Skip to navigation Skip to main content Skip to content
Deewangi e dil Urdu novel cover
Rank#21
Views641.6K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Deewangi e dil

No ratings yet

Rate this novel

CompleteFamily DramaFamily Politics

Novel code: Novel90037

Read OnlineDownload PDF

ایک بے باک رپورٹر پریس کانفرنس میں اچانک اسی بااثر سیاست دان کے سامنے آ جاتی ہے جس سے وہ مسلسل بچنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ خان صاحب سب کے سامنے اسے سوال کرنے کی دعوت دیتے ہیں، مگر وہ سرکاری سڑکوں پر اختیار جتانے اور بغیر ثبوت جھگڑنے کا سوال اٹھا کر انہیں غصہ دلا دیتی ہے۔ جواب میں سیاست دان کی معنی خیز اور طنزیہ گفتگو رپورٹر کو مزید مشتعل کر دیتی ہے۔ دونوں کے درمیان ہونے والی تیکھی نوک جھونک ایک غیر متوقع اور دلچسپ لفظی مقابلے میں بدل جاتی ہے۔

Read the Novel

Sneak

"آپ سوال نہیں پوچھ رہی محترمہ۔۔۔ کیا آپ کو چینل کیلئے تازہ خبر نہیں چاہیے۔" اسکے بولنے پر ہال میں سب کے قہقہے گونجے، جبکہ وہ کونے میں منہ چھپانے کی ناکام کوشش کرتی آخر کار پکڑی گئی۔ ضبط سے آنکھیں میچتی اس نے دل میں خوب گالیاں دی اس بدتمیز سیاست دان کو! آج کی کانفرنس میں وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکا اسی شخص سے سامنا ہوگا، جس سے وہ بھاگ رہی تھی۔ وہ کوئی عام شخصیت نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑا نامی گرامی سیاست دان تھا۔ "سر! لوگ۔۔۔ گورنمنٹ کی سڑک کو اپنی باپ کی جاگیر کیوں سمجھتے ہے۔۔؟۔۔۔ اور پھر بغیر ثبوت کے کسی کے ساتھ منہ ماری کر لیتے ہیں۔" اس نے بھی بدلے میں ایسا وار کیا کہ خان صاحب کی آنکھیں ایک پل کو سرخ ہو گئیں۔ غصے سے مٹھی ضبط سے بند کی۔ "لگتا ہے کسی نے آپ کے ساتھ بہت اچھے سے منہ ماری کی ہے، تبھی آپ اتنی سرخ ہو رہی ہیں۔" اسکی معنی خیز بات پر وہ غصے لال ہوتی اسے۔۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Deewangi e dil ایک دلچسپ رومانوی اور ڈرامائی اردو ناول ہے جس میں ایک بے باک خاتون رپورٹر اور بااثر سیاست دان کے درمیان ہونے والی تیکھی نوک جھونک کہانی کو غیر متوقع رخ دیتی ہے۔ ایک اہم پریس کانفرنس میں رپورٹر کا سامنا اچانک اسی طاقتور اور نامور سیاست دان سے ہو جاتا ہے جس سے وہ کسی وجہ سے دور رہنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ وہ ہال کے ایک کونے میں خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہے، لیکن خان صاحب اسے پہچان کر سب کے سامنے سوال کرنے کی دعوت دے دیتے ہیں۔ رپورٹر ان کی طنزیہ بات کا جواب دیتے ہوئے سرکاری سڑکوں پر اختیار جتانے اور بغیر ثبوت دوسروں سے جھگڑنے کا سوال اٹھاتی ہے، جس سے سیاست دان کے غصے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم وہ اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے بجائے معنی خیز انداز میں ایسا جواب دیتا ہے کہ رپورٹر مزید مشتعل ہو جاتی ہے۔ دونوں کی گفتگو میں چھپی ذاتی تلخی، حاضر جوابی اور ایک دوسرے کو لاجواب کرنے کی کوشش کانفرنس کے ماحول کو دلچسپ بنا دیتی ہے۔ یہ کہانی سیاسی اثر و رسوخ، صحافتی بے باکی، ذاتی اختلافات اور رومانوی کشمکش جیسے موضوعات کو پیش کرتی ہے۔

Summary — Urdu

ایک بے باک اور حاضر جواب خاتون رپورٹر اپنے پیشے کے تقاضوں کے مطابق اہم خبروں اور بااثر شخصیات سے سوالات کرنے کی عادی ہے۔ لیکن ایک دن اسے ایسی پریس کانفرنس میں شرکت کرنا پڑتی ہے جہاں اس کا سامنا اسی شخص سے ہو جاتا ہے جس سے وہ کسی بھی صورت دوبارہ ملنا نہیں چاہتی۔

یہ شخص کوئی عام فرد نہیں بلکہ ایک نہایت بااثر، طاقتور اور نامور سیاست دان ہے، جسے لوگ خان صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت میں رعب اور خود اعتمادی نمایاں ہے، جبکہ اس کی گفتگو میں طنز اور دوسروں کو لاجواب کرنے کا انداز موجود ہے۔

رپورٹر کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آج کی پریس کانفرنس میں وہی سیاست دان موجود ہوگا جس سے وہ مسلسل بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جیسے ہی اسے حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ ہال کے ایک کونے میں خود کو چھپانے لگتی ہے تاکہ خان صاحب کی نظر اس پر نہ پڑے۔

مگر اس کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔

خان صاحب اسے دیکھ لیتے ہیں اور سب کے سامنے مخاطب کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ وہ کوئی سوال کیوں نہیں کر رہی۔ وہ طنزیہ انداز میں یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا اسے اپنے نیوز چینل کے لیے کوئی تازہ خبر نہیں چاہیے۔

ان کی بات سنتے ہی ہال میں قہقہے گونج اٹھتے ہیں۔ رپورٹر شرمندگی اور غصے سے اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے اور دل ہی دل میں اس بدتمیز سیاست دان کو خوب برا بھلا کہتی ہے۔

لیکن وہ بھی خاموش رہنے والی لڑکی نہیں ہوتی۔

خود کو سنبھالتے ہوئے وہ ایک ایسا سوال اٹھاتی ہے جو بظاہر سرکاری سڑکوں اور عام شہریوں کے حقوق سے متعلق ہوتا ہے، مگر درحقیقت اس کے اندر خان صاحب کے کسی سابقہ رویے پر طنز چھپا ہوتا ہے۔

وہ سوال کرتی ہے کہ بعض لوگ سرکاری سڑک کو اپنی ذاتی جاگیر کیوں سمجھتے ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے دوسروں کے ساتھ جھگڑا کرنے لگتے ہیں۔

اس اچانک سوال پر خان صاحب کی آنکھوں میں غصہ اتر آتا ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور ضبط سے اپنی مٹھی بھینچ لیتے ہیں۔

رپورٹر کا سوال ان کے لیے غیر متوقع ہوتا ہے، کیونکہ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ بات محض ایک صحافتی سوال نہیں بلکہ ان کی طرف کیا گیا ذاتی طنز بھی ہے۔

تاہم خان صاحب بھی حاضر جوابی میں کسی سے کم نہیں ہوتے۔

وہ اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے نہایت معنی خیز انداز میں جواب دیتے ہیں کہ لگتا ہے کسی نے رپورٹر کے ساتھ بہت اچھی طرح بحث کی ہے، اسی لیے وہ اتنی سرخ ہو رہی ہے۔

ان کی بات سن کر رپورٹر کا غصہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ وہ پہلے ہی اس شخص کے سامنے آنے سے پریشان ہوتی ہے اور اب اس کی طنزیہ گفتگو اسے مزید مشتعل کر دیتی ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود لوگوں کے لیے یہ گفتگو محض سوال و جواب کا سلسلہ ہوتی ہے، مگر دونوں کے انداز سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے درمیان پہلے سے کوئی تلخ واقعہ پیش آ چکا ہے۔

ایک طرف اپنے اختیار اور اثر و رسوخ پر اعتماد رکھنے والا سیاست دان ہے، جو ہر بات کا جواب دینا جانتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک بے باک صحافی ہے جو اس کے رعب سے متاثر ہونے کے بجائے اسے اسی کے انداز میں جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔

ان دونوں کی غیر متوقع ملاقات ایک ایسی لفظی جنگ میں بدل جاتی ہے جس میں ذاتی ناراضی، طنز، غصہ اور حاضر جوابی نمایاں ہوتے ہیں۔

یہ رومانوی ڈرامہ ایک طاقتور سیاست دان اور بے باک خاتون رپورٹر کے درمیان شخصیتوں کے ٹکراؤ، سیاسی اثر و رسوخ، صحافتی سوالات اور جذباتی کشمکش کو پیش کرتا ہے۔ ان کے درمیان موجود سابقہ تلخی اور ایک دوسرے کے لیے سخت ردعمل کہانی میں ایسے سوالات پیدا کرتے ہیں جن کے جواب ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

Related Keywords

Deewangi e dil Novel, Deewangi e dil Urdu Novel, Deewangi e dil PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complet enovel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *