Skip to navigation Skip to main content Skip to content
Jaan e Salaar Novel90041 — Novelistan Urdu novel cover
Rank#29
Views616.2K

READ URDU NOVELS AT NOVELISTAN.COM

Jaan e Salaar

No ratings yet

Rate this novel

CompleteAfter Nikah BasedFamily Drama

Novel code: Novel90041

Read OnlineDownload PDF

"میں نہیں مانتی اس نکاح کو! مجھے نہ آپ میں دلچسپی ہے، نہ اس رشتے میں!" مشال ہمدانی نے سالار یزدانی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعلان کیا۔ اپنے والد کے فیصلے پر ہونے والے نکاح نے اس کے دل میں سالار کے لیے شدید ناراضی پیدا کر دی تھی۔ مگر سالار کی پابندیوں کے خلاف مشال نے بھی بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا۔ وہ جان بوجھ کر ٹونی سے ملتی اور سالار کے سامنے اس کا ذکر کرکے اسے حسد دلاتی۔ لیکن اس دن جب مشال نے سالار کی موجودگی میں ٹونی کو فون کیا تو سالار کا ضبط ٹوٹ گیا۔ اس نے موبائل چھین کر مشال کو بازو سے پکڑ لیا۔ "آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟" مشال غصے سے چلائی۔ "مذہب اور قانوناً مجھے یہ حق حاصل ہے، مسز سالار یزدانی!" سالار کے جواب نے اسے مزید مشتعل کر دیا۔ وہ کمرے سے جانے لگی تو سالار نے اسے زبردستی بستر پر گرا کر دھمکی دی، "آج کے بعد اگر تم ٹونی سے ملیں یا اس سے بات بھی کرنے کی کوشش کی تو اس سمیت زندہ زمین میں گاڑ دوں گا!" کیا مشال اس دھمکی کے سامنے اپنی ضد چھوڑ دے گی، یا یہ تصادم ان کے ناپسندیدہ رشتے میں مزید فاصلے پیدا کر دے گا؟

Read the Novel

Sneak

"آپ نے مجھ سے بات کرنا کیوں چھوڑ دیا ہے مشال؟" وہ اس کے خوبصورت سراپے پر نظریں گاڑے پوچھ رہا تھا۔

"مجھے نہیں پتہ، بس آپ ہٹیں آگے سے۔"

سالار کی مسلسل خود پر جمی نظروں سے کنفیوز ہو کر اس نے اسے راستے سے ہٹانا چاہا مگر وہ بھی مضبوط فولادی جسم کا مالک تھا، اسے اتنی آسانی سے ہٹانا مشال جیسی نازک کمزور لڑکی کے بس کی بات نہ تھی۔

"جب تک آپ مجھے وجہ نہیں بتائیں گی، میں نہیں ہٹوں گا سامنے سے۔" وہ ہنوز اسی حالت میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔

"بہت نادان ہیں ناں آپ! جیسے کچھ جانتے ہی نہیں ہیں۔"

"میں انہیں کیسے انکار کرتا؟ دیکھیں مشال! اگر آپ اپنے اور میرے تعلق کی بات کر رہی ہیں تو بیلیو می وقار انکل نے مجھے بھی اسی دن کہا تھا جس دن آپ سے بات کی تھی۔ آپ خود ہی بتائیں میں..."

"آپ کر سکتے تھے انکار، لیکن آپ نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔ آپ کو پتہ بھی تھا کہ پاپا آپ کی کسی بات سے انکار نہیں کرتے، مگر اس کے باوجود آپ نے وہ سب ہونے دیا۔ پوری طرح سے شریک تھے آپ پاپا کے ساتھ اس سازش میں۔ آپ نے اچھا نہیں کیا سالار! میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو۔ نکاح کے بعد سالار نے بہت واضح الفاظ میں اسے احمد ولا جانے سے روکا تھا۔ اس کے اس ردِعمل پر بے پناہ حیرت ہوئی تھی اسے، کس قدر حق جمانے لگا تھا وہ اس پر! اسے بے پناہ غصہ آیا سالار کے اس اقدام پر۔ پاپا سے شکایت کی تو انہوں نے بھی سالار ہی کی حمایت کی۔ یہ بات مشال کو مزید طیش دلانے کے لیے کافی تھی۔ ان کی بیٹی کتنی غیر اہم ہو گئی تھی ان کی نظر میں! اسے شدت سے احساس ہوا اس بات کا۔

پھر وہ اکثر احمد ولا جانے لگی، محض سالار یزدانی کو چڑانے کی خاطر اس کی ہر خواہش، ہر جائز بات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی دکھائی۔ احمد ولا سے واپسی پر وہ اپنے اور ٹونی کے درمیان ہونے والی ملاقات اور گفتگو سالار یزدانی کی موجودگی میں جان بوجھ کر پرشوق لہجے میں گل مینہ کے گوش گزار کرتی، محض سالار یزدانی کا غصہ، طیش، حسد اور جذبات کی شدت سے سرخ و سفید چہرہ دیکھنے کی خاطر۔

ایک طمانیت بھرا احساس اسے اپنے وجود میں سرائیت کرتا محسوس ہوتا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے چھوٹے سے موبائل میں سیو ٹونی کا نمبر ڈائل کیا اور اسے کان سے لگا لیا۔

"ہیلو ٹونی! میں ہوں مشال۔"

مشال بے حد پرجوش انداز میں بولی، جب کہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز سالار یزدانی ٹونی کے نام پر جھٹ سے اٹھ بیٹھا اور بے یقینی سے مشال کو دیکھا۔

"یہ بتاؤ کیسے ہو؟" اپنے کھلے شولڈر کٹ بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے تقریباً اسی لہجے میں بولی۔ غصے کی ایک لہر سالار کے پورے وجود میں اترتی چلی گئی، جسم کا سارا خون یکدم چہرے پر آن جمع ہوا۔

"ارے میں کیسی ہوں یہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔" کھلکھلاتے ہوئے جواب دیا گیا۔ یہ انداز اس قدر برا لگا اسے، جی چاہا ایک تھپڑ لگا کر اس کی ہنسی کو بریک لگا دے۔

"اچھا سنو! کوئی کام تو نہیں کر رہے ہو اس وقت؟ فارغ ہو ناں؟" اس نے پوچھا۔

"ٹونی! بس چھوڑو سب کام وام، پتہ ہے گل مینہ کی شادی ہے ہفتے کو، بہت ساری شاپنگ..."

اس سے پہلے کہ وہ اپنے فون کرنے کا مقصد بتاتی، سالار نے آگے بڑھ کر موبائل اس کے ہاتھ سے چھینا اور بیڈ پر پٹخ دیا۔ بازو سے کھینچ کر ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب موڑا، وہ اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی۔

"آپ کو منع کیا تھا ناں کہ آپ ٹونی اور اس کے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گی! پھر کیوں ملتی ہیں آپ اس سے؟"

غصے سے انگلیاں اس کے بازو میں گاڑتے ہوئے شعلہ بار لہجے میں پوچھا۔ تکلیف کی شدت سے وہ بلک اٹھی۔ سالار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کر دے اس کے ساتھ۔ اس کے اس شعلہ بار لہجے پر مشال مزید سلگ گئی۔ ایک جھٹکے سے بازو اس کی گرفت سے آزاد کیا۔ درد کی شدت سے آنسو امڈ امڈ کر باہر آنے کو بے چین ہو رہے تھے مگر ضبط کیے رکھا۔

"آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے؟ کس نے دیا ہے آپ کو یہ حق؟" سالار سے زیادہ چنگاڑتا لہجہ مشال ہمدانی کا تھا۔

"مذہب اور قانوناً مجھے یہ حق حاصل ہے مسز سالار یزدانی! کہ آپ کو برائی کے راستے پر جانے سے روک سکوں، اور آپ کے والد وقار ہمدانی نکاح کی صورت میں یہ حق دے چکے ہیں مجھے۔" سالار نے دانت پیستے ہوئے تضحیک آمیز لہجے میں اسے اس تلخ حقیقت سے روشناس کروایا۔

"میں نہیں مانتی اس نکاح کو! زبردستی کا ویسے بھی کوئی نکاح نہیں ہوتا۔"

"نکاح نکاح ہی ہوتا ہے مشال ہمدانی! زبردستی کا ہو یا اجازت سے۔" اس نے باور کروایا۔

"میں نے صرف پاپا کے کہنے پر حامی بھری تھی، ورنہ مجھے نہ آپ میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس نکاح میں! اور ایک بات میری کان کھول کر سن لیں، ٹونی سے ملنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی مجھے۔" کہتے ہوئے وہ رکی نہیں اور باہر کی جانب قدم بڑھا دیے، لہجہ اٹل اور انداز باغیانہ تھا۔

مشال کے اسی لہجے اور انداز نے ایک عجیب سا شور اور طوفان برپا کر دیا تھا اس کے اندر۔ اس سے پہلے کہ اس کے بڑھتے قدم اس کی باغیانہ سوچوں کا ساتھ دیتے، سالار نے ایک ہی جھٹکے سے اس کا بازو اپنی جانب کھینچا اور بے دردی سے بیڈ پر پٹخ دیا۔ دونوں بازو کہنیوں کے سہارے بیڈ پر اس کے گرد گاڑے وہ اس پر جھکتا چلا گیا، اتنا قریب کہ مشال کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا۔ جلدی سے رخ پھیر لیا۔ اس کی ٹھوڑی کو سختی سے ہاتھ کی انگلیوں میں دبوچ کر رخ اپنی جانب موڑا، تکلیف سے آنسو بے اختیار بہہ نکلے۔

"ایک بات تم بھی میری کان کھول کر سن لو مشال سالار یزدانی! میں تمہاری اس نادانی کو آج پہلی اور آخری سمجھ کر معاف کرتا ہوں۔ آج کے بعد اگر تم ٹونی سے ملیں یا اس سے بات بھی کرنے کی کوشش کی تو اس سمیت زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔"

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Description — Urdu

Jaan e Salaar ایک جذباتی اور رومانوی اردو ناول ہے جس میں مشال ہمدانی اور سالار یزدانی کے نکاح کے بعد پیدا ہونے والی ناراضی، حسد، ضد اور ازدواجی کشمکش کو پیش کیا گیا ہے۔ مشال اپنے والد وقار ہمدانی کے فیصلے پر رضامند ہونے کے باوجود اس نکاح سے خوش نہیں اور سالار کو بھی اس صورت حال کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ دوسری جانب سالار کا مؤقف ہے کہ اسے بھی اس رشتے کے بارے میں اسی دن بتایا گیا تھا جس دن مشال کو اطلاع دی گئی تھی۔ نکاح کے بعد سالار مشال کو احمد ولا جانے اور ٹونی سے تعلق رکھنے سے منع کرتا ہے، لیکن مشال اس پابندی کو اپنے اختیار میں مداخلت سمجھتی ہے۔ وہ جان بوجھ کر احمد ولا جاتی ہے اور ٹونی سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر سالار کے سامنے کرتی ہے تاکہ اسے غصہ دلایا جا سکے۔ ایک دن سالار کی موجودگی میں ٹونی کو فون کرنا دونوں کے درمیان شدید تصادم کا سبب بن جاتا ہے۔ سالار غصے میں مشال کا فون چھین لیتا ہے اور اسے بازو سے پکڑ کر سختی سے سوال کرتا ہے۔ مشال اس کے اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے نکاح کو دل سے قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ سالار کا بڑھتا ہوا غصہ، دھمکیاں اور سخت رویہ ان کے تعلق میں موجود عدم اعتماد اور جبر کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں۔ یہ کہانی خاندانی فیصلوں، ازدواجی اختلافات، حسد، ذاتی آزادی اور رشتوں میں رضامندی کی اہمیت کو سامنے لاتی ہے۔

Summary — Urdu

مشال ہمدانی ایک خوددار، ضدی اور اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والی لڑکی ہے، جو اپنی زندگی میں کسی کی بے جا مداخلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی زندگی اس وقت ایک غیر متوقع رخ اختیار کرتی ہے جب اس کے والد وقار ہمدانی اس کا نکاح سالار یزدانی سے کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
مشال اپنے والد کے کہنے پر اس رشتے کے لیے حامی تو بھر دیتی ہے، لیکن دل سے اس فیصلے کو قبول نہیں کر پاتی۔ وہ سمجھتی ہے کہ سالار نے جان بوجھ کر اس کے والد کے ساتھ مل کر یہ نکاح طے کروایا ہے، کیونکہ وقار ہمدانی سالار کی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔
اسی ناراضی کے باعث وہ سالار سے بات کرنا بھی چھوڑ دیتی ہے۔
جب سالار اس کی خاموشی کی وجہ پوچھتا ہے تو مشال غصے میں اسے اپنے راستے سے ہٹنے کے لیے کہتی ہے۔ سالار وجہ جانے بغیر اسے جانے دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
مشال اس پر الزام لگاتی ہے کہ وہ اس فیصلے میں پوری طرح شریک تھا اور اگر چاہتا تو نکاح سے انکار کر سکتا تھا۔
سالار اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وقار ہمدانی نے اسے بھی اسی دن نکاح کے بارے میں بتایا تھا جب مشال سے بات کی گئی تھی، لیکن مشال اس کی وضاحت سننے کو تیار نہیں ہوتی۔
وہ صاف کہہ دیتی ہے کہ سالار نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔
نکاح کے بعد دونوں کے درمیان موجود یہ ناراضی مزید شدت اختیار کر جاتی ہے۔
سالار مشال کو واضح الفاظ میں احمد ولا جانے سے منع کر دیتا ہے۔ اس پابندی پر مشال حیران ہونے کے ساتھ شدید غصے میں بھی آ جاتی ہے۔
وہ اپنے والد سے شکایت کرتی ہے، مگر وقار ہمدانی بھی سالار کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بات مشال کو مزید دکھی کر دیتی ہے، کیونکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اپنے والد بھی اس کی خواہشات کے مقابلے میں سالار کی بات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
مشال اس رویے کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر احمد ولا جانا شروع کر دیتی ہے۔
وہ سالار کی ممانعت کو نظر انداز کرتی ہے اور وہاں ٹونی سے ملتی ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ واپس آنے کے بعد سالار کی موجودگی میں گل مینہ کو ٹونی سے ہونے والی ملاقاتوں اور گفتگو کے متعلق بڑے شوق سے بتاتی ہے۔
اس کا مقصد سالار کو چڑانا اور اس کے چہرے پر ابھرنے والا غصہ اور حسد دیکھنا ہوتا ہے۔
مشال کو محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح وہ سالار کے اختیار جتانے والے رویے کا جواب دے رہی ہے۔
ایک دن وہ سالار کی موجودگی میں اپنا موبائل اٹھاتی ہے اور ٹونی کا نمبر ملا دیتی ہے۔
سالار اس وقت بستر سے ٹیک لگائے نیم دراز ہوتا ہے، مگر ٹونی کا نام سنتے ہی چونک کر سیدھا بیٹھ جاتا ہے۔
مشال جان بوجھ کر نہایت پرجوش اور بے تکلف لہجے میں ٹونی سے بات شروع کرتی ہے۔
وہ اس کی خیریت پوچھتی ہے، ہنستی ہے اور گفتگو میں مصروف ہو جاتی ہے۔
سالار اس کی باتیں سن کر اندر ہی اندر غصے سے بھرنے لگتا ہے۔
جب مشال گل مینہ کی آنے والی شادی اور خریداری کے بارے میں ٹونی سے بات کرنے لگتی ہے تو سالار کا ضبط جواب دے جاتا ہے۔
وہ اچانک آگے بڑھ کر مشال کے ہاتھ سے موبائل چھین لیتا ہے اور اسے بستر پر پھینک دیتا ہے۔
پھر اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچتا ہے اور غصے سے سوال کرتا ہے کہ منع کرنے کے باوجود وہ ٹونی اور اس کے خاندان سے کیوں ملتی ہے۔
سالار کی سخت گرفت سے مشال کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن وہ اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسو روک لیتی ہے۔
وہ جھٹکے سے اپنا بازو آزاد کرواتی ہے اور سالار کو جواب دیتی ہے کہ آخر وہ کون ہوتا ہے اسے روکنے والا اور اسے یہ حق کس نے دیا ہے۔
سالار نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ قانونی اور مذہبی طور پر اس کا شوہر ہے اور اسی حیثیت سے اسے غلط راستے پر جانے سے روکنے کا حق رکھتا ہے۔
مگر مشال اس دلیل کو قبول نہیں کرتی۔
وہ واضح الفاظ میں کہتی ہے کہ اس نکاح کو دل سے نہیں مانتی، کیونکہ اس نے صرف اپنے والد کے کہنے پر حامی بھری تھی۔
اس کے نزدیک سالار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی زندگی کے ہر فیصلے پر پابندی لگائے۔
وہ سالار کو صاف بتاتی ہے کہ اسے نہ اس شخص میں دلچسپی ہے اور نہ ہی اس نکاح میں۔
اس کے بعد وہ اعلان کرتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ٹونی سے ملنے سے نہیں روک سکتی۔
یہ کہتے ہوئے مشال کمرے سے نکلنے کے لیے قدم بڑھاتی ہے۔
لیکن اس کا باغیانہ انداز سالار کے غصے کو مزید بھڑکا دیتا ہے۔
وہ اچانک مشال کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر بے دردی سے بستر پر گرا دیتا ہے۔
سالار اس کے قریب جھک کر سختی سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑتا ہے۔ اس کی گرفت سے مشال کو تکلیف پہنچتی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔
سالار اسے دھمکی دیتا ہے کہ وہ اس کی نافرمانی کو پہلی اور آخری مرتبہ معاف کر رہا ہے۔
وہ خبردار کرتا ہے کہ اگر مشال نے دوبارہ ٹونی سے ملاقات کی یا اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
مشال اور سالار کے درمیان ہونے والا یہ تصادم ان کے رشتے میں موجود بنیادی اختلافات کو واضح کر دیتا ہے۔
ایک طرف مشال ہے جو اپنی مرضی، آزادی اور عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی، جبکہ دوسری طرف سالار ہے جو نکاح کی بنیاد پر اس کی زندگی میں اختیار جتانے کی کوشش کرتا ہے۔
مشال کی جان بوجھ کر کی جانے والی مخالفت، سالار کا شدید حسد اور دونوں کے درمیان اعتماد کی کمی ان کی ازدواجی زندگی کو ایک مشکل امتحان بنا دیتی ہے۔
یہ جذباتی خاندانی اور رومانوی کہانی نکاح کے بعد پیدا ہونے والی غلط فہمیوں، خاندانی دباؤ، حسد، ضد، ذاتی حدود اور ازدواجی تعلقات میں رضامندی کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔

Related Keywords

Jaan e Salaar Novel, Jaan e Salaar Urdu Novel, Jaan e Salaar PDF
Share this Novel

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote this novel?

This novel is written by Novelistan.

Is this novel complete or ongoing?

The recorded status is complete novel.

Join Our Community

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *