Sneak
"آپ سوال نہیں پوچھ رہی محترمہ۔۔۔ کیا آپ کو چینل کیلئے تازہ خبر نہیں چاہیے۔" اسکے بولنے پر ہال میں سب کے قہقہے گونجے، جبکہ وہ کونے میں منہ چھپانے کی ناکام کوشش کرتی آخر کار پکڑی گئی۔ ضبط سے آنکھیں میچتی اس نے دل میں خوب گالیاں دی اس بدتمیز سیاست دان کو! آج کی کانفرنس میں وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکا اسی شخص سے سامنا ہوگا، جس سے وہ بھاگ رہی تھی۔ وہ کوئی عام شخصیت نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑا نامی گرامی سیاست دان تھا۔ "سر! لوگ۔۔۔ گورنمنٹ کی سڑک کو اپنی باپ کی جاگیر کیوں سمجھتے ہے۔۔؟۔۔۔ اور پھر بغیر ثبوت کے کسی کے ساتھ منہ ماری کر لیتے ہیں۔" اس نے بھی بدلے میں ایسا وار کیا کہ خان صاحب کی آنکھیں ایک پل کو سرخ ہو گئیں۔ غصے سے مٹھی ضبط سے بند کی۔ "لگتا ہے کسی نے آپ کے ساتھ بہت اچھے سے منہ ماری کی ہے، تبھی آپ اتنی سرخ ہو رہی ہیں۔" اسکی معنی خیز بات پر وہ غصے لال ہوتی اسے۔۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
ایک بے باک اور حاضر جواب خاتون رپورٹر اپنے پیشے کے تقاضوں کے مطابق اہم خبروں اور بااثر شخصیات سے سوالات کرنے کی عادی ہے۔ لیکن ایک دن اسے ایسی پریس کانفرنس میں شرکت کرنا پڑتی ہے جہاں اس کا سامنا اسی شخص سے ہو جاتا ہے جس سے وہ کسی بھی صورت دوبارہ ملنا نہیں چاہتی۔
یہ شخص کوئی عام فرد نہیں بلکہ ایک نہایت بااثر، طاقتور اور نامور سیاست دان ہے، جسے لوگ خان صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت میں رعب اور خود اعتمادی نمایاں ہے، جبکہ اس کی گفتگو میں طنز اور دوسروں کو لاجواب کرنے کا انداز موجود ہے۔
رپورٹر کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آج کی پریس کانفرنس میں وہی سیاست دان موجود ہوگا جس سے وہ مسلسل بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جیسے ہی اسے حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ ہال کے ایک کونے میں خود کو چھپانے لگتی ہے تاکہ خان صاحب کی نظر اس پر نہ پڑے۔
مگر اس کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔
خان صاحب اسے دیکھ لیتے ہیں اور سب کے سامنے مخاطب کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ وہ کوئی سوال کیوں نہیں کر رہی۔ وہ طنزیہ انداز میں یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا اسے اپنے نیوز چینل کے لیے کوئی تازہ خبر نہیں چاہیے۔
ان کی بات سنتے ہی ہال میں قہقہے گونج اٹھتے ہیں۔ رپورٹر شرمندگی اور غصے سے اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے اور دل ہی دل میں اس بدتمیز سیاست دان کو خوب برا بھلا کہتی ہے۔
لیکن وہ بھی خاموش رہنے والی لڑکی نہیں ہوتی۔
خود کو سنبھالتے ہوئے وہ ایک ایسا سوال اٹھاتی ہے جو بظاہر سرکاری سڑکوں اور عام شہریوں کے حقوق سے متعلق ہوتا ہے، مگر درحقیقت اس کے اندر خان صاحب کے کسی سابقہ رویے پر طنز چھپا ہوتا ہے۔
وہ سوال کرتی ہے کہ بعض لوگ سرکاری سڑک کو اپنی ذاتی جاگیر کیوں سمجھتے ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے دوسروں کے ساتھ جھگڑا کرنے لگتے ہیں۔
اس اچانک سوال پر خان صاحب کی آنکھوں میں غصہ اتر آتا ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور ضبط سے اپنی مٹھی بھینچ لیتے ہیں۔
رپورٹر کا سوال ان کے لیے غیر متوقع ہوتا ہے، کیونکہ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ بات محض ایک صحافتی سوال نہیں بلکہ ان کی طرف کیا گیا ذاتی طنز بھی ہے۔
تاہم خان صاحب بھی حاضر جوابی میں کسی سے کم نہیں ہوتے۔
وہ اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے نہایت معنی خیز انداز میں جواب دیتے ہیں کہ لگتا ہے کسی نے رپورٹر کے ساتھ بہت اچھی طرح بحث کی ہے، اسی لیے وہ اتنی سرخ ہو رہی ہے۔
ان کی بات سن کر رپورٹر کا غصہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ وہ پہلے ہی اس شخص کے سامنے آنے سے پریشان ہوتی ہے اور اب اس کی طنزیہ گفتگو اسے مزید مشتعل کر دیتی ہے۔
پریس کانفرنس میں موجود لوگوں کے لیے یہ گفتگو محض سوال و جواب کا سلسلہ ہوتی ہے، مگر دونوں کے انداز سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے درمیان پہلے سے کوئی تلخ واقعہ پیش آ چکا ہے۔
ایک طرف اپنے اختیار اور اثر و رسوخ پر اعتماد رکھنے والا سیاست دان ہے، جو ہر بات کا جواب دینا جانتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک بے باک صحافی ہے جو اس کے رعب سے متاثر ہونے کے بجائے اسے اسی کے انداز میں جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔
ان دونوں کی غیر متوقع ملاقات ایک ایسی لفظی جنگ میں بدل جاتی ہے جس میں ذاتی ناراضی، طنز، غصہ اور حاضر جوابی نمایاں ہوتے ہیں۔
یہ رومانوی ڈرامہ ایک طاقتور سیاست دان اور بے باک خاتون رپورٹر کے درمیان شخصیتوں کے ٹکراؤ، سیاسی اثر و رسوخ، صحافتی سوالات اور جذباتی کشمکش کو پیش کرتا ہے۔ ان کے درمیان موجود سابقہ تلخی اور ایک دوسرے کے لیے سخت ردعمل کہانی میں ایسے سوالات پیدا کرتے ہیں جن کے جواب ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕





