Skip to navigation Skip to main content Skip to content
Aqd e Wehsat Urdu novel cover
Rank#5
Views839.7K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Aqd e Wehsat

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAfter MarriageForced Marriage Based

Novel code: Novel90062

Read OnlineDownload PDF

"بھول گئے ہو کہ یہ نکاح زبردستی ہوا ہے!" اس نے شیرنی کی طرح غراتے ہوئے شوہر کو یاد دلایا۔ وہ اس شخص کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنے کو تیار نہیں تھی، مگر شوہر اس کی ناراضی کو خاطر میں لانے کے بجائے مسلسل اسے اپنے قریب آنے کا کہہ رہا تھا۔ "رہنا ہی نہیں مجھے تمہارے ساتھ!" وہ غصے سے کمرے سے نکلنے لگی، لیکن اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ شوہر کی گرفت میں تھا۔ "اگر چاہتی ہو کہ میں مزید گھٹیا پن کا مظاہرہ نہ کروں تو چپ چاپ یہاں لیٹو!" اس کے سخت لہجے پر بھی وہ پیچھے نہ ہٹی۔ "نہیں تو پھر تم کیا کرو گے؟" اس نے چیلنج کیا، مگر جواب میں وہ اچانک اسے بستر پر کھینچ چکا تھا۔ اب اس کی ضد اور شوہر کا اصرار اس رشتے کو کس موڑ پر لے جائیں گے؟

Read the Novel

Sneak

کہاں جا رہی ہو ڈارلنگ! یہاں سوؤ آکر میرے برابر میں۔ وہ اس کے برابر آکر لیٹا کہ تب ہی وہ ایک جھٹکے سے اس کے برابر سے اٹھی۔ "تمہارا بیڈ ہے یہ میرا نہیں۔ تم ہی سوؤ یہاں۔" وہ ناک چڑھاتی بولی۔ "میری جان اب میں بھی تمہارا اور یہ بستر بھی تمہارا۔" وہ ایک ادا سے بولا۔ "کیا تم نشہ وشہ تو نہیں کر آئے۔ بھول گئے ہو کہ یہ نکاح زبردستی ہوا ہے۔" وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی شیرنی کی مانند غرائی۔ "میری جان! نشے کی کیا ضرورت ہے۔ جو نشہ مجھے تمہیں دیکھ کر چڑھتا ہے وہ نشہ اس دنیا کے ہر نشے کے آگے فیل ہے۔" اس کے اس طرح کہنے پر وہ بری طرح سرخ ہوئی تھی۔ "تم ایک نمبر کے گھٹیا ترین انسان ہو۔ جا رہی ہوں میں اپنے کمرے میں رہنا ہی نہیں مجھے تمہارے ساتھ۔" اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے جاتی وہ ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ دوبارہ سے تھام چکا تھا۔ "اگر چاہتی ہو کہ میں مزید گھٹیا پن کا مظاہرہ نہ کروں تو چپ چاپ یہاں لیٹو اور لیٹ کر سو جاؤ۔" "نہیں تو پھر تم کیا کرو گے؟" وہ جلاتے ہوئے بولی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی وہ ہاتھ بڑھاتا اس کو بستر پر کھینچ چکا تھا۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کیا کروں گا۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Aqd e Wehsat ایک جذباتی اور رومانوی اردو ناول ہے جس میں زبردستی ہونے والے نکاح کے بعد ایک خوددار لڑکی اور اس کے ضدی شوہر کے درمیان پیدا ہونے والی ازدواجی کشمکش کو پیش کیا گیا ہے۔ لڑکی اس رشتے کو اپنی مرضی کے خلاف ہونے والا فیصلہ سمجھتی ہے اور شوہر کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔ دوسری جانب شوہر اس کی ناراضی اور سخت جملوں کے باوجود اسے اپنے قریب رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔ وہ محبت بھرے اور معنی خیز انداز میں اسے مخاطب کرتا ہے، مگر لڑکی اس کے رویے کو قبول کرنے کے بجائے اسے زبردستی ہونے والے نکاح کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ دونوں کے درمیان ہونے والی تیکھی نوک جھونک اس وقت زیادہ سنجیدہ ہو جاتی ہے جب لڑکی اپنے کمرے میں واپس جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ شوہر اسے روک کر اپنے ساتھ رہنے کا حکم دیتا ہے اور اس کے انکار پر زبردستی اسے بستر کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ واقعہ دونوں کے درمیان رضامندی، ذاتی حدود، اختیار اور ازدواجی تعلقات سے متعلق موجود کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔ کہانی میں ایک ایسے رشتے کی ابتدا دکھائی گئی ہے جہاں شوہر کا اصرار اور بیوی کی شدید مزاحمت جذباتی تناؤ پیدا کرتے ہیں۔

Summary — Urdu

زبردستی ہونے والا نکاح ایک بے باک اور خوددار لڑکی کی زندگی میں ایسی تبدیلی لے آتا ہے جسے وہ دل سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس کے نزدیک شادی کا رشتہ صرف ایک رسمی بندھن نہیں بلکہ ایسا فیصلہ ہے جس میں اس کی مرضی اور رضامندی بھی شامل ہونی چاہیے۔
مگر حالات اسے ایک ایسے شخص کی بیوی بنا دیتے ہیں جس کے ساتھ وہ اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنے کے لیے تیار نہیں۔
نکاح کے بعد جب دونوں ایک ہی کمرے میں موجود ہوتے ہیں تو شوہر نہایت بے تکلف انداز میں اسے اپنے برابر بستر پر سونے کے لیے کہتا ہے۔ اس کے لہجے میں شوخی اور اعتماد ہوتا ہے، جیسے وہ اس رشتے کو پوری طرح قبول کر چکا ہو۔
لیکن لڑکی اس کی بات سن کر فوراً بستر سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔
وہ ناراضی سے واضح کر دیتی ہے کہ یہ بستر اس کا نہیں بلکہ شوہر کا ہے اور وہ اس کے ساتھ وہاں نہیں سوئے گی۔
شوہر اس کے انکار سے پیچھے ہٹنے کے بجائے معنی خیز انداز میں کہتا ہے کہ اب وہ خود بھی اس کا ہے اور یہ بستر بھی اسی کا ہے۔
اس کی بے تکلفی لڑکی کو مزید غصہ دلا دیتی ہے۔ وہ حیرت اور ناراضی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے کہ کیا وہ بھول چکا ہے کہ ان دونوں کا نکاح زبردستی ہوا ہے۔
لڑکی کی سخت باتوں کے باوجود شوہر اپنے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔ وہ اسے دیکھ کر مدہوش ہونے کی بات کرتا ہے اور اپنی کشش کو شوخ الفاظ میں ظاہر کرتا ہے۔
اس کے جملے سن کر لڑکی کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے، مگر اس کا غصہ کم نہیں ہوتا۔
وہ شوہر کو سخت الفاظ میں برا بھلا کہتی ہے اور واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اس لیے اپنے کمرے میں واپس جا رہی ہے۔
اس کے لیے یہ محض ایک معمولی ناراضی نہیں بلکہ اپنی مرضی کے خلاف قائم ہونے والے رشتے کے سامنے مزاحمت کا اظہار ہوتا ہے۔
مگر ابھی وہ کمرے سے نکلنے کے لیے قدم بڑھاتی ہی ہے کہ شوہر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیتا ہے۔
وہ سخت لہجے میں اسے خبردار کرتا ہے کہ اگر وہ نہیں چاہتی کہ وہ مزید نامناسب رویہ اختیار کرے تو خاموشی سے بستر پر لیٹ کر سو جائے۔
لڑکی اس دھمکی کے باوجود خوف زدہ ہو کر خاموش نہیں ہوتی۔
وہ اسے مزید چڑانے کے لیے سوال کرتی ہے کہ اگر وہ اس کی بات نہ مانے تو آخر وہ کیا کرے گا۔
یہ سوال دونوں کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
شوہر اس کے جواب میں مزید بحث کرنے کے بجائے اچانک ہاتھ بڑھا کر اسے بستر پر کھینچ لیتا ہے۔
اس غیر متوقع حرکت سے صورت حال مزید کشیدہ ہو جاتی ہے۔ لڑکی اپنی مرضی اور ذاتی حدود پر قائم رہنا چاہتی ہے، جبکہ شوہر اس کے انکار کے باوجود اپنی بات منوانے پر اصرار کرتا ہے۔
اس کے بعد شوہر کی معنی خیز گفتگو اس لمحے کو مزید غیر یقینی بنا دیتی ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی اس صورت حال کا سامنا کیسے کرے گی۔
ایک ایسے نکاح سے شروع ہونے والی یہ کہانی جس میں بیوی کی رضامندی شامل نہیں تھی، دو مختلف مزاج رکھنے والے افراد کے درمیان ازدواجی تعلق کی پیچیدگیوں کو سامنے لاتی ہے۔
ایک طرف خوددار اور بے باک لڑکی ہے جو اپنے فیصلوں پر قائم رہنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسا شوہر ہے جو اس کے شدید انکار کے باوجود اسے اپنے قریب رکھنے پر بضد ہے۔
یہ رومانوی اور جذباتی ڈرامہ جبری نکاح، ازدواجی اختلافات، ذاتی اختیار، رضامندی اور رشتوں میں پیدا ہونے والے تناؤ کو موضوع بناتا ہے۔

Related Keywords

Aqd e Wehsat Novel, Aqd e Wehsat Urdu Novel, Aqd e Wehsat PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complet enovel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *