسے دیکھ کر مدہوش ہونے کی بات کرتا ہے اور اپنی کشش کو شوخ الفاظ میں ظاہر کرتا ہے۔
اس کے جملے سن کر لڑکی کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے، مگر اس کا غصہ کم نہیں ہوتا۔
وہ شوہر کو سخت الفاظ میں برا بھلا کہتی ہے اور واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اس لیے اپنے کمرے میں واپس جا رہی ہے۔
اس کے لیے یہ محض ایک معمولی ناراضی نہیں بلکہ اپنی مرضی کے خلاف قائم ہونے والے رشتے کے سامنے مزاحمت کا اظہار ہوتا ہے۔
مگر ابھی وہ کمرے سے نکلنے کے لیے قدم بڑھاتی ہی ہے کہ شوہر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیتا ہے۔
وہ سخت لہجے میں اسے خبردار کرتا ہے کہ اگر وہ نہیں چاہتی کہ وہ مزید نامناسب رویہ اختیار کرے تو خاموشی سے بستر پر لیٹ کر سو جائے۔
لڑکی اس دھمکی کے باوجود خوف زدہ ہو کر خاموش نہیں ہوتی۔
وہ اسے مزید چڑانے کے لیے سوال کرتی ہے کہ اگر وہ اس کی بات نہ مانے تو آخر وہ کیا کرے گا۔
یہ سوال دونوں کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
شوہر اس کے جواب میں مزید بحث کرنے کے بجائے اچانک ہاتھ بڑھا کر اسے بستر پر کھینچ لیتا ہے۔
اس غیر متوقع حرکت سے صورت حال مزید کشیدہ ہو جاتی ہے۔ لڑکی اپنی مرضی اور ذاتی حدود پر قائم رہنا چاہتی ہے، جبکہ شوہر اس کے انکار کے باوجود اپنی بات منوانے پر اصرار کرتا ہے۔
اس کے بعد شوہر کی معنی خیز گفتگو اس لمحے کو مزید غیر یقینی بنا دیتی ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی اس صورت حال کا سامنا کیسے کرے گی۔
ایک ایسے نکاح سے شروع ہونے والی یہ کہانی جس میں بیوی کی رضامندی شامل نہیں تھی، دو مختلف مزاج رکھنے والے افراد کے درمیان ازدواجی تعلق کی پیچیدگیوں کو سامنے لاتی ہے۔
ایک طرف خوددار اور بے باک لڑکی ہے جو اپنے فیصلوں پر قائم رہنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسا شوہر ہے جو اس کے شدید انکار کے باوجود اسے اپنے قریب رکھنے پر بضد ہے۔
یہ رومانوی اور جذباتی ڈرامہ جبری نکاح، ازدواجی اختلافات، ذاتی اختیار، رضامندی اور رشتوں میں پیدا ہونے والے تناؤ کو موضوع بناتا ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





