Sneak
"مجھے برہان آفندی کے خلاف ایف آئی آر کٹوانی ہے۔" اس کی بات پر سامنے بیٹھے انسپکٹر کو جھٹکا لگا اور اس نے نظر گھما کر حیرت سے اپنے کزن کو دیکھا جو اپنی مسکان چھپا رہا تھا۔ "ایف آئی آر۔۔۔ پر کس بنیاد پر لکھوانی ہے۔" انسپکٹر کے کزن نے پوچھا تو وہ غصے سے پھٹ پڑی۔ "میرے بابا زبردستی اس سے میری شادی کروا رہے ہیں، لیکن میں اس سے نفرت کرتی ہوں، وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی لیکن سامنے والے کا دل بھرپور قہقہہ لگانے کا چاہ رہا تھا۔ "انسپکٹر صاحب! آپ بس میری رپورٹ لکھیں۔" وہ ضدی انداز میں بولی تو انسپکٹر نے ساتھ بیٹھے اپنے کزن کی طرف دیکھ کر کہا۔ "بتائیں ڈی ایس پی برہان آفندی! رپورٹ لکھوں یا نہیں۔۔۔" اس کی بات پر لاریب کو جھٹکا لگا وہ کانپتی ہوئی ڈر کے مارے کرسی سے اٹھ کر جیسے ہی جانے لگی جب وہ پیچھے سے بولا۔ "رپورٹ میں یہ بھی لکھ دو برہان آفندی نے زبردستی اغوا کر کے اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
لاریب کو برہان آفندی سے نفرت ہے اور وہ کسی بھی صورت اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ اپنے والد کے فیصلے سے پریشان ہو کر وہ ایک ایسا قدم اٹھانے کا سوچتی ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہوتی۔
وہ سیدھی تھانے پہنچ جاتی ہے تاکہ برہان آفندی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکے۔
تھانے میں موجود انسپکٹر کے سامنے بیٹھ کر وہ غصے سے اعلان کرتی ہے کہ اسے برہان آفندی کے خلاف رپورٹ لکھوانی ہے۔ اس کی بات سنتے ہی انسپکٹر حیران رہ جاتا ہے اور فوراً اپنے ساتھ بیٹھے کزن کی طرف دیکھتا ہے، جو اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
انسپکٹر لاریب سے پوچھتا ہے کہ آخر وہ کس بنیاد پر ایف آئی آر درج کروانا چاہتی ہے۔
لاریب غصے میں جواب دیتی ہے کہ اس کے بابا زبردستی برہان آفندی سے اس کی شادی کروانا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ اس شخص سے نفرت کرتی ہے۔
اپنی بات کہتے ہوئے اسے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ جس شخص کے متعلق وہ اتنی بے خوفی سے شکایت کر رہی ہے، وہی اس کے سامنے بیٹھا سب کچھ سن رہا ہے۔
دوسری جانب برہان آفندی اس کی باتیں سن کر بمشکل اپنی ہنسی قابو میں رکھتا ہے۔ لاریب کا غصہ، اس کی ضد اور اپنے ہی خلاف شکایت سننا اس کے لیے ایک غیر متوقع صورت حال ہوتی ہے۔
لاریب انسپکٹر کے سوالات سے تنگ آ کر ضد کرتی ہے کہ وہ مزید بحث کرنے کے بجائے فوراً اس کی رپورٹ درج کرے۔
اسی لمحے انسپکٹر اپنے ساتھ بیٹھے شخص کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پوچھتا ہے کہ ڈی ایس پی برہان آفندی، کیا اس لڑکی کی رپورٹ لکھ لی جائے؟
یہ نام سنتے ہی لاریب کو شدید جھٹکا لگتا ہے۔
وہ حیرت سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتی ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ جس پولیس افسر کے خلاف وہ ایف آئی آر درج کروانے آئی تھی، وہ شروع سے اس کی تمام باتیں سن رہا تھا۔
لاریب کی ساری بے باکی اچانک گھبراہٹ میں بدل جاتی ہے۔ وہ خوف کے مارے کانپنے لگتی ہے اور فوراً کرسی سے اٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔
مگر ابھی وہ جانے کے لیے قدم بڑھاتی ہی ہے کہ پیچھے سے برہان آفندی کی آواز اسے روک دیتی ہے۔
برہان انسپکٹر سے طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی لکھ لیا جائے کہ برہان آفندی نے اس لڑکی کو زبردستی اغوا کرکے اس کے ساتھ کچھ کیا ہے۔
اس کی بات ادھوری رہ جاتی ہے، مگر لاریب کے لیے یہ چند الفاظ ہی مزید گھبراہٹ کا باعث بن جاتے ہیں۔
ایک طرف لاریب اپنے والد کے فیصلے کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کا ہونے والا شوہر ایک بااثر پولیس افسر ہے جو اس کی شکایت اور غصے کو نہایت مختلف انداز میں لے رہا ہے۔
لاریب اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی شادی سے بچنا چاہتی ہے، لیکن تھانے میں برہان سے ہونے والا غیر متوقع سامنا اس کے لیے ایک نئی مشکل پیدا کر دیتا ہے۔
یہ رومانوی اور خاندانی ڈرامہ ایک ضدی لڑکی، رعب دار پولیس افسر، جبری شادی کے خلاف مزاحمت اور غیر متوقع ملاقات کے گرد گھومتا ہے۔ دونوں کی متضاد شخصیتیں، تیکھی گفتگو اور ایک دوسرے کے لیے سخت ردعمل کہانی میں دلچسپ کشمکش پیدا کرتے ہیں۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





