Skip to navigation Skip to main content Skip to content
Merham e Jaan Urdu novel cover
Rank#33
Views584.5K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Merham e Jaan

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAge DifferenceFamily Drama

Novel code: Novel90044

Read OnlineDownload PDF

"میری مسکین بھانجی پہلے سوتیلیوں کی جوتیاں سیدھی کرتی رہی، اب پھوپھا سے ہی نکاح رکھ دیا!" خالہ کی سسکیوں پر گل پری کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ بیس اکیس سالہ گل پری کا نکاح اس کی مرحومہ پھوپھی کے شوہر، دو بچوں کے باپ میجر سفیر سے طے کر دیا گیا تھا۔ رشتے دار اسے نکاح سے انکار کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، مگر وہ خوف کے مارے اپنی مرضی بھی بیان نہیں کر پا رہی تھی۔ دوسری طرف میجر سفیر اپنی ماں کے سامنے پھٹ پڑے۔ "ماں! میں پینتیس سال کا ہوں، وہ مجھ سے پندرہ سال چھوٹی ہے۔ اس لڑکی کے ساتھ کتنی زیادتی ہو رہی ہے!" خدیجہ بیگم کے لیے یہ رشتہ گھر اور بچوں کی ضرورت تھا، مگر سفیر کے نزدیک ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ ناانصافی۔ حیرت یہ تھی کہ جس نکاح پر گل پری خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی، اس پر اس کا ہونے والا شوہر بھی مطمئن نہیں تھا۔ پھر آخر دونوں کی زندگی کا یہ فیصلہ کون بدل سکتا تھا؟

Read the Novel

Sneak

میری مسکین بھانجی پہلے سوتیلیوں کی جوتیاں سیدھی کرتی رہی، اب پھوپھا سے ہی نکاح رکھ دیا، میرے ربا کیا کروں؟" خالہ کا بار بار سسکنا اسے گھٹی گھٹی آواز میں کھل کر رونے پر مجبور کر گیا۔

"اے! کیا زیادہ ہی بڈھا ہے؟"

"بڈھا ہے یا نہیں ہے پر پھوپھا تو ہے نا، آج الفت زندہ ہوتی تو میں دیکھتی کون اس کی گل پری کا رشتہ اس رنڈوے پھوپھا سے کرتا، کون اسے پھوپھی کے دو بچوں کی ماں بنا کر رخصت کرتا۔ بڑے خواب تھے ہم دونوں بہنوں کے، ایک ساتھ ہماری شادی ہوئی، ایک ہی مہینے میں میرا عثمان اور گل پری پیدا ہوئے، اسے بہت شوق تھا گل کا نام گل بدن رکھنے کا تب بھی اس کی ایک نہ چلنے دی گئی۔ اتنے دکھ دیے کہ دکھ پیٹ کا کینسر ہی بن گئے، جان ہی لے کر چھوڑے۔ سوچا تھا جب بچے بڑے ہوں گے تو گل کو اپنے عثمان کی دلہن بناؤں گی لیکن میری نصیب جلی بہن بہت ہی تھوڑی عمر لکھوا کر لائی تھی، ہمیں اور چھوٹی سی گل کو روتا چھوڑ کر قبر میں جا سوئی۔"

ماں کے ذکر پر گل کی ہچکیاں بندھ گئیں،"تم نے فیشل کرانے شروع کیے؟  دلہن  کو تو شادی سے کئی ماہ پہلے فیشل ٹریٹمنٹ شروع کر لینی چاہیے۔"

"پھوپھا سے نکاح ہو رہا ہے، شادی نہیں،" فضا نے  طنز پھینکا۔

"تو اور کیا! فیشل تو وہ کروار رہا ہو گا جسے ایسی کم عمر، اللہ میاں کی گائے دلہن مل رہی ہے۔ اس کی تو ندیم نے لاٹری نکال دی۔" عشرت نے بیٹیوں کی بات آگے بڑھائی۔

"میں تو کہتی ہوں گل! اس نکاح سے انکار کر دو، میں ہوتی تو کب کا کر چکی ہوتی۔"

"میں نہیں کر سکتی، نا..." گل کی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگیں۔

"ایسا کرو! اگر تمہیں ندیم خالو اور اپنی آنٹی سے ڈر لگ رہا ہے تو عین نکاح کے وقت انکار کر دینا، تب تمہیں کوئی بھی کچھ بھی نہیں کہہ سکے گا، کوئی ٹارچر نہیں ہوگا۔"

"بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے ندا! تب ہم لوگ کہیں گے گل کی شادی ہمارے عثمان سے کر دیں، یوں تمہیں تمہارا ہم عمر من پسند دولہا مل جائے گا۔ اپنے ظالم باپ اور سوتیلی ماں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔"

گل کہنا چاہتی تھی کہ عثمان کو زبردستی میرا من پسند نہ بناؤ، لیکن وہی ازلی کم ہمتی و خوف آڑے آگیا، کہہ نہ سکی۔ جب بولی تو صرف اتنا کہ:

"نہیں! نہیں! میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔"

"بزدل نہ ہو تو کرو پھر اس پھوپھا سے شادی اور کرنا اپنے پھوپھا سے رومانس!" ندا چلا اٹھی۔ "کتنا گندا لگے گا! تمہیں ایسے شخص سے رومانس کرنا جو تمہارا انکل تھا۔ چھی چھی..."

"شادی تو کزن یا پھر آؤٹ آف فیملی ہی اچھی لگتی ہے، کسی چچا، ماموں، خالو، پھوپا سے تو ہرگز نہیں۔ میں تو سوچ کر ہی مر جاؤں، مجھے شادی والا رومانس ان رشتوں سے کرنا پڑے تو۔"

"اور کیا! گل کی ہمت ہوگی بھئی جو پھوپھا کو جانو کہے گی اور اس کے بچوں کی ماں بھی بنے گی۔"

"میں ہوں تو پاس بھی نہ آنے دوں، نیلا تھوتھا گھول کر پی لیتی پر پھوپھا سے رومانس نہ کرتی۔"

گل کے کانوں سے دھواں نکلنے شروع ہو گے  اسے یہ سب باتیں سوچتے خود سے شرم آتی تھی، پھر یہ جھجک دکھ میں بدلتی تھی، پھر یہ سب دیکھ اس کی آنکھوں سے بہنے لگتا تھا۔ تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ کھانا پینا چھوٹ گیا تھا، بدن ہر وقت بخار کی کیفیت میں سلگتا تھا پر تھرما میٹر میں بخار نہیں آتا تھا۔ اسے اپنے بخار کا معلوم تھا کہ یہ تھرما میٹر میں نہیں آنے والا پر جان بھی نہیں لے گا۔ یہ کیسا روگ ڈاکٹر کیسے دریافت کر لیتا؟ میڈیکل کی کسی کتاب میں یہ روگ و سوگ شامل ہی نہیں تھا۔ اس روگ کا نام اس کی جواں سال مرحومہ پھوپھو کے میاں میجر سفیر سے اس کا نکاح تھا۔"سفیر! نکاح کے لیے کوئی اچھا سا سوٹ تو پسند کر لو پتر، اب دن ہی کتنے ہیں بلکہ میں تو کہتی ہوں دو چار سوٹ اور بھی لے لو، اپنی شاپنگ خود کر لو، ہماری کی ہوئی تمہیں پسند نہیں آئے گی۔"

"ماں! میں اس نکاح کے لیے راضی ہوں، آپ کے لیے یہ کافی نہیں ہے کیا یا میرا مزید مذاق بنوانا چاہتی ہیں؟"

"تو بہ کرو، نکاح تو پاک صاف رشتہ ہے، اس پر کوئی مذاق کیوں بنائے گا؟ مذاق تو حرام تعلق پر بنتا ہے، مذاق کا تمہیں خود ہی وہم لگا ہوا ہے۔"

وہ جو اپنے بیٹے کو انگلی پکڑ کر  چلنا سکھا رہا تھا، بھنا کر  رہ گیا۔

"ظفری! ظفری!"

"جی صاحب!"

ظفری بوتل کے جن کی طرح لاؤنج میں نمودار ہو گیا۔

"زین کہاں ہے؟"

"سر! وہ لان میں کھیل رہا ہے۔"

"زین کو بھی لے جاؤ، بلکہ دونوں کو لے کر پارک چلے جاؤ۔"

"ٹھیک ہے صاحب!"

خدیجہ بیگم اس کی کارروائی دیکھتے ہوئے تسبیح کے دانے گراتی رہیں۔ اب وہ ماں کے سامنے والے صوفے پر جم کر بیٹھ گیا، پھر اس نے اپنے سیاہ ٹراؤزر کو کھینچ کر گھٹنوں سے اونچا کیا۔ خدیجہ بیگم خاموشی سے اس کی کارروائی دیکھتی رہیں۔

"ماں! آپ کو پتا ہے میری عمر کتنی ہے؟"

"اللہ تمہیں میری عمر بھی لگائے۔"

"پینتیس سال، چار مہینے اور تیرہ دن۔"

"اللہ عمر دراز کرے۔" خدیجہ نے پہلو تہی جاری رکھی۔

"بشری کی بچی کی عمر کتنی ہوگی، بیس سال یا اکیس سال؟ اس کے بعد بھی آپ کو لگتا ہے میرا وہم ہے، میرا سرکل  اور یہ جو میرے گرد و نواح میں آفیسرز اور ان کی بیگمات رہتی ہیں، یہ مذاق نہیں اڑائیں گی؟"

"تو تم نے تنہا رہنا تھا، شادی نہیں کرنی تھی؟ جوان جہان ہو، بچے چھوٹے ہیں، تمہیں اور گھر کو عورت کی ضرورت ہے۔"

"ماں! میں بھی تو کہہ رہا ہوں، عورت کی ضرورت تھی، کسی لڑکی کی نہیں۔ اس لڑکی کے ساتھ کتنی زیادتی ہو رہی ہے!"

"تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا، یہ باتیں دل سے نکال دو، گل کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی بلکہ اس کے تو نصیب جاگ اٹھے ہیں۔"

"خود سے پندرہ سال بڑے اور دو بچوں کے باپ سے شادی سے اس کے نصیب جاگ جائیں گے، ماں! کیا نصیب ہیں بیچاری کے؟"

میری مسکین بھانجی پہلے سوتیلیوں کی جوتیاں سیدھی کرتی رہی، اب پھوپھا سے ہی نکاح رکھ دیا، میرے ربا کیا کروں؟" خالہ کا بار بار سسکنا اسے گھٹی گھٹی آواز میں کھل کر رونے پر مجبور کر گیا۔

\#secondmarriage #Dusrishadi #UrduNovel2026 #novels #urdunovels #rudehero #noveladdict #RomanticNovel #EmotionalStory #HeartTouching
 \

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Merham e Jaan ایک دل کو چھو لینے والا جذباتی اور خاندانی اردو ناول ہے جس میں ایک نوجوان لڑکی گل پری اور پینتیس سالہ میجر سفیر کے درمیان طے ہونے والے نکاح کی پیچیدگیوں کو پیش کیا گیا ہے۔ گل پری اپنی ماں کی وفات کے بعد باپ اور سوتیلی ماں کے زیرِ سایہ مشکلات بھری زندگی گزار رہی ہے۔ اس کی زندگی اس وقت مزید پریشان کن ہو جاتی ہے جب اس کا نکاح اپنی مرحومہ پھوپھی کے شوہر میجر سفیر سے طے کر دیا جاتا ہے۔ میجر سفیر دو بچوں کے باپ ہیں اور گل پری سے تقریباً پندرہ سال بڑے ہیں۔ خاندان کے بعض افراد اس رشتے کو گل پری کے لیے ناانصافی سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے اس کے مستقبل اور سفیر کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مناسب قرار دیتے ہیں۔ رشتے داروں کے طنزیہ جملے اور عمر کے فرق پر ہونے والی گفتگو گل پری کی ذہنی اذیت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کر پاتی، حالانکہ اندر سے شدید پریشان ہے۔ دوسری جانب میجر سفیر بھی اس نکاح کو خوش دلی سے قبول نہیں کر رہے۔ وہ اپنی والدہ خدیجہ بیگم کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک کم عمر لڑکی کو دو بچوں کے باپ کے ساتھ بیاہ دینا اس کے ساتھ زیادتی ہے۔ مگر والدہ گھر اور بچوں کی ضرورت کو اہم سمجھتی ہیں۔ یہ ناول جبری شادی، عمر کے فرق، دوسری شادی، سوتیلے رشتوں، خاندانی دباؤ اور عورت کی رضامندی جیسے حساس موضوعات کو جذباتی انداز میں پیش کرتا ہے۔

Summary — Urdu

گل پری ایک کم عمر، معصوم اور حساس لڑکی ہے جس کی زندگی بچپن ہی سے دکھوں اور محرومیوں سے گھری ہوئی ہے۔ ماں کی وفات کے بعد وہ اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے زیرِ سایہ ایسی زندگی گزارتی ہے جہاں اس کی خواہشات اور فیصلوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
اس کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب خاندان والے اس کا نکاح اس کی مرحومہ پھوپھی کے شوہر میجر سفیر سے طے کر دیتے ہیں۔
میجر سفیر پینتیس سالہ فوجی افسر اور دو بچوں کے باپ ہیں۔ گل پری کی عمر تقریباً بیس یا اکیس سال ہے اور دونوں کے درمیان قریب پندرہ سال کا فرق ہے۔
گل پری کے لیے یہ رشتہ صرف عمر کے فرق کی وجہ سے مشکل نہیں بلکہ اس لیے بھی ذہنی اذیت کا سبب ہے کہ جس شخص کو وہ پہلے پھوپھا کے رشتے سے جانتی تھی، اب اسے اسی کی بیوی بننا ہے۔
ایک موقع پر اس کی خالہ اسے اس رشتے پر روتے ہوئے دیکھتی ہیں تو اپنے دکھ پر قابو نہیں رکھ پاتیں۔ وہ گل پری کی مرحومہ ماں الفت کو یاد کرتی ہیں اور شکوہ کرتی ہیں کہ اگر آج وہ زندہ ہوتی تو شاید کوئی اس کی بیٹی کے ساتھ ایسا فیصلہ نہ کر پاتا۔
خالہ کو اپنی بہن کے ساتھ گزارے ہوئے دن یاد آتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ دونوں بہنوں کی شادی ایک ساتھ ہوئی تھی اور ان کے بچے بھی ایک ہی مہینے میں پیدا ہوئے تھے۔
خالہ کا بیٹا عثمان اور گل پری بچپن ہی سے ایک دوسرے کے ہم عمر ہیں۔ خالہ نے کبھی خواہش کی تھی کہ بڑی ہو کر گل پری ان کے بیٹے عثمان کی دلہن بنے، لیکن زندگی نے ان کے خوابوں کو حقیقت بننے کا موقع نہیں دیا۔
الفت کی وفات نے ننھی گل پری کو ماں کی محبت سے محروم کر دیا اور اس کی زندگی پہلے ہی ایک مشکل راستے پر چل پڑی تھی۔
اب اس کے نکاح کا فیصلہ خاندان میں بحث اور طنز کا موضوع بن چکا ہے۔
فضا، ندا اور دوسری خواتین گل پری کے سامنے اس رشتے کے متعلق ایسی باتیں کرتی ہیں جو اس کی شرمندگی، جھجک اور ذہنی پریشانی کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
کوئی اس کی شادی کے لیے سجنے سنورنے کا ذکر کرتا ہے تو کوئی طنز کرتا ہے کہ یہ عام شادی نہیں بلکہ اس کے پھوپھا سے نکاح ہے۔
گل پری یہ تمام جملے خاموشی سے سنتی رہتی ہے۔ اسے اپنے ہونے والے نکاح کا خیال ہی پریشان کر دیتا ہے، لیکن اپنے اردگرد ہونے والی گفتگو کے سامنے وہ خود کو مزید بے بس محسوس کرنے لگتی ہے۔
ندا اسے مشورہ دیتی ہے کہ وہ نکاح سے انکار کر دے۔ اس کے مطابق اگر گل پری عین نکاح کے وقت انکار کرے تو کوئی اسے مجبور نہیں کر سکے گا۔
خالہ بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے خواہش ظاہر کرتی ہیں کہ گل پری کا رشتہ ان کے بیٹے عثمان سے کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے ہم عمر لڑکے سے شادی کر سکے اور باپ اور سوتیلی ماں کے سخت رویے سے نجات پا سکے۔
لیکن گل پری کے دل میں عثمان کے متعلق ایسی کوئی واضح خواہش موجود نہیں ہوتی۔
وہ کہنا چاہتی ہے کہ عثمان کو زبردستی اس کا پسندیدہ دولہا قرار نہ دیا جائے، مگر اس کی فطری جھجک اور خوف اسے اپنے جذبات کھل کر بیان کرنے نہیں دیتے۔
وہ صرف اتنا کہہ پاتی ہے کہ نکاح کے وقت انکار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
اس کے جواب میں اسے مزید طنزیہ باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ شادی کے بعد میجر سفیر کے ساتھ اس کے تعلق اور بچوں کی ذمہ داریوں کا ذکر اسے اندر سے توڑنے لگتا ہے۔
مسلسل ذہنی دباؤ کا اثر گل پری کی صحت پر بھی پڑنے لگتا ہے۔
اس کی بھوک ختم ہو جاتی ہے، بدن ہر وقت بخار کی کیفیت میں محسوس ہوتا ہے اور دل ایسی بے چینی سے بھر جاتا ہے جسے وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتی۔
یہ ایسا دکھ ہوتا ہے جس کا احساس تو شدید ہے، مگر طبی معائنے میں کوئی واضح بیماری سامنے نہیں آتی۔
گل پری جانتی ہے کہ اس کی اس بے چینی اور اذیت کا تعلق اسی نکاح سے ہے جس کے لیے وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہی۔
دوسری جانب میجر سفیر بھی اس رشتے کے متعلق شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہیں۔
ان کی والدہ خدیجہ بیگم چاہتی ہیں کہ وہ نکاح کے لیے اچھے کپڑے پسند کریں اور شادی کی تیاریوں میں دلچسپی لیں، مگر سفیر کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
وہ والدہ سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نکاح کے لیے ان کی رضامندی ہی کیا کافی نہیں، جو اب مزید تیاریوں کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔
خدیجہ بیگم انہیں سمجھاتی ہیں کہ نکاح ایک پاکیزہ رشتہ ہے اور اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں۔
لیکن سفیر کی پریشانی کی اصل وجہ کچھ اور ہوتی ہے۔
وہ اپنے دونوں بچوں کو ملازم ظفری کے ساتھ پارک بھیج دیتے ہیں تاکہ والدہ سے تنہائی میں اس معاملے پر بات کر سکیں۔
پھر وہ خدیجہ بیگم کو اپنی عمر یاد دلاتے ہیں۔
سفیر پینتیس سال، چار ماہ اور تیرہ دن کے ہو چکے ہیں، جبکہ گل پری محض بیس یا اکیس سال کی نوجوان لڑکی ہے۔
وہ والدہ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اتنے بڑے عمر کے فرق کے باوجود انہیں یہ رشتہ غیر معمولی محسوس نہیں ہوتا؟
سفیر کو اپنے سماجی حلقے، ساتھی فوجی افسران اور ان کے خاندانوں کے تبصروں کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔
خدیجہ بیگم اس اعتراض کو غیر ضروری سمجھتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہوتا ہے کہ سفیر جوان ہیں، ان کے بچے چھوٹے ہیں اور گھر کو ایک عورت کی ضرورت ہے۔
مگر سفیر اس دلیل سے متفق نہیں ہوتے۔
وہ والدہ کو سمجھاتے ہیں کہ انہیں گھر سنبھالنے کے لیے ایک شریکِ حیات کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک اتنی کم عمر لڑکی کو ایسے رشتے میں باندھ دیا جائے جس میں اس کی خوشی مشکوک ہو۔
وہ صاف کہتے ہیں کہ گل پری کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔
خدیجہ بیگم اس کے برعکس سمجھتی ہیں کہ گل پری کی زندگی اس رشتے سے بہتر ہو جائے گی۔
مگر سفیر یہ سوچ کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ ایک نوجوان لڑکی کے لیے اپنے سے پندرہ سال بڑے، دو بچوں کے باپ سے شادی کرنا آخر کس طرح خوش قسمتی قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایک طرف گل پری ہے جو خوف، جھجک اور خاندانی دباؤ کے باعث اپنی مرضی کا اظہار نہیں کر پا رہی، جبکہ دوسری جانب میجر سفیر ہیں جو اس نکاح کے لیے رضامند ہونے کے باوجود اسے گل پری کے حق میں مناسب نہیں سمجھتے۔
دونوں کے دل میں اس رشتے کے متعلق الگ الگ خدشات ہیں، لیکن خاندان ان کے نکاح کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
کیا گل پری اپنی خاموشی توڑ کر اپنے دل کی بات کہہ پائے گی؟ کیا میجر سفیر اس رشتے کے متعلق اپنے تحفظات دور کر سکیں گے؟ یا خاندان کی توقعات دونوں کو ایک ایسے بندھن میں باندھ دیں گی جس کے لیے وہ دل سے تیار نہیں؟
یہ جذباتی خاندانی کہانی ماں کی محرومی، سوتیلے رشتوں، دوسری شادی، عمر کے فرق، خاندان کی توقعات اور اپنی زندگی کے فیصلوں پر اختیار جیسے موضوعات کو سامنے لاتی ہے۔

Related Keywords

Merham e Jaan Novel, Merham e Jaan Urdu Novel, Merham e Jaan PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *