Sneak
"تمہیں شرم نہیں آتی کسی اور کا پروپوزل ایکسپٹ کرتے ہوئے، بھول گئی ہو کہ میرے نکاح میں ہو۔" کمرے کا دروازہ بند کرتے شارک بری طرح غرایا۔ "اوہ یعنی آپ کو یاد ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں مسٹر شارک!" وہ اس کو دیکھتے تنخ کر بولی۔ شارک کے ساتھ الزام لگا کر اس کا نکاح شارک سے زبردستی کیا تھا اور اسے اس خاندان سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ اس الزام کا بدلہ شارک شاہ نے بھی اسی سے لیا تھا۔ وہ اس کو دربدر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ان تین سالوں میں اس نے بہت مشکلیں اٹھائی تھی۔ اب وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر اچھی نوکری کر رہی تھی تو وہ کمپنی بدقسمتی سے شارک شاہ کی نکلی۔ اسے دیکھنے کے بعد بھی شارک شاہ نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ اس سے کوئی رشتہ رکھنا چاہتا ہی نہ تھا مگر ہوش تو شارک کے تب اڑے جب اپنے ہی کمپنی کے مینیجر کو اپنی بیوی کا دیوانہ پایا۔ "مجھے آپ سے طلاق چاہیے، میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہوں۔" وہ نخوت سے بولی۔ اس کی بات سنتے شارک غصے سے پاگل ہوتا۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
شارک شاہ کے ساتھ الزام لگنے کے بعد ایک بے قصور لڑکی کا نکاح زبردستی اسی سے کر دیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اسے اپنے خاندان سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور میں داخل ہو جاتی ہے۔
مگر اس کی آزمائش یہیں ختم نہیں ہوتی۔
شارک شاہ بھی اس الزام کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور اس کا بدلہ اسی لڑکی سے لینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اسے تنہا اور بے سہارا چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جیسے اس رشتے کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
اپنوں کی بے رخی اور شوہر کی لاتعلقی اس لڑکی کے لیے زندگی کو ایک کٹھن امتحان بنا دیتی ہے۔
اگلے تین سال وہ تنہائی، مشکلات اور محرومیوں کے ساتھ گزارتی ہے۔ اس دوران اسے کسی ایسے سہارے کی امید نہیں ہوتی جو اس کی زندگی آسان بنا سکے، لیکن وہ ہمت ہارنے کے بجائے خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتی ہے۔
مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر اسے ایک اچھی ملازمت مل جاتی ہے۔
وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ماضی کی تلخ یادوں سے دور رہنا چاہتی ہے۔ اسے امید ہوتی ہے کہ اب وہ اپنے فیصلے خود کر سکے گی اور کسی پر انحصار کیے بغیر زندگی گزارے گی۔
لیکن قسمت ایک بار پھر اسے اسی شخص کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جس نے تین سال پہلے اسے بے سہارا چھوڑ دیا تھا۔
جس کمپنی میں اسے ملازمت ملتی ہے، اس کا مالک کوئی اور نہیں بلکہ شارک شاہ ہوتا ہے۔
تین سال بعد اپنے شوہر کو سامنے دیکھنا اس کے لیے ایک غیر متوقع صورت حال ہوتی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ شارک اسے پہچاننے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔
وہ اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق ظاہر نہیں کرنا چاہتا اور اپنے رویے سے واضح کر دیتا ہے کہ اس کی زندگی میں اس لڑکی کی کوئی جگہ نہیں۔
لڑکی اس بے رخی کے باوجود خود کو سنبھالتی ہے اور اپنی ملازمت پر توجہ دیتی ہے۔
مگر حالات اس وقت دلچسپ رخ اختیار کرتے ہیں جب شارک شاہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اپنی کمپنی کا مینیجر اسی لڑکی میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگا ہے۔
یہ بات شارک کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوتی ہے۔
جس بیوی کو وہ تین سال تک تنہا چھوڑے رکھتا ہے اور دوبارہ ملنے پر پہچاننے سے بھی انکار کر دیتا ہے، اب اسی کے کسی دوسرے شخص کے قریب آنے کا خیال اسے غصے سے بھر دیتا ہے۔
وہ کمرے کا دروازہ بند کرکے لڑکی سے سخت لہجے میں سوال کرتا ہے کہ اسے کسی دوسرے مرد کی محبت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے شرم نہیں آئی، کیا وہ بھول چکی ہے کہ وہ اب بھی اس کے نکاح میں ہے؟
لیکن تین سال کی مشکلات نے اس لڑکی کو پہلے جیسا کمزور نہیں رہنے دیا ہوتا۔
وہ خاموشی سے اس کا غصہ برداشت کرنے کے بجائے طنزیہ انداز میں پوچھتی ہے کہ کیا مسٹر شارک کو اب اچانک یاد آ گیا ہے کہ وہ ان کی بیوی ہے؟
اس کے الفاظ میں تین سال کی جدائی، بے رخی اور تنہائی کا درد چھپا ہوتا ہے۔
وہ شارک کے سامنے واضح کر دیتی ہے کہ اب اسے اس رشتے میں رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔
وہ اس سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے۔
یہ الفاظ سنتے ہی شارک شاہ کا غصہ مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔
وہ شخص جو کبھی اس رشتے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اب اپنی بیوی کے خود کو اس سے آزاد کرنے کے فیصلے کو برداشت نہیں کر پا رہا۔
ایک طرف تین سال کی جدائی کے بعد خوددار بن کر سامنے آنے والی لڑکی ہے، جو اپنی زندگی کے فیصلوں پر اختیار چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف شارک شاہ ہے، جس کی انا اور ازدواجی حق جتانے کا رویہ اسے ایک بار پھر اس کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔
کیا شارک شاہ اپنے ماضی کے رویے اور بیوی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو سمجھ سکے گا؟ یا اس کی انا دونوں کے درمیان موجود فاصلے کو مزید بڑھا دے گی؟
یہ جذباتی رومانوی کہانی زبردستی نکاح، علیحدگی، خودداری، دفتری تعلقات، ازدواجی کشمکش اور ماضی کے زخموں کے گرد گھومتی ہے، جہاں تین سال بعد ہونے والی ملاقات ایک نئی آزمائش بن جاتی ہے۔
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote this novel?
This novel is written by Novelistan.
Is this novel complete or ongoing?
The recorded status is complete novel.





