Sneak
"پہلے یہ بتائیں، مجھ سے شادی کا فیصلہ آپ نے دل سے کیا ہے یا دماغ سے؟" اس سے ہر قسم کی بے باکی اور بدتمیزی کی توقع کی جا سکتی تھی، پھر بھی لمحہ بھر کو غزنوی چکرا گئے، گویا امید نہیں تھی کہ سب کی موجودگی میں وہ براہ راست ایسا کوئی سوال کرے گی۔ بہرحال فورا سنبھل بیٹھے اور اسے کلائی سے تھام کر تقریبا گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے میں لے آئے۔ اس دوران اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش میں اس نے ان کے بازو اور ہاتھ کو بری طرح اپنے ناخنوں سے نوچ ڈالا، اس کے باوجود ان کی گرفت ڈھیلی نہیں ہوئی اور کمرے میں آتے ہی انہوں نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو مروڑ کر کمر کے پیچھے کر لیا، جس سے وہ چیخ پڑی۔ "یہ کیا بدتمیزی ہے؟ چھوڑیں میرا ہاتھ۔" انہوں نے دھکا دے کر اسے صوفے پر گرا دیا، پھر چبا چبا کر بولے " تم میں شرم، حیا، لحاظ، مروت کی اگر کمی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم علی الاعلان اس کا اظہار بھی کر دو۔ تم اپنے آپ کو بہت اسمارٹ سمجھتی ہو؟" "میں خود کو کچھ بھی سمجھوں یا کچھ بھی کروں، آپ کون ہوتے ہیں مجھے ٹوکنے والے؟" وہ تنک کر بولی۔ "میں بھی تو تمہیں صرف تمہارا عم زاد ہوں اور اس ناتے بھی میں تمہیں ٹوکنے کا حق رکھتا ہوں۔" "جی نہیں، ایسا کوئی حق نہیں ہے آپ کو۔ اگر رعب جمانے کا اتنا ہی شوق ہے تو سیما، حرا وغیرہ موجود ہیں، ان پر اپنا شوق پورا کر لیں، میں کسی کے رعب میں نہیں آنے والی!" وہ برابر سے جواب دے کر انہیں طیش دلا رہی تھی، لیکن وہ بڑے ضبط سے بولے: "جانتا ہوں۔" "جانتے ہیں تو مجھے یہاں لے کر کیوں آئے ہیں؟" "تمہاری بات کا جواب دینے کہ تم سے شادی کا فیصلہ میرے دل اور دماغ کا مشترکہ فیصلہ ہے، تمہیں کوئی اعتراض ہے؟" اس نے یقیناً "ہاں" کہنے کے لیے منہ کھولا تھا کہ وہ فورا روک کر کہنے لگے: "ایک منٹ، ابھی نہیں۔ اچھی طرح سوچ کر جواب دینا۔ ناؤ گیٹ لاسٹ!" ان کے آخری الفاظ پر وہ بری طرح سلگ گئی۔ "میں خود نہیں آئی، آپ لے کر آئے ہیں مجھے۔ بڑے آئے گیٹ لاسٹ کہنے والے! اور اچھی طرح سن لیں، میں ہرگز ہرگز آپ سے بلکہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی، یہ میرا فیصلہ ہے۔" بہرحال اب وہ پہلے والی نومیہ نہیں رہی تھی۔ مامتا کی آغوش سے نکل کر وہ صرف دو سال حالات کی بھٹی میں جھلسی تھی اور ان دو سالوں نے اسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ اپنے ساتھ ہونے والے سانحے کا اسے دکھ تو تھا، لیکن زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ سب کچھ بہت جلدی اس پر بیت گیا تھا۔ جس روز غزنوی ایم بی اے کر کے لوٹے، تو سب کے درمیان اس نے انہیں بھی نہیں بخشا تھا۔ "ارے! آپ تو چھڑے چھانٹ واپس آ گئے، لگتا ہے کسی میم نے لفٹ ہی نہیں کرائی۔" اور غزنوی کے بری طرح گھورنے پر بولی تھی: "دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہاں بہت لفٹ ملے گی۔" اور غزنوی کو خطوط کے ذریعے اس کے حالات سے آگاہی تو تھی، لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ حالات اس پر کس طرح اثر انداز ہوئے ہیں، بلکہ ان کا خیال تھا کہ وہ جو پہلے ہی کمزور اور بزدل قسم کی لڑکی تھی، اب تو ایک دم ہی ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی ہوگی۔ حقیقتاً دیارِ غیر میں جب کبھی انہیں اس کا خیال آتا تو پھر وہ کتنی دیر تک اس کے لیے کڑھتے رہتے کہ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، یہ اس کی بے فکری کے دن تھے اور وہ اتنی فکروں میں گھر گئی ہوگی! انہیں اس سے ہمدردی محسوس ہوتی، اور یہاں اگر ساری ہمدردی غصے میں بدل گئی تھی، خصوصاً جب وہ انہیں نام لے کر پکارتی تو ان کا دماغ گھوم جاتا، کیونکہ گھر میں سب سے بڑے ہونے کے باعث انہیں شروع ہی سے ایک مقام حاصل تھا اور ترتیب کے حساب سے وہ سب سے آخری نمبر پر تھی، یعنی سب سے چھوٹی، اور جب انہوں نے عمروں کا فرق جتا کر ٹوکا تو وہ دھڑلے سے بولی تھی: "عمروں کا فرق کوئی اہمیت نہیں رکھتا، میں بچی کی ماں ہوں اور آپ کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔" "یہ گویا ماں ہونے کا زعم ہے۔" انہوں نے سرتاپا اسے دیکھا تھا، ویسی ہی دبلی پتلی، اسمارٹ۔ "کیوں نہ ہو، ہر ایک کے حصے میں تھوڑی آتا ہے یہ زعم!" "وقت آنے پر سب کے حصے میں آتا ہے، لیکن تمہاری طرح کوئی آپے سے باہر نہیں ہو جاتا۔" "وقت آنے پر ناں! اور مجھے؟ مجھے کیونکہ وقت سے پہلے حاصل ہو گیا ہے، اس لیے..." "شٹ اپ!" وہ اس کے برابر سے جواب دینے پر سختی سے ٹوک کر بولے تھے: "میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا، بس اتنا سن لو کہ آئندہ مجھ سے بات کرتے وقت کسی زعم کے بجائے میری اور اپنی عمر کے فرق کو ذہن میں رکھنا۔" "مشکل ہے۔" وہ کہہ کر فورا ان کے سامنے سے ہٹ گئی تھی، پھر غزنوی نے خود ہی اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی۔ شاید اپنی بڑائی اور عزت قائم رکھنے کا یہی طریقہ ان کی سمجھ میں آیا تھا۔ اسے دیکھ کر یوں گزر جاتے جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو، اور اسے ہرگز پروا نہیں تھی، لیکن کسی کسی وقت محض انہیں چھیڑنے کی خاطر کوئی ایسی بات کہہ جاتی جس سے وہ تلملا جاتے۔ غصہ ان کی آنکھوں سے چھلکنے لگتا اور جیسے بس نہیں چلتا تھا کہ اس کی گردن دبا دیں۔ گھر میں سب ہی جانتے تھے کہ وہ اس سے کتنا خار کھاتے ہیں، جبھی تو ان کے شادی کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ البتہ سمیرا کی بات طے ہو جانے کے بعد جب اس نے سنا کہ بڑے ابا کا ارادہ دونوں شادیاں ایک ساتھ کرنے کا ہے، تب پہلے اس نے امی کے سامنے زبان کھولی کہ وہ بڑے ابا سے صاف انکار کر دیں، لیکن امی نے صاف اپنا دامن بچا لیا: "میں کیسے انکار کر سکتی ہوں؟ اور وہ میری مانے گے کب؟ ان کے لیے جیسے سمیرا ہے، ویسے تم ہو، کبھی کوئی فرق رکھا انہوں نے؟ پھر میں کیسے تم پر صرف اپنا حق جتا سکتی ہوں؟" وہ سمجھ گئی کہ امی سے مزید کچھ کہنا فضول ہے اور براہِ راست بڑے ابا سے کہنا بہت مشکل تھا۔ آتے جاتے وہ غزنوی کو سنا کر کہنے لگی: "ضرور ان لوگوں میں کوئی خامی ہوتی ہے جو اچھی لڑکیوں کو چھوڑ کر طلاق یافتہ سے شادی کرتے ہیں۔" دو دن غزنوی اس کی بکواس سن کر نظر انداز کرتے رہے اور جب ان کی برداشت کی حد ختم ہو گئی، تب پھر اسے گھسیٹتے ہوئے لے آئے۔ "آخر ان باتوں سے تمہارا مقصد کیا ہے؟" انہوں نے جتنے غصے سے پوچھا، وہ اتنے ہی آرام سے بولی: "بہت واضح! کہ آپ مجھ سے شادی سے باز آ جائیں۔" "یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں، لیکن آخر کیوں؟ کیوں شادی نہیں کرنا چاہتیں تم؟ پہلی شادی کی ناکامی سے خوفزدہ ہو یا...؟" "میں کسی بات سے خوفزدہ نہیں ہوں۔" وہ فورا بول پڑی۔ "پھر؟" وہ مجسم سوالیہ نشان بن گئے، جس سے وہ چڑھ کر بولی: "پھر کیا؟ بس مجھے نہیں کرنی شادی۔" "اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں کیوں؟ دیکھو، جب تک تم ٹھوس وجہ نہیں بتاؤ گی، تمہاری کوئی بات نہیں سنی جائے گی۔" آخر میں انہوں نے نرم لہجہ اختیار کر کے اسے اعتماد میں لینے کی کوشش کی: "یہ کوئی زبردستی ہے کیا؟" "زبردستی کی بات نہیں ہے نومیہ! تم سمجھنے کی کوشش کرو، چچی جان تمہاری ہی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ان کا دوسری شادی نہ کرنے کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط، یہ میں نہیں جانتا، لیکن یہ یقین سے کہوں گا کہ تم ان کی طرح زندگی نہیں گزار سکتیں۔" پیشانی پر بے شمار شکنیں ڈال کر وہ بولی: "کیوں؟" "اس لیے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔ محبتیں، رواداریاں، سب وقت اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا ہے۔ یہ برسوں پہلے کی بات ہے، جب چچی جان تمہاری انگلی تھام کر دوبارہ اس گھر میں داخل ہوئی تھیں، تو انہیں یقین تھا کہ یہاں تمہیں باپ نہیں تو باپ جیسی شفقتیں ضرور ملیں گی، اور یہ تم جانتی ہو کہ ان کے یقین کو ٹھیس نہیں پہنچی تھی۔ کیا تمہارے پاس ایسا کوئی یقین ہے؟" انہوں نے اچانک اسے سامعہ کا احساس دلایا، اور ابھی وہ جواب نہیں دے پائی تھی کہ کہنے لگے: "میں صرف سامعہ کے دورِ خیال کی نہیں، یہاں کی بات کر رہا ہوں۔ یہاں بھی کوئی نہیں ہے، سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جائیں گے، پھر تم سامعہ کی زندگی کے اس خلا کو کیسے پر کرو گی؟" "اس کا باپ زندہ ہے، غزنوی! اور جیتے جی باپ نے اسے جس شفقت سے محروم کر دیا، وہ کوئی دوسرا بھی اسے نہیں دے سکتا۔" اس کے ناگوار اور سخت لہجے پر وہ رک کر بولے: "میں جو دینا چاہتا ہوں!" "کیوں؟" "اس لیے کہ..." وہ کچھ کہتے کہتے ایکدم خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگے۔ جس طرح وہ براہِ راست ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی، اس سے وہ سمجھ گئے کہ اس وقت اسے سمجھانے اور احساس دلانے کی ان کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، جبھی بات ختم کرتے ہوئے بولا "خیر، میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا، بس اتنا کہوں گا کہ اپنا نہیں تو سامعہ کا خیال کرو۔" "اور میں آپ سے یہ کہوں گی کہ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
Summary — Urdu
اب نومیہ صرف اپنی زندگی کے بارے میں نہیں سوچتی، بلکہ اس کی ننھی بیٹی سامعہ بھی اس کے ہر فیصلے کا اہم حصہ ہے۔
ماضی کے تجربات کے بعد وہ دوبارہ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس کے نزدیک اپنی بیٹی کی پرورش اور خودمختار زندگی گزارنا کسی نئے ازدواجی بندھن سے زیادہ اہم ہے۔
لیکن خاندان کے فیصلے نومیہ کی خواہشات سے مختلف ہیں۔
اس کا عمر میں بڑا کزن غزنوی اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ غزنوی خاندان میں ایک سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں، جنہیں عمر اور مرتبے کے لحاظ سے خاص احترام حاصل ہے۔
گھر کے دیگر افراد ان کے سامنے محتاط رہتے ہیں، مگر نومیہ کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔
وہ غزنوی کے رعب سے متاثر ہونے کے بجائے انہیں مسلسل چھیڑتی، ان کی باتوں کا جواب دیتی اور اپنی بے باکی سے ان کا غصہ بڑھاتی رہتی ہے۔
غزنوی جب ایم بی اے مکمل کرکے بیرونِ ملک سے واپس آتے ہیں تو نومیہ ان کا استقبال بھی طنزیہ جملوں سے کرتی ہے۔ وہ انہیں غیر شادی شدہ واپس آنے پر چھیڑتی ہے اور کہتی ہے کہ شاید بیرونِ ملک کسی لڑکی نے ان میں دلچسپی نہیں لی۔
غزنوی کو پہلے ہی نومیہ کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا علم ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک قیام کے دوران وہ اس کے حالات کے متعلق خطوط کے ذریعے باخبر رہے تھے اور اکثر اس کے لیے پریشان ہوتے تھے۔
ان کا خیال تھا کہ پہلی شادی کی ناکامی اور حالات کی سختیوں نے نومیہ کو کمزور اور خاموش کر دیا ہوگا، لیکن واپسی پر انہیں ایک بالکل مختلف نومیہ نظر آتی ہے۔
وہ اب کسی کی بات آسانی سے برداشت نہیں کرتی اور نہ ہی اپنے سے بڑوں کے رعب میں آنے کے لیے تیار ہے۔
ایک موقع پر غزنوی اسے عمر کے فرق کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں تو نومیہ فوراً جواب دیتی ہے کہ عمر کا فرق کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کیونکہ وہ خود ایک بچی کی ماں ہے جبکہ غزنوی کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔
اس کے اس انداز پر غزنوی شدید ناراض ہوتے ہیں اور اسے آئندہ گفتگو میں عمر اور احترام کا لحاظ رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔
لیکن نومیہ ان کی بات ماننے کے بجائے اپنی بے باکی برقرار رکھتی ہے۔
رفتہ رفتہ غزنوی اس سے بات کرنا کم کر دیتے ہیں، مگر نومیہ کبھی کبھار جان بوجھ کر ایسی بات کہہ دیتی ہے جس سے ان کا غصہ دوبارہ بھڑک اٹھتا ہے۔
گھر کے تمام افراد دونوں کے درمیان موجود اس تلخی سے واقف ہوتے ہیں، اسی لیے جب غزنوی نومیہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سب حیران رہ جاتے ہیں۔
دوسری طرف نومیہ اس رشتے کے خلاف ہے۔
جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان سمیرا کی شادی کے ساتھ اس کی شادی بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنی والدہ سے بات کرتی ہے۔
وہ چاہتی ہے کہ اس کی والدہ بڑے ابا کو صاف انکار کر دیں، لیکن والدہ خاندانی تعلقات اور بڑے ابا کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے معذرت کر لیتی ہیں۔
نومیہ سمجھ جاتی ہے کہ براہِ راست بڑے ابا سے بات کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔
اس لیے وہ غزنوی کو اپنے انکار کا احساس دلانے کے لیے ان پر طنز کرنا شروع کر دیتی ہے۔
وہ بار بار کہتی ہے کہ یقیناً ایسے لوگوں میں کوئی خامی ہوتی ہے جو غیر شادی شدہ لڑکیوں کے بجائے طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
غزنوی دو دن تک اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں، مگر آخرکار ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔
وہ نومیہ کو اپنے کمرے میں لے جا کر سختی سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ ان باتوں سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔
نومیہ بغیر کسی جھجک کے جواب دیتی ہے کہ وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ غزنوی اس سے شادی کرنے کا ارادہ ترک کر دیں۔
غزنوی اس سے انکار کی وجہ پوچھتے ہیں، مگر نومیہ واضح کرتی ہے کہ وہ کسی خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔
غزنوی اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ زندگی کے حالات بدل چکے ہیں اور وہ اپنی والدہ کی طرح تنہا زندگی گزارنے کا فیصلہ آسانی سے نہیں کر سکتی۔
وہ اسے یاد دلاتے ہیں کہ اس کی والدہ جوانی میں بیوہ ہونے کے بعد اسی خاندان میں واپس آئی تھیں، جہاں انہیں اور نومیہ کو اپنائیت اور تحفظ ملا تھا۔
لیکن غزنوی کے مطابق بدلتے وقت کے ساتھ رشتوں اور حالات میں بھی تبدیلی آتی ہے۔
وہ نومیہ کو اپنی ننھی بیٹی سامعہ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
غزنوی کا سوال ہوتا ہے کہ جب خاندان کے دوسرے افراد اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جائیں گے تو نومیہ سامعہ کی زندگی میں موجود خلا کیسے پُر کرے گی۔
یہ بات نومیہ کے لیے نہایت حساس ہوتی ہے۔
وہ فوراً جواب دیتی ہے کہ سامعہ کا باپ زندہ ہے، لیکن اس نے اپنی بیٹی کو جس شفقت سے محروم رکھا ہے، وہ کوئی دوسرا شخص بھی اسے نہیں دے سکتا۔
اس کے جواب میں غزنوی ایسی بات کہتے ہیں جو ان کی گفتگو کو ایک نیا رخ دے دیتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ خود سامعہ کو وہ شفقت دینا چاہتے ہیں۔
نومیہ فوراً ان سے پوچھتی ہے کہ آخر کیوں؟
غزنوی جواب دینے لگتے ہیں، مگر اچانک خاموش ہو جاتے ہیں۔
نومیہ کی آنکھوں میں موجود سوال اور ضد دیکھ کر وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اس وقت اسے کسی بات پر قائل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
وہ گفتگو ختم کرتے ہوئے نومیہ سے صرف اتنا کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنا نہیں تو کم از کم سامعہ کا خیال کرے۔
لیکن نومیہ اپنی بات پر قائم رہتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ غزنوی کو اس کی اور سامعہ کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ جذباتی خاندانی کہانی ایک ایسی ماں کی خودداری اور اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کی جدوجہد کو پیش کرتی ہے جو پہلی شادی کی ناکامی کے بعد کسی نئے رشتے میں بندھنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب غزنوی کا شادی پر اصرار، سامعہ کے مستقبل سے متعلق فکر اور نومیہ کے مسلسل انکار پر ان کا سخت ردعمل دونوں کے درمیان موجود اختلافات کو نمایاں کرتا ہے۔
ایک طرف ماضی کے زخم اور نئی زندگی کا خوف نہیں بلکہ اپنی مرضی سے جینے کی خواہش ہے، تو دوسری جانب خاندانی توقعات اور ایسے شخص کا فیصلہ ہے جو نومیہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
کیا نومیہ اپنے فیصلے پر قائم رہے گی؟ یا غزنوی کی طرف سے سامعہ کے لیے ظاہر کی گئی فکر ان کے درمیان گفتگو کا کوئی نیا راستہ کھولے گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote this novel?
This novel is written by Novelistan.
Is this novel complete or ongoing?
The recorded status is complete novel.





